66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

رات سے لیکر اب تک ویسے ہی تیز بارش ہو رہی تھی۔ اسے ٹھنڈ بھی لگ رہی تھی وہ اپنی چادر ساتھ لیکر آئی تھی۔ زریق اسے کہیں نظر نہیں آیا۔ اچھا تھا وہ اسکی غیر موجودگی میں ہی چلی جائے۔ یہی سوچتے وہ ٹی وی لائونچ تک آئی تو وہاں اسے زریق نظر آیا اسے دیکھتے ہی ایک پل کو وہ سہم گئی۔ اسکی پیٹ مایل کی طرف تھی وہ لیپ ٹاپ پر نجانے کیا بلیک اسکرین پر کوڈنگ کر رہا تھا مایل کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔

وہ اسے دیکھ چونکی ضرور تھی پل بھر کو ڈر بھی گئی مگر نجانے کیوں اسکا دل کہ رہا تھا وہ اسکی پرچھائی سے بھی واقف نہیں ہوگا۔ مایل کا دل انکاری تھا مگر دماغ اُکسا رہا تھا یہ ایک آخری کھیل اس جھوٹ کا پردہ فاش کردیگا کل رات اس نے جھوٹ بولا تھا یا وہ سچ کہ رہا تھا؟؟؟؟

مایل قدم اٹھاتی اس کے پیچھے آکھڑی ہوئی۔ کپکپاتا ہاتھ آگے بڑھا کر اس نے زریق کے کندھے کو چھوا مگر وہ لا تعلق رہا شاید وہ اس کے لمس کو محسوس نہ کر سگا مایل نے اس کا کندھا ہلکے سے دبایا پھر بھی وہ کچھ محسوس نہ کر سگا اب کی بار مایل نے پوری قوت سے اس کا کندھا دبایا لیکن زریق کو تب بھی کچھ محسوس نہ ہوا اب اسے یقین ہو چلا تھا اس شخص نے کل رات جھوٹ بولا تھا اس نے کوئی انجیکشن نہیں لگوایا تھا لگوایا ہوتا تو اِس وقت اسے مایل کا لمس کیوں نہیں محسوس ہو رہا؟؟ اسے درد ہوتا ہے تو اس کے چہرے پر درد کے تاثرات کیوں نہیں دکھتے؟؟؟ وہ روتا کیوں نہیں عوروں کی طرح وہ محسوس کیوں نہیں کرتا دوسروں کی طرح۔۔۔۔۔۔۔

اسکے کندھے سے اپنا ہاتھ ہٹاتے وہ زریق سے ایک ایک قدم دور پیچھے کی طرف بڑھا رہی تھی زریق کو تو احساس تک نہ تھا زندگی لمحہ بہ لمحہ اس سے دور جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔

ایک آخری کوشش بھی آج جواب دے گئی مایل اس کی پرواہ کیے بغیر تیزی سے باہر نکلتی چلی گئی گیٹ کے پاس وہ کھڑی ہوکر المیر کا انتظار کرنے لگی حسبِ توقع گارڈ سو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

کافی دیر وہ انتظار کرتی رہی قریباً آدھے گھنٹے بعد وہ آیا اسے تیار دیکھ کر تیزی سے کار المیر نے عین اسکے آگے روکی۔ مایل بھی دیر کیے بغیر فوراً سے اِسکی کار میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔

” پوری رات بارش ہونے کی وجہ سے سڑکوں کا بُرا حال ہے اسی وجہ سے دیر ہوگئی۔۔۔ ” المیر نے اسے کار میں بیٹھتے ہی دیر سے آنے کی وجہ بتائی۔۔۔۔

” مجھے امی کے پاس لے چلیں ” اسکا لہجہ سرد تھا۔۔۔۔

” کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ “

” آپ نہ میرے باپ ہیں نہ میری ماں جتنا بھلا کرنا تھا اس سے کئی زیادہ کر چکے ہیں اتنا کہ آپ کی بےشمار نیکیاں گنتے گنتے میرے گناہ کم ہوگئے ” وہ اسکی طرف رُخ کیے سختی سے اس پر طنز کر رہی تھی المیر نے بامشکل خود کو کچھ کہنے سے روکا اتنی بدتمیزی وہ کسی کی برداشت نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔

” جب تک تم بتاؤ گی نہیں مسلے کا حل کیسے نکلے گا؟؟ اس طرح گھر چھوڑنا بیوقوفی ہے” وہ اسے سمجھا رہا تھا مایل کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔۔۔۔

” مجھے آپ سے بحث نہیں کرنی!!! میں خود آجاتی مگر بارش کی وجہ سے آپ کو کال کی آپ گھر چل رہے ہیں یا میں کار سے اُتڑ جاؤں ” وہ اس کی دھمکی پر اسے گھورتا رہ گیا پھر اس نے غصے سے جس طرح کار ریورس کی مایل پوری ہل کر رہ گئی ریورس گیئر پیچھے کرتے المیر نے ایک ہی رائونڈ میں کار تیزی سے گیٹ کے باہر نکالی اس طرح کے مایل کا سر پیچھے کی سیٹ سے جا لگا پر المیر کو پرواہ کہاں تھی؟؟؟ اسے تو احساس تک نہ تھا کے وہ تخلیق کے عمل سے گزر رہی ہے۔۔۔۔۔

مایل نے کچھ نہ کہا خاموشی سے بیٹھی رہی۔گیٹ بھی شاید پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا زریق آج دیر سے آیا تھا چوکیدار نے زریق کے آتے ہی گیٹ کھولا ہوگا اور اسے بند کرنا بھول گیا ہوگا تبھی المیر کے لیے مایل کو مشکل نہ ہوئی ورنہ مایل اگر المیر کے لیے چوکیدار سے گیٹ کھلواتی تو ضرور چوکیدار اندر جا کر زریق کو المیر کی آمد کی اطلاع دیتا۔۔۔۔۔۔۔

اس کے سر پہ نہ جانے کون سا جنون سوار تھا یا اسے مایل کا لہجہ غصہ دلا گیا کہ وہ اتنی سپیڈ سے کار چلا رہا تھا اسے آگے پیچھے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا اندھا دھند صبح کے اس ٹائم وہ اسپیڈ سے کار چلا رہا تھا۔۔۔اتنی تیز کے مایل کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ دنیا کا پہلا ایسا واحد شخص تھا جو اس کے خوف سے پوری طرح سے واقف تھا پھر بھی وہ اسے اذیت پہنچانا رہا تھا۔۔۔۔۔

مایل بس دعا کر رہی تھی جلدی یہ سفر اختتام کو پہنچے ورنہ اس کا دل بند ہونا تھا۔ یہ شخص جانور بن بیٹھا تھا اسے ذرا پرواہ تک نہیں تھی۔۔۔

تیزی سے چلتی کار گیٹ کے پاس آرکی المیر نے ہارن دیا جسے سن کر چوکیدار نے گیٹ کھولا اندر آکر المیر نے پارکنگ سائیڈ پر کار پارک کی۔۔۔۔

” ایسے لہجوں کا عادی نہیں میں!!! پتا نہیں تمہاری بدتمیزی کیوں برداشت کرتا ہوں۔۔۔ ” جب وہ نکلنے لگی تو المیر نے اسے کہا وہ دیکھ اب بھی آگے ہی رہا تھا۔

” پوچھ لیں اپنی بیوی سے اسکی آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے جو ہیں بولنا بھی اسی کا برداشت ہوگا ” وہ بھی جواب دینا بھولی نہیں تھی المیر کی رگیں تن گئیں وہ بات کو کس رُخ پر لے کر جا رہی تھی اب بھی اُسکے دماغ میں وہی سوچیں ہیں؟؟؟

” آؤٹ ” وہ دھارا مایل نے کار سے نکل کر اتنی زور سے دروازہ بند کیا کے المیر سلگ اٹھا۔ وہ اسے مزید غصّہ دلا کر اندر جا چکی تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” مایل بیٹا آگئیں بتایا نہیں آنے کا کیسی ہو میری جان؟ “
صالحہ بیگم فجر پڑھنے کے بعد کچھ دیر قران کی تلاوت کرتی ہیں پھر حال میں آکر تسبیح پڑھنے لگتے ہیں جب تک کے گھر کے باقی افراد نہ اُٹھ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔

” ٹھیک ہوں تائی امی!!! آپ کیسی ہیں؟ ” وہ خود ان کے پاس آگئی صالحہ تو اسے اندر آتا دیکھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اسکے پاس آتے ہی صالحہ نے پیار سے اسے خود سے لگایا۔۔۔۔

” میں تو پریشان ہی ہوگئی تھی جب المیر نے مجھے بتایا کہ وہ تمہیں لینے جا رہا ہے!! المیر کہ رہا تھا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے؟؟ ” مایل کو اب سمجھ آیا کہ صالحہ اسے دیکھ کر حیران کیوں نہیں ہوئی؟؟؟ آخر المیر کو اس کی زندگی سے فرق کیوں پڑتا ہے؟؟ کیوں وہ اس کے ہر معاملے میں گھستا ہے؟ وہی شخص ہے جس نے اس کی شادی کروائی زریق کواس کے گھر والوں سے ملایا۔۔۔۔۔

وہ ڈرتا تھا شاید مایل سے ڈرنے لگا تھا وہ… ورنہ مایل کو تو پہلے بھی کبھی پرواہ نہیں رہی تھی کہ کسی کو پتا لگے کہ وہ المیر سے محبت کرتی ہے اگر فرق پڑتا تھا تو صرف المیر کو کیونکہ اُسے اپنی عزت بہت عزیز تھی اُسے یہی ڈر تھا کہ سب لوگ یہ نہ سمجھیں کہ اس سب میں المیر کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا مایل کا ہے۔۔۔۔۔۔۔

” نہیں تائی امی بس گھبراہٹ ہو رہی تھی اس لیے المیر بھائی کو فون کیا کہ مجھے لینے آجائیں۔۔۔۔۔ ” صالحہ کو جواب دیتے مایل کو احساس ہو چکا تھا کے المیر بھی اندر آچکا ہے اور اسکے ساتھ ہی آکھڑا ہوا ہے۔۔۔

” مجھے تو لگا تھا کہ تم دونوں میں نہ جانے کس بات کو لے کر بات چیت بند ہے لیکن جب المیر آج تمہیں لینے گیا مجھے اچھا بھی لگا پہلے مایل پورے گھر میں چیختی تھی المیر کو ڈھودنتی تھی،،، کتنا المیر بھائی کرتی تھی اب تو تمہاری زبان پر المیر کا نام تک نہیں آتا۔۔۔۔” وہ ہنس کر شاید شکوہ کر رہیں تھیں۔اس بات پر مایل کی نظریں بے اختیار پاس کھڑے المیر پر گئیں وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا مایل نے جھٹ رُخ موڑ لیا۔۔۔۔۔۔

” نہیں تائی امی بس اب اپنے گھر میں ہوتی ہوں ” مسکرا کر اس نے جیسے بات ہی ٹال دی۔۔۔

” ہاں یہ بھی سہی کہا!! بارش کی وجہ سے ڈر تو نہیں گئیں؟؟ ” صالحہ کو اچانک ہی یاد آیا مایل کو بارش سے بہت ڈر لگتا تھا خاص کر بادلوں کی آوازوں سے۔۔۔۔۔

” جی تائی امی اسی لئے کال کی تھی۔۔۔۔ ” ہاتھ مڑوڑتے اس نے جھجھک کر کہا۔ المیر اس کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا۔ مایل کا جھوٹ اس کی سمجھ سے باہر تھا اسے تو لگا تھا مایل یہاں آکر گھر چھوڑنے کی ” وجہ ” سب کو بتائے گی۔۔۔۔۔

” امی بس دماغ کے پُرزے ہلے ہوئے ہیں!!!! اور کچھ
نہیں ” وہ اسے دیکھتے طنز کر رہا تھا مایل نے کاٹ دار نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔

” المیر کیا ہوگیا ہے؟؟؟ ” صالحہ نے دونوں کو ٹوکا جو ایک دوسرے کو خون خوار نظروں سے دیکھ رہے تھے صالحہ کے ٹوکنے پر المیر نے ایک نظر صالحہ کو دیکھا پھر سیڑیاں چڑتا اوپر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔۔

” تم دونوں ایسے تو نہیں لڑتے تھے ” صالحہ نے المیر کی پشت دیکھتے کہا۔۔۔۔۔۔

” تائی امی وقت۔۔۔۔ سب بدل دیتا ہے!!!! آپ چھوڑیں ہم چائے پئیں یہاں آئی ہوں تو تھوڑا سکون لے لوں؟؟؟ ” آخری جملا مایل نے دھیرے سے بولا جو کو صالحہ سن نہ سگی مایل صالحہ کے ساتھ کچن میں آگئی۔ مایل انہیں چائے بناتے دیکھ ایک دم اپنی سوچوں میں ڈوب گئی۔ صالحہ بولتی رہی مایل کبھی انکے ہلتے لب دیکھتی تو کبھی وہ آگ جس پر چائے چڑھائی تھی۔ ذھن بس زریق کو سوچ رہا تھا باقی وہ ہر چیز سے بےخبر ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صالحہ بیگم چائے کپوں میں انڈھیلتی اِس سے پوچھ رہیں تھیں۔ جبکہ مایل تو اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔۔۔ صالحہ نے اسے سوچوں میں الجھتے دیکھ اس کا بازو ہلایا۔۔۔۔۔۔

” کہاں کھوئی ہو مایل بتاؤ نا اب تمہارے سسر کی طبیعت کیسی ہے؟؟؟ اور میں نے جو نُسخٙہ بتایا ہے اپنی ساس کو کہنا کہ وہ ضرور آزمائیں۔۔۔۔ ” مایل جو بغور آگ کو دیکھ رہی تھی یکدم ہوش میں آئی اور صالحہ کی بات پہ سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔

” تائی امی آپ نے گیس کھلی چھوڑ دی۔۔۔ ” مایل نے آگے بڑھ کے گیس بند کی جس کی وجہ سے جلتی آگ بھی بند ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔

” بھول گئی۔۔۔ ” صالحہ نے کچن کی ٹیبل پر ہی کیبینٹ سے کچھ بسکیٹس نکال کر رکھے اور مایل کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اب دونوں چائے میں بسکٹ ڈبو ڈبو کے کھا رہے تھیں۔۔۔۔۔۔

نجمہ ناشتہ بنانے کے گرز سے کچن میں آئی پر وہاں مایل کو کچن میں صالحہ کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔۔۔

” تم کب آئی ہو؟ بتایا نہیں۔۔۔”
نجمہ کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ ضرور کچھ ہوا ہے۔۔۔۔

” صبح المیر کے ساتھ آئی ہے۔۔۔ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اچھا ہے نہ کچھ دن ہمارے ساتھ رہ کر جائے گی “
صالحہ کی اس بات پر مایل نے اپنی ماں کو دیکھا وہ تیکھی نظروں سے اسے ہی گھور رہی تھیں مایل کا چائے پینا مشکل ہو گیا. اسکی نظریں جھک گئیں۔

نجمہ کو اس وقت مایل پر شدید غصہ آرہا تھا۔ وہ کیسے آخر المیر کے ساتھ آئی اس نے ایک دفعہ نہیں سوچا بس اٹھ کر المیر کے ساتھ چلی آئی مایل کو نجمہ کی چُپتی نظریں اپنے وجود پر محسوس ہو رہی تھیں مایل کو اندازہ تھا آج نجمہ اسے بخشے گی نہیں وہ جلدی چائے ختم کر کے کمرے میں چلی گئی۔۔۔

نجمہ کچھ دیر صالحہ کے ساتھ ناشتہ بنانے میں اس کی مدد کرتی رہی پھر جیسے ہی زونیشہ کچن میں آئی نجمہ کو موقع مل گیا وہ مایل کے پاس آگئی۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” کیوں میرا جینا حرام کر رکھا ہے؟؟؟ شوہر جب ہے تو المیر کے ساتھ کیوں آئی ہو؟؟ زریق کو شک ہوگیا یا دماغ میں کوئی بات بیٹھ گئی تو ساری زندگی عذاب تم جھیلو گی؟ جانتی ہو مرد شک کرنے لگے تو زندگی ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ بیوی بےوفائی معاف کردیتی ہے شوہر نہیں کرتا!!! تم اِسکی سوچ کو بدل سکتی ہو؟؟ سمجھا سکتی ہو کے یہ سب تمہارا بچپنا تھا؟؟؟ بولو جواب دو مجھے تمہاری آج خال ادھیر دوں ” نجمہ کا غصے کے مارے شدید بُرا حال ہو رہا تھا بس نہ چلتا مایل کا چہرہ تھپڑوں سے لال کر دیتیں۔ مایل پر ان کی کسی بات کا اثر ہی نہیں ہو رہا تھا وہ بس چُپ چاپ انہیں دیکھے جا رہی تھی اب وہ انہیں کیا بتاتی اُسے وحشت ہو رہی تھی اس گھر میں۔۔ یہاں آکر جو اسے سکون ملا ہے وہ وہاں نہیں تھا اور ثمروز صاحب کے ایکسیڈنٹ کے بعد تو ثمرین بھی اس سے بالکل غافل ہو گئی تھیں۔ وہاں کا ماحول اسے کاٹ کھانے کو دوڑتا۔۔۔۔

” جواب دو ” نجمہ اسے چُپ دیکھ بھڑک اٹھیں۔

مایل نے جھنجھلا کر بولا۔۔۔۔ ” امی کیا ہو گیا پہلے بھی تو میں ان کے ساتھ ہرجگہ جاتی تھی۔ “

” پہلے کی بات الگ تھی پہلے تمہاری شادی نہیں ہوئی تھی اب تم شادی شدہ ہو۔ اور اب تمہارے ساتھ تمہارا شوہر ہے تمہاری حفاظت کرنے کے لیے۔۔۔۔ باپ نہیں تھا بھائی نہیں تھا تو ہم دوسروں کے سہارے رہتے تھے لیکن اب تم شوہر والی ہو جب زریق تھا تو اسکے ساتھ کیوں نہیں آئیں؟؟؟ ” انکا غصّہ ابھی تک ساتویں آسمان پر تھا مایل اس بحث سے تنگ آچکی تھی۔۔۔۔

” امی اُس سے بھاگ کر ہی تو آئی ہوں۔ وہ شخص میری سمجھ میں نہیں آتا۔۔ وہ میری سوچوں سے بہت دور ہے مجھے یہاں آکر اتنا سکون محسوس ہو رہا ہے۔ یہاں آکر مجھے وہی زندگی لگ رہی ہے جو شادی سے پہلے تھی وہاں میں جاتی ہوں تو مجھے اُس شخص کے ساتھ رہنا پڑتا ہے جس کے بارے میں مجھے یہ تک معلوم نہیں کے وہ انسان ہے یا درندہ۔ وہ کون سی مخلوق ہے اسکا شمار کس میں ہوتا ہے؟؟ ” نجمہ کو اسکی دماغی حالت پو شُبہ
ہوا مایل انکو مزید غصّہ دلا رہی تھی انہیں یہی لگ رہا تھا وہ یہاں رہنے کے بہانے کر رہی ہے۔ مایل انہیں بتاتے ہوئے انہی سوچوں میں چلی گئی رہ رہ کر اس کے سامنے وہ منظر دوبارہ آرہا تھا جب زریق خود کو اسٹیچز لگا رہا تھا۔۔۔۔۔

” کیا تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیسی باتیں کر رہی ہو؟؟؟ ” انہوں نے اسکا بازو سختی سے پکڑا مایل یکدم سے جیسے ہوش میں آئی اپنی ماں کی سرخ آنکھیں دیکھ وہ انھیں بےبسی سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

” امی میں سچ کہ رہی ہوں اسے کچھ محسوس نہیں ہوتا!!! آس پاس کیا ہو رہا ہے اسے ہوش نہیں ہوتا۔ اسے درد نہیں ہوتا۔۔ آگ اسے جلا نہیں سکتی۔۔ وہ آگ سے کھیلتا ہے۔۔۔۔۔۔ ” وہ جذبات میں آکر اونچی آواز میں بول رہی تھی نجمہ نے دانت پیسے انکا دل چاہ رہا تھا آج اپنی ہی بیٹے کا گلا دبا دیں۔ جسے اپنی عزت کی ذرا پروا نہ تھی۔۔

” چُپ بلکل چُپ!!! ایک لفظ نہیں یہ سب تمہارے بہانے ہیں۔بہانا چاہیے یہاں رہنے کا اتنا اچھا محبت کرنے والا شوہر ملا ہے اسے ٹھکرا کر تم یہاں آئی ہو کیا میں نہیں سمجھ رہی؟؟ تم کتنی بیوقوف ہو جاکر اپنی دوست سے پوچھو۔۔۔ ” نجمہ دانت پیسے چیخ رہیں تھیں جبکے زونیشہ کے ذکر پر مایل کی آنکھیں پھیل کر کھل گئیں۔ نجمہ کو تو اس کی ہر ایک بات بہانہ لگ رہی تھی مگر وہ انہیں کیسے سمجھائے کہ وہ کس اذیت سے گزر رہی ہے؟ وہ کہ رہیں تھیں۔۔۔

” عورت اپنا گھر چھوڑ کر کہیں اور سکون کی تلاش میں جائے تو صرف خوار ہوتی ہے اُس کا سکون اُس کے اپنے گھر میں ہے جہاں اُسکی عزت کی حفاظت کرنے والا اُسکا شوہر موجود۔۔ ہے جسے بیوی کا محافظ بنایا گیا۔۔ زونیشہ سے سیکھو شادی کے بعد ایک دفع بھی اپنے مائکے نہیں گئی حالانکہ اس کا مائکہ کہاں ہے؟؟ دو قدم دور؟ اس نے اپنے قدم اس گھر میں جمائے ہیں۔ شوہر اور ساس ہر جگہ اسکے لئے بولتے ہیں آواز اٹھاتے ہیں میں زونیشہ سے کچھ کہ دوں آگے سے مجھے صالحہ بھابی جواب دیتی ہیں۔ المیر کے کام وہ بھاگ بھاگ کر کرتی ہے دن میں کوئی دس دفع وہ چائے بنواتا ہے زونیشہ کے چہرے پر ایک شکن تک نہیں ہوتی بلکے مسکراتے ہوۓ اسکا ہر حکم مانتی ہے۔ المیر کو اس نے اپنی ایسی عادت ڈالی ہے کے وہ ایک دن اسکے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسکی ایک آواز پر وہ بھاگی چلی آتی ہے۔ وہ جس چیز کے لئے منع کرتا ہے زونیشہ نہ اس پر بحث کرتی ہے نہ ہی ضد۔۔ دیکھو کیسے اسکے دل پر حکمرانی کیے بیٹھی ہے۔۔ اور ایک تم ہو جو بغیر شوہر کو بتائے یہاں آئی ہو اور شوہر کو پروا نہیں۔۔۔۔ ” زونیشہ کے ذکر پر تو اسکہ وجود میں انگارے دھکنے چاہیے مگر وہ اسکے ذکر پر غصّہ نہیں ہوئی بلکے اسے زونیشہ کی قسمت پر رشک آیا۔ وہ اس انسان کی پسندیدہ ہستی بن چکی ہے جسے مایل بےحد چاہتی ہے۔۔۔۔۔
اور وہ کہاں ہے کہیں نہیں۔۔۔۔۔۔
المیر اس سے غافل تھا اور زریق بھی۔۔۔۔
زونیشہ اس سے زندگی کی ہر بازی جیتی تھی۔۔۔۔
چاہے وہ پڑھائی میں ہو، محبت ہو، سسرال ہو یا قسمت جیتی ہمیشہ وہی ہے۔۔۔۔

” مائکے آنے کے لئے ساری زندگی پڑی ہے اس وقت اہم کام اپنے پیڑ مضبوط کرنا ہے۔ تمہاری جگہ زونیشہ ہوتی کبھی اپنی جگہ چھوڑ کر نہیں آتی۔ میری باتیں یاد رکھو زریق کو تمہاری جگہ سنبھالنے والی لاکھوں مل جائیں گی مگر اِس سب میں نقصان صرف تم اٹھاؤ گی۔۔۔۔ ” اسے نجمہ کے الفاظ اتنے کڑوے لگے کے آخری بات پر اسکی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں جو بھی تھا زریق اسکا شوہر تھا…. صرف مایل کا…. کسی پر اسکا حق نہیں… کوئی اس سے زریق کو چھین نہیں سکتا۔۔۔

” میں جان سے نہ ماردوں جو میری جگہ لے!!! زریق ایسا کبھی نہیں کریں گئے کبھی نہیں۔۔۔۔ ” وہ غصّے سے انہیں دیکھ کر بولی۔ اسکے انداز پر نجمہ کا غصّہ کسی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اتنا وہ شکر کر رہیں تھیں زریق مایل کے دل میں موجود تھا۔ اسی وقت مایل کا موبائل بج اٹھا جیسے ہی اس نے فون دیکھا اسکرین پر زریق کا نام بلینک کر رہا تھا۔۔۔۔

” کس کا فون ہے؟؟؟ ” نجمہ کے پوچھنے پر مایل نے آنسو پونچھے۔۔۔۔۔۔

” انکا ہے “

” فون اٹھاؤ اور بات کرو میں نیچے سے ہوکر آتی ہوں۔۔ ” نجمہ اسے گھوری سے نوازنا نہیں بولیں تھیں۔ انکا تھوڑا خوف ہونا ضروری تھا ورنہ یہ لڑکی اپنی زندگی برباد کرنے میں وقت نہیں لگائے گی۔۔۔

مایل چاہتے ہوۓ بھی فون نہ اٹھا سگی وہ شاید بات کرتے رو دیتی۔ فون بج بج کے کٹ گیا۔ پھر مایل کو زریق کا میسج ریسیو ہوا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” کہاں ہو؟؟ “

” امی کے گھر۔۔۔۔ ” اُسی وقت مایل نے رپلائے دیا۔ پتا نہیں وہ کیا سوچتا ہوگا فون اٹھایا نہیں پر میسج کا جواب دے رہی ہے۔۔

” کیسے گئیں۔۔ ” اسکے اگلے میسج پر مایل سوچنے لگی۔ اپنی ماں کی باتیں اسے یاد آرہیں تھیں۔ مایل نے ناچاہتے ہوئے بھی جھوٹ بولا۔۔۔

” تایا ابو کے ساتھ۔۔۔ “

” کوڈنگ کر رہا تھا جب آپ میرے پیچھے آکھڑی ہوئیں تھیں۔۔۔ ڈسٹربنس سے سارا کام خراب ہوجاتا ہے۔۔۔۔ ” اتنا شاک تو اسے تب بھی نہیں لگا تھا جب المیر نے نکاح والے دن اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ وہ جس خوف سے بھاگتی ہوئی آئی تھی اسے پتا نہیں تھا وہ تو کب سے اسکے ساتھ جُر چکا ہے۔۔۔ وہ کیا سوچ کر آئی تھی اور اب زریق کا انکشاف۔۔۔۔۔۔

” المیر کے ساتھ ہی واپس آئیں گی یا میں لینے آؤں؟ “
کیا تھا یہ شخص؟ پل بھر میں پُرسکون زندگی کو بےسکون کردیا وہ یہاں ہوکر بھی لگتا ہے اُسی گھر میں قید ہے۔ ایک بار پھر اسکے دائنے ہاتھ میں درد ہونے لگا مایل نے گہرا سانس اندر کو کھینچا اسکی سانسیں چل رہیں تھیں۔ مگر وہ شخص اسے اسکی برداشت سے زیادہ آزما چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شکر ہے اس نے زریق کی کال نہیں اٹھائی ورنہ یہاں ہوکر بھی زریق کی آوازیں اسے ہر جگہ سنائی دیتیں۔ اسکے پاس زریق کے کسی سوال کا جواب نہیں تھا نہ ہی اس نے زریق کو رپلائے دیا وہ سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بس سوچے جا رہی تھی کیا کرے؟؟؟ آخر اسے پتا کیسے لگا؟ وہاں اسکے علاوہ تو کوئی تھا نہیں۔ کہیں المیر؟؟ وہ تو اسے پہلے سے جانتا ہے اسی نے تو یہ رشتہ کروایا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” مجھے آپ سے بات کرنی ہے “
وہ آندھی طوفان کی طرح اسکے سر پر نازل ہوئی جو آئینے کے سامنے کھڑا اپنا کوٹ پہن رہا تھا۔۔۔۔۔

” سن رہا ہوں ” وہ پرسکون لہجے میں گویا ہوا۔ اس وقت وہ آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا۔۔۔۔

” زریق سے آپ نے بات کی؟؟ ” اسکا لہجہ ابھی بھی سرد تھا۔۔۔

” میری اس سے کبھی بات نہیں ہوئی “

” آپ اسے پہلے سے جانتے تھے ” وہ تو گویا اسکا جواب سنتے ہی بھڑک اٹھی تھی۔۔۔۔۔

” کس نے یہ افوا پھیلائی؟؟ الزام ہے میں نہیں جانتا ” اسکے تیز لہجے پر بھی جواب ویسے ہی پُر سکون انداز میں دیا گیا۔ وہ بالوں پر کومب کر رہا تھا لیکن ایک نظر مایل پر بھی ڈالتا جو آئینے میں اسے اپنے برابر ہی کھڑی صاف دکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

” جھوٹ سفید جھوٹ کیا آپ نہیں جانتے تھے زریق عجیب ہے؟ ” مایل کا دل چاہ رہا تھا اس پُر سکون شخص کا سکون منٹوں میں غارت کر دے کاش وہ ایسا کر پاتی۔۔۔۔

” کیوں انسان کھاتا ہے؟؟ ” وہ محفوظ ہوا۔

” ہاں۔۔۔۔۔ “

” تو تم زندہ کیسے ہو؟ ” اب کے وہ مایل کی طرف مُڑا اور ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگائے ہاتھ باندھے کھڑا ہوگیا۔۔۔۔۔

” کہیں اسی لئے تو میری شادی نہیں کروائی کے وہ مجھے مار دے اور دنیا کو میرا نام و نشان نہ ملے۔۔۔۔ ” وہ اسکی بات پر مبہم سا مسکرایا۔۔۔۔۔

” مایل اتنے دنوں بعد آئی ہو صبح سے مجھے کاٹ کھانے کو دور رہی ہو۔۔۔ میں تمہیں بہت مس کرتا ہوں خاص کر جب تم اپنے مصلے میرے پاس لیکر آتیں تھیں۔۔۔ ” المیر اسے دیکھتا اُداسی سے کہ رہا تھا صبح بھی وہ اسکی بدتمیزی کی وجہ سے اس پر غصّہ کر گیا ورنہ اسے تکلیف پہنچانے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا (وہ لاعلم تھا مایل پریگننٹ ہے۔ المیر ہی کیا آریز اور شاذ بھی اس بات سے بےخبر تھے صرف گھر کے بڑے جانتے تھے جنھیں اِنکی بیویوں نے بتایا تھا باقی آبی کے کان تو ہر دیوار پر لٹکے ہیں۔)

” تو اسے ہل کریں نہ المیر صدیقی۔۔۔۔۔ ” وہ اتنی زور سے چیخی کے المیر بھی پل بھر کو سُن سا ہوگیا۔۔ اتنا غصّہ؟؟؟

” مایل۔۔۔ ” وہ آگے آیا مایل دوبارہ چیخی پوری شدت سے۔۔۔

” نہیں بلکل نہیں!!!! آپ کو سب مذاق لگتا ہے؟؟؟ میری زندگی تباہ ہو رہی آپ یہاں مزے سے کھڑے ہیں؟؟ ” یکدم ہی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ تو کب سے اِس سے اپنی پریشانی شیئر کرنے آئی تھی لیکن المیر ہی تھا سے سب مذاق لگ رہا تھا جسے اِس کی پریشانی سے کوئی غرض نہیں تھا۔۔۔۔۔

” تو کیا لیٹ جاؤں ” وہ سرد مہری سے بولا۔ مایل کو مذاق ہی لگا وہ کانوں پر ہاتھ رکھے چیخ اٹھی۔۔۔۔

” اسٹاپ اٹ خدارا چُپ ہوجائیں ” گہرے گہرے سانس لیتی وہ رونے لگی۔۔۔۔

” آپ نے میری اس سے شادی کروائی بغیر یہ جانے وہ ہے کون؟؟؟ آپ نہیں جانتے اسکے ساتھ گزارا ایک ایک پل مجھے خوفزدہ کرتا ہے۔۔۔۔۔ وہ انسان نہیں ہے میں۔۔۔میں سچ کہ رہی ہوں یقین کرو میرا وہ عام انسان نہیں وہ کوئی اور ہے۔۔۔۔اس۔۔۔۔اسے موت سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔اسے کچھ محسوس نہیں ہوتا اسے اپنے دل کی دھڑکن تک محسوس نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ ” المیر آنکھیں سیکوڑتا اسے دیکھ رہا تھا وہ اسے نارمل ہر گز نہ لگی۔ یا کہیں وہ بہانے تو نہیں کر رہی؟ کیا وہ خوش نہیں؟؟ وجہ زریق ہے؟ یا اب بھی مایل المیر سے۔۔۔۔۔۔۔ آخری بات سوچتے ہی المیر کی رگیں تن گئیں۔۔۔۔۔ وو غصّے سے عین اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔۔۔۔

” بکواس بند کرو!!!! مجھے حیرت ہو رہی ہے کسی اور کے نکاح میں ہوکر تم۔۔۔۔ ” المیر نے اپنے لب سختی سے بھینچ لیے اسے کہتے بھی شرم آرہی تھی مایل اسکی بات نہیں سمجھی تبھی وہ بولے جا رہی تھی۔۔۔

” و۔۔۔۔۔وہ آگ سے کھیلتا ہے۔۔۔ میں کیسے سمجھائوں مجھے اس سے خوف محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔ وہ قاتل درندا ہے اپنی بھوک کے لئے وہ معصوموں کی جان لیتا ہے۔۔۔۔۔ ” منہ پر پڑنے والے تھپڑ کی وجہ سے مایل کے ہونٹ خاموش ہوگئے۔۔ نجمہ نے اسے اتنی زور سے تھپڑ مارا تھا کے مایل کو اپنا جبڑا دُکتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

” چچی۔۔۔ ” نجمہ نے ہاتھ کے اشارے سے المیر کو وہیں رُکنے اور چُپ رہنے کا کہا جو انکی طرف بڑھ رہا تھا۔ جبکے مایل بےیقینی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

” تیرے مرحوم ابا اور بہن کا واسطہ ہے اپنی اور ہماری عزت مت اُچھالو۔ مرنے والے کا تو احترام کرو،، ایک کا دُکھ برداشت نہیں ہوتا لوگ اس پر تھو تھو کرتے نہیں سوچتے تمہیں تو زندہ جلا ڈالیں گئے۔۔۔۔۔۔ معاف کردے ہمیں اور آج کے بعد اس گھر میں تم نہیں آؤ گی جب تک میں نہ بلاؤں ورنہ اپنی ماں کی میت دیکھو گی۔۔۔ ” مایل کے کان میں ایک بیپ بجی اسکے بعد کان سُن ہوگیا۔ وہ بھیگی آنکھوں سے ماں کو دیکھتی انکے سخت الفاظ ہضم کر رہی تھی۔ اسے سمجھ کچھ نہ آرہا تھا مگر لفظ ایسے تھے کے نہ چاہتے ہوے بھی کانوں میں دُھنس رہے تھے۔۔۔

نجمہ مایل کو ناشتے کے لیے بلانے آئی تھی بہت پیار سے شگفتہ نے اسکے لیے اوملیٹ بنایا تھا مگر مایل کو روم میں ناپاکڑ نجمہ یہاں آئی اور سوچ کے مطابق یہیں پائی گئی۔ یہاں مایل کی باتوں پر المیر کے جواب سن کر نجمہ کو بھی یقین آگیا کہ وہ بھی صحیح سمجھ رہی تھی۔ المیر کو بھی یہی شک تھا کہ وہ اس کی وجہ سے یہاں واپس آئی ہے۔ کیوں کے مایل کے بہانے ایسے تھے کے کوئی بھی یقین نہ کرتا۔ نجمعہ آج یہ انتہائی قدم نہ اٹھاتی تو ایک بار پھر مایل گھر کی اس دہلیز پر آبیٹھتی۔

المیر خود بالکل خاموش ہو کر رہ گیا تھا اسے اندازہ نہیں تھا نجمہ مایل کو تھپڑ مار دے گی۔ اس کے بعد کیا ہونا تھا نجمہ کا بی پی ہائی ہو گیا تھا۔ مایل کو تو اِرد گرد کی پرواہ ہی نہیں تھی نجمہ نے المیر سے کہا کہ وہ مایل کو اس کے گھر چھوڑ آئے لیکن نجمہ بھی ساتھ چلے گی۔۔۔۔۔

پھر وہ تینوں جیسے ہی نیچے آئے سب انہیں ہی دیکھ رہے تھے نجمہ نے تو کھوکلی مسکراہٹ سے سب کو کہا کہ وہ مایل کو چھوڑنے جا رہی ہے مگر مایل کی بھیگی انکھیں، سرخ چہرہ دیکھ سب ہی پریشان رہ گئے اور وہ آخری بار تھا جب سکندر ولا کے افرادوں نے مایل کو یہاں سے جاتے دیکھا تھا۔۔۔ زونشہ بھی اپنی دوست کی بھیگی آنکھیں دیکھ رہی تھی ہر کسی نے مایل کے چہرے پر اذیت، دکھ، درد، تکلیف سب محسوس کی تھی لیکن کسی نے اِس دن اُسے روکا نہیں کاش وہ اُس دن اُسے روک لیتے تو آج مایل دربدر کی ٹھوکریں نہ کھاتی۔ وہاں حیدر مرتضی اور صدیق صاحب نہ تھے ورنہ وہ ضرور مایل کا احساس کرتے مایل جیسے ہی کار میں بیٹھ رہی تھی اُسی وقت زاکون حیدر کی کار بھی وہاں آرکی اور مایل کو کار میں بیٹھتے دیکھ زاکون بغور اُس کے سرخ چہرے کو دیکھ رہا تھا وہ اس کی طرف بڑھتا اس سے پہلے ہی وہ کار میں بیٹھ چکی تھی اور المیر کار زُن سے اگے بڑھا گیا جبکے زاكون بھاگتا ہوا اندر گیا تھا۔۔۔۔