66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

” مایل ” سرخی مائل آنکھوں سے اسے دیکھتا وہ اسکی حالت دیکھ اٹھ کر اسکے پاس آیا۔۔۔

” نہی۔۔۔۔نہیں ” زریق کو خود کی طرف بڑھتا دیکھ وہ مزید خوفزدہ ہوکر بیٹھے بیٹھے ہی پیچھے کو کھسک رہی تھی۔آنکھیں خوف کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں۔۔۔

” میری بات سنیں!!!! ” وہ اسکے پاس بیٹھ گیا مایل ہچکیاں لے کر رونے لگی۔ زریق نے ہاتھ بڑھایا تو وہ پیچھے ہوگئی۔۔۔۔۔

” یہ ایکسیڈنٹ ہوگیا!!!! اور اسٹیچیز لگانے میں نے اپنے بھائی سے سیکھا ہے وہ ڈاکٹر ہے جس کے روم میں آپ گئیں تھیں۔۔۔۔۔ ” مایل کو توقع نہیں تھے جس کے بارے میں وہ اتنے دنوں سے سوچ رہی ہے زریق پل بھر میں اس کا نقشہ اس کے سامنے کھینچ دے گا۔۔۔۔۔۔

” در۔۔۔۔درد ” خوف کی وجہ سے الفاظ تک مکمل نہیں ہو پا رہے تھے لیکن اس ایک لفظ ” درد ” سے زریق سمجھ گیا آخر اس ” درد ” سے بچپن سے گہرا تعلق ہے زریق کا۔۔

” انجیکشن لگاوایا ہے جسم کا یہ حصہ سن ہے درد نہیں ہوگا۔۔۔۔ ” وہ اسے درد نہ ہونے کی وجہ بتا رہا تھا مگر مایل کا رونا بند نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔

” اس حالت میں آپ کا رونا ہمارے بچے کے لیے نقصان دہ ہے پلیز۔۔۔۔۔۔ ” زریق نے ایک ہاتھ سے اسکا چہرہ تھامے التجا کی مایل نے رونا بند کردیا۔ مگر آنکھیں ویسے ہی تھیں پھٹی کی پھٹی جیسے زریق سے خوف محسوس ہو رہا ہو۔۔۔

” مت ڈرا کریں مجھ سے میں حیوان بھی بن جاؤں آپ کو نقصان کبھی نہیں پہنچا سکتا۔ آپ کے لئے ہی تو زندگی جینا سیکھ رہا ہوں۔۔۔ ورنہ میرا شمار تو مُردوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔ ” زریق نے سچ جھوٹ ملا کر کہانی تو بنا لی تھی مگر وہ جانتا نہیں تھا مایل نے یقین کیا ہے یا نہیں؟؟؟ کیوں کے وہ منٹوں میں اسکے جھوٹ کو پکڑ سکتی ہے اگر انجیکشن ہسپتال سے لگوایا تھا تو اسٹیچیز کیوں نہیں لگوائے؟؟؟ وہ چاہے تو ہزاروں سوال لاکر کھڑے کر سکتی ہے۔۔۔۔۔

وہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو پل پل اسکی جان لینے کے در پر تھا۔ اس نے دوسرا زخمی زدہ ہاتھ بڑھا کے مایل کے چہرے سے چپکے بالوں کو پیچھے کرنا چاہا تو مایل جو پہلے سے ڈری وی تھی اس خوف سے کے وہ اسے کوئی نقصان پہنچائے گا اس نے ہاتھ پیچھے جھٹکا جس کی وجہ سے مایل کا ہاتھ اسکے زخم زدہ ہاتھ پر لگا جہاں سے آدھا دھاگا لٹک رہا تھا۔ زریق اسٹیچز ادھورے چھوڑ کر مایل کو دیکھنے آیا تھا۔ جیسے ہی مایل کا ہاتھ اس دھاگے پر لگا وہ دھاگا کھینچتا ہوا تھوڑا نیچے کو ہوا جس سے زریق کے ایک دو سٹچز کھل گئے مایل اس کی لٹکتی خال دیکھ کر چیخ کر اس سے اور دور ہٹی اور لمحوں میں ہی وہ زریق کی باہوں میں جھول گئی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنی بڑی غلطی ہو گئی تھی۔۔ اس نے ایک بے قصور کو سزا دی تھی صرف اپنا بدلہ لینے کے لیے کتنی غلط حرکت کی اس نے۔۔۔۔۔۔ کیا گزری ہوگی اس پر؟؟ کیا اس کے گھر والوں کو بھی سب پتا چل گیا ہوگا؟؟؟ وہ جیل سے آزاد ہوا ہے مطلب کسی نے اس کی رہائی دکروائی تھی یعنی اس بات سے کافی لوگ واقف ہونگے شاید اسکے گھر والے بھی رہ رہ کر اسے خود پر شدید غصّہ آرہا تھا۔۔۔۔۔۔

صرف آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا اس کے جانے میں۔ وہ بار بار سوچ رہی تھی اسے فون کر کے وہ ایک دفعہ سوری اور تھینک یو کہہ دے مگر اسے یقین تھا فون کوئی بھی اٹھا سکتا ہے کیونکہ فون فلور کا ہوتا ہے لیکن وہ کیا بہانے بنائے گی کہ اسے اسٹاف زاکون سے کیوں بات کرنی ہے؟ اس شخص نے تو اپنے کسی پیشنٹ کا انڈینٹ بھی نہیں کیا تھا جسکے متعلق وہ کوئی بہانہ بنائے۔۔۔۔۔

پندرہ منٹ تک سوچنے کے بعد اس نے تنگ ہوکر کال ملا ہی دی اسکا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ آگے کا سوچ کر ہی اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔۔۔

کال جیسے ہی گئی فوراً کسی نے کال اٹھا لی دوسری طرف کسی لڑکی کی آواز تھی۔۔۔

” ہیلو صباء سیس سی یو۔۔۔ “

” صباء اسٹاف زاکون سے بات کروا دیں ایک پیشنٹ کا پوچھنا ہے۔۔۔۔ ” ہونٹوں پر زبان پھیرتے اس نے کہا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔

ایک دو منٹ ہی گزرے ہونگے کے وہ آگیا۔۔

” بولو ” اسکی آواز سن کر ہی مومنہ کی جان ہلق میں آ اٹکی۔۔۔۔۔۔۔

” و۔۔۔۔و۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔ “

” پیشنٹ کی آئی وی (IV) کر رہا تھا آپ کی ” وہ وہ ” سنے نہیں آیا۔۔۔۔۔ ” لہجہ انتہائی سرد تھا مومنہ نے تھوک نغلا۔ اسکی آواز ہی روح قبض کرنے کے لئے کافی تھی۔۔۔

” تھ۔۔۔۔۔تھ۔ن۔۔۔۔۔تھنک یو اور۔۔۔۔س۔۔۔سس۔۔۔۔سوری ” آنکھیں سختی سے میچے اس نے کہا جیسے وہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

یہی کہنا تھا؟ ” وہی چٹانوں جیسا سخت لہجہ مومنہ ٹیبل کو ناخون سے کھروچنے لگی۔ اپنے کپکپاتے ہاتھوں کی حرکت روکنے کے لئے۔۔۔۔

” جی۔۔۔۔ ” اگلے ہی لمحے اس نے ٹھک سے فون رکھ دیا مومنہ کا گویا سانس بحال ہوا مگر۔۔ وہ بےبسی سے ایکسٹینشن کو دیکھتی رہی اسے بُرا نہیں لگا تھا اُس نے فون رکھ دیا۔۔۔۔۔

بلکے اسکی سرد مہری، اسکا سخت لہجہ، اسکی بےگانگی مومنہ کو دکھ دے رہی تھی۔ ایک ہی رات میں وہ شخص اسکے دل میں اپنی جگہ کر گیا۔ مگر اس شخص کے دل میں اول آخر صرف مومنہ تھی ” مومنہ ملک “۔۔۔۔ مومنہ سلطان نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شدت سے کل رات سے صبح ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ صبح ہوتے ہی وہ اس کا دیدار کرے گا۔ مگر وہ تھی کہ اس کے سامنے آہی نہیں رہی تھی دوسرا یہ کہ اس کا آج پہلا دن تھا تو حیدر مرتضیٰ (اسکے والد)نے ثانیہ سے کہا ہے وہ ایک ہفتہ عزاہ کو اپنے ساتھ رکھے اور اسے سارا کام سیکھادے۔۔

اس نے انٹرویو ہی ایسا لیا تھا کہ اس کے پاس عزاہ کی کوئی انفارمیشن نہیں تھی۔ جب حیدر مرتضی اور صدیق صاحب نے اس سے عزاہ کا پوچھا تو وہ ہونق بنا بس دونوں کو دیکھتا رہا مگر پھر آج عزاہ کے آتے ہی انہوں نے خود اس کا انٹرویو لیا اور اس کی سی وی دیکھی جو کے کافی امپریسیو تھی مگر حیدر مرتضی اور صدیق صاحب کا کہنا تھا کہ وہ ایک ہفتہ کم سے کم کسی ایمپلائی کے ساتھ کام کر لے تاکہ وہ یہاں کام کرنے کا طریقہ سمجھ جائے۔ پھر خود ہی وہ اسے سارے کام دیں گئے۔

آج حیدر مرتضی نے اسے ایک ٹاسک دیا تھا کہ اسے ایک فائل کمپلیٹ کر کے کلائنٹ کا اپروول لینا ہے تو آتے ساتھ وہ اسی کام میں لگ گئی آریز بار بار اسے شیشے کے اِس پار سے دیکھ رہا تھا وہ مگن ہوکر اپنے کام میں لگی تھی۔۔

اور آریز کافی دیر اِدھر سے اُدھر گھومتا رہا پھر تھک ہار کر وہ بھی اپنا کام کرنے لگا وہی پریزنٹیشن تیار کرنے لگا جو المیر اسے دے کر خود کسی بنگلے کا وزٹ کرنے گیا تھا۔ کام کرتے دوران اسے گزرتے وقت کا پتا ہی نہیں چلا اس کی پریزنٹیشن مکمل ہونے کو تھی جب اس کے گلاس ڈور پر ناک ہوا آریز نے بے دہانی سے آنے والے کو اندر آنے کی اجازت دے دی یہ دیکھے بغیر کے آنے والی وہی ہستی ہے جس کے لیے وہ بے تاب تھا۔۔۔۔۔

” ہاں بو۔۔۔۔ ” آریز نے جیسے ہی گردن اوپر کی اسے اپنے سامنے دیکھ وہ منجمد ہوگیا۔۔ کئی پل وہ اسے دیکھتا رہا۔ ہوش تو تب آیا جب عزاہ نے فائل اس کی ٹیبل پر رکھی۔۔۔۔۔۔

” کیسی ہو؟؟؟ ” وہ فائل اور اپنی پریزینٹیشن کو نظر انداز کرتا اب صرف اس کی طرف متوجہ تھا۔۔۔۔۔

” یہ کچھ فائلز ہیں سائن کردیں۔۔۔” اس نے دوبارہ اس کا دیہان فائلز کی طرف کیا۔۔۔۔۔

” مجھے صفائی کا موقع نہیں دوگی؟ ” وہ اٹھ کھڑا ہوا عزاہ یہاں تھوڑی گھبرا گئی۔ وہ جو ہر وقت اس کی موجودگی میں بھی نارمل رہتی تھی اسے اپنی طرف آتا دیکھ اب کے پریشان ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔

” آپ اپنا اور میرا وقت برباد کر رہے ہیں ” وہ اسے اپنے پاس آتا دیکھ سختی سے بولی

” برباد تو وقت نے مجھے کیا ہے!!!! ” اسکے لہجے میں برسوں کی پیاس تھی،، ایک تھکاوٹ تھی، انتظار تھا جو اس نے عزاہ کا کیا تھا۔۔۔

” میں آپ کی ایمپلوائے ہوں اسکا مطلب یہ نہیں آپ کی ہر بات سنے کی باپند ہوں!!! میرے ساتھ پرسنل مت ہوں ورنہ آپ کے ابا حضور کو شکایت کرنے میں وقت نہیں لگے گا۔۔۔ ” سلگتے لہجے میں وہ سرد نظروں سے اسے دیکھتے تنبیہ کر رہی تھی آریز اس کے لہجے اور اس کی دھمکی پر حیران رہ گیا۔ وہ جانتا تھا وہ صرف کہتی نہیں ہے بلکہ اپنے کہے پر عمل بھی کرتی ہے اسلئے آریز نے خاموشی سے ان پپرز پر سائن کر دیے وہ ضرور حیدر مرتضی اور صدیق صاحب کے سائن لینے آئی ہوگی لیکن حیدر مرتضی اور صدیق صاحب کو ناپا کر وہ اس کے کیبن میں چلی آئی۔ اس کے سائن کرتے ہی لمحے کی دیر کیے بغیر عزاہ نے فائلز اٹھائیں اور کیبن سے نکل گئی پیچھے آریز پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بےبسی سے اسے دیکھ رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” ہیلو مایل تم اس وقت؟؟؟ صبح کے اس پہر سب خیریت تو ہے ؟؟؟؟ ” المیر جو گہری نیند سو رہا تھا فون کی بجتی بیل سے وہ نیند سے بیدار ہوا۔ فون وہ اِس وقت نہیں اٹھاتا لیکن مایل کا نمبر دیکھ وہ پریشان ہو اٹھا۔ کال اٹھاتے ہی وہ اس کی سنے بغیر بے تابی سے بولا

“آپ مجھے ابھی کے ابھی لینے آئیں ورنہ میں یہاں سے خود سے گئی تو پھر زندگی بھر آپ لوگوں سے ملنے نہیں آئونگی “

” کیا کہ رہی ہو؟؟ ” وہ تو گویا اس کا مطالبہ سن کر سناٹوں میں گر گیا

” آپ آرھے ہیں یا نہیں؟؟؟ ” اب کی بار وہ سختی سے بولتے اسے دھمکی دے گئی

” میں آرہا ہوں بس دو منٹ مایل۔۔۔ “المیر اپنے جسم سے چادر ہٹاتا فون اور گاڑی کی چابیاں لے کر گھر سے نکل گیا۔۔۔۔

بے ہوشی کے بعد وہ جیسے ہی ہوش میں اآئی تھی زریق اسے کمرے میں نہیں دِیکھا تھا۔ اس نے فوراً سے فون ڈھونڈا اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ آریز کو کال کرے مگر جس شخص کی وجہ سے آج وہ تباہ ہوئی ہے وہ اس کی نیند کیوں نہ حرام کرے؟؟؟ اسے کیوں نہ بے چین کرے؟؟؟ اس لیے اس نے فون ہی المیر کو کیا تاکہ وہ اسے اپنے سوالوں کا جواب طلب کرے آخر کیوں اس نے اس کی زندگی برباد کی کس غلطی کی سزا المیر نے اسے دی ہے۔۔ کیا اس سے محبت کرنے کی سزا دی ہے؟؟؟؟

جاری ہے۔۔۔۔