Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 15
Rate this Novel
Episode 15
” کون تھی؟؟ وہی جسکی وجہ سے آج تک کنوارے
ہو؟ ” اُس لڑکی کے جاتے ہی المیر نے آریز سے پوچھا جو ابھی تک دروازے کو تک رہا تھا جہاں سے ابھی وہ لڑکی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
” تم سے مطلب؟ مایل کے ٹائم میری سنی تھی؟؟ “
وہ تھا تو اچھے موڈ میں جواب بھی اس نے سیدھے منہ سے ہی دیا تھا لیکن الفاظ ایسے تلخ تھے کہ المیر بھڑک اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” انف!!!! میں اب تمہیں کوئی صفائی نہیں دونگا کہیں نہ کہیں مجھے لگتا ہے میری ہی غلطی تھی جو ہر ایک شخص نے مایل کے ساتھ میرا نقشہ کھینچ لیا ہے۔۔۔ ” آریز چونک اٹھا اسکے علاوہ کون جانتا تھا یہ سب؟؟؟؟؟
” میرے علاوہ اور کون؟ ” المیر کو لمحے بھر میں اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔ اس نے بالوں پر ہاتھ پھیڑتے کہا۔۔۔
” نجمہ چچی۔۔۔۔۔ ” کہ کر وہ اٹھ کر جا چکا تھا۔ پیچھے آریز اسکی پشت دیکھتا رہا اسے یقین تھا المیر کی زبان سے پھسلا تھا وہ شخص کوئی ” اور ” ہی ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” امی۔۔۔۔ک۔۔۔۔ کیا ہوا ” سمرین کو زریق کے سینے پر بلکتا دیکھ مایل خوفزدہ ہوگئی وہ جانتی تھی جو بھی خبر تھی وہ اچھی نہیں ہوگی۔۔۔۔۔
وہ کھانا رکھ کے سمرین کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی زریق نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا مایل نے سمرین کے دونوں ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔۔
” ام۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔ ” مایل کے ہونٹ لرز رہے تھے آنکھیں آہستہ آہستہ نمکین پانی سے بھر رہیں تھیں۔ زریق اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
سمرین کی ہمت جواب دے گئی تھی رو رو کر وہ وہیں غنودگی میں چلی گئیں مایل اسکے بےہوش وجود کو دیکھ مزید خوفزدہ ہوگئی۔۔۔
” ڈیڈ کوما میں چلے گئے “
وہ بت بنی زریق کے ہونٹوں کو تکتی رہی۔ جس نے اچانک ہی انکشاف کیا وہ بلکل ریلیکس تھا مگر یہ سن کر اسکا اپنا دل گھبرا اٹھا تھا۔۔۔۔
وہی حالت ہو رہی تھی جو شادی سے پہلے ہر بات سن کر اسکے دل اور جسم کانپ اٹھتا۔۔۔
” زریق امی۔۔ بےہوش” وہ جو مایل کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا اسکی چیخ سن کر اس نے اپنے بازووں میں روتی اپنی ماں کو دیکھا تو وہ واقعی سو چکی تھیں۔ مگر نہیں وہ بےہوش تھیں جنکا وجود زمین بوس ہونے سے پہلے مایل انہیں گڑتا دیکھ چیخی تھی۔۔۔
” ڈاکٹر۔۔۔۔۔۔ ” زریق بلند آواز میں چیخا اسکے چہرے پر فکرمندی کے کوئی تاثرات نہیں تھے۔ نہ مایل نے یہ سب نوٹ کیا تھا بس وہ تو اپنی طرف بھاگتی ہوئی نرسز کو دیکھ رہی تھی جو اسکے قریب تر آرہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ہیلو۔۔۔۔ ” مومنہ نے بےزاری سے بجتے ایکسٹینشن کو دیکھا پھر ریسو کا بٹن دبایا۔۔۔
” انجیکشن انڈینٹ کی ہے!!!! پورٹر آرہا ہے دے دینا “
مومنہ کا جواب سنے بغیر زاکون حیدر نے فون جھٹ سے بند کردیا اسکی آواز سے وہ پہچان گئی تھی یہ زاکون حیدر ہے حیرت ہے مومنہ کو وہ جیل سے کیسے آزاد ہوا؟؟؟؟ مومنہ کو تو لگا تھا دو تین مہینے وہ وہیں چکی پیسے گا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے منہ بناتے مونیٹر اسکرین پر دیکھا جہاں ” سی سی یو ” سے ایک پیشنٹ کا انڈینٹ شو ہو رہا تھا۔۔ جمائی لیتے اس نے انڈینٹ کھولا تو وہاں ایک انجیکشن انڈینٹ کی تھیں۔ زاکون حیدر نے قوائینٹٹی چار کی تھیی جب کے اس کے پاس وہ صرف ایک ہی بچا تھا۔۔۔
وہ لائف سیونگ ڈرگ تھا اس نے اُوور رجسٹر میں پڑھا تھا کہ وہ فارمیسی میں بس ایک ہی بچ گیا ہے میڈم کل کمپنی کو آرڈر دیں گی اور مزید وہ انجیکشنز منگوائیں گی۔۔۔۔۔
(اوور رجسٹر وہ ہے جس میں ہر شفٹ کے بعد فارمیسسٹ اپنا اوور لکھ کے جاتی ہے کہ یہ یہ چیز فارمیسی میں ختم ہو گئی ہے اس لیے اس کی جگہ کوئی اسکی الٹرنیٹ دوائی انجیکشن چلانی ہے۔۔ اور مزید بہت ساری چیزیں جو انکی شفٹ کے دوران ہوئیں ہوں اور آگے ہونگی )
اس نے وہ انڈنٹ ابھی چارج نہیں کیا اسے رہنے ہی دیا اور جا کر میڈم کے ڈراؤ میں سے وہ ایک انجیکشن نکالی جو ایک ہی پڑی تھی۔ میڈم نے اسے اپنے پاس چھپا رکھا تھا۔۔۔۔۔ وہ لائف سیونگ انجیکشنز کل ہی ختم ہوئے تھے کل ایمرجنسی کیسز میں تین چار چلے گئے تھے اس لیے میڈم نے سب کو اطلا دی تھی کے کمپنی کو آرڈر دیا ہے کل تک آجائیں گے۔۔۔۔۔۔
اس نے وہ انجیکشن نکالی اور بیٹھ کر پوٹر کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ ایسے ہی اس نے وہ چھوٹا سا انجیکشن اُلٹ پلٹ کر اس کی ایکسپائری دیکھی تو یکدم سے نجانے کیسے انجکشن اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر گودھ میں آگرا مومنہ کا سانس اٹک گیا۔۔۔
” میرے اللّه ” وہ اسی پوزیشن میں رہی ہلی تک نہیں اس کے ہاتھ تک اوپر تھے اس نے ڈرتے ڈرتے اپنی آنکھوں کی پتلیاں نیچے کیی وہ دیکھنا چاہ رہی تھی کے انجیکشن اس کی گود میں ابھی بھی سلامت ہے یا نہیں؟ آنکھوں سے اس طرح نیچے دیکھتے ہوئے درد ہو رہا تھا مگر اسکی جان ہلق میں آ اٹکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دھیرے سے اپنا ہاتھ انجیکشن اٹھانے کے لئے نیچے کیا لیکن نجانے کیسے اسکے سیلیپرس (Slippers) ٹائلز پر سلپ ہوے بیٹھے بیٹھے ہی اسکا پیڑ تھوڑا پیچھے کو کھسکا اور انجیکشن اسکی گودھ سے سلپ ہوتا سیدھا ٹائلز پر آگڑا۔۔۔
” آااااا ” زوردار چہخ اس کے منہ سے نکلی دل اتنی زور سے دھڑک اٹھا تھا کہ لگ رہا تھا پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔ دماغ یکدم سن ہوگیا کیا واقعی سب ہاتھ سے نکل گیا؟
مومنہ کو سانس لینا مشکل لگ رہا تھا ایسے لگ رہا تھا اس کی دنیا ہی ختم ہو گئی وہ اب کیا کرے گی؟؟؟ یہ ایک آخری انجیکشن ہی تو بچا تھا۔۔۔۔۔۔
” میڈم انڈینٹ دے دیں ارجنٹ ہے۔۔۔ ” سی سی یو کا پورٹر آکر اس کے سر پر کھڑا ہو گیا اور انڈینٹ کی رٹ لگا دی بار بار کہ کر وہ اسے مزید اذیت دے رہا تھا۔۔۔۔
” جاؤ نہیں ہے ” وہ چیخ کر بولی پورٹر اسکے لہجے پر دنگ رہ گیا اتنی بدتمیزی؟؟؟
” سینئر اسٹاف زاکون نے بھیجا ہے پیشنٹ کریٹیکل ہے ” وہ بھی اسی کی طرح تیز لہجے میں بولا
” سینیئر اسٹاف ہو چاہے ملک کا پرائم منسٹر میں کیا کروں؟؟؟ نہیں ہے انڈینٹ ” وہ اس وقت اتنی خوفزدہ تھی کے اسے اپنے لہجے کی تلخی کا احساس تک نہ ہوا۔۔۔۔
وہ پورٹر بھی غصے سے اسے گھورتے اوپر چلا گیا کچھ دیر بعد ہی اس کی سوچ کے عین مطابق ایکسٹینشن بجنے لگا مومنہ کو نئے سرے سے خوف نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ فون اٹھائے۔۔۔۔
اسے اپنی قسمت پر شدید رونا آرہا تھا۔ اس کی آواز تک ہلق میں دب کر رہ گئی تھی اس نے جیسے ہی فون اٹھایا دوسری طرف سے زاکون کی دھاڑتی آواز اس کی سماعتوں میں گونجی۔۔۔۔۔
” آپ زندگی کو مذاق سمجھتی ہیں؟؟؟ ایٹ لیسٹ جہاں زندگی موت کا سوال ہو وہاں اپنی انا۔۔۔۔ “
” ز۔ ۔۔۔۔زاکون۔۔۔۔۔۔۔۔ و۔۔۔۔۔۔و۔۔۔وہ۔۔ا۔۔۔۔انجیکشن۔۔۔مجھ سے ٹوٹ گیا ایک ہی تھا مایڈم میری جان لےلیں گی۔۔۔” وو رو دینے کو تھی اسے احساس تک نہیں تھا پہلی مرتبہ اس نے اس طرح ” زاکون ” کا نام اسکے سامنے لیا ہے۔۔۔۔
” دوسرا نہیں ہے؟؟؟ “
” نہیں۔۔۔۔ ” وہ سہم کر بولی۔۔۔۔
” پورٹر کو بھیجیں آغاہ خان سے ارینج کر کے دیں پینک(panic) کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔ ابھی پریسکریپشن(presecription) بھجوا رہا ہوں آپ ارینج کریں ” اس نے کہتے ساتھ فون بند کردیا مومنہ ابھی تک فون کان سے لگائے سُن سی تھی۔۔۔۔۔
(جب بھی کوئی میڈیسن فارمیسی میں نہیں ہوتی تو وہ دوسری جگہ سے ارینج کروا کر پیشنٹ کو دیتے ہیں۔ اکثر ایسی چیزیں جو مارکیٹ میں شارٹ ہوتی ہیں میڈم اس کے ریٹ بڑھا دیتی ہیں اس لیے اس نے زاکون کا انڈینٹ بھی چارج نہیں کیا تھا کہ کہیں میڈم نے اس کے ریٹ نہ بڑھائے ہوں کیونکہ یہ انجیکشن مارکیٹ میں شارٹ تھا۔۔)
وہ اتنا ڈر گئی تھی کہ یہ بات بھول ہی گئی کہ وہ انجیکشن ارینج کروا سکتی ہے!!!! مگر اسے ڈر صرف اس بات کا تھا کہ میڈم کل اس سے پوچھیں گی کہ ارینج کیوں کروائی جب تھی تو۔۔۔۔ جب کوئی میڈیسن ارینج کراتے ہیں تو وہ سیکیورٹی میں اطلاع دینی ہوتی ہے کہ پورٹر باہر جا رہا ہے میڈیسن ارینج کرانے کے لیے اور ایک ڈرائیور ہوتا ہے جو پورٹر کو الگ الگ جگہ لے کر جاتا ہے جہاں سے میڈیسن وہ ارینج کرتا ہے۔۔۔۔ چاہے وہ آغاہ خان ہو لیاقت نیشنل ہاسپٹل ہو۔۔۔۔”
ان کے پل پل کی خبر سیکیوریٹی والوں کو ہوتی ہے اگر وہ دوستوں کے ساتھ باہر کھانا کھانے جا رہی ہے بریک کے ٹائم تو اسے گیٹ پاس پر جانا پڑتا ہے اور ایک گھنٹے کے اندر واپس آنا ہوتا ہے یہاں کے رول ہیں ہی بہت سخت۔۔۔۔۔
یہی سوچ رہی تھی وہ پورٹر کو بھیج تو سکتی ہے مگر اس سے پہلے مومنہ کو میڈم کو اطلاع کرنی ہوگی اور میڈم اس سے پوچھیں گی کہ انجیکشن ایک رکھا تھا کہاں گیا؟؟؟ تب وہ انہیں کیا کہے گی کہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا وہ تو اسے لاپرواہی کہیں گی کہ جو چیز مارکیٹ میں شارٹ تھی اس کی قدر تک وہ نہ کر سگی۔۔۔۔۔
اس نے بھلے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا مگر ابھی اس کا ٹریننگ پیریڈ چل رہا تھا آج جو اسکے ساتھ سینیئر تھی شفٹ میں وہ ہاف ڈے چلی گئی اور مارننگ اسٹاف میڈم سب پانچ بجے ہی جا چکے تھے اس وقت وہ فارمیسی میں اکیلے ہی تھی اس کے ساتھ دو پورٹرز تھے جو ابھی کھانا کھانے گئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
اسے ابھی بھی سمجھ نہیں آرہا وہ اپنی پریشانی کس کو بتائے؟ کس کو اطلاع کرے اس کا دماغ بالکل ماؤف ہو چکا تھا وہ اپنی ٹینشن میں یہ سوچ نہ سگی کہ اس وقت پیشنٹ زندگی اور موت کے بیچ میں ہے اس کا پہلا کام میڈیسن ارینج کرانا تھا نہ کہ یہ کہ اس کی غلطی سر عام سب کے سامنے آئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہی سوچوں میں اس نے دس سے پندرہ منٹ اپنے ضائع کر دیے پھر کچھ دیر بعد اچانک ایکسٹینشن بچنے لگا اس نے کال اٹینڈ کی وہ کال سی سی یو سے تھی۔۔۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی فون اٹھایا سامنے زاکون حیدر تھا جو اس سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔
” انجیکشن مل گئی “
” کیا؟؟؟ کیسے؟؟؟ کہاں سے؟؟؟ ” مومنہ کو لگا کسی نے اسے زندگی کی نوید سنا دی۔
” اُسی دوران جب آپ سوچوں میں گم تھیں میڈم کو بتاؤں یا نہیں چاہے پیشنٹ اپنی جان گنوا دے ” وہ طنزیہ لہجے میں اس پر برس رہا تھا مومنہ ناسمجھی سے دیوار کو گھورتی اسے سن رہی تھی۔۔۔۔
” نہیں وہ۔۔۔۔۔۔” اس نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ اسکی بات سختی سے کاٹ گیا۔۔۔۔۔۔۔
” لسن مومنہ!!!!! آپ نے کبھی کسی اپنے کی موت نہیں دیکھی نہ اللّه کرے ایسا ہو مگر!!!!! جب کوئی عزیز ہستی اس دنیا سے چلی جائے یقین مانیں اسکا وجود مٹ جاتا ہے دنیا فراموش کردیتی ہے مگر اپنے۔۔۔۔ وہ اندر سے مر جاتے ہیں سسکتے ہیں دنیا بوجھ لگتی ہے،،، دن رات موت کا انتظار کرتے ہیں کرونا میں کتنوں کے ماں باپ گئے؟؟؟ بچے یہاں آکر کہتے تھے کے قیامت کا انتظار ہے کب ماں باپ سے ملیں گئے۔۔۔۔ ہمیں بھی مرنا ہے لیکن کیا منہ لیکر جائیں گی خدا کے پاس؟؟ آپ اپنے آپ کو فارمسسٹ کہتی ہیں ؟؟؟ کیا آپ نے حلف نہیں اٹھایا تھا؟؟ آپ اس بات کی جواب دہ نہیں ہونگی؟؟؟؟؟ ” وہ بولنے پر آیا تو اسے سُن کر گیا۔۔۔۔
” خیر اُس دن بھی آپ نے بغیر ایکسپائری دیکھے انجیکشن ڈسپنس کردی نرس وہ لگانے لگی تھی مگر اسے وائل کھولنا نہیں آیا۔۔۔۔ یہ میری موجودگی میں ہوا تھا میں کیا کرتا اگر یہ میری غیر موجودگی میں ہوتا؟ کیا آپ اس کی جان کی گارینٹی لے سکتی ہیں؟ یہ دوبارہ ہو نہ ہو اسی وجہ سے میں نے اپنے مینیجر کو انفارم کیا تھا میں نے صرف اپنی جاب کے ساتھ سینسیریٹی کی ہے اور مجھے اپنے پیشنٹس کی پرواہ ہے کیونکہ مجھے آگے اللہ کو جواب دینا ہے دنیا میں تو لوگوں کی سُن لوں گا ایٹ لیسٹ روزِ محشر میرا سر تو جُھکا نہیں ہوگا۔۔۔ “
” نہیں جانتا ایکسپائری کی وجہ سے آپ کو کیا سننا پڑا کیا پانیشمنٹ ملی؟؟؟ جانتا ہوں تو صرف اتنا کہ آپ کو شکر کرنا چاہیے بھلے آپ سے غلطی ہوئی لیکن کسی کو جانی نقصان نہیں پہنچا۔۔۔۔ آپ کا ضمیر آپ کو نہیں جھنجورے گا۔۔۔۔ اور آپ کا نقصان میرے خیال سے اتنا نہیں ہوا ابھی تک آپ اپنی جاب پر سلامت ہی ہیں۔ تبھی تو وہی غلطی دہرا رہی ہیں۔۔۔۔ ” وہ طنز کرنا نہیں بھولا تھا مومنہ کی آنکھوں سے باقاعدہ سیلاب رواں تھا۔ یہ سوچ اسے مار رہی تھی آگر ایکسپائری انجیکشن پیشنٹ کو لگ جاتا تو؟؟؟؟
” اور آخری بات آپ جب اپنے غم میں مبتلا تھیں تب آپ کے سامنے سے ہی گزرا تھا ای آر( ER Emergency Room) سے اسٹاف حفیظ سے وہ انجیکشن لیا ہے اُس نے اپنے کریش کارڈ میں سے نکال کر مجھے دیا ہے۔۔۔۔
پیشنٹ کو وہ لگ چکا ہے پیشنٹ اسٹیبل ہے۔۔
اب آپ کو ایک کام کرنا ہے اگر آپ کو سمجھ آئے تو جس سے آپ کی میڈم کو بھی کچھ پتہ نہیں لگے گا!!! آپ کو اسی بات کا ڈر تھا نا؟؟ انڈینٹ ابھی تک سسٹم میں ہی ہے آپ اس میں کوانٹٹی دو چارج کریں ایک ڈیو کر دیں۔۔ اور وہ ڈیو سلپ بورڈ پر لگا دیں۔۔۔ جب وہ آجائے آپ مجھے دیں گی جو میں حفیظ کو واپس دونگا۔ اور ہاں ڈیو ون لکھ دیں آگے تاکہ سب کو پتا لگے آپ نے ایک دیا ہے اور ایک ڈیو ہے۔ یہ بات اُوور میں دے جائیں گی آپ۔۔۔۔ کلئیر۔۔۔۔۔۔ “
( کچھ چیزیں ہم چارج کر کے ڈیو کرتے ہیں کیونکہ فی الحال وہ ہمارے پاس ہوتے نہیں اور نرسنگ والوں کا اپنا اسٹاک ہوتا ہے جو وہ کریش کارڈ سے نکال کے یوز کرتے ہیں جہاں سارے ایمرجنسی آئیٹمز ہوتے ہیں۔۔۔۔ کریش کارڈ ہر سینئر اسٹاف کا ہوتا ہے جس میں وہ اپنے دنیا بھر کے ایمرجنسی آیئٹمز رکھتے ہیں۔۔۔۔۔ )
مومنہ سے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا وہ کیا کہے؟؟؟؟ یہ شخص اُسے ہر جگہ بچاتا آیا ہے۔ وہ ایک نہیں دو نہیں تین مرتبہ انسانوں کی جان سے کھیل چکی ہے مگر حقیقتاً اسے آج احساس ہوا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ وہ کتنی غلط تھی۔ زاکون نے اسے کبھی نقصان نہیں پہنچایا وہ تو ہر جگہ اسے بچاتا آیا تھا جسے وہ کبھی سمجھ ہی نہ سگی۔
اس شخص نے اسے آج اپنی ہی نظروں میں گرنے سے بچایا ہے۔ ورنہ ساری زندگی وہ ضمیر کے بوجھ تلے پل پل مرتی۔۔۔۔۔۔
” مومنہ؟؟ ” پہلی دفع اسکے منہ سے اپنا نام سن کر مومنہ نے یکدم ایک بیٹ محسوس کی۔۔۔
” جی۔۔ تھنک۔۔۔۔۔۔ ” اس کی سنے بغیر وہ فون کاٹ چکا تھا مومنہ صدمے سی کیفیت میں ایکسٹینشن کو دیکھتی رہی۔ کتنی بڑی سزا دی ہے اسے۔۔۔۔
شکریہ کہنے کا موقع تک فرائم نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
مومنہ کے دل میں ایک خوائش جگی تھی کاش ابھی وہ نیچے آئے۔۔ کیفیٹیریا جانے کے بہانے ہی آجائے۔۔۔ بس وہ ایک نظر اسے دیکھ لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں جلن کے ساتھ آس بھی شدت سے تھی بس اسے دیکھنے کی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج خوشی خوشی گھر لوٹتا تھا اس کے پیڑ زمین پر نہ پڑ رہے تھے۔ آریز تو سوچ کر بیٹھا تھا وہ اسے چھوڑ کر اپنی شادی شدہ زندگی میں سیٹل ہوگئی ہوگی مگر آج اُسے دیکھ کر لگتا ہے وہ پھر سے ” جی ” اٹھا ہے۔۔۔۔
وہ نہیں جانتا اسکے ساتھ کیا ہوا ہے؟ پر اتنا ضرور جانتا ہے اس کی زندگی مشکلات سے بھری تھی۔ وہ جب یونیورسٹی میں تھی اس کے پاپا کی ڈیتھ ہو گئی تھی جس کے بعد وہ پوری طرح سے آریز پر ڈیپینڈ تھی۔۔۔۔۔
آریز جو نوٹس اپنے لئے فوٹو کاپی کرواتا وہی اسکے لئے بھی کرواتا۔ عزاہ کے پاپا کے جانے کے بعد وہ تو اس کی ہر ذمہ داری اٹھانے کو تیار تھا۔۔۔۔ اکثر وہ خود ہی اس کی فیس جمع کرواتا اس کا واچر تک وہ خود لینے جاتا۔ ۔۔ کلاس میں بھی ہر کسی کو کہیں نہ کہیں لگتا تھا کہ دونوں ہی انگیجڈ ہیں یا دونوں کا نکاح ہوا ہے۔ وہ جب اسکے ساتھ ہوتی تھی اپنی زندگی جیتی تھی عزاہ کے سنگ وہ دنیا کو فراموش کیے بس اسی کے پاس ہوتا۔ دوست تک شکواہ کرتے مگر وہ عزاہ کو اکیلا نہیں چھوڑتا کہیں باپ کے غم میں وہ ڈپریشن میں نہ چلی جائے گھنٹوں وہ اس سے اپنے پاپا کے ساتھ گزارے خوشی کے پل شئیر کرتی۔ اور وہ اسے دلاسا دیتا اور کر ہی کیا سکتا تھا؟ مگر اس نے اتنا کیا تھا کے بجلی کا بل ہو چاہے گیس کا وہ اسے کہتا تھا اپنے ساتھ لے آئے اور وہ خود اسے کار میں اپنے ساتھ بیٹھا کر وہ پئے کرانے جاتا تھا۔۔ وہ اسے کہتا تھا کہ ان کے گھر کی جو بھی ذمہ داری ہے جو ایک مرد پوری کرتا ہے وہ عزاہ اس سے کروا سکتی ہے۔ وہ اسے ٹرین کرتا تھا ایک ایک چیز سمجھاتا تھا اس نے عزاہ کا بینک اکاؤنٹ بھی کھلوایا تھا۔ تاکے اسے باپ کے اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے میں مشکل نہ ہو زندگی بھر کی سیونگ انکے اکاؤنٹ میں تھی جو آریز نے عزاہ کے اکاؤنٹ میں کی ٹرانسفر کی۔ وہ نہیں چاہتا تھا عزاہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلا ہے یا کسی پر ڈیپینڈ ہو اگر کل کو آریز نہیں ہوتا تو عزاہ کسی کے آگے جھکے نہیں۔
لیکن عزاہ بہت خود دار بھی تھی جو فیس وہ اسکی جمع کرواتا بلز پئے کرتا اگلے ہی دن وہ سارے پیسے عزاہ اسکے اکاؤنٹ میں آنلائن ٹرانسفر کرتی وہ غلا کرتا تو عزاہ بات کرنا چھوڑ دیتی۔ وہ آخری دن آریز کو نہیں بھولتے کبھی کبھی تو وہ اسکے منہ سے ایسے جملے سن کر خوفزدہ ہوجاتا۔۔۔
” کاش پاپا مجھے اپنے ساتھ لے جاتے “
” عزاہ ” وہ چیخ ہی اٹھتا تھا۔ اسے یاد ہے جب وہ گھر کے ماحول کی وجہ سے پریشان ہوتا تھا تب عزاہ ہی ہوتی تھی جو اسے پر ُسکون کرتی تھی اِسکا سکون بن کر۔ اسکی باتوں میں الجھ کر وہ اپنا غم بھول جاتا اسکی شرارتوں پر وہ گھنٹہ ہنستا رہتا۔ اسکے سنگ ہی تو وہ زندگی جیتا تھا۔۔۔۔
عزاہ کے پاپا کے جانے کے بعد ایک بری عادت عزاہ میں آئی تھی جس سے وہ تنگ آچکا تھا۔ عزاہ کی شک کرنے کی عادت۔۔۔۔ایک دفع وہ حلیمہ سے کسی موضوع پر ہنس کر بات کر رہا تھا جو عزاہ کو شدید ناگوار گزرا۔۔۔۔۔۔
” تم غلط سوچ رہی ہو میں بس اُس سے نوٹس لینے گیا
تھا ” وہ آدھے گھنٹے سے آریز سے ایک فضول بات پر بحث کر رہی تھی۔۔۔۔۔
” تم اس سے ہنس کر بات کر رہے تھے “
” تو کیا خوفناک منہ بنا کر جاؤں؟؟ “
” دیکھا تم اس کے لئے بیٹھ کر صفائی دے رہے ہو ” عزاہ کی آنکھیں رونے والی ہوگئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
” عزاہ یار بیویاں بھی اتنا شک نہیں کرتیں ” وہ تنگ آکر کیا بول گیا اسکا اندازہ اسے عزاہ کے الفاظوں سے ہوا۔۔
” بیویاں مطلب؟؟؟ میں تمہاری گرل فرنڈ ہوں؟؟؟ ” وہ درشتی سے بولی گرل فرینڈ اسے ایک گالی لگتی تھی۔
” میرا وہ مطلب نہیں!!!! دیکھو۔۔۔ ” آریز اسکے لہجے کی سختی سے گھبرا گیا اب یہ بحث گھنٹوں ہونی تھی۔۔۔۔
” تم دیکھو آریز حیدر۔۔۔ میں نے تم سے کہا تھا اپنے گھر والوں کو بھیج دو ایٹ لیسٹ ہماری منگنی ہوجاے یا نکاح کرلو مجھ سے۔۔۔۔۔ مجھے کبھی کبھی خوف آتا ہے تم بس ٹائم پاس۔۔۔۔۔ ” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے دکھ بھرے لہجے میں کہ رہی تھی۔ باپ کا سایہ نہ ہو تو دنیا انسان کو نوچ ڈالتی ہے وہ ہیں بھی بس دو بہنیں انکا بھائی بھی کوئی نہیں۔۔۔۔۔
” عزاہ۔۔۔۔ مت کہا کرو ایسے۔۔ تکلیف ہوتی ہے مجھے۔۔۔۔۔ میں تمہیں کیسے سمجھاؤں؟ میری کزن کی ڈیتھ کے بعد گھر کا ماحول بہت عجیب ہوگیا ہے عرصہ ہوا ہے اِسے گئے لیکن میرا بھائی اس غم سے نہیں نکلا۔۔۔ میرا باپ ہمیں چھوڑ کر بیرون ملک چلا گیا امی پریشان رہتیں ہیں۔ اور میں گریجویٹ تک نہیں ہوا کیسے بات کروں ان سے؟ تم بتاؤ میں کیا کروں؟ ” وہ بھی اپنوں کے آگے ہار جاتا عزاہ روتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی پھر دو تین دن یا وہ آتی نہیں یا اس سے بات نہیں کرتی جب تک وہ سامنے سے معافیاں نہ مانگتا وہ پہلے ایسی نہیں تھی باپ کی موت نے اسکی زندگی جینے کی خوائش کو مار دیا۔۔۔۔۔
وہ دونوں خوش تھے ساتھ ہنستے تھے، مسکراتے تھے، جیتے تھے نظر ایسی لگی سب کھا گئی۔ عزاہ کی بہن انزیلہ۔۔۔ اس نے آریز پر ایسا الزام لگایا کے آج تک شاذ اور عزاہ اس سے نفرت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
مگر اب آریز کو جاننا ہے عزاہ اتنے سال کہاں تھی؟ اور اگر اس کی شادی نہیں ہوئی تو اس کے پیچھے کی وجہ کیا ہے؟؟ آریز سے محبت یا کچھ اور؟؟ اور اسکی بہن انزلیہ وہ کہاں ہے؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمروز صاحب کی قومہ میں جانے کی خبر سن کر سمرین کو گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ مایل اور زریق انہیں گھر لے آئے تھے۔ ثمروز صاحب تو وہیں ہاسپٹل میں تھے۔ ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ کچھ دن وہ ہاسپٹل میں ہی رہیں پھر سارا سیٹ اپ گھر میں ہی کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔
مایل ہمیشہ سے ہی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ہی خوفزدہ ہو جاتی تھی جب کسی کے ہاں فوتگی کا سنتی اس کا اپنا دل کانپ جاتا تھا کسی کی بیماری کا سنتی یا موت دیکھتی تو سوچنے لگتی کہ اگر ہم میں سے کسی کو ہو جائے تو؟؟ انہیں باتوں کی وجہ سے اس کے جسم پر بھی اثر ہو رہا تھا جب جب وہ انزائٹی(anxiety) کا شکار ہوتی اس کے جسم کا کوئی حصہ درد کرنے لگتا۔
یہی وجہ تھی کہ جب وہ پہلے بھی ڈاکٹر کے پاس گئی تھی اس نے کہا تھا اسے لیفٹ سائیڈ پر پین ہوتا ہے تو اس کا وجہ یہی ہے اسکا دل کمزور ہے وہ صدمہ برداشت کرنے کی کیفیت میں نہیں ہوتی اُس چیز کا اثر لے لیتی ہے جس کی وجہ سے وہ جلد ہی بیمار پڑ جاتی ہے۔۔۔۔۔
مایل کو سیٹ ہونے میں کچھ دن لگے تھے ثمرو صاحب کو جب گھر شفٹ کیا وہ مشینوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ پہلے دن وہ ان کو دیکھ کر پھر سے ڈر گئی لیکن آہستہ آہستہ اُسے اس چیز کی عادت ہونے لگی ثمرین بھی کچھ عرصے بعد نارمل روٹین پر آگئیں ثمروز صاحب کا سن کر مایل کے گھر والے آئے تھے دو تین دفعہ وہ آکر انہیں دیکھ کر جا چکے ہیں اور ان کی صحت یابی کے لئے دعا کی۔۔۔
مایل ثمرین کو اکثر دیکھتی ہے وہ پہلے کی طرح ہنس مک نہیں رہی تھی بلکہ ان کی طبیعت میں ایک ٹھہراؤ آگیا تھا وہ جہاں بیٹھتی تھیں بس سوچوں میں گم ہو جاتیں۔۔۔۔
مایل اس کمرے میں دوبارہ نہیں گئی لیکن اس کا دل چاہتا تھا وہ زریق سے پوچھے مگر گھر کے حالات دیکھ کر وہ خاموش ہی رہ جاتی اس نے ایک دفعہ ملازمہ سے پوچھا تھا۔۔۔۔ جس کا کہنا تھا کہ اس نے بھی اس کمرے کے بارے میں سنا ہے وہاں زریق صاحب کے کوئی رشتہ دار رہتے تھے جو میڈیکل کی پڑھائی کر رہے تھے ان کے بارے میں بس سنا ہے وہ زیادہ نہیں جانتی کیونکہ وہ ان کے جانے کے بعد ہی انکے یہاں کام پر لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔
زریق اسکی حالت کے پیشِ نظر اس کا خیال رکھنے لگتا تو وہ الجھن میں شکار ہو جاتی اسے کبھی کبھی لگتا ہے جیسے زریق ایک ناٹک (پلے) کا کردار ہے اور وہ اس پلے کو نبھانا خوب جانتا ہے وہ اپنے کریکٹر کے ساتھ انصاف کر رہا ہے اسے زریق کا انداز بناوٹی لگتا ہے جیسے وہ اسے محسوس نہیں کر رہا لیکن اپنی حرکت سے دیکھانا چاہتا ہے کہ میں اس کو محسوس کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔
آج صبح سے ہی بارش والا موسم تھا موسم دیکھ کر اسکا موڈ بھی خوش گوار ہوگیا۔ اس نے اپنے اور سمرین کے لئے مسالا چائے بنائی ساتھ پکوڑے باہر سے منگوائے مگر بارش دن میں نہیں ہوئی شاید رات میں ہوجاے؟؟ رات اسکے لئے خوبصورت ہوجائے؟ پر اسے نہیں معلوم تھا یہ رات اس کی زندگی کی اندھیری راتوں میں سے ایک ہوگی اِس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے وہ زریق کا انتظار کر رہی تھی جو ابھی تک لوٹا نہیں تھا اسے شدید بھوک لگی تھی وہ ایک بار کھانا کھا بھی چکی تھی مگر اسے جلدی ہی دوبارہ بھوک لگنے لگتی اس حالت کے پیشِ نظر اسے اکثر بار بار بھوک لگتی ہے جس کی وجہ سے وہ بار بار الٹیاں بھی کرتی ہے پر پھر چٹ پٹا کھانے کا الگ موڈ کرتا ہے۔۔۔۔
زریق اتنی دیر کبھی نہیں کرتا آج نجانے کیوں بارہ بج گئے تھے اور وہ ابھی تک لوٹا نہیں تھا۔ اب مایل کو پریشانی نے آن گھیرا ایسا تو کبھی نہیں ہوا وہ بیڈ پر آکر لیٹی وہ اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے پاس پڑا موبائل اٹھایا اور فیز بوک پر ریلز دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
ٹائم کا اندازہ اسے تب ہوا جب اس نے ہارن کی آواز سنی وہ جھٹ بیڈ سے اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھنے لگی کے ابھی مشکل سے دو منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے جب دھار سے دروازہ کھولتا زریق اندر آیا۔۔۔۔۔
مایل اسے دیکھ خوف سے دیوار سے جا لگی اس کے ہاتھ سے بے تحاشا خون بہہ رہا تھا اس کا بازو پورا خون سے لت پت تھا۔۔۔۔۔
سفید ٹی شرٹ بھی خون سے بھری ہوئی تھی یہاں تک کہ اس کے ہونٹوں پر بھی خون لگا ہوا تھا ہونٹ کی سائیڈ سے ایسے لگ رہا تھا خون بہہ رہا ہے زریق کو اس حالت میں دیکھ مایل کو ایسے لگا کہ کوئی ” ویمپائر ” اس کے پاس آرہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
مگر وہ اس کے پاس نہیں آرہا تھا وہ تو آتے ساتھ الماری کی طرف بڑھا اور اپنے ڈرائو میں سے ایک ایسی چیز نکالی جو مایل نے پہلی دفعہ زندگی میں دیکھی تھی۔۔ زریق کو تو ہوش بھی نہیں تھا اس کے علاوہ ایک اور وجود کمرے میں ہے جو اس کی ایسی حالت دیکھ اندر سے کانپ رہا ہے زریق کے ہاتھ میں کوئی پتلی سی چیز تھی جس پہ لکھا تھا وائکرل ون (Vicryl 1 plus) پھر خود ہی کمرے کے باہر گیا پانچ منٹ بعد جب وہ کمرے میں آیا اس کے پاس فرسٹ ایڈ باکس تھا وہ چپ چاپ آکر صوفے پر بیٹھ گیا پہلے تو اس نے اپنے بازو سے نکلتا سارا خون کاٹن سے صاف کیا پھر وہ چیز جو اس نے ڈرائو سے نکالی تھی اسے کھولا تو اس میں سے دھاگا نکلا وہ سوئی میں دھاگا ڈال کر اس سے اپنے ہاتھوں پر اسٹیچز لگانے لگا مایل کے منہ سے چیخیں نکل رہیں تھیں۔ اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے اپنی چیخ کو اپنے اندر ہی دبا لی۔ وہ جتنی کوشش کرتی کہ اس سے خوف نا کھائے، اس سے محبت کرے اتنا ہی یہ شخص اسے خوفزدہ کر رہا ہے۔۔
وہ ابھی اس شخص کے ایک وار سے سنبھلنے نہیں لگتی کہ کے یہ شخص پھر سے اسے بھکیر دیتا ہے وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اس کے رونے کی آواز پر وہ اسکی طرف متوجہ ہوا زریق نے جیسے ہی اپنی آنکھیں اوپر کر کے مایل کو دیکھا اس کی آنکھیں سرخ انگارہ لال ہو رہی تھیں
