66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

وہ دائیں طرف لیٹی تھی زریق بھی اسی کی طرف منہ کیے سو رہا تھا۔ زریق کا ہاتھ مایل کے کندھے پر رکھا تھا وہ ہوش میں آتے ہی زریق سے اس طرح دور اوچھل کے ہٹی جیسے کسی بچھو نے اسے چھوا ہو۔۔۔۔۔۔۔

کل رات کا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔۔۔ اسکی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں۔ وہ سامنے سوئے زریق کو دیکھ رہی تھی جو دوسروں کو روتا چھوڑ خود پُرسکون نیند سو رہا تھا صرف اس وجہ سے کے انہوں نے اسے چھیڑا زریق نے انھیں مار دیا؟ یہ سوچے بغیر کے انکے گھر والے بھی ہونگے جن کی ساری رات انکا انتظار کرتے گزری ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے وحشت ہو رہی تھی وہ کہاں آکر پھنسی تھی اور اب جب وہ شکر کرنے لگی تھی، سنبھلنے لگی تھی پھر یہ سب کیوں؟؟؟

وہ دھیرے سے اپنے وجود سے چادر ہٹا کر کمرے سے ہی نکل آئی۔۔ اسکا جسم ابھی تک ہلکا ہلکا کپکپا رہا تھا پتا نہیں یہ زریق کے خوف کی وجہ سے تھا یا پریگنینسی کی وجہ سے۔

کچن میں آکر مایل نے فریج سے یک ٹھنڈا پانی پیا آدھے سے زیادہ اس نے بوتل خالی کردی پیاس شدت سے لگی تھی اسے۔۔۔ لیکن زریق نے اس قدر خوفزدہ کر دیا وہ اسکی پناہوں میں بستر سے ہل تک نہ سگی۔۔۔۔۔۔

کچن سے وہ جیسے ہی باہر نکلی اسکی نظر سیڑیوں سے اوپر جاتے اس کمرے پر پڑی جو ہمیشہ بند رہتا تھا۔ اس کمرے کی لائٹ جلتی دیکھ وہ اسی طرف جانے لگی سیڑیاں چڑتے جیسے ہی اس نے ادھ کھلے دروازے کو کھولا اسے وہاں کوئی نظر نہیں آیا مگر کمرے کو دیکھ کر وہ حیران اور پریشان ضرور ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔

کمرے میں بڑا سا بیڈ تھا۔ بیڈ کی دونوں سائیڈز پر کتابیں رکھیں تھیں کمرے میں کھڑکی کی سائیڈ ایک ٹیبل تھا جس پر لیپ ٹاپ اون دیکھ کر ہی تو وہ پہلے پریشان ہوگئی تھی۔۔۔۔

اس کے آنے سے پہلے یہاں کوئی بیٹھا تھا مایل کو ڈر تو لگ رہا تھا مگر زریق نے اس قدر تجسس پیدا کردیا تھا کے خوف اسے موت سے زیادہ اس شخص سے آنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔

مایل نے لیپ ٹاپ کی روشن اسکرین کو دیکھا وہاں گوگل کھلا ہوا تھا نیچے کچھ اور ایپلیکیشنز (Applications)بھی تھیں جس میں ایک ” میڈاسکیپ “(Medscape) تھی باقی بھی کچھ اسی طرح میڈیکل کی تھیں گوگل پر بھی کوئی ” disorder ” سرچ کیا ہوا تھا جس کا تفصیلی آرٹیکل کھلا ہوا تھا۔ مایل کے ہاتھ کپکپا رہے تھے اسے یقین تھا اسکے علاوہ کمرے میں کوئی موجود ہے مگر اس نے کوئی حرکت کی تو یقیناً وہ الرٹ ہوجاے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے اس نے اپنے کپکپاتے ہاتھ کی بورڈ پر چلائے ذھن میں ایک ہی لفظ گھوم رہا تھا ” گوگل ” جس پر ابھی مایل نے وہ بیماری دیکھی۔ اسلئے اس نے دوبارہ ویب ایڈریس پر گوگل لکھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا آگے کیا کرے پھر ذھن میں یکدم زریق کی وہ حرکتیں گھومنے لگیں۔ اسکی ہر ایک ایک بات اسکا انداز سب کچھ۔۔۔۔۔ اسکے ہاتھ کی بورڈ پر خود با خود چلتے گئے۔۔

” Feeling Less person “

اس نے جیسے ہی سرچ کے بٹن پر کلک کیا تو انگلش میں ” quotes ” آگئے۔ مایل نے پہلے تو خود کو تھوڑا ریلیکس کیا اسکا ڈر اسکا خوف صرف وقت کی تباہی تھا ایسا ہے تو وہ ساری زندگی پھر سوچوں میں گزار دیگی۔ مایل نے سوچنے کے بعد فیلینگ لیس کے آگے ڈسوڈر لکھ دیا۔۔۔۔

” Feeling Less Disorder “

جیسے ہی لکھا تو اسے وہاں ایک بیماری نظر آئی۔۔۔

” Hypoesthesia “

جس میں لکھا تھا جب انسان ایک جگہ کافی دیر بیٹھتا ہے تو اسکے جسم کے کچھ حصے میں (numbness) ہوجاتی ہے یعنی سُن پڑ جاتا ہے وہ حصہ اور کبھی کبھی دماغ کی کسی نس کو نقصان پہنچ جائے تب بھی جسم کا کوئی بھی حصہ سُن ہو سکتا ہے اسے پھر آپ کچھ بھی کرو اس حصے کو مارو، کاٹو اس میں درد محسوس نہیں ہوگا۔۔۔۔۔

مایل کو تفصیل پڑھ کے کچھ خاص نہیں ملا زریق اس تفصیل سے بہت مختلف تھا۔۔۔۔

وہ تو یہ بیماری پڑھ کے سوچوں میں مبتلا ہوگئی لمحے بھر کو کمرے میں اس شخص کی موجودگی بھی فراموش کر گئی۔۔۔۔۔۔

” Human Being Can Be A Vampire “

اس کا ذھن تیزی سے کام کر رہا تھا۔ کل رات کا واقعہ،، رات میں مرڈر کرنا،، شرٹ خون سے لت پت۔۔۔ یہی سوچتے اس نے سرچ کیا تو اسے ایک آرٹیکل ملا مایل نے وہ آرٹیکل کھولا اس میں لکھا تھا۔۔۔۔۔۔

ویمپائرز مُردوں میں شمار نہیں ہوتے نہ زندہ میں شمار ہوتے ہیں نہ ہی وہ لافانی ہیں جنھیں موت نہ آئے مگر وہ سلور سے مرنے والے یا کمزور ہونے والے بھی نہیں۔۔۔

کمزور وہ تب ہوتے ہیں جب انھیں ملنے والی ” energy ” کم ہوجاے جو انھیں جانور یا انسانی خون پی کر ملتی ہے تب وہ فیزیکلی اور ایموشنلی ویک ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ وہ اپنی طاقت پانے کے لئے لوگوں کو ایموشنلی ویک بھی کریں گئے۔۔۔۔۔اور اکثر انکی پہچان رات میں ہوتی ہے دن میں وہ آپکو عجیب مخلوق لگیں گئے مگر انکا دماغ آپ کی سوچ سے زیادہ کام کرتا ہے۔۔۔۔

لوگوں کو لگتا ہے وہ انکے ڈر کی پہچان نہیں کر سکتے مگر ویمپائرز بند آنکھوں سے بھی آپ کی ایک ایک حرکت نوٹ کرتے ہیں۔

یہ وہی ہیں جنہیں سردی یا گرمی سے فرق نہیں پڑتا۔ ان سے سورج کی روشنی برداشت نہیں ہوتی انھیں درد نہیں ہوتا تکلیف نہیں ہوتی۔۔ نہ سردی لگتی ہے نہ پسینہ آتا ہے وہ ایسی مخلوق ہیں m جو آگ سے کھیلتی ہے۔ زریق بھی تو آگے سے کھیلتا ہے؟ آگ کب اسے نقصان پہنچا پائی ہے؟؟؟

آگ ہاں آگ ایک اور بھی تو مخلوق ہے جو آگ سے بنی ہے۔ ” جنات ” مایل نے ذھن پر زور ڈالتے ہی گوگل پر

” Forms Of Jinaaat “

سرچ کیا اور اسکی سوچ کے عین مطابق وہاں جنّت کی الگ الگ فورمز آئیں جن میں انٹرسٹ مایل کو صرف ایک پر تھا
” Ghoul “

جنات کی ایک ایسی قسم جو اپنے آپ کو کسی بھی روپ میں تبدیل کر سکتی ہے انسانی روپ جانور کا روپ۔۔۔۔
یا انسانوں کے الگ الگ روپ میں اور سب سے حیرت انگیز بات یہ کے یہ جنات کی وہ قسم ہے جو انسان کا خون پیتے ہیں اور انکے گوشت سے اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔ یہاں تک کے قبر سے انسان کو نکال کر اسکا گوشت کھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

مایل کو ایسا محسوس ہوا جیسے اسکا سینا بھر چکا ہے۔۔۔ اسے الٹی آنے لگی ہے۔۔۔۔ اس کا دل خراب ہو رہا تھا دماغ الگ پھٹ رہا تھا وہ سوچوں میں اس طرح پھنسی ہوئی تھی کہ زریق کے خلاف ہر چیز اسے سچ لگ رہی تھی وہ اسے ویمپائر بھی سمجھ رہی تھی تو جنات کی وہ قسم بھی جسے سوچ کر اسکا وجود کپکپانے لگتا۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو یکدم سے اس شخص کو فراموش کر چکی تھی واس کے گرنے کی آواز سن کر وہ چیخ مار کر کمرے سے الٹے پیڑ بھاگی جیسے جن اسکے پیچھے لگا ہو وہ چیختی ہوئی نیچے سیڑھیوں سے اتر رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ بھاگتی ہوئی سیدھے اپنے کمرے میں آئی وہ اب بھی چیخیں مار رہی تھی اس کی چیخ سن کر زریق جو گہری نیند سو رہا تھا جھٹکے سے اٹھا۔۔۔ اسکی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں مگر مایل کی ایسی حالت دیکھ کر اس کی پیشانی پر شکنیں نمودار ہوئیں پھر وہ اٹھا اور تیزی سے مایل کے پاس آیا وہ جو بھاگتی ہوئی آئی تھی زریق نے اسے ہاتھ سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچا وہ بری طرح اسکے سینے سے ٹکرائی زریق نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں تھامے پوچھا۔۔۔۔

” کیا ہوا مایل؟؟ “

” آپ ایسے چیک کیوں رہی ہیں؟؟ ” مایل خوف کے مارے زریق سے لپٹ گئی اس کے سینے پر سر رکھے وہ آنکھیں سختی سے میچ گئی اس کا پورا وجود کپ کپا رہا تھا۔ لیکن زریق کو اس چیز کا اندازہ نہیں تھا کیونکہ وہ اسے محسوس نہیں کر پا رہا تھا لیکن مایل کی ایسی حالت دیکھ کر وہ پریشان ضرور ہوا تھا۔۔۔۔۔

” وہ۔۔۔۔و۔۔۔۔و۔۔وہاں۔۔۔ اُ۔۔۔اُوپر۔۔۔۔ کمرے میں کوئی ہے۔۔”

زریق کہیں نہ کہیں اس کی بات کا مطلب سمجھ گیا وہ ضرور اوپر گئی ہوگی اور وہاں کسی کی موجودگی کو محسوس کر کے وہ خوفزدہ ہوئی ہوگئی۔ وہ جو اسکے ڈر سے واقف تھا مایل کی ایسی حالت پر مسکرا پڑا وہ آج بھی ویسی ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زریق نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اسکا چہرا چھوا اور مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔

” تم خواہ مخواہ ڈر گئیں وہاں وہ۔۔۔۔ ” زریق کہنے ہی لگا تھا کہ سمرین بھاگتی ہوئی زریق کے کمرے میں آئی۔۔۔۔

” زریق زریق ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔۔۔ مجھے ہسپتال لے چلو میرا دل پھٹ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ “

مایل جو خود صدمے کی کیفیت میں تھی سمرین کی پات سن کر اپنی پریشانی بھول کر سمرین کو حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔۔ سمرین مایل کی حالت سے بےخبر تھی جو اس قدر خوفزدہ تھی کے چہرہ سرخ پڑ چکا تھا جیسے سارا جسم کا خون نچوڑ کر چہرے پر بھر آیا ہو۔۔۔۔۔

” امی آپ پریشان نہ ہوں میں گاڑی نکالتا ہوں۔۔۔۔۔” مایل نے دیکھا تھا اس کے چہرے پر کوئی شکن نہ تھی نہ کوئی پریشانی تھی ” ایسا لگ رہا تھا اسے باپ کی کوئی فکر نہیں باپ کے جینے مرنے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔

وہ اپنا غم بھول کر سمرین کے پاس آئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جب تک وہ سمرین کو تیار کر کے ہسپتال کے لیے لائی زریق بھی آچکا تھا پھر کیا تھا وہ تینوں ہی اسپتال کے لیے روانہ ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” خیر سے مایل امید سے ہوگئی زونیشہ کی شادی تو مایل سے پہلے ہوئی تھی تو زونیشہ تم کب خوش خبری سنا رہی ہو ” نجمہ نے زونیشہ سے کہا جو بریانی کا مسالا تیار کر رہی تھی۔ زونیشہ انکا طنزیہ لہجہ سمجھ گئی تھی۔۔۔

” انشااللہ جلدی سنا دیگی ” جواب صالحہ کی طرف سے تھا جو چاول بوائل کر رہیں تھیں صالحہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا زونیشہ سوچ رہی تھی انکا سالوں سے تجربہ ہے گھرداری جانتی ہیں کیا لوگوں کے لہجے نہیں پہچانتی؟؟؟ یا وہ زیادہ سوچ رہی ہے؟؟؟

مگر اسے سوچنے کے علاوہ کون سا حق حاصل ہے؟؟؟ وہ جس شخص سے محبت کرتی تھی اسے حاصل کر کے بھی وہ کون سی خوش ہے؟؟ زندگی میں ہے ہی کیا؟؟؟

وہ سالن چولے پر چڑھا کر کچن سے باہر آگئی آج جمعہ تھا گھر کے مرد جمعے کی نماز پڑھنے کے بعد آتے ہی ڈائننگ ٹیبل پر سیٹ سنبھال کر بیٹھ جاتے ہیں اسلئے وہ جلدی ہی بریانی کی تیاریاں کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔

وہ حال میں آگئی وہاں آبی بیٹھا پڑھ رہا تھا جسے زونیشہ انگلش کا ایک لیسن یاد کرنے کو دے گئی تھی۔۔۔۔۔

” زونی آپی ہوگیا آپ ٹیسٹ لے لیں ” آبی نے اسکے بیٹھتے ہی کہا زونیشہ نے اسکی ٹیوشن کاپی کھول کر اس کے سامنے رکھی جس میں وہ پہلے سے ہی ٹیسٹ کے سوال تیار کر چکی تھی۔۔۔۔۔

” آبی بیس منٹ ہیں۔۔۔ نہ ایک منٹ آگے نہ پیچھے جلدی کرنا میں ٹائم سیٹ کر رہی ہوں ” اسکی کاپی اسے دیتے زونیشہ نے کہا وہ اپنا ٹیسٹ کرنے لگا تو زونیشہ ایک دفع کچن میں جاکر سالن دیکھ آئی اور اس میں ہری مرچ پانچ چھ ڈال کر واپس حال میں آگئی نجمہ چچی کی باتوں سے بچنے کا طریقہ بھی یہی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بیٹھے بیٹھے آبی کی کاپی کی بیڈ سائیڈ پر ایسے ہی ڈیزائنس بنانے لگی اسکی سوچیں پھر جاکر مایل اور المیر میں جاکر اٹک گئیں۔۔۔۔۔ ڈیزائنس بناتے اس نے ایک خاص انسان کے لئے دل سے ایک شئیر لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔

سکون جسکی باتوں سے ملتا تھا
اسکی خاموشی نے مار دیا۔۔۔۔۔

پھر اسی شیر کے نیچے ایک اور شیر لکھا۔۔۔

دل سکون چاہتا ہے
جو تیرے سوا ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں شیر دیکھ کر یہی سوچ رہی تھی اگر المیر ابھی آکر یہ دیکھ لے تو کیا وہ اسکے دل کا حال جان لے گا؟؟؟؟ کیا اسکی سوچوں کا رُخ بدلے گا؟؟؟ مایل سے ہٹ کر وہ اسے سوچے گا جو اسکی زندگی سے جڑ چکی ہے۔۔۔۔۔

وہ پین اور کاپی وہیں رکھ کے کچن میں آگئی پیچھے اسے پتا ہی نہیں لگا سب مرد حضرات نماز پڑھ کر واپس آگئے۔ صدیق صحاب نے آتے ساتھ نیوز چینل لگایا تو سب ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگئے۔ المیر آکر آبی کے ساتھ بیٹھ گیا وہ بھی نیوز دیکھنے لگا مگر اسکی نظر یکدم آبی پر پڑی وہ پپر پر کوئی تحریر پڑھ کے ہنس رہا تھا المیر نے وہ کاپی اٹھا کر دیکھی تو اس میں وہی زونیشہ کی لکھی شاعری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

” آبی ” المیر نے دبے دبے سخت لہجے میں کہا آبی گھبرا گیا کوئی انکی طرف متوجہ نہیں تھا۔ المیر کو یہی لگا ٹک ٹوک دیکھ کر اسکا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔۔۔

” بھائی قسم لے لیں یہ میں نے نہیں لکھا زونی آپی مجھے پڑھا رہیں تھیں انہوں نے لکھا ” آبی نے دھیرے سے خوفزدہ لہجے میں کہا المیر نے ایک سخت نظر سے اسے نوازا اور وہ پیپر پھاڑ کر اسے مڑوڑ ڈالا المیر کو یہ حرکت سخت ناگوار گزری وہ کاگز مڑوڑ کر المیر نے جیب میں ہی رکھا تھا۔۔۔۔

” آریز المیر دونوں سن لو سی ویز دیکھ کر کل کچھ کو انٹرویو کے لئے بلایا ہے۔۔ تم دونوں انٹرویو لیکر کم سے کم دو لوگوں کو سیلیکٹ کرنا اسٹاف بہت شارٹ ہو چکا ہے ” صدیق صاحب نے دونوں کو مخاطب کیا آریز نے گردن اثبات میں ہلائی جبکے المیر کا دیہان کہیں اور ہی تھا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زاکون حیدر آج کافی دنوں بات ہسپتال آیا تھا اپنے فلور “سی سی یو ” پر جانے سے پہلے اسنے گردن موڑ کر ایک نظر فارمیسی کی طرف ضرور دیکھا تھا پہلی بار اس نے یہ حرکت کی تھی اور شاید کسی نے نوٹ بھی کیا ہو لیکن اسے فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔

کیوں کے وہ اس لڑکی مومنہ کو ڈھونڈ رہا تھا جس نے زاکون حیدر کو اپنے باپ کے سامنے ذلیل کیا وہ انکی ایک نگاہ کو ترستا تھا اس لڑکی کو اندازہ نہیں اس کی ایک حرکت سے اسکا باپ اسے کوسوں دور چلا گیا قریب تو پہلے بھی نہ تھے مگر اب وہ اسکی زندگی میں کہیں نہ تھے ان کے مطابق انکی بس ایک ہی اولاد ہے آریز زاکون حیدر انکے لئے مر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مایل شام میں اکیلی ہی گھر لوٹی تھی ثمروز صاحب اس وقت آئی سی یو میں تھے انکی کنڈیشن بہت کریٹیکل تھی کار پوری مین روڈ پر اُلٹ گئی تھی۔ سمرین سے زیادہ مایل کی کنڈیشن خراب تھی جس کا پورا جسم کپ کپا رہا تھا زریق بھی اس کی کنڈیشن دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔۔ اسلئے اُسے تسلی دے کر زریق گھر لے آیا اور اسے پرہیزی کھانا بنانے کا کہ کر خود واپس اسپتال چلا گیا۔۔۔۔۔۔

مایل نے کھانا بنانا شروع کیا۔ زریق نے اسے کہا تھا ثمروز صاحب ہوش میں آچکے ہیں جبکے اس نے خود سنا تھا ڈاکٹرز کہہ رہے تھے اگر کل تک اُنکی کنڈیشن اسٹیبل ہوگئی تو وہ خطرے سے باہر ہونگے۔۔۔۔۔

اس کا دماغ اتنا الجھا ہوا تھا کہ اسے اس وقت صرف زریق کی باتوں پر یقین نہ ہوتے ہوئے بھی یقین کرنا تھا کیونکہ وہی باتیں تھیں جو اسے دلی تسلی دے رہیں تھیں ورنہ ثمرو صاحب کا سن کر اس کی خود کی سانس اٹک گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہانڈی چولہے پر چڑھا کر باہر آرہی تھی کہ کہ اس نے دیکھا گھر کی ملازمہ(صباء) کچھ کتابیں لے کر اسٹور روم کی طرف جا رہے ہی اس نے ملازمہ کو روک کر پوچھا۔۔۔

” یہ کتابیں کہاں لے کر جا رہی ہو؟؟؟ ” یہ تو وہی کتابیں تھیں جو مایل نے کل رات اُس کمرے میں دیکھیں۔۔۔۔

” باجی وہ سمرین بی بی جی نے کہا تھا کہ کتابیں اسٹور روم میں رکھ دو میں کل رکھنا بھول گئی تھی اس لیے آج رکھ رہی ہوں۔۔۔۔ “

مایل نے ابرو اجکا کے اسے دیکھا پھر وہ کتابیں صباء سے لے کر اسے جانے کا کہا وہ کور دیکھنے لگی یہ میڈیکل کی موٹی موٹی کتابیں تھیں ہر کتاب ہی نیورو(Neuro) کی تھی جو بھی تھا اس کے خیال سے نیورولوجسٹ ہی تھا نہ جانے وہ کمرہ کس کا تھا؟؟؟ اس نے سوچا تھا وہ زریق سے پوچھے گی کہ وہ کمرہ کس کا ہے مگر ثمروز صاحب؟؟ ایک گہرا سانس لیکر۔۔۔۔۔

مایل نے ایک کتاب اٹھا کر اسے کھولا پھر دوسری کتاب اٹھا کر اسے کھولا جیسے وہ تلاش کر رہی ہو ان کتاب میں سے کچھ مل جائے اکثر پڑھتے وقت ہم کچھ چیزیں کتاب پڑ لکھتے ہیں نشانی بناتے ہیں زندگی سے جڑی کچھ چیزیں لکھتے ہیں۔۔۔ خاص لوگوں کے نام،،، جن سے محبت ہو اسکا نام۔۔۔۔کوئی پسند،، کوئی یاد۔۔۔۔ پڑھتے پڑھتے ہمارا ذھن کہیں اور ہی چلا جاتا ہے کبھی کوئی تصویر بناتے ہیں کبھی عجیب و غریب چیزیں ڈرو کرتے ہیں۔۔ وہ بھی بس کسی چیز کی تلاش میں تھی۔۔۔۔۔

دو تین کتابیں دیکھنے کے بعد تھک ہار کر اس نے وہ کتاب سٹور روم لیکر جانے کا بولا لیکن جیسے ہی صباء نے مایل سے ایک کتاب لی کتاب اس کے ہاتھ سے گر گئی اور زمین بوس ہوگئی وہیں گِرنے کے دوران اس کے کتاب سے ایک تصویر نکلی مایل نے بےتابی سے جھک کر وہ تصویر اٹھائی اور جیسے ہی اس نے وہ تصویر پلٹ کر دیکھی وہ کسی لڑکی کی تصویر تھی۔۔۔۔۔

مائل کو اندازہ نہیں تھا کہ اس بک میں سے کسی انجان لڑکی کی تصویر ملے گی وہ جو بھی تھی لیکن مایل کو ماننا پڑا وہ لڑکی بے حد خوبصورت تھی بڑی آنکھیں گلابی ہونٹ لمبے سنہرے بال اس تصویر میں وہ اوپر کی طرف دیکھتے قہقا لگا رہی تھی وہ تصویر واقعی ہی بہت خوبصورت تھی شاید اس لڑکی کو پتہ بھی نہیں تھا کہ کوئی اس کی تصویر لے رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی ان پہیلیوں سے نہیں نپٹی تھی کہ یہ ایک نئی پہیلی آگئی جو کے بلکل اس کی سمجھ سے باہر تھی یہ تصویر کس کی ہے؟؟ اس کا شوہر تو نیورولوجسٹ نہیں پھر یہ کتاب کسی اور شخص کی ہے؟؟؟ کیا یہاں پہلے کوئی رہتا تھا ؟؟؟؟ جس کا تعلق اس لڑکی سے تھا مایل کا تجسس بڑھتا ہی جا رہا تھا لیکن اسے اپنے کسی بھی سوال کا جواب نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ تصویر مایل نے اپنے پاس رکھی اور کچن میں چلی آئی وہ جتنا دماغ پر زور دے گی صرف اس کی صحت پر ہی اثر ہوگا اس نے سوچ لیا تھا کہ جیسے ہی ثمروز صاحب خیریت سے گھر واپس آجائیں گے وہ زریق سے اس بات کا ذکر کرے گی اور اسے امید ہے شاید زریق اسے سچ بتا دے اگر وہ اسکے سوالوں کا جواب نہیں دیگا مایل پھر یہاں نہیں رہے گی۔ اس نے سوچ لیا تھا ڈر ڈر کر مرنے سے اچھا ہے وہ ایک ہی بار مر جائے یہی سوچتے ہوئے وہ کھانا لے کر ہسپتال چلی آئی جہاں ایک قیامت اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آریز اور المیر انٹرویوز لے کر تھک چکے تھے کیونکہ کوئی بھی انکی ” ریکوائرمنٹ “مطابق نہیں تھا۔ دونوں عرصہ پہلے بات کرنا بند کر چکے تھے مگر پھر بھی المیر آریز کو بار بار مخاطب کرتا آریز بس ہوں ہاں میں جواب دیتا۔۔۔۔۔

دس منٹ کے بریک کے بعد آریز نے کال کر کے اگلے کو بھیجنے کا کہا۔۔۔۔

” کم ان “
جیسے ہی ڈور نوک ہوا آریز نے اندر آنے کی اجازت دی المیر تو اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا۔۔ آریز بیزار سا منہ بنائے فائل دیکھنے لگا تھا ایسے ہی اس نے فائل کھولی اور فرنٹ پیچ پر ہی اُس ہستی کی تصویر دیکھ کر اسے سو والٹ کا جھٹکا لگا اسے یقین نہیں آیا اس کا دل یک دم تیزی سے دھڑکنے لگا اسے محسوس ہو رہا تھا وہ دشمن جہاں اس کے سامنے کھڑی ہے۔۔۔۔

مگر ڈر سا لگ رہا تھا وہ اسے اپنی سوچوں میں خیالوں میں جگہ جگہ اسے تلاش کرتا اس قدر کھو چکا تھا کے وہ تو ہر پل اسکی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔۔۔

ڈرتے ڈرتے جیسے ہی اس نے اپنی نظریں اٹھائی وہ لڑکی ساکت نظروں سے ادھ کھلے منہ سے اسے ہی دیکھ رہی تھی جیسے اس لڑکی کو بھی یقین نہ ہو کتنے ہی پل وہ دونوں ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھتے رہے جیسے یقین کر رہے ہوں کہ یہ حقیقت ہے۔۔۔۔۔

” آپکا نام ” المیر کی آواز پر دونوں چونک اٹھے لڑکی نے نظروں کا زاویہ بدلا اور لمحوں میں وہ خود کو نارمل کرتی پر اعتماد لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔۔

” عزاہ رحمان “

آنکھیں دھوکہ دیتی ہوں مگر ان کانوں نے جو نام سنا اس سے آریز حیدر کے دل میں سکون کی لہر دور گئی۔۔۔

” آپ سنگل ہیں یا میرڈ ” بےساختہ وہ یہ پوچھ بیٹھا۔ المیر نے حیرت سے اسے دیکھا المیر کو اسکی دماغی حالت پر شبہ محسوس ہوا۔۔۔۔

” پاگل ہو ” المیر نے دانت پیستے کہا۔۔۔۔

” آئی ہیڈ آسکڈ یو سم تینگ آنسر ” المیر کو پوری طرح سے نظر انداز کرتا وہ صرف اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ نظریں ایسی بےتابی سے اُسکا ذرا ذرا حفظ کر رہیں تھیں کے عزاہ نے بےاختیار اپنا دوپٹا برابر کیا جو کندھے پر لٹک رہا تھا اسے شانوں تک پھیلایا۔۔۔۔۔۔

” سنگل ” آریز نے مسکراہٹ دبائی وہ اسکے لہجے کی تلخی اندر تک محسوس کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔

” گریٹ!!!! کل سے آپ جوائن کریں ” آریز اس کی فائل بند کرتے مسکرا رہا تھا المیر کو اب یقین ہو چلا تھا وہ پوری طرح ” پاگل ” ہو چکا ہے۔۔۔

دماغ ٹھیک ہے وہ ” سنگل ” ہے اس قابلیت پر اسے جاب دے رہے؟ ” المیر بھڑک اٹھا۔ اس کا لہجہ سخت تھا مگر آواز دھیمی تھی اس طرح کہ وہ لڑکی انکی گفتگو نہ سن سگے۔۔۔۔۔۔

” میں اِسکی قابیلیت جانتا ہوں!!! فائل تم پڑھ رہے یا میں؟؟؟ ” اسکا لہجہ انداز ہی بدلہ ہوا تھا۔ وہ نہایت پر سکون انداز میں بولتا المیر کا سکون غارت کر چکا تھا۔۔۔۔

” آریز یو آر گون میڈ ” المیر دبی آواز میں اسکے کان کے پاس چیخا۔۔۔۔

” میڈ تو ایک عرصے سے تھا آج ہی تو علاج شروع ہوا
ہے ” عجیب بہکی بہکی سی نظریں تھیی اس کی عزاہ تو پوری طرح ہل کر رہ گئی اسکی نظریں خود بخود جھکتی چلی گئیں وہ ایک پل کو بھی اس کے وجود سے نظریں نہیں ہٹا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

عزاہ نے خود ہی انکی گفتگو سے تنگ آکر آگے بڑھ کے اپنی فائل اٹھائی اور ایک غصیلی نظر سے اسے نوازتے انکے آفس سے نکل گئی۔ المیر جو دونوں کو دیکھ رہا تھا کہیں نہ کہیں اسے اندازہ ہو گیا تھا یہ وہی لڑکی تھی جسے آریز سالوں پہلے پسند کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔