Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 13
Rate this Novel
Episode 13
” زریق تم نے سنا نہیں خیریت سے تم باپ بنے والے ہو ” سمرین مایل کا چیک اپ کرانے گئی تھی سمرین کو شک تو تھا کے مایل ماں بنے والی ہے مگر آج تصدیق کرانے کے بعد سمرین کو دلی تسلی ہوئی۔۔۔۔۔
” ہم۔۔۔۔۔ ” زریق صوفے پر بیٹھا تھا۔۔۔ ٹانگیں سیدھے ٹیبل پر رکھ کر اس پر لیپ ٹاپ رکھا تھا جس پر وہ اپنے آفس کا کام کر رہا تھا۔۔۔۔۔
” زریق۔۔۔۔ ” انہوں نے اسے آنکھیں دیکھائی۔ جو ذرا برابر بھی دلچسپی نہیں لے رہا تھا۔ زریق نے پکار پر انکی طرف دیکھا اور آنکھوں میں موجود غصّہ وہ بھانپ چکا تھا آخر عادی جو ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
” امی یہ خبر ایسے نہیں دیتے منہ تو میٹھا کرائیں ” زریق نے مایل کو دیکھتے کہا جو کب سے اسکی حرکت دیکھ رہی تھی اور اب تنگ آکر کمرے میں چلی گئی پیچھے سمرین نے سر پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔
” زریق تم نے اپنی پسند سے شادی کی ہے پھر اتنے لاپروا کیوں رہتے ہو؟؟؟؟ ” سمرین کے لہجے میں بےپناہ غصّہ تھا مایل کا اداس چہرہ سمرین کی برداشت سے باہر تھا۔۔۔۔۔۔
” کیا کروں امی!!! پسند کرتا ہوں مگر اقرار کرنا نہیں جانتا کوشش کرتا ہوں تو ناکام لوٹتا ہوں ” زریق نے گردن صوفہ کی پشت پر رکھے ماں کو دیکھتے کہا جو لمحوں میں اسکی بات سے اداس ہوگئیں تھیں۔۔۔۔
” میں سمجھتی ہوں مگر وہ تم سے بدگمان ہوجائے گی “
انہوں نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے بےبسی سے کہا زریق اسی پوزیشن میں گردن صوفہ کی پشت پر رکھے چھت کو گھورتا رہا۔۔۔۔۔۔۔
” سیکھ رہا ہوں سب۔۔۔۔ کوشش کرونگا وہ بس چھوڑ کر نہ جائے ” وہ انہیں مسکرا کر تسلی دے رہا تھا۔ سمرین اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی یہ خبر ثمروز صاحب کو بھی تو دینی تھی۔۔۔
اسنے ماں سے کہ تو دیا تھا لیکن وہ خود نہیں جانتا وہ کیا کریگا؟؟؟ کیسے کریگا؟؟؟ کیسے وہ مایل کو خود کے ساتھ جوڑے کیسے اپنی تنہا دنیا میں شامل کرے؟؟ اسے وحشت نہیں ہوگی؟ تنگ نہیں ہوگی وہ۔۔۔ اور آگر چھوڑ دیا تو؟؟؟؟ اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتا۔ زریق نے اپنا فون پینٹ کی جیب سے نکالا اور کسی کو میسج کرکے اسکے میسج کا انتظار کرنے لگا۔ جیسے ہی اسکا میسج ریسیو ہوا زریق کار کی چابی لیکر گھر سے نکل گیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مایل کی عادت اسے بھی لگی تھی دیر رات جاگنا نوڈلس بنانا وہ اکثر یہاں بھی آکر مایل اپنے لئے نوڈلس بناتی تھی اسے پتا تھا نوڈلس کہاں ہیں؟؟ کیوں کے اس گھر میں آبی وہ اور مایل ہی نوڈلس کھاتے تھے۔ اسکا شدید دل چاہ رہا تھا نوڈلس بنا کر کھائے۔ المیر تو دنیا سے بےخبر بیڈ کی دوسری سائیڈ سو رہا تھا۔ وہ جو لیٹی تھی بیڈ سے اٹھی اور دبے پاؤں کچن کا رُخ کیا۔
کچن میں آکر زونیشہ نے کونے والا کیبینٹ کھولا اسے یاد تھا مایل یہیں نوڈلس چُھپاتی تھی اور کھولتے ہی سامنے ہی نوڈلس کے بےشمار پیکٹ نظر آئے اسے دیکھتے ہی زونیشہ کی آنکھوں میں خوشی کی چمک نظر آئی۔ اس نے وہ ایک پیکٹ لیا جس میں چھ نوڈلس کے پیکٹ ہوتے ہیں وہ اسے کھولنے ہی لگی تھی کے تبھی نجمہ جو کب سے گارڈن میں واک کر کے اب کمرے کا رُخ کرنے لگی تھی کچن کی جلتی لائٹ دیکھ وہاں آگئی۔۔۔۔۔
” یہاں کیا کر رہی ہو؟؟؟؟ ” ٹھنڈ کی وجہ سے انہوں نے اپنے گرد شال اوڑھی ہوئی انکا تھی چہرہ اس وقت بلکل سپاٹ تھا۔۔۔
زونیشہ اچانک سے اپنے پیچھے یہ آواز سن کر کانپ گئی۔ مڑی تو سامنے نجمہ چچی کو دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھ کے گہرے گہرے سانس لینے لگی۔پیکٹ تک اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین بوس ہوچکا تھا۔ جب وہ اپنے حواسوں میں لوٹی تو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے؟؟؟؟؟؟
” و۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ “
” جاکر سو جاؤ۔۔۔۔۔۔ ” وہ سمجھ گئیں تھیں زونیشہ یہاں کیا کرنے آئی ہے انہیں ایک آنکھ نہ بھایا وہ انکی بیٹی کی چیزوں کو ہاتھ لگائے۔۔۔۔
زونیشہ انکی سردمہری دیکھ کر حیران رہ گئی شرمندگی سے اسنے وہ پیکٹ انکے سامنے ہی اٹھا کر اسی کبینٹ میں رکھا کیوں کے وہ حکم دینے کے بعد بھی گئیں نہیں تھیں۔ زونیشہ کو بےحد شرمندگی محسوس ہو رہی تھی وہ چوری نہیں کر رہی تھی اپنا گھر سمجھ کر نوڈلس بنانے لگی تھی۔ وہ پیکٹ رکھ کے انکے سامنے سے سر جھکا کر گزر گئی نجمہ اسکے جاتے ہی کچن کی لائٹ بند کر کے کمرے میں آگئیں۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” مایل میرے ساتھ چلیں ” وہ جو ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی سونے سے پہلے چہرے پر لوشن مل رہی تھی زریق کے ہاتھ پکڑنے پر اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ آنکھوں میں بےتحاشا شکوے تھے ناراض آنکھیں اس ستمگر کو دیکھ رہیں تھیں جو کبھی ان آنکھوں کو پڑھ ہی نہیں پایا۔۔۔۔
” اٹھیں ” مایل کو اپنی طرف دیکھتا پاکر زریق نے خود ہی اسے اٹھایا اور اسے اپنے ساتھ لیتا کمرے میں بنے گارڈن کی طرف جاتے دروازے کو کھولا۔۔۔
وہ اسے گاریبو تک لے آیا جو پہلے ہی بہت خوبصورتی سے بنایا گیا تھا پر زریق کی محنت یہ تھی جو یہاں لائٹ پیلرز خراب تھے وہ اب ٹھیک ہوگے تھے یا شاید کوئی اور مسلا تھا مگر اب وہ لائٹس جل رہیں تھیں جسکی وجہ سے ہر طرف رنگینی تھی کلر فل لائٹس ہر طرف جل رہیں تھیں۔ مایل کو یہ جگہ ہمیشہ سے پسند ہے وہ اکثر یہاں آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
مایل کی نظریں سامنے رکھے کیک پر گئیں ٹیبل پر کیک رکھا تھا اور دو ٹرائینگل ٹائپ کیپ جسے دیکھ کر مایل کے اداس چہرے پر ہنسی آئی اسے ہنستا دیکھ وہ بھی ہنسا مایل نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اسے زریق کی ہنسی بےحد پیاری لگی زریق اسے خود کی طرف دیکھتا پاکر مسکرا دیا۔۔۔۔۔۔
” شکر ہے آپ ہنسی تو ” کہتے ساتھ وہ اسے کیک کے پاس لے آیا جہاں پر بڑے لفظوں میں ” THANK YOU ” لکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کیک کی تحریر پڑھتے ہی مایل کے گال سرخ ہوگے مگر زریق اسکی کیفیت سے انجان اسکا ہاتھ پکڑ کے پاس پڑی چھڑی سے کیک کاٹنے لگا۔۔۔۔
” Thank You Sooo MuChh FOr This PLeasant
SUrprise “
زریق نے اسکے کان میں سر گوشی کی مایل کو تو ہر لمحہ خواب جیسا بےحد خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔۔ آج اسے زریق سے ڈر نہیں لگ رہا تھا بلکے اس شخص پر پیار آرہا تھا۔۔۔۔۔
آج تو اسے یقین ہوگیا تھا وہ کار میں شاید بس المیر کے بارے میں جاننا چاہتا تھا کے وہ شخص اسکے لئے کیا ہے؟؟؟؟؟سب کی باتیں سن کر شاید وہ پریشان ہوگیا ہو۔۔۔ پر وہ انجان ہے مایل کی پہلی پسند المیر تھا۔۔۔۔
مگر اب اس دل میں وہ شخص کہیں نہیں جب سے اسے پتا لگا ہے وہ پریگننٹ ہے تب سے تو اس نے زریق سے نئی امیدیں باندھ رکھیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس شخص کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے اسکے ساتھ خوش رہنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔
مایل نے ہاتھ بڑھا کے اسکی داڑھی کو چھوا اسکے چہرہ پر ہاتھ رکھا وہ مایل کی کیفیت سے انجان کیک کاٹ چکا تھا جسکا چھوٹا سا پیس وہ مایل کے منہ میں ڈالنے کے لئے تھوڑا مڑا تو مایل کا ہاتھ اپنے گال پر دیکھ کر اس نے آنکھیں سیکوڑیں مایل نے فوراً اپنا ہاتھ ہٹایا شرمیلی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں کو آن چھوئی چھوٹا سا وہ پیس زریق نے اسکے منہ میں ڈالا جسے مایل نے آدھا کھا کر باقی اسے کھلا دیا۔۔۔۔۔۔
” اب خوش ہو؟؟؟؟ ” وہ ٹرائینگل شیپ کیپ اسے پہناتے پوچھ رہا تھا مایل مسکرائی۔۔۔۔
” جی۔۔۔۔۔ “
” گڈ اب یہ کیک تین چار دن چلائیں گئے ” مایل آج اسکا الگ ہی روپ دیکھ رہی تھی۔ نہ وہ اتنا بولتا تھا،، نہ اپنی رائے دیتا تھا نہ صفائی، آج پتا نہیں کیوں اسے سب بتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” میں آپ کو سمجھ نہیں پاتی ” مایل جو غور سے اسے دیکھ رہی تھی بےاختیار اسکے منہ سے نکلا زریق جو کیک ڈبے میں بند کر رہا تھا مایل کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
” وقت دینا چاہیے!!!! مجھے تھوڑا کام ہے تم سوجاؤ اتنی دیر مت جاگنا۔۔۔۔ ” پہلی دفع اس شخص نے اپنے لمس سے موجودگی کا احساس دلایا تھا اس نے ہاتھ کی پشت مایل کے چہرے پر پھیر کر کہا مایل تو آج حیرتوں کے سمندر میں ڈوب رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ تو چلا گیا لیکن مایل کے لئے سوچوں کا ایک پہاڑ چھوڑ کر گیا تھا۔ وہ کافی دیر گازیبو میں بےشمار سوچوں کو لیکر سوچتی رہی۔ کہیں یہ آنے والے بچے کی وجہ سے تو نہ تھا کے زریق بدل گیا تھا؟؟؟؟ وہ شادی سے لیکر اب تک کی اسکی ہر حرکت کو سوچتی جا رہی تھی لیکن زیرق کا ہر عمل اسکی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔………………………………….
آج وہ کافی دنوں بعد دل سے تیار ہوئی تھی۔ آج اسکی ایک دور کی کزن کی منگنی تھی اور اسی کزن کے بھائی کے بیٹے کی برتھ ڈے بھی تھی۔ آج وہاں مایل کی دونوں تائی اور ماں بھی آئی گی تبھی وہ آج دل کھول کر تیار ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
مایل نے بلیک ساڑی پہنی تھی جسکی فل سلیوز تھیں آنکھوں پر اسموکی آئیز میک اپ کیا تھا اور ہونٹوں پر اورینج کلر کی بلکل ہلکی سی گلوز لگائی تھی وہ تیار ہوکر آئی تو سمرین نے باقاعدہ اسکی نظر اتار کر اسکا ماتھا چوما مایل انکے گلے لگ گئی وہ ساس سے بڑھ کے اسکی ماں جیسی تھیں۔۔۔۔۔۔
اسے لگا رہا تھا آج زریق نے اسے غور سے دیکھا تھا جب وہ سمرین سے باتیں کر رہی تھی پہلی دفع ایسا ہوا تھا زریق فون چھوڑ کر اسکی طرف متوجہ ہوا تھا وہ خود پر اسکی نظروں کی تپش محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں جب حال میں پہنچے تو مایل کے گھر والے پہلے سے وہاں موجود تھے۔ وہ تیزی سے اپنی دونوں تائی امیوں کی طرف آئی اور ان سے گلے ملی اسکے چہرے پر خوشی وہ دونوں دیکھ رہیں تھیں چہرے پر ایک الگ ہی چمک تھی جو اسکے حسن کو اور نکھار رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” آج میری بچی کے چہرے پر اتنی رونک ہے ماشاءالله ” شگفتہ نے اسکا گال تھپکتے کہا وہ مسکرا دی۔۔۔۔۔۔صالحہ نے پیار سے اسکا ماتھا چوما۔۔۔۔۔۔
” اسلام علیکم تائی امی ” زریق مایل کے پیچھے ہی آرہا تھا اسنے آتے ہی دونوں کو سلام کیا۔۔۔۔
” وعلیکم اسلام خوش رہو زریق!!!! ” صالحہ نے مسکراتے ہوئے کہا زریق پھر حیدر مرتضیٰ اور صدیق صاحب کے پاس چلا گیا۔ وہیں المیر، آریز اور شاز بھی انکے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔۔ حال ایک ہی تھا مگر عورتوں اور مردوں کے پورشن کو الگ کرنے کے لئے بیچ میں ٹیبلز لگیں تھیں جن پر مرد حضرات اور خواتین کے لئے کھانا رکھا تھا پر دیکھ دونوں ایک دوسرے کو آرام سے سکتے تھے۔۔۔۔
آبی تو دوستوں کے ساتھ کبھی مردوں کی سائیڈ جاتا تو کبھی عورتوں کی۔۔۔۔۔
” امی کہاں ہیں تائی امی “
اپنی ماں کو ناپاکڑ مایل نے پوچھا۔۔۔۔۔
” وہ دلہن کو دیکھنے گئی ہے بس آتی ہوگی “
جواب شگفتہ کی طرف سے تھا کیوں کے صالحہ کچھ پڑھ رہیں تھیں ورنہ مایل بھی اپنی تائی کو جانتی ہے وہ ساتھ بیٹھی ہوں تو تسلی کے لئے ہزاروں سوال پوچھتی ہیں شادی کے بعد کی زندگی کے۔۔۔۔۔
” اور زونیشہ نہیں آئی؟؟؟ ” ناچاہتے ہوئے بھی اسنے پوچھ لیا المیر کو وہ دیکھ چکی تھی اسلئے تھوری حیران ضرور ہوئی تھی کے زونیشہ کیوں نہیں آئی؟؟؟ وہ اور المیر کو اکیلا چھوڑے ممکن ہی نہیں اسلئے پوچھ بیٹھی۔۔۔۔
” آئی ہے اسکا جُوڑا کھل گیا تھا واشروم گئی ہے “
یہ جان کر کے وہ یہاں بھی ہے اسکا موڈ ہی اوف ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
مایل صالحہ کی چُپی سے تنگ آرہی تھی پتا نہیں کیوں وہ کب سے چُپ ہیں۔ اسے انھیں بتانا تھا وہ ماں بنے والی ہے مایل کو سمرین نے منع کیا تھا ایک ماہ تک کسی کو نہ بتائے اپنی ماں کو بھی نہیں۔۔ یہ سن کر مایل حیران ضرور ہوگئی تھی مگر مایل نے پہلے ہی سوچ لیا تھا یہ خبر وہ اپنوں کو سب سے پہلے بتائے گی وہ سب وہی ہیں جنکی وجہ سے وہ اب تک زندہ ہے تو انھیں کیسے اپنی خوشی سے محروم رکھے۔۔۔۔۔
” مایل کچھ کہنا ہے؟؟؟ ” صالحہ کی آواز سن کر وہ خوشی سے مسکرائی۔ کب سے وہ انکے بولنے کے انتظار میں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
” آپ کب سے کیا پڑھ رہیں تھیں “
” بس بیٹا کیا بتاؤں ساری نکمی اولادیں میرے ہی نصیب میں تھیں شاز کے لئے وظیفہ کر رہی تھی کے پاس ہوجائے اس دفع تیرے تایا نے سختی سے کہا ہے ہے پاس نہ ہوا تو گدھے کے ساتھ باندھ دیں گئے۔۔۔۔ ” مایل باقاعدہ قہقہ لگا کر ہنسی ہنستے ہنستے اسکی آنکھوں میں پانی آگیا شگفتہ اور صالحہ بھی مسکرا رہیں تھیں۔۔۔۔
” اچھا تم بتاؤ کیا بتانا تھا؟؟؟ “
شگفتہ کو کچھ زیادہ ہی بےچینی تھی۔وہ سمجھ تو چکی تھی مایل کی بےچینی سے لیکن یہ خیال تھا صرف یا سچ مایل ہی بتا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔
” و۔۔۔۔۔وہ۔۔۔ تائی۔۔ امی۔۔۔۔ ” مایل کی نظریں خود با خود جھکتی چلیں گئیں ہلکی سی شرمیلی مسکراہٹ تھی ہونٹوں پر لہجے میں جھجھک سی تھی۔۔۔ شگفتہ اور صالحہ نے بےاختیار خوشی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔
” مایل میری جان!!!!! میں سمجھ گئی بہت بہت مبارک ہو اللّه تمہیں صحت مند اولاد دے ” صالحہ نے اسے خود سے لگا کر دل سے دعا دی شگفتہ نے بھی بےاختیار اسے پیار کیا۔۔۔۔۔
بچوں میں مایل کی پہلی اولاد ہے جو گھر میں خوشیاں لائے گی۔۔۔ وہ دونوں اس سے شکوہ کر رہیں تھیں کے پہلے کیوں نہیں بتایا ملیں ہیں تو بتا رہی ہو اور دونوں ہی مایل کو سمجھانے بیٹھ گئیں ایک ایک چیز کے ان شروع کے دنوں میں احتیاط کرو۔ تب تک نجمہ بھی آگئی وہ آتے ہی کچھ کہنے لگی تھی کے مایل کو دیکھ کر رُک گئی۔۔۔۔۔
مایل سے گلے ملتے وہ بیٹی کو مسکراتے دیکھ خود بھی
” جی ” اٹھیں تھیں۔ پھر جو خبر انہیں ملیں انہیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا وہ مایل کو کتنی ہی دیر خود سے لگائے اپنے ڈھیروں آنسوں اندر چھپائے اسکی خوشی میں مسکرا رہیں تھیں۔۔۔۔
” میری جان اب تک یقین نہیں آرہا ” نجمہ نے اپنی انگلی سے سونے کی رنگ نکال کر مایل کو پہنائی یہ انہیں مایل کے ابو نے دی تھی جو انہیں بےحد عزیز تھی۔ نجانے کیوں آج انہیں لگ رہا تھا اس نشانی کی ضرورت ان سے زیادہ مایل کو ہے۔۔۔۔۔
” اتنی دیر کردی زونیشہ “
” وہ امی وہاں فارینا مل گئی تھی جو شادی کا کارڈ دینے آئی تھی اس سے جُوڑا بنوایا ” زونیشہ مایل کو دیکھ کر تھوڑی سی جھجکی تھی۔ وہ آتے ساتھ صالحہ کے پاس بیٹھ گئی جس نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تھی۔۔۔۔۔
نجمہ کے پیٹ میں جو بات کب سے تھی وہ بےچینی سے سب کو بتانے لگی کے ستر تولہ سونا دیں گئے بیٹی کو اس مہنگائی کے زمانے میں ستر سن صالحہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔۔۔۔۔
پھر منگنی کی رسم شروع ہوئی کم ہی لوگوں کو بلایا تھا۔ کچھ خاندانوں میں منگنی کی رسم ایسے ہوتی ہے کے دلہا اور دلہن کے بڑے رنگ پہناتے ہیں جیسے ابھی ہی فاطمہ جو گرے برائیڈل ڈریس میں ملبوس تھی اسے دلہے کی ماں نے انگھوٹی پہنائی دوسری طرف گروم کو دلہن کی ماں نے انگھوٹی پہنائی اس طرح یہ رسم ادا ہوئی پھر فاطمہ کے بھانجے یعنی ارسلان کی برتھ ڈے سیلیبریٹ کی گئی۔۔ وہیں دلہن کے پاس رکھی ٹیبل پر کیک رکھا تھا جسے ارسلان نے کاٹا۔۔۔۔
مایل نے صالحہ کے ساتھ اسٹیج پر جاکر فاطمہ کو مبارکباد دی فاطمہ مایل سے خوش دلی سے ملی پھر جب کھانا شروع ہوا سب نے اپنا کھانا لیا مایل کا دل تو نہیں تھا اس نے بس چاول اور سائیڈ میں چکن اچاری لی۔ وہ اپنا کھانا لیکر تائی کے ساتھ بیٹھ گئی اسکی ماں زونیشہ اور شگفتہ تائی بھی وہیں بیٹھیں تھیں اس نے کھانا شروع کیا تو اس کی ماں چمچ بھر کر اس کے منہ میں الگ الگ قسم کی سلاد ڈالنے لگیں دوسری طرف صالحہ بھی گھوشت کی بوٹیاں اسے بھی کھلاتیں خود بھی کھا رہی تھیں۔۔۔۔۔
زونیشہ کب سے اس منظر کو دیکھ رہی تھی مایل اسے دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی لگی تھی جس کے پاس ہر انسان کی محبت تھی ہر کوئی اسے بےانتہا چاہتا تھا۔ شاید وہ شخص بھی جو اسکا شوہر ہے۔۔۔۔۔
نجانے کیوں ہر بات پر آجکل اسکی آنکھیں بھر آتیں ابھی بھی آنکھیں ہلکی سی نم تھیں۔ وہ اپنا سر جھکا گئی نوالے ہلق میں اٹک رہے تھے زندگی بےمعنی لگ رہی تھی۔ پر ہر کڑوا گھونٹ اسے پینا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مایل جب سب سے ملکر جانے کے لیے اٹھی تو وہاں اسے زریق کہیں نہ دیکھا اسکی نظریں پورے حال میں اسی کو تلاش رہیں تھیں۔ وہ جیسے ہی پیچھے مُری اسکی نظر بےاختیار اس شخص پر اٹک گئیں مایل نے سوچا تھا اب وہ اس شخص کو نہیں سوچے گی۔۔۔۔۔۔ مگر جیسے ہی وہ اسے زونیشہ کے ساتھ دیکھتی ہے۔۔۔۔
اسکی دنیا وہیں رُک جاتی ہے،،،، دل میں درد کی ایک لہر اٹھتی ہے پتا نہیں کیوں اس ایک پل میں وہ سب بھول گئی یہ تک بھول گئی کے اب نئی زندگی اسکے ساتھ جُری ہے۔ اور جس شخص کو وہ اب بھی اپنے حواسوں پر سوار کیے ہے وہ اسکے لئے نامحرم ہے۔۔۔۔۔۔۔
دور کھڑی وہ دونوں کو دیکھ رہی تھی المیر کا قد لمبا تھا پر زونیشہ بھی کم نہ تھی وہ اسکے کندھوں تک آتی ہے۔ اس وقت اس نے سفید گہرے دار فروک پہنی تھی جو اسکے لمبے قد کی وجہ سے اس پر خوب جچ رہی تھی۔ بالوں کی آوارہ لٹیں چہرے پر جھول رہیں تھیں بال جُوڑے کی صورت میں بند کیے تھے۔۔۔ اسکے کندھے پر سیلور کلر کا خوبصورت پرس لٹک رہا تھا جس کی لمبی چین تھی۔۔۔ اسی پرس میں سے المیر کچھ نکال رہا تھا کیوں کے زونیشہ کے ہاتھ خراب تھے اس نے کھانے کے بعد شاید ابھی ہاتھ نہیں دھوئے تھے وہ دونوں کو بےاختیار دیکھے جا رہی تھی ہر چیز سے بےخبر وہ دونوں اس وقت مایل کے حواسوں پر چھائے تھے۔۔۔۔۔اسے ہوش تو تب آیا جب خود پر نظروں کی تپش محسوس ہوئی۔۔۔
مایل نے اپنی دائیں جانب دیکھا تو کانپ کر رہ گئی زریق اسے ہی دونوں ہاتھ باندھے غور سے دیکھ رہا تھا۔ مایل نے تھوک نغلا نجانے وہ کیا سمجھ رہا ہوگا اسکی پھیلی آنکھوں میں بھی وہ خوف دور سے محسوس کر سکتا تھا وہ اسے ہی دیکھے جا رہا تھا مایل کو یہاں کھڑا رہنا ایک سزا سی لگ رہی تھی کاش اسے کوئی بلا لے۔۔۔۔۔۔۔
مایل نے ڈر کے مارے اپنی آنکھیں سختی سے میچ لیں دل سے دعا نکلی تھی جب وہ آنکھیں کھولے تو زریق نہ ہو۔۔۔۔ دو منٹ بعد دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولیں تو واقعی وہاں زریق نہ تھا اسکا اٹکا سانس بحال ہوا دل پر ہاتھ رکھے وہ شکر کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
ایک تو شادی جیسا بھرا بھرا ماحول اسے یکدم وحشت ہونے لگی تھی۔ وہ پیچھے کے دروازے سے حال سے باہر نکل آئی تاکے کھلی ہوا میں سکون بھرا سانس لے۔ باہر آکر ٹھنڈی ہوا جیسے ہی اسکے جسم کو چھو کر گزری اسکی روح میں سکون کی لہر سراہیت کر گئی۔۔۔۔۔
وہ اسی سکون کو محسوس کر رہی تھی۔۔ اس بات سے انجان کچھ وحشی جانور گندی نظروں سے اسکے جسم کو کسی بھوکے جانور کی طرح دیکھ رہے تھے وہ قدم بڑھاتے عین اسکے پیچھے آرُکے۔۔۔۔۔۔۔
” کس کا انتظار کر رہی ہو جانِ من ہم تو یہاں ہیں ” وہ اس آواز پر پیچھے مڑی اور اپنے سامنے ان تین بدمعاشوں کو دیکھ کر کانپ کر رہ گئی ان کے حلیے ہی بتا رہے تھے کہ وہ کوئی گُنڈے یا موالی تھے۔۔۔۔۔
ایک کے سر پر لال پٹی بندی تھی اور منہ میں ماچس کی تیلی چبا رہا تھا دوسرا سگریٹ کے گہرے کش لے رہا تھا۔ تیسرا دنیا سے بے خبر نشے میں جھول رہا تھا مایل کی ٹانگیں کانپ اٹھیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
” اتنے غور سے مت دیکھو جانِ من پھر صبر نہیں ہوگا ” جس کے منہ میں ماچس کی تیلی تھی وہ مزید اس کے قریب آکر اسے چھونے لگا تھا کے مایل خوف سے پیچھے کی طرف لپکی اس کی ٹانگیں کانپ رہیں تھی مگر وہ بھاگنے کے لیے قدم بڑھا رہی تھی کہ پیچھے سے ایک آدمی نے اس کے بال مُٹھی میں جھکڑے۔۔۔۔۔
” آ ” مایل کی دردناک چیخیں فضا میں گونجی لیکن یکدم اس آدمی نے اسکے بال چھوڑ دیے وہ بھاگنے لگی تھی مگر کیسی کے کراہنے کی آواز سن کر رُکی پیچھے مُڑ کر دیکھا تو اس کی نظر زریق پر گئی جس نے ان کے ایک آدمی کو مار کر زمین پر گِرایا تھا اور اب دوسرے کی طرف لپکا تھا اسے کالر سے پکڑ کے زیرق بُرے طریقے سے اسکے منے پر فولادی مُکوں کی برسات کر رہا تھا تیسرا زریق کو مارنے دوڑا تو زریق نے لات مار کر اسے دور گرایا۔۔۔۔
وہ تو ان پر بھوکے شیر کی طرح ٹوٹ پڑا تھا انہیں بُرے طریقے سے مار رہا تھا۔۔۔پیٹ رہا تھا لاتوں اور گھونسوں کی برسات کر رہا تھا۔۔ انھیں اٹھنے کا موقع تک نہیں دے رہا تھا وہ لوگ خون سے لتے زمین پر پڑے تھے زریق نے آستین سے چہرے کا پسینا صاف کیا اور اسے سرخ آنکھوں سے گھورا۔۔۔۔۔۔
” اندر جاؤ “
وہ اسکی دھار سے کانپ کر رہ گئی۔ لڑکھڑاتے قدموں سے وہ اندر کی طرف بھاگنے کے انداز میں گئی۔۔۔۔۔ اندر گئی تو اسے وہاں کوئی اپنا نظر نہیں آیا کیا وہ اسے ملے بینا ہی چلے گئے؟؟؟؟ آج کیا سے کیا ہوگا زریق بھی اسے آج کوئی اور ہی شخص لگ رہا تھا اسکا زریق تو کبھی اسے نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا اور وہ شخص اپنی نظروں سے اسکے اوسان خطا کر گیا؟؟؟؟ اسکا زریق تو کبھی اونچی آواز تک میں اس سے بات نہیں کرتا اور زریق نے تو وائٹ شرٹ پہنی تھی اس شخص نے لائٹ بلو۔۔۔۔۔۔۔
” یا اللّه میں پاگل ہوجاؤں گی ” اسکی آنکھیں بھیگنے لگیں تھیں وہ کہاں جائے؟؟؟ یہی سوچ کر اسکا سر پھٹا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” چلیں ” زریق نجانے کہاں سے اسکے سامنے آکھڑا ہوا اسکی سرخ آنکھیں جو رونے کو بےتاب تھیں انھیں دیکھتے وہ مایل کا ہاتھ پکڑتے خود ہی اسے اپنے ساتھ کھینچتا چلا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
” میں سب سے ملا تھا وہ لوگ چلے گئے اور ہمیں دیر ہو رہی ہے کزن کو کال پر انفارم کر دینا۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ اسے کار میں بیٹھا کر دروازہ لاک کر چکا تھا مایل کا دل تیز رفتار سے دیکھ رہا تھا ذھن الگ ماؤف ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ کار میں بیٹھتے ہی زریق کو دیکھ رہی تھی جو اب سی گرین شرٹ پہنے ہوئے تھے یہ شخص کیا کر رہا تھا؟؟؟ اسے پگال کرنے کی قسم کھا رکھی تھی اس شخص نے؟؟؟؟
” آ۔۔۔۔آپ ک۔۔۔۔۔۔کی۔۔۔۔ش۔۔۔ش۔۔۔شرٹ۔۔۔۔۔ “
” پیچھے پڑی ہے ایک کار تین مردوں کو کچل کر چلی گئی انہیں ہی ہسپتال پہنچا رہا تھا وہی جنہوں نے تمہیں۔۔۔۔۔۔ ” اسکے لہجے میں آخر میں سختی در آئی۔مایل نے پیچھے مڑ کر دیکھا خون سے لت پت شرٹ دیکھ کے اس کی آنکھیں خوف سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیا زریق نے انھیں؟؟؟
” وہ کہاں ہیں؟؟؟ ” خوف کے عالم میں مایل نے اس شخص سے پوچھا۔۔۔۔
” کام ڈاؤن!!!! مر گئے۔۔۔۔۔ ” کتنی آسانی سے وہ کہ رہا تھا اسکی حالت جانے بغیر۔ اس کی روح فنا کر کے وہ سکون سے گاڑی چلا رہا تھا جب وہ گھر پہنچے سمرین بھی اسے حادثے کا ذکر کر رہی تھی نیوز میں بتا رہے تھے تین لوگوں کو کسی نے گولیاں ماریں اور ٹرک کے آگے ڈال دیا یہ وہی تین تھے جنہوں نے مایل سے بدتمیزی کی سمرین انکے لئے پریشان تھی کیوں کے وہ اسی ایریا سے آرھے تھے۔۔۔۔ وہ سمرین کے ساتھ بیٹھ گئی اس میں ہمت نہیں تھی زریق کو برداشت کرنے کی وہ کافی دیر سمرین کے ساتھ لپٹی رہی۔۔۔۔۔
” بیٹا ڈرو نہیں حادثے ہوتے رہتے ہیں ہمیں انکی مغفرت کی دعا کرنی چاہیے ” سمرین کو لگا تھا وہ اس واقع سے ڈر رہی ہے انہیں کیا بتاتی وہ انکے بیٹے سے خوف کھا رہی تھی۔۔۔۔
دیر رات تلے جب وہ کمرے میں لوٹی تو زریق سو چکا تھا۔ وہ بھی چینج کر کے لیٹنے لگی تھی اس نے بیچ میں تکیہ رکھ دیا تاکے وہ اس شخص کا چہرہ نہ دیکھ پاۓ۔ نیند تو آج آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ دوائی بھی نہیں لے سکتی کیوں کی ڈاکٹر نے اسے سلیپینگ پلز سختی سے منع کی تھیں وہ تو لیتی بھی نہیں تھی بس دو بار اسکی ماں نے زبردستی اسے دیں تھیں یہی سوچتے اسکی آنکھ لگ گئی رات کا نجانے کونسا پہر تھا جب اسکی آنکھ لائٹ کی روشنی سے کھلی وہ دائیں جانب لیٹ کے سوئی تھی جیسے ہی آنکھیں کھلیں اسکی نظر خود کو تکتے زریق پر گئیں اچانک ہی اسے خود کو تکتا پاکر مایل کی تو جان ہلق میں اٹک گئی۔۔۔۔۔
وہ مسکرا رہا تھا مایل کے جسم کپکپانے لگا وہ بیڈ سے اٹھ کر دور ہوئی مگر وہ بیڈ کے اوپر سے چل کر اسکے پاس چلا آیا۔۔۔۔۔۔
” کوئی اتنا خوبصورت کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟
وہ اسکی سرائی دار گردن پر جھکا تھا مایل کے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑی۔۔۔
” مجھ سے پیار کرتی ہو۔۔۔۔؟؟؟ “
اس نے مایل کا رخ اپنی طرف کیا اور انگلی گردن پر گھوماتے ہوے سوال داغا جس سے اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔۔۔۔
” تمہاری چُپی کو کیا سمجھوں۔۔۔۔؟؟؟ “
دھیمے لہجے میں وہ اسکے کان کے قریب آکر بولا۔۔۔۔
” تم جانتی ہو مجھے تم سے کتنی محبت ہے۔۔۔۔ نہیں نا۔۔۔ میں بھی نہیں جانتا۔۔۔۔ بس اتنا جانتا ہوں جب تم پاس نہیں ہوتیں۔۔۔۔ مجھے اپنی سانسیں بند ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔۔۔۔ تمہیں چھونے سے۔۔۔۔ محسوس کرنے سے۔۔۔۔ مجھے اپنی سانسیں بحال ہوتی محسوس ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ آئ ڈونٹ نو وائے آئ لو یو سو مچ ڈیٹ آئ کانٹ لو وداؤٹ یو۔۔۔۔!!!“
مایل بھیگی آنکھوں سے زبردستی مسکرائی نجانے کیوں زریق کبھی کبھی ایسی باتیں کرتا کے وہ خوف میں مبتلا ہوجاتی۔۔۔۔
” بہت ہنڈسم لگ رہا ہوں۔۔۔۔؟؟؟ “
وہ اسے مسلسل خود کو تکتا پاکر بولا۔۔۔
” نہیں۔۔۔ وہ۔۔۔ مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔!!“
اسنے نظروں کا زاویہ بدل کر کہا۔۔۔
” ڈو یو لو می۔۔۔۔؟؟؟ “
اسنے ٹھوڑی سے پکر کے اسکا چہرہ اونچا کیا وہ جانتا تھا بھوک اس سے پیچھا چھڑانے کا آسان راستہ ہے۔۔۔۔
” اتنا مشکل سوال ہے۔۔۔۔؟؟؟ “
ٹھوڑی پر اسکی گرفت سخت ہوگئی۔۔۔ ” سی “ کی آواز اسکے کانوں میں گونجی وہ ہونٹ کا کنارہ سختی سے دانتوں میں دبا کر آنسوؤں کا سیلاب روکے ہوئے تھی اسکے آنسوؤں ضرور زریق کو شک میں مبتلا کرتے۔۔۔۔
” ہاں۔۔ ہاں۔۔۔۔!!!“
مزید سوالوں سے بچنے کے لیے بمشکل وہ بول پائی۔۔۔۔
” کس سوال کا جواب ہے پہلا یا دوسرا۔۔۔۔؟؟؟“
وہ آج اسکی محبت کا امتحان لے رہا تھا جسے عرصے پہلے وہ بھلا چکی ہے۔۔۔۔۔
” دونوں کا۔۔۔۔!!!“
لرزتی گلابی ہونٹوں سے وہ گویا ہوا اس وقت شدت سے اسے رونا آرہا تھا۔۔۔۔
” جھوٹ۔۔۔۔ جھوٹ بول رہی ہو نا۔۔۔۔؟؟؟ “
وہ قہقہہ لگا کے ہنسا درد بھری ہنسی جیسے خود پر ہنس رہا ہو سوال کر رہا ہو مجھے سے آخر محبت کون کر سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟
” اتنا ڈرتی کیوں ہو۔۔۔۔؟؟؟ “
وہ ہنستا ہوا اسے باہوں میں لیے بولا بیڈ پر آکر اسنے اسے بیڈ پر لیٹا کر جھٹکے سے ساری تصویریں اسکے سامنے پھنکیں اور قریب آکر اسکے برابر میں لیٹ گیا۔۔۔۔
” ہاں سب میں نے کیا ہے۔۔۔۔!!!!“
کافی دیر بعد وہ اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتا گویا ہوا اسکے چہرے کا رخ اسنے اپنی طرف کیا۔۔۔۔
” کیوں۔۔۔۔؟؟؟ “
خوف سے پوری آنکھیں کھولے وہ اس سے چوچھ رہی تھی جس کی آنکھوں میں نا ڈر تھا نا خوف آنسوؤں کا پھندا اسکے گلے میں اٹک گیا۔۔۔۔
” تمہاری محبت میں۔۔۔۔!!!“
وہ اسکی پیشانی کو چومتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
” یہ محبت نہیں۔۔۔۔!!!“
وہ صرف سوچ سکی ہمت نہیں تھی اس میں کے وہ اسکے سامنے کچھ بول سکے اسکا شوہر اسے گزری داستان سنا رہا تھا جسے سن کر اسکا خوف مزید بڑتا گیا ایک ننھا سا موتی آنکھوں سے نکل کر بالوں میں جذب ہوگیا۔۔۔۔۔
وہ اسے بتا رہا تھا ان تصویروں میں دیکھا رہا تھا کیسی دردناک موت انھیں دی ہے جسے سن کر اسکی جان نکل رہی تھی۔۔ بےاختیار اسکا ہاتھ اپنے پیٹ پر گیا نئی زندگی کا سوچتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رہ دی اسکی تباہی کا زمیدار صرف اور صرف ” المیر صدیقی ” ہے۔۔۔
