Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 12
Rate this Novel
Episode 12
صبح گیارہ بجے اسکی آنکھ کھلی اسنے مندی مندی آنکھوں سے ارد گرد دیکھا تو زریق اسے کہیں نظر نہ آیا وہ کھلے بالوں کا جوڑا بنا کر اٹھنے لگی تھی کے باتھروم کا دروازہ کھلا وہ بال ٹاول سے رگڑتا باہر نکل رہا تھا مایل پر نظر پڑھتے ہی اس نے عام سے انداز میں کہا۔۔۔۔
” گڈ مارننگ “
وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوگیا اسکے وجود سے لاپروا وہ کندھے پر لٹکے ٹاول سے بال رگڑنے لگا آئینے میں دیکھتے اس نے ٹاول بیڈ پر پھینک کر پھر بالوں پر گنگی کی آخر میں الماری سے شرٹ نکال کر پہنی۔۔۔۔۔
وہ اپنا والٹ اور چابی لیکر نکلنے لگا تھا مگر جاتے جاتے رکا۔۔۔۔
مایل حیرت زدہ تھی وہ شخص اسکے وجود سے کتنا لاپروا تھا؟؟؟ نظروں کی تپش کا احساس بھی نہ ہوا اسے۔۔وہ یک ٹک اس لاپروا شخص کو دیکھتی رہی۔۔
” مایل سوری میرے ذھن سے نکل گیا!!!! آپ فریش ہوجائیں ناشتے کی ٹیبل پر آپ کا انتظار کر رہا ہوں ” وہ کہ کر رُکا نہیں چلا گیا یہ شخص کیا تھا؟؟؟ بےحس، لاپروا، کیا کہا جائے؟ اسکے دماغ میں الفاظ نہیں آرھے تھے اس شخص کی آنکھوں میں مایل نے کبھی اپنے لئے محبت نہیں دیکھی،،، نہ کوئی احساس،،، بس باتیں اسکی ایسی ہوتیں کے مایل کو لگتا ہے وہ کوئی اسکا اپنا ہے،،،،، کوئی ایسا جسے وہ پہلے سے جانتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ تو اسکے وجود سے بھی ہر وقت بیگانہ رہا ہے اپنے کسی عمل سے اس نے ظاہر نہیں کیا وہ اسکی پسند ہے۔۔۔۔۔۔
اب بھی وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔
وہ کیسے باہر جائے کیسے مہمانوں کو فیس کرے سوچ کر ہی اسے رونا آرہا تھا اسکی آنکھیں بھی بھیگتی چلی گئیں شاور لیکر نکلی تو اسکی آنکھیں شدید لال ہو رہیں تھیں۔
چہرے پر ہلکا پھلکا سا میک اپ کر کے وہ اپنے سینڈلز ڈھونڈ رہی تھی کے سمرین چلی آئی۔۔۔۔۔
” ارے بیٹا تم زریق کے ساتھ آئی نہیں ” کمرے میں آتے ہی وہ بولیں پھر مایل کی سرخ آنکھیں دیکھ چونکیں۔۔۔۔
” تم روئی ہو؟؟؟ ” انہوں نے اسکا چہرہ اونچا کیا جو انہیں دیکھتے ہی گردن جھکا گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” نی۔۔۔نہیں۔۔۔ ب۔۔۔بس۔۔۔۔ا۔۔امی یاد آرہیں ہیں ” اس نے دونوں ہونٹوں کو آپس میں دبایا پھر بھی آنسوں پر اختیار نہ رہا اور بہ نکلے۔۔۔۔۔
سمرین نے اسے گلے لگایا۔۔۔
” میری جان روتے نہیں تمہارا جب دل کہے تم نجمہ بھابی سے مل آنا اور زریق نہ لے جائے مجھے بتانا میں اسے سیدھا کرونگی ” انہوں نے محبت سے اسے گلے لگاتے کہا وہ انہیں کیا بتاتی انکے بیٹے کی وجہ سے تو وہ رو رہی ہے۔۔
مایل نے اپنی سینڈلز ڈھونڈ کر پہنیں اور سمرین کے ساتھ ہی ناشتے کی ٹیبل پر آبیٹھی۔وہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی نہ تھا۔۔۔
” آنٹی سارے گیسٹ کہاں ہیں؟؟؟ “
” آنٹی نہیں تم بھی مجھے زریق کی طرح امی کہنا!!! اور مہمانوں نے صبح ہی ناشتہ کرلیا تھا۔ تمھارے ڈیڈ (زریق کے ابو) مرد حضرات کے ساتھ لان میں ناشتہ کر رہے ہیں باقی مہمان بتاتی ہوں کہاں ہیں ابھی تم ناشتہ کرلو۔۔۔۔۔ زریق زریق کہاں ہو ” مایل کو بتاتے ساتھ انہوں نے زریق کو آواز دی زریق فون پر بات کرتا ڈائننگ ٹیبل کی طرف آیا ملازمہ اسی وقت ٹی پاٹ رکھ کے چلی گئی۔ ناشتہ تو پہلے ہی ٹیبل پر سجا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اتنی ساری چیزیں دیکھ کر مایل کی بھوک چمک اٹھی زریق فون رکھ کر ناشتہ کرنے بیٹھا تو مایل کو بھی سمرین نے ساتھ والی کرسی پر بیٹھایا وہ زریق کے سامنے کچھ بھی لینے سے جھجھک رہی تھی سمرین تو ان سب سے واقف تھی اس لئے اسنے خود ہی مایل کی پلیٹ لوازمات سے بھر دی۔۔۔۔۔۔۔
ناشتے کے دوران وہ دیکھ رہی تھی زریق نے بس ایک سینڈوچ لیا تھا اور وہی کھا رہا تھا پھر اس نے ٹی پوٹ سے گرم ابلتی چائے َاپنے کپ میں ڈالی اور وہاں مایل کی آنکھیں باہر نکلنے کو تھیں جب اس نے دیکھا زریق گرم چائے کا کپ ایک ہی گھونٹ میں پی گیا۔۔۔۔
وہ منہ کھولے بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی کیک کا ایک ٹکرا مایل کے کھلے منہ میں تھا دوسرا اسکے ہاتھ میں شاید اسکی حیرانگی سمرین بھانپ گئی تھی تبھی سمرین نے زریق کو آنکھ سے اشارہ کیا مگر وہ کہاں سمجھنے والا تھا؟؟ وہ تو اپنے موبائل میں مشغول ہو چکا تھا لہٰذا سمرین کو ٹوکنا پڑا۔۔۔۔
” آرام سے زریق یہ کیا تھا؟؟؟ تمہارا منہ جل جاتا تو ” سمرین کے مخاطب کرنے پر زریق نے نظریں اٹھا کر سمرین کو دیکھا جس پر سمرین نے اسے گھورا وہ انکا اشارہ سمجھ گیا۔۔۔۔
” آئندہ نہیں کروں گا ” وہ اٹھ کر ڈرائنگ روم میں چلا گیا مایل کا کھانا مشکل ہوگیا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ کیا اسے یہ چیزیں عجیب لگ رہی ہیں؟؟؟ یہ عام ہے؟؟ وہ زیادہ سوچ رہی ہے؟؟؟ اسکا دماغ تو ایک عرصے سے بند ہو چکا تھا آج جو ہمت رہی سہی بچی تھی وہ بھی زریق کی وجہ سے جواب دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
سمرین مزید اسکی پلیٹ بھر رہی تھیں لیکن اسکا پیٹ بھر چکا تھا پھر سمرین اسے ڈرائنگ روم میں لے آئی جہاں زریق کیے سارے کزنس بیٹھے تھے وہیں اسے المیر، زنیشہ اور آریز بیٹھا نظر آیا۔۔۔ اسے دیکھتے ہی مایل کا موڈ سخت خراب ہوا۔ اسے سمرین سے پتا لگا کے تینوں اسکا ناشتہ لیکر آئے تھے۔ مایل سخت کوفت میں مبتلا ہوگی وہ سب کے ساتھ کچھ دیر بیٹھی رہی پھر سمرین نے اسے کمرے میں بھیج دیا تاکے گھر جانے کی تیاری کرے۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک دن کے حساب سے ایک ہی سوٹ رکھا اور تھوڑا بہت میک اپ رکھا اور ضروری سامان اس دوران زنیشہ اسکے کمرے میں بیٹھی رہی۔ ہاتھوں کو آپس میں مسلے وہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔ سمرین نے زنیشہ کو اسکے ساتھ بھیجا تھا تاکے مایل اپنی دوست کو اپنا کمرہ دیکھاۓ۔ مایل کا دل تو بہت چاہ رہا تھا اسے سنانے،، اسکی عزت افزئی کرنے کا لیکن وہ اس سے مخاطب تک نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
” مایل۔۔۔۔۔۔ ” جب وہ اپنا بیگ لیکر جانے لگی تو زنیشہ نے اسے مخاطب کیا۔۔۔۔۔
” کیا ہم دوبارہ پہلے کی طرح دوست نہیں بن سکتے؟؟؟ “
اس نے آس بھرے لہجے میں پوچھا مایل نے دانت پر دانت جمائے اپنے آنے والے شدید غصّے کو کنٹرول کیا۔ اسے زنیشہ کی معصومیت سے ایک چڑ ہونے لگی تھی۔۔ نفرت ہونے لگی تھی۔۔۔
اسے وہ پوری ایک ” دھوکہ ” ایک ” فریب ” لگتی ہے۔۔۔۔۔
” نہیں!!!! تم دوستی نبھانے کیا؟؟؟ دوست بنانے لائق
نہیں ” انکھوں میں نفرت لئے وہ اسکے روبرو کھڑی اس سے کہ رہی تھی۔ پھر وہ رکی نہیں نیچے چلی آئی سمرین اور زریق سے ملکر وہ سیدھا جاکر کار میں بیٹھ گئی آگے آریز اور المیر بیٹھے تھے پیچھے مایل بیٹھ گئی ایک دو منٹ بعد زنیشہ بھی آگئی۔ وہ اسکے ساتھ پیچھے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
۔……………………………..
زاکون حیدر بستر پر لیٹا وہی مومنہ کی تصویر دیکھ رہا تھا جو اس نے دیوار پر آٹیچ کروائی تھی۔۔۔ سب اس سے اسکی حالت بار بار پوچھ چکے تھے مگر اسکے ہونٹ تو جیسے اس لڑکی نے ہمیشہ کے لئے سی لئے تھے اسے بولنے لائق نہیں چھوڑا تھا۔۔۔
ہاں مومنہ وہی مومنہ ٹرینی فارمیسسٹ جس نے پہلی بار اسے ایک ” ایمرجنسی آیٹم دینے سے منع کیا تھا اپنی بیوقوفی میں یہ جانتے ہوئے کے ” سی سی یو ” میں چاہیے۔ وہی مومنہ جس نے ایک ایکسپائری انجیکشن دیا تھا بغیر پڑھے اور زاکون نے اسکی کمپلین کی تھی۔۔۔۔
اسے لاپروائی سے شدید نفرت ہے وہ پہلے ہی شکایت کردیتا مگر ناجانی کیوں اس لڑکی کا نام ” مومنہ ” سن کر وہ چُپ ہوگیا کچھ کہ ہی نہ سگا۔۔۔
اسے نہیں پتا تھا وہ اسکی شکایت پر زاکون سے ایسے بدلہ لے گی۔ پہلے ہی وہ اسے خوب سنا چکی تھی بےشک مومنہ کے لفظ اس پر بےاثر تھے کیوں کے وہ نفس کا غلام نہیں نہ وہ لڑکی اسکے لئے اتنی اہم ہے کے وہ اسے اپنے کردار کی صفائیاں دیتا رہے۔۔۔۔۔۔
جسکے سامنے وہ اپنا کردار بلند کرنا چاہتا ہے وہ تو نجانے کہاں ہے؟؟؟ ہے بھی یا نہیں۔۔۔۔
ایک بار پھر اسکی نظر مومنہ کی تصویر پر اٹک گئی جتنا دیکھ لے اسکا دل نہیں بھرتا خوائش ہے کے اور بڑھتی جاتی ہے کے وہ اسے بس روبرو دیکھے۔۔۔۔۔۔۔۔
زاکون نے آنکھیں بند کیں تو بند آنکھوں کے پیچھے وہی لڑکی نظر آئی جس نے زاکون کو حیدر مرتضیٰ سے ذلیل کروایا۔۔۔۔۔
وہ اس دن اپنے نرسنگ اسکرب میں ملبوس تھا۔ اسکی مارننگ ڈیوٹی تھی وہ بس گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کے اسکا دوست حاشر اپنی بائیک کی چابی لیکر بھاگتا ہوا اس تک آیا تھا۔۔۔۔
” ابھے زکی ہارون میری بائیک غلط جگہ پارک کر کے آیا ہے اس سے پہلے کے کوئی اٹھا لے تو پلیز لے آ تیرا تو اوف ہوگیا۔۔۔۔۔ ” زاکون اسی دوست کی بائیک ہٹانے آیا تھا جو شاید مومنہ کی اسکوٹی کے پاس پارک تھی۔ مومنہ کی بھی اس دن مارننگ تھی وہ اپنی اسکوٹی کے پاس آئی تھی کے اسے وہاں زاکون حیدر نظر آیا جو اسکی اسکوٹی سائیڈ کر رہا تھا۔ زاکون کی اس حرکت پر تو مومنہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔۔۔۔
” یہ اسکوٹی میری ہے آپ کی ہمت کیسے ہوئی اسے ہٹانے کی؟؟؟ ” وہ تو گویا اسے دیکھتے ہی بھڑک اٹھی۔۔۔۔۔۔
” ہٹایا نہیں بس سائیڈ کی “
” ایک تو چوری اوپر سے جھوٹ؟؟؟ ” وہ اسکی بات سن کر ابرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا جیسے پوچھ رہا ہو ” میں تمہیں کس اینگل سے چور دیکھتا ہوں؟؟؟ “
” آپ غلط سمجھ۔۔۔۔۔۔” زاکون نے اسے سمجھانے کے لئے لب کھولے تھے کے وہ کسی طوطے کی طرح اپنی چونچ آگے کر کے فر فر بولنے لگی۔۔ ” وہ دو قدم آگے آکر لڑاکوں عورت کی طرح لڑنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی اور بولنے پر آئی تو نون اسٹوپ بولتی رہی۔۔۔۔۔
” سمجھی تو میں اب ہوں آپ کو!!! چھوٹی چھوٹی میری غلطیاں نظرانداز کر کے بڑی غلطی پر کیسے بم پھوڑا جان چکی ہوں “
” آپ پرسنل اور پروفیشنل لائف کو الگ رکھیں ” وہ بامشکل غصّہ ضبط کر رہا تھا اس لڑکی نے بدلہ لیا تو تھا اسے ٹھرکی ” کہ کر۔۔۔۔
” پرسنل پروفیشن کیا میں آپ کو آج دنیا میں ہی جنت کی سیر کراؤں گی!!!!! مجھ سے پناہ مانگیں گئے آپ ” وہ آنکھیں سیکوڑ کر اسے دیکھنے لگا جیسے اسکے اگلے قدم کا انتظار کر رہا ہو تبھی ایک حوالدار مومنہ کی تیز آواز سن کر انکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔
” آپ دونوں نے غلط پارک کی ہے فائن بھریں ورنہ ” حوالدار کو تو موقع مل گیا جس اسکوٹی پر مومنہ کا ہاتھ تھا اور جس بائیک پر زاکون کا ہاتھ تھا دونوں غلط جگہ پارک ہوئیں تھیں انھیں دیکھ کر اسنے کہا۔۔۔۔۔۔
” میں پارک کرنے نہیں آئی تھی یہ بدتمیزی کر رہا ہے۔۔۔۔ چھیڑ رہا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔ ” مومنہ کی گویا ٹون ہی بدل گئی۔ زاکون حیدر نے سر سے پیڑ تک اسے دیکھا اسکا معصومانہ انداز، دھیمی آواز یہ نظارے آج پہلی بار وہ دیکھ سن رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” یہ آدمی؟؟؟؟؟ حوالدار نے زاکون کا جائزہ لیا جو بازو فولڈ کیے خاموشی سے کھڑا تھا جیسے اسے یہ سب کوئی ڈرامہ لگ رہا ہو مگر حوالدار کو وہ کوئی اچھے گھر کا ہی لگا تھا۔۔۔۔۔
” لگ تو نہیں رہا “
” اسکی معصوم شکل پر نہ جائیں یہ آپ کو آتے دیکھ مجھے دھمکی دے رہا تھا کے یہ لنگور میرا کیا بیگاڑے ۔ گا؟؟؟؟؟ ” حوالدار نے لنگور سنتے ہی اسکا کالر جکڑا زاکون کا قد اچھا خاصا لمبا تھا حوالدار مشکل سے اسکا کالر پکڑ پایا تھا جو کے چھوٹے قد ہونے کی وجہ سے اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔ مومنہ نے ہونٹ دبا کر ہنسی روکی۔۔حوالدار نے خوفناک طریقے سے کھنکھارا۔۔۔۔
” آپ دونوں کی نو پارکنگ ہے فائن بھریں؟؟ ” جوالدار نے اب کی بار سرد لہجے میں کہا مومنہ تو ہر گز فائن بھرنے والی نہ تھی الٹا اس نے رونا شروع کردیا۔۔۔۔۔۔۔
” یہاں یہ مجھ سے بدتمیزی کر رہا تھا آپ کو فائن کی پڑی ہے؟؟؟؟ اسکی دلائی نہیں کر رہے ٹھیک ہے کم سے کم آٹھ مہینے جیل میں رکھیں میری ٹریننگ تو پوری ہوجاے۔۔۔ مومنہ نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا اب کے پولیس انسپیکٹر بھی مومنہ کی طرف متوجہ ہو کر وہاں آگیا اور جیسے ہی اسے سارا معاملہ پتا لگا اُس نے زاکون کو اریسٹ کر لیا۔۔۔۔۔
بات اتنی بڑی نہ تھی پر اس وقت مومنہ کو صرف اپنا مہینہ یاد آرہا تھا جو میڈم نے زاکون کی وجہ سے اس کا بڑھایا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ انتقامی کاروائی پر اتر آئی یہ سوچے بغیر کے زاكون پر کونسے پھاڑ ٹوٹیں گئے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” کیسی ہو؟؟؟ ” وہ اس حشت زدہ ماحول سے نکل کر کار سے باہر آگئی تھی آریز بھی اسکے ساتھ چلتا اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔زنیشہ اور المیر پیچھے ہی تھے۔۔۔۔۔۔
” ٹھیک ہوں!!! آپ کیسے ہیں؟؟؟ “
” تمہیں ٹھیک دیکھ کر ٹھیک ہوں ” وہ اسے دیکھ مسکرایا مایل بھی مسکرادی۔۔۔۔المیر زنیشہ گھر کے اندر چلے گئے پہلے زنیشہ سر جھکائے اندر چلی گئی پیچھے المیر بھی۔۔۔۔
” ویسے اب تمہارا دل تیز نہیں دھڑکتا خوف نہیں آتا؟؟؟؟؟؟؟ ” وہ اسے چھیڑتا مسکراہٹ دبا گیا مایل نے اسے آنکھیں دیکھائیں۔۔۔۔
” نہیں اب میں بچی نہیں نہ بیوقوف ہوں،، نہ سوچتی ہوں نہ ٹینشن لیتی ہوں ” وہ ایک ادا سے اترا کر بولی آریز کو ایسا لگ رہا تھا اسکی آنکھیں ہلکی سی نم ہو رہی ہیں۔۔۔۔
” سن کر اچھا لگا تم اب خود کے بارے میں خود فیصلے لینے لگی ہو “
” وقت سب سیکھا دیتا ہے ” وہ زخمی انداز میں مسکرا دی۔ آریز نے مزید کچھ نہ کہا وہ آگے نکل گیا مایل اسکے پیچھے پیچھے چل دی۔۔۔۔۔۔
صالحہ شگفتہ سب اسے محبت سے ملیں صالحہ اسکی خوب تعریف کر رہی تھی وہ تیار بھی تو ایسی ہوئی تھی بلیک پلازو پر لونگ شرٹ پہنی تھی جس پر ہلکا تھریڈ ورک ہوا تھا۔۔ کانوں میں سونے کی جمکیاں پہنی تھیں ہاتھوں میں سونے کے کنگن اور ہونٹوں پر ہلکی گلابی لپسٹک لگائی تھی۔۔۔۔۔
نجمہ تو کئی پل اسے سینے سے لگا کر بیٹھ گئیں وہ جو سوچ رہی تھی مڑ کر یہاں کبھی نہیں آئیگی اب خود کی سوچ پر افسوس کر رہی تھی اتنی محبتوں کو صرف ایک شخص کی وجہ سے وہ گنواہ دے؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ یہاں آکر سکون سے شام تک سوئی تھی اپنی نیند پوری کرکے وہ اٹھی تو مغرب کی اذانیں ہو رہیں تھیں اسکا دل چائے پینے کو چاہ رہا تھا وہ یہ سوچ کر اٹھی کے اپنے لئے چائے بنائے گی۔ پیڑوں میں چپل پہن کر اسنے بیڈ سے دوپٹا اٹھا کر اپنے گرد لاپیٹا اور کمرے سے باہر نکل آئی وہ کچھ قدم چلتی سیڑیوں کے پاس آکر نیچے کی طرف قدم بڑھانے لگی لیکن زنیشہ کے لفظوں نے اسکے پاؤں جکڑ لیے۔۔۔۔۔۔
” مایل کو لگتا ہے میں نے آپ کو اس سے چھینا ہے ” اسکے لہجے میں اداسی تھی دونوں اس وقت سڑیوں کے اُس طرف بنی بڑی کھڑکی کے پاس کھڑے تھے جہاں حسین چاند کی روشنی زنیشہ کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔۔۔ جو اسکے خوبصورت چہرے کو مزید نکھار رہی تھی۔۔۔
” وہ نادان ہے ” المیر اسکی غلط فہمی دور کر رہا تھا مگر زنیشہ مرد کو قابو کرنا جانتی تھی۔
” وہ نادان نہیں چالاک ہے ہوشیار ہے معصوم بنے کا ناٹک کرتی ہے سامنے کچھ اور پیچھے کچھ اور ” وہ المیر کے سینے پر سر رکھے اسکی دل کی جگہ پر ہاتھ پھیڑتے نہایت دھیمے لہجے میں کہ رہی تھی۔ ایک تو اسکے کھلے سلکی بال دوسرا اسکا نہایت دھیما لہجہ،، اسکی معصوم صورت المیر کا دماغ مفلوج ہو کر رہ گیا اس عورت کے آگے۔۔۔۔۔۔۔
” ایسا نہیں ” المیر نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے کہا۔ وہ اسے یقین دلا رہا تھا مگر زنیشہ۔۔۔۔۔۔۔
” ایسا ہی ہے اسے ہر وقت کوئی نہ کوئی سہارا چاہیے ہوتا ہے یونیورسٹی میں گھر میں بھی ” اس نے چہرہ اونچا کر کے دیکھا المیر کے چہرے کے تااثرات سخت نہیں تھے زنیشہ کو تھوڑی تسلی ہوئی۔ وہ پھر سے اسکے سینے پر سر رکھے سکون محسوس کرنے لگی۔۔۔۔۔
” ورنہ وہ آپکو اتنا پسند کرتی ہے تو شادی کے لئے فوراً مان کیسے گئی؟؟؟ کیوں کے آپ نے اسے چھوڑدیا۔۔۔اسکے پاس دوسرا کوئی آپشن نہ تھا ” مایل کو یقین نہیں آرہا تھا زنیشہ اسکی دوست ہے اسکی اس گندی سوچ پر مایل کو اپنا دل چیڑتا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ کتنی معصوم کتنی ڈرپوک تھی اسکا ڈر معصومیت صرف دنیا کے سامنے ہے؟؟؟ یا تک تب ہے جب تک لوگ اسکے لئے بےمقصد نہ ہوجائیں جیسے وہ ہوگئی تھی۔۔۔ نجانے اسنے المیر کی کیا کیا برین واشنگ کی ہے اسکے کردار کی کتنی دفع دھجیاں اڑاہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
مایل کو یہاں مزید کھڑے رہنا مشکل لگا۔ زندگی میں دو ہی تو ایسے رشتے تھے جو اس نے خود بناۓ تھے اور اسے عزیز تھے آج انہی رشتوں نے اسے توڑ کر رکھ دیا۔ اسکا تماشا بنایا،،، اسے گندا کردیا اسکے کردار کو خراب کردیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں آکر بیڈ پر اوندھے منہ ڈھے گئی اسکا جسم کمزور ہوچکا تھا ایسا لگ رہا تھا جسم سے جان نکل چکی ہے۔ وہ ہلکی ہلکی سسکیاں لیتی ایسے ہی لیٹی رہی پھر جب یکدم ہوش آیا رات کے دس بج رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی ماں شاید اسے اٹھانے آئی ہوگی مگر اسے سوتا دیکھ واپس لوٹ گئی ہوگی اسے یہاں ایک منٹ نہیں رکنا تھا اس نے اٹھتے ساتھ پہلا فون زریق کو ملایا اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب زریق نے رنگ جانے سے پہلے ہی کال پک کرلی۔۔۔۔
” کیا آپ مجھے لینے آسکتے ہیں؟؟؟ ” انکھوں کو سختی سے بند کرتے مایل نے کہا۔۔۔ اسے شرمندگی ہو رہی تھی
وہ اسے کہ آئی تھی ایک رات رکے گی مگر پھر زریق کو کال کر کے بلا رہی تھی۔۔۔۔۔
” دس منٹ میں آرہا ہوں ” وہ تیزی سے اٹھی اپنے ساتھ جو ایک سوٹ لائی تھی اسے پہن کر تیار ہوئی ہاتھ منہ دھو کر وہ فریش ہوکر نیچے آئی تقریباً بیس منٹ اسے لگے تھے۔۔۔۔۔ وہ جب نیچے آئی اسکی نظر آتے ساتھ ہی زریق پر پڑی یقیناً اسنے سب کو بتایا ہوگیا کے مایل نے اسے کال کر کے بلایا ہے۔۔۔۔ اب اپنی جلد بازی پر اسے سخت پچھتاوا تھا پر اب کیا ہو سکتا تھا؟؟؟؟
” مایل بچے کھانا کھا کر نکلو ایسے نہیں!!! زریق تو کہ رہا ہے کھا کر آیا ہے مگر ایسے نہیں جانے دیں گئے دو نوالے ہمارے ساتھ بھی لو ” حیدر مرتضیٰ نے باقاعدہ کھرے ہوکر زریق کے کرسی سے اٹھنے کا انتظار کیا ناچارہ زریق کو کھانا میں ساتھ دینا پڑا۔۔۔۔
پھر کھانے کے بعد وہ سب سے ملکر زریق کے ہمراہ سکندر ولا سے باہر نکل آئی۔ وہ ہچکچا رہی تھی اسے پوچھنا تھا ان سب کو زریق نے کیا کہا؟؟ مگر کہیں زریق دل میں کوئی غلط فہمی نہ پال لے بس اسکا ڈر تھا۔۔۔۔۔۔
” آپ نے سب کو کیا بتایا مجھے لینے کیوں آئے آپ؟؟؟ “
” کچھ نہیں!!!! بس انہوں نے کہا اس وقت؟؟ میرا جواب تھا!!! مایل کے بغیر امی کا دل نہیں لگ رہا۔۔۔۔۔ ” زریق نے صاف گوئی سے کہا مایل سوچ میں پڑ گئی جھوٹ بھی کتنی آسانی سے بول لیتا ہے۔۔۔۔۔
” المیر اور تمہاری باتیں کر رہے تھے سب۔۔۔۔۔ ” مایل کا سانس اٹک گیا اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا چہرہ نارمل تھا کسی بھی تاثرات سے عاری۔۔۔۔۔مایل کو مزید خوف نے جکڑ لیا پیشانی پر پسینے کی ننی بوندیں نمودار ہوئیں۔۔۔۔
” ک۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔کہ۔۔۔۔ ر۔۔۔۔ رہ۔۔۔۔ تھے۔۔۔؟؟؟ ” آواز ہلق میں اٹک رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” تمہیں پڑھایا، کئیر کی، بڑا کیا، تم اسے عزیز ہو آل ڈیٹ!!! ” وہ کتنی آسانی سے سب کہ گیا تھا کیا اسے فرق نہیں پڑا تھا؟؟ یا انجان بن رہا تھا؟؟؟ یا مایل کو سزا دے رہا تھا؟؟؟
کیا آگے بھی زندگی اسکے لئے مشکل ہے؟؟؟؟؟؟
پورے راستے پھر اس نے کوئی بات نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آکر مایل ڈریسنگ کے آگے بیٹھ کر جیولری اتارنے لگی جب کے زریق ٹائپنگ میں لگا تھا جب وہ چینج کر کے باہر آئی وہ لائٹس اوف کر چکا تھا مایل خاموشی سے اپنی جگہ پر آکر لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔
” احساس کیا ہے ؟؟؟ ” وہ ڈر ہی تو گئی تھی جب خاموش کمرے میں اس شخص کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔
مایل کو یہ سوال بےحد مشکل لگ رہ تھا۔۔ اتنا ہی اس کی سمجھ سے باہر جتنا یہ شخص۔۔۔۔۔۔
وہ خاموش رہی۔۔۔۔۔
” اگر بےحس ہو لیکن احساس رکھتا ہو!!!! کیا پھر بھی وہ جانور ہے ؟؟ ” پھر سے یہ آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی مایل نے خشک لبوں پر زبان پھیڑی ایک تو اتنا ٹھنڈا کمرہ فل ای سی چلائی ہوئی تھی اوپر سے ایسے سوال۔۔۔۔۔۔
اتنا مشکل سوال ہے ؟؟؟ “
” نہیں!!!! احساس ہر جاندار کو ہوتا ہے جس کے پاس دل ہے۔۔۔۔ ” مزید سوالوں سے بچنے کے لئے مایل نے جان چھرائی جب سے یہ شحص اسکی زندگی معن آیا تھا ایک بار پھر اسکا دل ویسے ہی تیز دھڑکنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔
” میرے پاس ہے پھر محروم کیوں ہوں؟؟ ” وہ اس سے پوچھ رہا تھا جب کے مایل اسکی باتیں سن کر حیرت زدہ رہ گئی کیا وہ شخص اسے آزما رہا تھا؟؟ یا اسکی زندگی سے کھیل رہا تھا دنیا کا کوئی شخص بیوی سے ایسے سوال کر کے اسے ڈارتا نہیں۔۔
” میں سمجھی نہیں۔۔۔۔۔۔ ” اسنے کپکپاتے لبوں سے کہا۔۔۔
” سوجاؤ ۔۔۔۔۔ ” بھاری آواز اسکی سماعتوں ٹکرائی۔ پھر کافی دیر گزر گئی زریق نے کچھ نہ پوچھا مایل اٹھ کر دبے پاؤں کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔۔
ٹھنڈ سے اسکی حالت برُی ہو رہی تھی۔۔۔۔
” بیٹا تم یہاں ” اسے اکیلا بیٹھا دیکھ سمرین نے پوچھا۔ وہ ثمروز صاحب کے لئے ای نو لینے آئیں تھیں کچن سے انھیں ایسیڈٹی ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ بہت سردی لگ رہی ہے ” مایل نے جھجکتے ہوئے کہا۔۔۔
” کولنگ کم کردو یا اوف کردو ” انہوں نے جیسے مسلے کا ہل بتایا۔۔۔۔۔۔
” وہ سو رہے ہیں۔۔۔ ” مایل کے اندز پر سمرین کو ہنسی آگئی وہ شرمائی سی ہاتھ آپس میں مسلتے کنفیوز ہو رہی تھی شوہر کے بارے میں کچھ کہتے۔۔۔۔۔۔سمرین نے اسکا گال تھپکا۔۔۔۔
” تم بند بھی کروگی اسے فرق نہیں پڑیگا آزما کر دیکھو اگر کچھ کہے میرا نام لینا۔۔۔ اب چلو شاباش کمرے میں جائو اس وقت خوبصورت نئی نویلی دلہن باہر لون میں بیٹھے گی تو جن عاشق ہوگا۔۔۔۔ ” سمرین کی جن والی بات سے وہ جھٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور تیزی سے جاکر کمرے میں بند ہوگی پیچھے سمرین کا قہقہ گونجا۔۔۔ بس بیٹی سے محروم تھیں اب وہ کمی بھی پوری ہوگئی سمرین ہنستے ہوئے سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔
مایل نے انکے کہے پر عمل کیا تو وہ حیران رہ گئی بند ای سی کے باوجود وہ ایک پل کو نہ اٹھا۔ اُسے تو بلکے محسوس تک نہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو اس انوکھی زندگی اس اجنبی رشتے کی فلم کا بس ایک ٹریلر تھا جیسے ہی زندگی معمول پر آئی اسے اندازہ ہوا کے وہ شخص کوئی اور ہی مخلوق ہے۔۔۔۔۔
وہ ناشتہ بنا رہی تھی انڈے گرم پانی میں بوائل ہو رہے تھے زریق اٹھتے ساتھ دو انڈے کھاتا تھا مایل نے اسے کے لئے ہی بوائل کرنے کے لئے رکھے تھے اور خود چائے دیکھنے لگی۔۔۔۔
جب دس منٹ گزر گئے زریق نے کچن میں آکر خود انڈے لئے ایسے کے مایل کا سر چکرانے لگا۔۔۔ وہ اُس وقت چائے کپوں میں ڈال رہی تھی زریق نے اپنا ہاتھ اُبلتے پانی میں ڈال کر بوائل انڈے نکالے اس کا چہرہ بالکل نارمل تھا اس کے چہرے پر نہ تکلیف کے تاثرات تھے نہ درد کے ایسا لگ رہا تھا یہ اس کا روز کا معمول ہے۔۔۔۔۔
پر مایل کو شدید دھچکا لگا تھا اس کی تو زندگی ہی الٹ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔۔
دھیرے دھیرے زریق کی زندگی کی بند کتاب کھلتی چلی گئی جو مایل کے لئے صدمے سے کم نہ تھی۔ مایل نے ایک دن نوٹس کیا زریق کے پیڑ کی درمیانی انگلی کٹی ہوئی تھی ساکس بھی اسکے خود کے بنوائے ہوے تھے جس میں درمیانی انگلی ڈالنے والی جگہ سلائی سے بند کی گئی تھی۔۔۔۔۔
دن با دن وہ اس شخص سے خوف کھاتی جا رہی تھی وہ اس کی موجودگی میں ڈرنے لگی تھی۔۔ نجانے وہ کیا تھا؟؟ جسے نہ پسینہ آتا تھا نہ گرمی لگتی تھی نہ سردی۔۔۔ وہ اسکی آہٹ سن کر خوفزدہ ہوجاتی تھی اور اسکا دل تو تب بند ہوا جب اسے معلوم ہوا وہ پریگننٹ ہے،،، وہ اُسکے بچے کی ماں بنے والی ہے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
