Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 11
Rate this Novel
Episode 11
” مایل۔۔۔۔ ” نجمہ نے اسکے بال سہلاتے اسے پکارا وہ جو آنکھیں موندے ہوئے لیٹی تھی ماں کے لمس سے اپنی آنکھیں کھولیں۔ کچھ دیر پہلے ہی المیر اسے اسکے کمرے میں چھوڑ کر گیا تھا تب سے نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔۔۔
” وہ کون ہوتا ہے میرا ہاتھ پکڑ کے لے جانے والا؟؟ میری زبردستی شادی کرانے والا؟؟؟ امی سچ تو یہ ہے آپ نے مومنہ آپی کو بھی اکیلا چھوڑ دیا تھا مجھے بھی۔۔۔ المیر کون ہے مجھ پر رُعب جمانے والا؟؟؟ آپ نے انہیں نہیں روکا آپ کو تو ان پر ہاتھ اٹھانا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ ” وہ اس وقت نکاح کے کپڑوں میں ملبوس اوندھے منہ بیڈ پر لیٹی تھی بال بیڈ پر بکھرے ہوئے تھے رونے کی وجہ سے مٹا مٹا سا میک اپ چہرے پر پھیل چکا تھا وہ اپنی ماں کے سامنے اپنی بےبسی پر رو رہی تھی جب کے بیٹی کو روتا دیکھ انکا دل بھی دکھ رہا تھا پر انکے مطابق المیر سہی تھا۔۔۔۔۔
آج مایل کا نام سہی انسان کے ساتھ جُر تو چکا تھا ورنہ انکی بیٹی شاید ساری زندگی اُس شخص کی محبت کا ماتم کرتی۔ اپنی ہی سہیلی کے ساتھ وہ اپنی محبت کو دیکھ کر پاگل ہوجاتی۔ نکاح اب ہوا ہے تو مایل کے دل میں زریق کے لئے کوئی تو نیا جذبہ بیدار ہوگا المیر سے ہٹ کر وہ اب کچھ تو اور سوچے گی۔۔۔۔۔۔۔
” اسنے جو کیا سہی کیا۔۔۔۔ طریقہ غلط تھا مقصد سہی تھا ” مایل کو افسوس ہوا اسکی ماں کبھی اسے سمجھ نہیں سگیں گی اسکا دل چاہ رہا تھا سب سے دور کہیں ایسی جگہ چلی جائے جہاں سکندر ولا کا کوئی فریقین نہ ہو۔۔۔کاش اپنی بہن یا ابو کے پاس ہی چلی جائے۔۔۔۔۔
” میں ایک دفع گئی کبھی واپس نہیں آؤں گی ” گلے میں گلٹی سی ابھری اسے رونا آرہا تھا شدید رونا،،، اپنی قسمت پر،،، اپنی یقتیمی پر اور سب سے زیادہ اپنی بےبسی پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفرت کا ایک لاوا تھا جو المیر کے لیے اسکے دل میں تھا۔ اسے حیرانگی ہو رہی تھی وہ المیر سے اس قدر نفرت کرنے لگی راتوں رات۔۔۔۔ آج اسکی حرکت پر مایل کو اس قدر غصّہ آرہا تھا کے اسکے دل سے بددعا نکل رہی تھی۔۔۔۔۔
” وو روۓ تڑپے اُسکی عزیز ہستی اس سے چھین جائے،،، سکون کیا ہوتا ہے اسے پانے کے لئے المیر روتا پھیرے،،،، اے میرے اللّه کاش کاش ایسا ہوجاے اسکی ایک غلطی اسکے لئے زندگی بھر کا ناسور بن جائے۔۔۔۔
اس غلطی کا احساس اسے تب ہو جب آگے پیچھے بس دو راستے ہوں ایک پچھتاوا دوسرا موت۔۔۔۔
اُسے غلطی سدھارنے کا بھی موقع نہ ملے۔۔۔
اُسے احساس تب ہو جب اسکی عزیز ہستی اسکے ہاتھوں سے پوری طرح تباہ ہوجاے۔۔۔۔۔
چاہے وہ عزیز ہستی وہ خود ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
دل سے ڈھیروں بددعائیں نکل رہیں تھیں وہ اپنی بےبسی میں اپنے اندر کا لاوا نکال تو رہی تھی مگر اس بات سے انجان تھی کچھ وقت کی گھڑیاں قبولیت کی ہوتی ہیں جہاں پھر انسان بےبس ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچن میں آئی تو دیکھا نجمہ چچی سب کے لئے چائے چولے پر چڑھا چکی تھیں اور اب ناشتے کی تیاری کر رہیں تھیں۔وہ فریج کی طرف مُڑی اور وہاں سے بریڈ نکالنے لگی۔۔۔۔۔۔
” کیا چاہیے؟؟؟ ” نجمہ نے تھیکی نظروں سے اسے دیکھا بھلے وہ اب اس گھر کی فرد بن چکی تھی مگر اسکا اس طرح فریج کھولنا نجمہ کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ آئے دو دن نہیں ہوئے اور اتنی آزادی۔۔۔۔۔۔۔۔
” وہ۔۔۔۔۔۔۔ ک۔۔۔۔کہ۔۔۔۔رہے ہیں ایک سلائس بنا کر لے آؤ۔۔۔۔ ” انکے پوچھنے پر وہ فریج بند کر کے پیچھے مڑی انہیں جواب دینے کے لے پر نجمہ کے پوچھنے کے انداز سے وہ سہم ضرور گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
جھجھک و شرم تھی اسکے لہجے میں زنیشہ کی نظریں جھکی ہوئی تھی۔نجمہ اسے غور سے دیکھ رہی تھی گوری رنگت،، سلکی بال پیچھے کیچر میں مقید تھے۔ ہونٹوں پر گلابی لپسٹک لگائی تھی۔ ہاتھوں پر تیز لال رنگ کی مہندی لگی ہوئی تھی وہ کنفیوز سی ہاتھوں کو آپس میں مسل رہی تھی۔ جب اسکی خوبصورتی انہیں اتنی چُب رہی تھی تو المیر کتنا سرہاتا ہوگا اس خوبصورتی کو۔ بلاشبہ وہ تھی حسین۔۔۔۔۔۔۔
” آتے ساتھ ہی شوہر کا ناشتہ الگ کر دیا کل سے کھانا بھی پھر کمرے میں دو گی۔۔۔۔۔۔۔۔ ” انکے اتنے کٹھور سخت الفاظوں پر زنیشہ کانپ کر رہ گئی۔ وہ کہاں ایسے لب و لہجے جانتی تھی؟؟؟ انکے ایسے الفاظوں سے وہ پزل سی رہ گئی یہاں آنا اپنا سب سے بڑا گناہ لگا۔۔۔۔۔۔۔
” ارے تم یہاں تمہیں کہا ہے نہ میرے بچے ابھی کچن میں نہیں آنا ” صالحہ نے کچن میں آتے ہی زنیشہ کو دیکھتے پیار سے کہا انکے ہاتھوں میں ایک تھیلی تھی جس میں اندر دو درجن انڈے تھے۔۔۔۔۔
” صالحہ دیکھو ذرا اپنوں بہو کو ناشتہ کمرے میں لے جا رہی ہے بتاؤ ذرا دو دن نہیں ہوے آئے اور المیر کو ایسی عادتیں ڈال رہی ہے۔۔۔۔۔ ” نجمہ نے مسکراتے ہوئے کہا اس کی زبان کہاں رُکنے والی تھی؟؟؟؟ اسے صالحہ کا پیار زنیشہ کے لئے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا صالحہ پہلے تو یہ سن کر حیران ہوئی پھر مسکرا دی۔۔۔۔
” شادی کی بھاگ دور میں انہوں نے اپنی شادی تک کا کھانا نہیں کھایا کل بھی بیچاری سارا دن مایل کے نکاح کی آئو بھگت میں تھی۔۔۔ لگی ہوگی دونوں کو بھوک۔۔ چائے تو ہمارے ساتھ پیتے نہ؟؟؟؟ چلو بیٹا جاؤ المیر کو بلا لاؤ ہم ناشتہ لگا رہے ہیں ” صالحہ نے نجمہ کو کہتے آخر میں زنیشہ سے کہا زنیشہ کا اٹکا سانس بحال ہوا جبکے نجمہ کو اس وقت زنیشہ سے حد درجہ نفرت محسوس ہو رہی تھی۔زنیشہ تو حکم ملتے ہی وہاں سے بھاگ گئی مگر نجمہ کی تیز نظروں نے اسکا دور تک پیچھا کیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر میں بنی المیر کی لائبیرری میں آکر اپنا پڑھنے لگی۔ المیر کو کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا یہی شوق حیدر مرتضیٰ اور آریز کو بھی تھا پھر کیا تھا تینوں نے ملکر اسٹور روم میں کام کروا کر اپنے بڑی سے لائبرری کھول دی جہاں آتے زیادہ تر حیدر مرتضیٰ اور المیر تھے۔ اور جسے سکون چاہیے ہوتا ہے اپنا پڑھنا ہوتا وہ یہیں آتا تھا اے سی بھی یہاں کا سب سے تیز کام کرتا تھا کیوں کے جب المیر دن رات یہاں ہوتا تھا اے سی ایک سیکنڈ کو بند نہ ہوتا۔۔۔۔
وہ بھی گھر کے بھرے بھرے ماحول سے تنگ آکر یہاں آکر پڑھنے لگی۔ وہ کب سے اسٹیٹس کا ایک سوال ھل کرنے کی مکمل کوشش کر رہی تھی پر سوال ایسا تھا سمجھ سے باہر جو اس سے ھل ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔
تبھی المیر وہاں آیا اسے دیکھتے ہی وہ اسکے پاس آیا دور سے اسے اسٹیٹس کی بک دیکھ چکی تھی وہ جان چکا تھا جدوجہد کافی دیر سے ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ جس طرح یہ ھل کر رہی تھی وہ غلط طریقہ تھا اصلی میتڈ یہ نہیں تھا تبھی وہ کہے بینا رہ نہ سگا۔۔۔۔
” یہ ایسے حل نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ “
” سیکھ جاؤں گی ” اسکی موجودگی محسوس کر کے بھی وہ بیٹھی رہی وہ اسے امپورٹینس نہیں دینا چاہتی تھی مگر اسکے مخاطب کرنے پر مایل کی بس ہوگئی۔۔۔۔۔
” سیکھا دوں؟؟؟؟ ” وہ پوچھ رہا تھا مایل چیئر کھسکا کر اٹھ کھڑی ہوئی المیر کے دل کو کچھ ہوا پتا نہیں کبھی زندگی میں اسے اپنی پرانی مایل ملے گی یا نہیں؟؟؟؟
” اپنی بیوی کو سیکھائیں اسے زیادہ ضرورت ہے میرا شوہر ہے میں اُس سے سیکھ لونگی ” وہ اپنی کتابیں لیکر اسکی سائیڈ سے ہوتی باہر نکل گئی المیر اسکی پشت کو دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں کیوں وہ سمجھتی ہی نہیں اسے کیوں وہ اسکے دل میں جھانک کر نہیں دیکھتی؟؟؟؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر مرتضیٰ صبح سے پریشان تھے انکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کریں؟؟؟ ابھی ہی تو مایل کا نکاح ہوا تھا اور اب سمرین رخصتی کی ضد لگاۓ بیٹھیں تھیں۔۔۔۔۔۔
” بڑے ابو آپ کے نمبر پر پولیس کی کال آرہی ہے۔۔۔۔ ” آبی ان کا فون لئے بھاگتا ہوا ان تک آیا حیدر جو پہلے ہی مایل کی وجہ سے پریشان تھے یہ خبر سن کر حیران رہ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا کہ رہے ہو؟؟ ” انہوں نے کہتے ساتھ آبی کے ہاتھ سے فون لیا۔۔۔۔۔۔سب وہیں حال میں تھے صالحہ، شگفتہ اور نجمہ باقی المیر اور آریز آفس میں تھے صرف شاذ ہی یہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔
شگفتہ اپنے شوہر کے بدلتے تااثرات دیکھ ڈر گیں نجانے فون کے اس پار کیا کہا گیا تھا کے ان کے چہرے پر سختی در آئی۔۔۔۔۔۔
” شاز میرے ساتھ آؤ ” سختی سے کہتے وہ کسی طوفان کی طرح اٹھے تھے اور شاز کو اپنے پیچھے آنے کو کہا شاذ انکی دھار سن کر ہی اچھل کر اٹھا تھا۔۔۔
شاز ڈرائیونگ کرتے دوران اپنے تایا کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو سخت تھا نجانے آج کس کی شامت آنے والی تھی پتا نہیں کیوں اسے تایا ابو نے پولیس اسٹیشن چلنے کا کہا تھا۔۔۔۔۔۔
پولیس اسٹیشن کے آتے ہی اسکے تایا کسی طوفان کی طرح کار سے نکلے تھے کار کا دروازہ اتنی زور سے بند کیا کے شاز بھی ایک لمحے کو ڈر گیا۔۔۔۔۔۔
وہ کار پارک کر کے بھاگتا ہوا انکے پیچھے گیا تھا اندر کا منظر دل ہلا دینے والا تھا حیدر مرتضیٰ ارد گرد پولیس آفیسرز کا لحاظ کیے بغیر زاکون پر تھپڑوں کی بارش کر رہے تھے وہ ابھی ایک وار سے نہیں سنبھلتا کے حیدر مرتضیٰ الٹے ہاتھ سے دوسرے گال پر تھپڑ مارتے وہ ویسے ہی نڈھال ہو رہا تھا شاید پولیس آفسرز نے بھی اسے خوب مارا ہے۔ منہ اور ناک سے خون نکل رہا تھا آنکھیں آدھی کھلی ہوئی تھیں وہ نیند سے بےحال لگ رہا تھا۔۔شاذ بھاگتا ہوا بیچ میں آیا زاکون کو اپنے پیچھے کر کے وہ خود دیوار بن کر آگے کھڑا ہوگیا۔۔۔
” پلیز تایا ابو بھائی کی حالت دیکھیں وہ ویسے ہی بےہوش ہی رہے ہیں ” وہ بےبسی سے بولا اسکا دل دکھ رہا تھا اپنے بڑے بھائی کی ایسی حالت دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔
” آج میں اسکی جان لے لونگا پوچھو بے غیرت انسان سے اس عمر میں میری عزت کا جنازہ نکال رہا ہے؟؟ شرم نہیں آتی اسے؟ ایک کو قبر میں اتار دیا اب دوسری کی عزت لوٹنے چلا تھا؟ شادی کرنی تھی تو شرم کس بات کی ہے جیسے پہلے انکار کرنے کے لئے منہ اٹھا کر آیا تھا اب بھی آجاتا کہ دیتا اس لڑکی کے ساتھ منہ کالا کیا ہے شادی کروا دیں۔۔۔۔ ” حیدر مرتضیٰ چیخ رہے تھے شاذ کنگ رہ گیا وہ اپنے بھائی کو جانتا ہے وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے اُسے یقین تھا کسی نے ان پر جھوٹا الزام لگایا ہے۔ بے شک وہ اس شخص کا بھائی ہے جسے شاز نفرت کرتا ہے مگر زاکون ہے تو انکے خاندان کی پہلی اولاد نہ اسکا سب سے بڑا بھائی جو ہر کسی پر جان لوٹاتا ہے۔۔۔۔
” ہٹو سامنے سے۔۔۔۔ ” حیدر مرتضیٰ دھارے۔۔۔
” تایا ابو خیال کریں ہم پولیس اسٹیشن میں ہیں کوئی ویڈیو نہ بنا لے پلیز۔۔۔۔۔ ” شاز نے التجا کی حیدر اسے سخت نظروں سے گھورتے اب انسپیکٹر کے پاس گئے جو کب سے تماشا دیکھ رہے تھے وہاں کا ہر فرد انجوائے کر رہا تھا۔ آخر باپ ہی تھا سدھار رہا تھا کوئی ” اجنبی ” نہ تھا۔۔۔۔
شاذ اپنے بھائی کو سہارا دیکر پولیس اسٹیشن سے باہر لے گیا حیدر مرتضیٰ کے اشارے پر جو وکیل کے ساتھ ملکر زاکون حیدر کی بیل کروا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
شاز نے سنبھال کر زاکون کو پچھلی سیٹ پر بٹھایا پتا نہیں کیا ہوا تھا وہ اسکے بال سہی کرتے سوچ رہا تھا زاکون اس وقت بےہوشی کی حالت میں تھا چل رہا تھا لیکن دماغ سو رہا تھا آنکھیں آدھی بند تھیں آدھی کھلی پتا نہیں اس نے نشہ تو نہیں کیا؟؟؟ نہیں نہیں اسکا بھائی ہر گز نشہ نہیں کر سکتا جب اپنے سب سے بڑے دکھ پر نہیں کیا تو اب کیوں؟؟؟؟؟
حیدر مرتضیٰ یکدم سے خاموش ہوگے تھے وہ آگے آکر بیٹھے تو شاز نے کار زن سے آگے بھگائی اور آدھے گھنٹے بعد وہ سکندر ولا کی گیٹ پر تھے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاکون کی ایسی حالت دیکھ کر شگفتہ نے دل پکڑ لیا۔۔
” کیا ہوا زکی کو ” شاز خاموش تھا اسے خود کچھ معلوم نہیں تھا جبکے شگفتہ اسے جھنجھوڑ کر پوچھ رہیں تھیں۔۔۔۔
” عزت لوٹنے چلا تھا اب خود لُٹ کر آیا ہے۔۔۔ اچھا ہے مر ہی جاتا ” نفرت و حقارت سے کہتے حیدر وہاں سے چلے گئے۔۔ شگفتہ اس کٹھور شخص کو دیکھتی رہ گئیں جبکے نجمہ کچن کی طرف چلی گئی۔۔۔
” پتا نہیں تائی امی۔۔۔ پہلے بینڈیج کریں بھائی کی ” نجمہ پانی گرم کر کے جلدی سے لے آئیں شگفتہ خود روتے ہوے بیٹے کا خون کوٹن سے صاف کرنے لگیں جو حال میں ہی ٹیبل کی دراز میں رکھی تھی۔ انکا دل بیٹھا جا رہا تھا زاکون آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا جس میں کامیاب نہیں ہو رہا تھا۔ نجمہ کو زاکون بےحد عزیز ہے تبھی وہ بھی بھاگ بھاگ کر اسکے کام کر رہیں تھیں ہمیشہ انہیں زاکون کو دیکھ کر اپنی بیٹی نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
صالحہ مغرب کی نماز پڑھ رہی تھیں شاذ ان سے دوائی لے آیا زاكون کی بینڈیج کے دوران المیر بھی آگیا شاز نے المیر کی مدد سے زاکون کو کمرے تک چھوڑا۔ المیر بھی پوچھتا رہ گیا لیکن کسی کو معلوم کیا تھا جو بتاتا۔۔۔۔۔
” کیا کردیا ہے خود کے ساتھ زکی!!!! ” شگفتہ اسکا ماتھا چومتی رو رہیں تھیں زکی انکی پہلی اولاد ہے جو انہیں بےحد عزیز ہے۔ وہ ہمیشہ سے انکا فرمانبردار بیٹا رہا ہے کبھی اسنے نہ باپ سے اونچی آواز میں بات کی تھی نہ کبھی اپنی ماں سے،،، بس وہ وقت کی گھڑی تھی جب پہلی دفع اسنے ماں باپ کا کہا مانے سے انکار کیا جسکی سزا آج تک وہ خود کو خود دے رہا ہے۔۔۔
پوری رات وہ اپنے بیٹے پر دعائیں پڑھتی رہیں اسکا سر دباتی رہیں۔ زاکون بھی ماں کی آغوش میں بےحد پرسکون نیند سوگیا رات گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔۔۔۔۔
” زکی کل کیا ہوا تھا؟؟؟ ” صبح اٹھتے ساتھ شگفتہ پوچھ پوچھ کر تھک چکی تھیں لیکن زکی کا ایک یہی جواب ہوتا۔۔۔۔
” امی کچھ نہیں بس ایک غلط فہمی تھی ” صالحہ نے اسے صاف کہ یا اب وہ ایک ہفتے تک ہسپتال نہیں جائے گا گیا تو انکا مرا منہ دیکھے گا ایسے نہ تو ویسے سہی زاکون خاموش ہوگیا کچھ کہنے کے لئے تھا ہی نہیں مگر اتنا جانتا تھا ایک ہفتہ گھر میں رہا تو ضرور پاگل ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں سب اس سے پوچھ پوچھ کر تھک چکے تھے زاکون کی چُپی نہیں ٹوٹی آریز بھی اپنے بھائی کے پاس آیا تھا مگر زاکون نے اسے بھی تسلی دیکر بھگا دیا۔۔۔۔
آریز اپنے بھائی کو دیکھتا رہ گیا وہ دونوں پہلے ایک دوسرے سے بےشمار باتیں کرتے تھے ساتھ ہوٹلینگ کرتے تھے زاکون جب دوستوں کے ساتھ جاتا اسے بھی ساتھ لے جاتا تھا۔ مومنہ کی موت کے بعد اب سب کتنا بدل گیا ہے دونوں بھائی اتنے بزی ہوگے کے ہفتوں ہفتوں بات نہیں کرتے۔ آریز کو نجانے کیا ہوا کے وہ بیڈ پر بیٹھے زاکون کے گلے لگ گیا۔۔۔
” آئی میسڈ یو بھائی ” اسکا لہجہ نم تھا زاکون بےاختیار مسکرایا۔۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں آریز ” زاکون نے اسکی پیٹھ تھپک کر تسلی دی۔ شگفتہ جب سوپ لائیں تو آریز خود زبردستی زاکون کو سوپ پلانے لگا شگفتہ نے دونوں کو محبت سے دیکھتے انکی زندگی میں خوشیوں کی دعا کی آج عرصے بات وہ تینوں ایک ساتھ تھے۔۔۔۔
حیدر نے سمرین کے اسرار پر رخصتی کا اعلان کیا۔ حیدر مرتضیٰ چُبتی نظروں سے زاکون کو دیکھ کر طنز پر طنز کر رہے تھے وہ اپنے بدلے ایسے لیں گئے زاکون حیرت زدہ تھا وہ کہ رہے تھے۔۔۔
” بیٹیاں اپنے ماں باپ کے گھر تک محفوظ نہیں انہیں اپنے اصل گھر لوٹنا چاہیے۔۔۔۔ ” وہ کس کے لئے کہ رہے تھے سب جانتے تھے زاکون اور مایل کے لئے۔ ناجنے بیٹے سے اتنی نفرت تھی، بھروسہ ٹوٹ گیا تھا یا بدلہ تھا جو اس طرح زاکون سے لے رہے تھے.۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں شادی کی تیاریاں کیا شروع ہوئیں کسی کے پیڑ ایک جگہ نہ ٹکے ایک پیڑ مارکیٹ میں ہوتا تو دوسرا گھر میں اکثر تو گھر کے مرد باہر سے کھانا آرڈر کرلیتے سب عورتیں شوپنگ کو جو نکلتیں تو رات گئے تک واپس آتیں۔ سب نے اپنی پسند سے مایل کے لئے ڈھیر سارے کپڑے لئے تھے اتنے کے شادی کے تین چار مہینے تک وہ ہر روز نیا سوٹ پہن سکتی ہے۔۔۔۔۔۔
ایک سے بڑھ کے ایک اسکے لئے مایوں رخصتی اور ولیمے کا ڈریس لیا تھا۔ زنیشہ بھی سب کو دیکھتی رہی اتنا خرچ اسکے پیرنٹس نے نہیں کیا جتنا سب مایل پر کر رہیں ہیں چچی تائی سب جان چھڑکتی ہیں اس پر۔۔۔۔۔۔
انہی تیاریوں کے بیچ مایوں کا دن بھی آگیا دھوم دھام سے بڑے سے حال میں دونوں کا مایوں کیا گیا وہیں مہندی کا فنکشن بھی تحہ پایا۔ نجمہ نے اسے بھر بھر کے مہندی لگوائی تھی اسکی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھ رہیں تھیں شروع کے دن ہی تو ہوتے ہیں ایک بار پیڑ جم گئے پھر تو سسرال اپنا ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
شادی کے دن گھر کی سب عورتیں دوپہر میں ہی پارلر کو نکل گئیں پیچھے مرد سب اپنا کام خود کرتے رہے۔ آپوئنٹ مینٹ ہی انہیں مشکل سے ملا تھا اوپر سے وہ تھیں بھی اچھی خاصی چار عورتیں ایک ایک کو تیار کرنے میں بھی اچھا خاصا ٹائم لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے پہلے نجمہ اور شگفتہ تیار ہوکر شاز کے ساتھ حال میں آئیں تھیں تاکے مہمانوں کا استقبال کر سگیں پھر صالحہ نے شاز کو کال کر کے بلانا چاہا مگر شاذ کی جگہ المیر انھیں لینے آگیا کیوں کے وہ کچھ رسموں کا سامان لینے گیا تھا جو پارلر سے قریب بنی مارکیٹ میں آسانی سے مل گیا اور شاذ وہاں حال کے انتظام چھوڑ کر آ نہیں سکتا تھا البتہ المیر کو آنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔
مایل جب صالحہ کے ساتھ باہر نکلی تو ساتھ میں دو پارلر کی لڑکیاں بھی تھیں جو اسکا شرارہ سنبھال رہیں تھیں وہ سہج سہج کر ہر قدم اٹھاتی کار میں ان لڑکیوں کی مدد سے بیٹھ گئی چہرے پر بڑا سا گھونگھٹ تھا جس کے بائث المیر اسکا چہرہ نہ دیکھ سگا۔ وہ پیچھے بیٹھی تھی جب کے صالحہ آگے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔
شادی حال کے آتے ہی صالحہ گاڑھی سے اتڑ گئی۔۔۔۔
” المیر روکو بیٹا گاڑھی مت لیکر جانا میں جاناں اور جیا کو بھیجتی ہوں ” المیر سمجھ گیا وہ مایل کے لئے ان دونوں کو بھیج رہی ہیں۔۔۔۔۔۔
کچھ پل دونوں کے بیچ خاموشی حائل ہوئی پھر المیر نے ہی شروعات کی۔۔۔
” تم آج بھی میرے لئے سب سے اہم ہو دل کے ایک خاص کونے میں تمہارا ٹھکانہ ہے جہاں اور کوئی نہیں کوئی بھی نہیں۔۔۔۔ ” وہ رکا نجانے وہ کیا سوچ رہی ہوگی؟؟؟ کے آج اس وقت وہ ایسی باتیں کیوں کر رہا ہے؟؟؟ وہ اسے کیا بتاتا وہ نہیں چاہتا انکے بیچ رابطہ ختم ہو، وہ چاہتا ہے ہر دفع کی طرح آج بھی اور کل بھی وہ اپنا دکھ اسے بتائے اپنا مسلا اسے بتائے تاکے وہ اسکے دکھ درد دور نہ سہی کم تو کر سگے وہ گھٹ گھٹ کر نا جیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” چچا اور مومنہ کی ڈیتھ کے بعد میں نے تمہاری زمیداری لی تھی۔ چچا ہم سب کو بےحد عزیز تھے ایسے نیک انسان کی اولاد کیسے عزیز نہ ہوگی مایل؟؟ میں خود سے نہیں کرتا تھا سب۔۔ ایک احساس تھا،، محبت تھی،، رشتہ تھا،، انکی مہک تھی جو تم سے انکی اولاد سے آتی تھی۔۔۔۔۔۔ تم میرے لئے جو ہو شاید وہ میرے اپنے بہن بھائی بھی نہیں!!!!! میں خود کو تمہارا حکمران نہیں سمجھتا،،، بس سوچتا ہوں چچا ہوتے تو کیا یہی کرتے؟؟؟ میرا انتخاب غلط نہیں مجھے یقین ہے۔۔۔۔
مگر۔۔
اگر وہ تمہیں تکلیف دے۔۔
رلائے۔۔۔
آواز تک اونچی کرے۔۔۔۔
تم میرا گیریبان پکڑنا۔۔
مجرم وہ نہیں پھر میں ہونگا۔۔۔
قسم ہے مجھے میرے خدا کی جان بھی کہو گو وہ بھی لے لونگا اپنی۔۔۔ ” مایل کا دل اس قدر سخت ہوچکا تھا کے المیر کی کسی بات سے اسے فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ خاموش تھی بے حد خاموش المیر سوچ رہا تھا وہ سن بھی رہی ہے یا نہیں؟؟؟؟ تبھی جاناں اور جیا کار کھول کر اندر جھانکنے لگیں پھر مایل کو دیکھ کر آہستہ سے اسے کار سے اتڑنے میں مدد کی اور اسے لیکر شادی حال میں اندر چلی آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لال شرارے اور نارینگی کلر کے لونگ فراک میں ملبوس کوئی شہزادی ہی لگ رہی تھی۔پارلر سے تیار ہوکر اسے ڈائریکٹ حال میں لایا گیا دلہن کو لا کر جب اسٹیج پر بٹھایا گیا تو ہر آنکھ میں ستائش تھی۔۔۔۔ مہمانوں کا ایک ہجوم تھا ۔ ہر طرف زرق برق آنچل تھے، پھولوں کے ہار اور گجروں کی خوشبوئیں تھیں۔۔۔
میوزک سسٹم پر بجتی مدھر دھنوں نے سارے ماحول پر ایک سحر سا طاری کر رکھا تھا۔نکاح تو ہوچکا تھا بس اب دلہے کا انتظار تھا کھانے کے بعد جلد ہی بارات کا شور اٹھا اور لڑکے والوں کا بھر پور طریقے سے استقبال کیا گیا۔
زریق کو مایل کے ساتھ بٹھایا گیا۔ دودھ پلائی اور دیگر رسموں کے بعد رخصتی کا شور اٹھا حال میں دو بجے کے بعد لائٹس بند کردیں جاتیں ہیں تبھی رشتے داروں نے رخصتی کا شور اٹھایا۔ رخصتی کا وقت آیا تو ہر آنکھ نے اشک بہایا۔ آبی مایل سے لپٹ کر رو رہا تھا مایل بھی دلہن بنی آبی کا ماتھا اور سرخ گال چوم رہی تھی کبھی اپنی ماں کے گلے لگ رونے لگتی تو کبھی تائی کے گلے لگ حیدر مرتضیٰ اور صدیق صاحب سے گلے لگ باقاعدہ ہچکیاں لیکر رونے لگی۔۔۔۔۔۔
ان سے الگ ہوئی تو آریز نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اسکے چہرے سے لگ رہا تھا مایل کے جانے سے وہ بےحد اداس ہے اسلئے شادی حال سے چلا گیا۔ مایل کے جانے سے پہلے زاکون اسکے سامنے آگیا وہ خود ہی اسکے سر پر ہاتھ رکھے افسردہ ہوگیا مگر مایل اس کے کندھے پر سر ٹکائے رونے لگی کتنے دکھ پھر تازہ ہوگے بہن کا دکھ باپ کا آخر میں المیر۔۔۔۔
قرآن مجید کے سائے تلے مایل کو رخصت کیا گیا صدیق صاحب اور حیدر مرتضیٰ اسے کار تک چھوڑ آئے دونوں زریق کے سامنے باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر مسکرائے۔۔۔
” ابھی بچی ہے کوئی خطا ہوجاۓ تو معاف کردینا “
صدیق صاحب نے مسکراتے ہوئے افسردگی سے کہا سمرین دونوں کو اس طرح دیکھ کر چونک گئیں تھیں مایل کار کے اندر بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔۔۔
” بھائی صاحب مایل اب میری اپنی بیٹی ہے سگی بیٹی سے بڑھ کر محبت اور عزت دونگی “
سمرین نے دونوں کے ہاتھ نیچے کیے اور دلاسا دیتیں زریق کے ساتھ کار میں بیٹھ کر نکل گئیں دوسری کار میں ثمروز صاحب کچھ رشتے داروں کے ساتھ آرھے تھے۔۔
پیچھے ابھی تک حال میں سب ایسے بلک کر رو رہے تھے کے ایک عورت نے باقاعدہ کہا بہنوں خوشی کے موقع پر ماتم کر رہی ہو۔۔۔۔۔ تب جاکر صالحہ شگفتہ اور نجمہ چُپ ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔
سمرین نے مایل کا خوش دلی سے استقبال کیا وہ اسکی بلائیں لیتی رہی۔ اپنے پاس بیٹھا کر سمرین نے اس سے ساری رسمیں کروائیں اسکی جھجھک و شرم کو اپنے رویے لہجے اور محبت سے دور کرنے لگی۔۔۔۔
وہ اسے خود کمرے میں تک بیٹھا آئیں۔۔۔۔
” آج سے میرا گھر یہ کمرہ میرا بیٹا سب تمہارا بس کبھی اسے چھوڑنا نہیں میری جان ” سمرین نے محبت سے کہتے اسکی پیشانی چومی مایل اتنی ڈری ہوئی تھی کے انکی باتوں تک پے غور نہ کر سگی۔سمرین اسکا گھونگھٹ سہی کر کے چلی گئیں وہ کافی دیر تنہا بیٹھی رہی۔۔۔
پھر۔۔۔۔۔۔۔
بھاری بوٹوں کی آواز اسکے قریب تر ہوتی جا رہی تھی۔ خوف سے مايل کی ہاتھیلیاں بھیگ گئیں۔۔ ای سی روم میں بھی اسکی پیشانی پر پسینہ کے ننے قطرے نمودار ہوئے۔۔ جیسے جیسے وہ قریب تر آتا جا رہا تھا مايل کے دل کی دھڑکن مزید تیز ہو رہی تھی دل جیسے پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا۔۔ ایک ایسا شخص جسکے بارے میں اس نے سوچا بھی نہ تھا آج وہ اسکی دسترس میں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھلیوں کو آپس میں رگڑتے وہ سوچ رہی تھی کیا اب تک جو ہوا ہے وہ سچ ہے؟؟؟ وہ زریق کے روم میں ہے؟؟؟ خواب اور حقیقت میں الجی وہ ایک الگ جہاں میں پہنچ چکی تھی اس بات سے بےخبر کے وہ اسکے نہایت قریب آچکا ہے۔۔۔۔۔۔۔
” اسلام علیکم “
بھاری مردانہ آواز اپنے بےحد قریب پاکر وہ یکدم سے سہم گئی۔۔۔۔
” کیسی ہیں آپ؟؟ ” ابھی ایک جھٹکے سے نہ سنبھلی تھی کے اسنے دوسرا وار کیا وہ اسے کیا بتاتی؟؟ اس وقت نہ اسے ہوش تھا نہ آس پاس کا پتا دل و دماغ میں اس وقت صرف خوف کا عالم چھایا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اتنی جلدی وہ یہاں آگئی اسکی پناہوں میں، اسکی دسترس میں اسنے ابھی زریق کو سوچا کب تھا؟؟ دیکھا کب تھا؟؟؟
وہ بولنا چاہتی تھی تب بھی لبوں سے سوائے جنبش کے کوئی آواز نہ نکل سگی جب دو بار پوچھنے پر بھی جواب نہ ملا تو مجبوراً اسنے مایل کا گھونگھٹ دھیرے سے اوپر کیا۔۔۔۔۔۔۔
ہر طرف موت سا سناٹا تھا مایل کو اپنے دل کی دھڑکن اس وحشت زدہ ماحول میں صاف سنائی دے رہیں تھیں۔۔۔ مایل جو گھونگھٹ اٹھانے پر سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی کافی دیر خاموشی پاکر اسنے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں اور اسے اپنی طرف تکتا پاکر وہ ان نظروں کی تاب نہ لا سگی اور فوراً نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔
لیکن یہ صرف چند سیکنڈ کا کھیل تھا۔۔۔۔۔
مايل نے اپنی جھکی پلکیں اٹھائیں۔۔۔۔
نظر پہلے اس ہاتھ پر پڑی جو دل پر رکھا تھا اور یہ آنکھیں جو اسکے وجود پر مرکوز تھیں۔۔۔۔ مايل بےاختیار خود میں سیمٹ گئی وہ اسے گہری نظروں سے تک رہا تھا جیسے اسکا ذرا ذرا حفظ کر رہا ہو۔۔۔۔۔۔۔
” میں آپ کو محسوس کرنا چاہتا ہوں!!!! ” بھاری گھمبیر آواز اسکی سماعتوں میں گونجی۔۔ وہ ان الفاظوں کا مطلب سمجھتی اس سے پہلے ہی اسکے عمل نے ہر بات واضع کردی۔۔۔۔
وہ اسکے قریب آرہا تھا۔۔۔۔ بہت قریب۔۔۔۔۔۔
مايل کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔
ہر بڑھتا عمل اسکی سانس روک رہا تھا۔۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ اسکے جسم سے ہر زیور اتاڑ رہا تھا۔۔۔
اسے کے لب بولنے کی صورت میں صرف پھرپھراتے رہ گئے وہ نہیں جانتی کب وہ اسکے وجود پر وہ حاوی ہوا۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ جانتی تھی تو بس یہ کے رات سرکتی جا رہی تھی۔۔۔
اور ہر لمحے اسے یہی محسوس ہو رہا تھا وہ ” پتھر ” بن رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آ ” وہ جو کسی سوچ میں محو تھا چیخ سن کر فوراً گردن پیچھے کو گھمائی اور اسے دیکھ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ تیزی سے اٹھ کر اسکی طرف آیا۔۔۔۔۔۔۔
مایل نیند سے اٹھی تو اپنے پاس زریق کو ناپاکڑ وہ پریشان ہوگئی ابھی رات کے پانچ بج رہے تھے ہر طرف اندھیرا تھا۔ مایل نے ارد گرد دیکھا تو وہ اسے گارڈن کی طرف جاتے دروازے پر بیٹھا نظر آیا وہ اس تک آرہی تھی کے اسکا پاؤں مڑ گیا درد سے وہ چیخ اٹھی۔۔۔۔۔۔۔
” کیا ہوا؟؟؟ ” وہ اسکے قریب آن کھڑا ہوا مایل جھکی ہوئی ایک ٹانگ پر ہاتھ رکھے درد سے بلبلا رہی تھی ایک قدم بھی چلنا اسکی جان لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” موچ آگئی۔۔۔۔ آ۔۔۔ ” لفظ ادا ہونے سے پہلے وہ جھکا تھا اور اسے اپنی باہوں میں اٹھائے گارڈن کی سیڑیوں کی طرف چل پڑا جہاں وہ خود بیٹھا تھا۔۔ جبکے وہ ہونق بنی اس عمل پر بس اسے دیکھتی رہ گئی جو اس سے بےنیاز سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
مایل نے سختی سے آنکھیں میچے اپنے بازو اسکی گردن میں حمائل کیے کچھ شرم تھی کچھ کل رات کی وجہ سے جھجھک لیکن حیرانگی تب ہوئی جب آنکھیں کھولنے پر بھی وہ مایل کو اسکے وجود سے بیگانہ لگا۔۔۔۔۔
یا خود بےنیاز بنا رہا۔۔۔۔۔۔
آخر جان کر انجان بن رہا تھا؟؟ یا اسے تنگ کر رہا تھا؟؟؟؟؟۔۔۔۔
وہ نہیں جانتی بس اپنی سوچوں کو جھٹک کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
مايل کی نظر اس کی داڑھی پر گئی پھر داڑھی سے ہوتے ہوے اسکے چہرے کے ایک ایک نفش پر۔۔ ہر کوئی کہتا تھا اسکے چہرے کے تااثرات سخت نہیں نرم ہوتے ہیں مگر وہ ہمیشہ سنجیدہ ہوتا ہے۔۔۔۔شاید ہی کبھی کسی نے اسے ہنستے ہوے دیکھا ہو وہ بس مسکراتا ہے مسکراہٹ بھی ایک دیکھاوا لگتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
” مایل وہ مسکراتا ہے مگر ایسے لگتا ہے ہمیں خوش کرنے یا مطمئن کرنے کے لئے مسکرا رہا ہے۔۔۔ شاید ہم سے شرماتا ہو تم ڈرو نہیں ہنستا نہیں تو ہنسنا سیکھا دینا۔۔۔۔۔۔ “
اسے بےاختیار محرما کے الفاظ یاد آئے شادی کی ہر رسم میں وہ زریق کی ایک ایک حرکت دیکھتی اسے ہر چیز سے آگاہ کرتی تھی پہلے تو مايل کو دلچسپی نہیں تھی لیکن اب جب وہ مکمل اسکی بیوی بن چکی تھی وہ اسے جاننا چاہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
سیڑیوں کے قریب آتے ہی زریق نے اسے پہلی سیڑی پر بٹھایا۔۔۔۔
” کہاں موچ آئی ہے ؟؟؟؟ ” درد سے کراہتی وہ مقابل کو ابھی بھی غور سے دیکھ رہی تھی جو لب بھینچے پاس ہی کھڑا تھا۔
وہ پینٹ کو زرا سا اوپر کیے پاس دراز ہوا اور اس کے پاؤں کی جانب جھکا چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔اس نے پاؤں کھینچا لیکن زریق نے یکلخت آگے بڑھ کر پائوں گود میں رکھا۔۔۔۔۔
ہاتھ کی انگلی سے ہر جگہ کو دباتا وہ غور سے اسکے پیڑ کا معانہ کر رہا تھا تبھی ” سی ” سنتے ہی اسنے نرمی سے اس جگہ کو سہلایا جو اسکے درد کی وجہ تھی۔۔۔۔۔۔۔
” کاش آپ کا درد میں محسوس کر سکتا۔۔۔۔۔ ” وہ نرمی سے اسکا پاؤں سہلاتے اسے حیران کر گیا۔۔۔۔
کتنے ہی پل وہ اس سحر انگیز شخص کو دیکھتی رہی۔۔۔۔۔
وہ اسے یہیں چھوڑ کر اٹھا کھڑا ہوا۔۔۔۔
قدم دروازے کے جانب تھے جہاں انکا بیڈروم تھا۔۔۔
اپنے لمبے قد چوڑے شانوں اور مضبوط جسم کی وجہ سے وہ مایل کی نظروں کا مرکز بنا تھا۔۔۔۔ اسکی نظریں ہٹنے کو انکاری تھیں وہ اسے ہی تکے جا رہی تھی جو نجانے کب نظروں سے اوجھل ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔
لمحوں میں پھر ان نظروں نے اسکا دیدار کیا جو اسکے قریب آرہا تھا۔۔۔۔
آخر کیا تھا ان نظروں میں؟؟؟ جو ایک بار بھی وہ مایل کی آنکھوں میں نہ دیکھ سگا اب بھی وہ بام کو الٹا سیدھا کرتے اسی کی طرف آرہا تھا نظریں حرکت کرتے اپنے ہاتھوں پر تھیں مایل پر نہیں۔۔۔۔۔۔۔
قریب آکر وہ ایک گھٹنے کے بل اسکے پاس بیٹھا اور دھیرے سے درد والی جگہ بام سے مالش کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
اس دوران مايل کی نظروں کا مرکز ” وہ اجنبی ” تھا جو اپنا ہوکر اب بھی اسکے لئے اجنبی بنا تھا۔۔۔۔۔۔
مالش کرنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ بام جیب میں رکھ کر وہ اسکی طرف جھکا تھا مايل جو ایک ٹرانس کی کیفیت میں اسے تکے جا رہی تھی فوراً سے نظریں دوسری سائیڈ پھیر لیں۔۔۔۔
” آہہہہہ “
” کیا ہوا ” وہ اسکی چیخ سن کر یکدم اس سے دور ہٹا۔۔۔۔
کہیں وہ اسکے لمس سے تو نہیں سہم گئی؟؟؟؟
” و۔۔۔۔و۔۔وہ۔۔وہاں۔۔۔کوئی۔۔۔۔ہے ” نظریں پھیرتے ہی اسے کسی کی پرچھائی نظر آئی جو بڑی ہوتی جا رہی تھی جو کوئی بھی تھا قریب آتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” کوئی نہیں ہے ” مایل نے ذرا کو نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور حیران رہ گئی۔۔۔ اسنے دیکھا تک نہیں اور منہ پر ” جھوٹ ” بول دیا؟؟؟ وہ جھکا تھا اور اسے گودھ میں اٹھائے قدم قدم چلتا اس خوبصورت جھولے کے پاس آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے نہایت احتیاط سے بیٹھا کر خود اسکے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔
” کیا بات کرنی تھی آپ نے؟؟؟؟ ” شاید زریق اس کے ڈھوڈنے کی وجہ کو اہم بات کرنی ہو سمجھا رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ جو اسے دیکھنے میں محو تھی اسکے سوال پر چونک گئی۔ وہ اسکی مکمل بیوی بن چکی تھی شاید بار بار اسلئے وہ اس شخص کو دیکھ رہی تھی جس سے اسکا نیا رشتہ جڑا ہے۔۔۔۔۔
” کچھ نہیں ” اسکی اٹھتیں نظریں دیکھ کر وہ اپنی نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خاموش ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔
مایل نے نظریں پھیڑ کر گارڈن کی دوسری سائیڈ بنے ایک گزیبو کی طرف دیکھا جو کے بہت خوبصورت بنا ہوا تھا وہ اسکی خوبصورتی میں اس قدر الجھی ہوئی تھی کے وہاں فولڈنگ اسکن کے پیچھے ان دو آنکھوں کو دیکھ نہ سگی جو کب سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ اچانک جب مایل کی نظر پڑی وہ جو تھا اسے ہی دیکھ رہا تھا مایل کی چیخ نکل گئی.۔۔۔۔۔۔مایل ڈر کے مارے فوراً زریق سے لپٹ گئی۔۔۔۔۔۔
” کیا ہوا؟؟؟ ” اسکی چیخ سن کر وہ متوجہ ہوا تھا اسے ڈرتے دیکھ اسکی پیٹھ تھپکنے لگا۔۔۔۔
” میں سچ کہ رہی ہو۔۔۔ہوں وہاں۔۔۔ وہ ک۔۔ کوئی ہے ” وہ اس سے لپٹتے جا رہی تھی دل کی دھڑکن یکدم سے وہ آنکھیں دیکھ کر تیز ہوگی تھی ایسا لگ رہا تھا ابھی پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
” آپ آج بھی اتنا ہی ڈرتی ہیں ” وہ اسکے سینے سے چہرہ ہٹا کر اسے دیکھنے لگی وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔ اور مایل کی انہی آنکھوں میں ایک پل کو دیکھ کر نظریں پھیر لیں۔۔۔۔
” میں آپ کو محسوس کرنا چاہتا ہوں!!!! پر یہ میرے اختیار میں نہیں ” وہ افسوس سے کہ رہا تھا مایل حیران ہوگئی اپنا ڈر بھول کر وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی آخر اسکا مطلب کیا تھا؟؟؟؟؟
وہ مایل کا ہاتھ پکڑ کے اسے بیڈروم میں لے آیا اور یہاں وہاں کی باتیں پوچھنے لگا تاکے اسکا دیہاں ہر بات سے ہٹ سگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
