66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

” امی اتنی اچھی جاب میں ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا آپ زنیشہ کی رخصتی اسی ماہ کردیں نہ “
” اتنی جلدی کیسے کردوں؟؟ ہزاروں چیزیں ہوتی ہیں اتنی جلدی کوئی شادی دیکھی ہے کیا؟؟؟ ” زنیشہ کی ماں (امبرین) بیٹے کی ضد پر تپ اٹھیں تھیں جو دو دن سے انکا دماغ کھا رہا تھا۔۔
روحیل کو بیرون ملک سے جاب کی آفر آئی تھی سی اے کر کے سارے پپرز کلئیر کرنے کے بعد ڈائریکٹ ہی اسے لاکھوں کی آفر آئی جسے وہ گنوانا نہیں چاہتا تھا اسلئے اسکی خوائش تھی وہ زنیشہ کی شادی کروانے کے بعد ہی یہاں سے جائے کیوں کے پھر اسکا واپس آنا بہت مشکل تھا۔۔۔۔۔۔
” امی میں نہیں چاہتا اپنی ہی بہن کی شادی میں خود میں نہ ہوں اور لاکھوں کی جاب ہے میری ساری زندگی کی محنت کیسے چھوڑ دوں آپ خود بتائیں سب اپنا کرئیر بنانے چلے گئے ایک میں ہی رہ گیا ” اسکا غصّہ کسی توڑ کم نہیں ہو رہا تھا اور یہ سچ تھا کے اسکے ساتھ جنہوں نے سی اے کلئیر کیا تھا سب ہی اب بیرون ملک سیٹل ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔
” تمہاری بہن کو تو کچن کے کام بھی نہیں آتے گول روٹی تک پکانے نہیں آتی اتنا سب سیکھانا ہے اسے ” اسکی ماں جو آلو بھن رہیں تھیں پریشان کن لہجے میں بولیں۔۔۔
” امی انسان وقت کے ساتھ سیکھ جاتا ہے آپ آج سے شروع کریں وہ سب سیکھ جائے گی ” اسکی ماں نے خفگی سے اسے دیکھا اور پھر کچھ سوچ کر شوہر سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
انکا بیٹا جائے گا تو ضرور اتنا وہ جانتیں ہیں پھر یہ غلط نہیں کے بہن کی شادی میں بڑا بھائی ہی نہ ہو اور شوہر بھی اتنا سب کیسے کرینگے بیٹے کے بغیر انکی حالت ہی خراب ہوجاے گی اور زنیشہ اکلوتی بیٹی ہے اسی کی شادی میں تو سارے ارمان پورے کرنے ہیں۔۔۔۔ اسلئے انہوں نے سوچ لیا تھا شوہر کے ساتھ ساتھ صالحہ بھابی سے بھی بات کریں گی۔۔۔۔
۔………………………………….
” ارے روحیل نے تو میرے دل کی بات کہ دی میری بھی یہی خوائش ہے پہلے تو المیر شادی کے لئے صاف انکار کر دیتا تھا کہتا تھا مایل کو رخصت کرنے کے بعد ہی شادی کرونگا ورنہ میرا تو دل تھا پچیس میں ہی اسکی شادی کردیتی اب بتاؤ بتیس کا ہے اور دیر کرتی تو لوگ بچوں کو دیکر کہتے کے دیکھو بچا اپنے دادا(المیر) کے ساتھ جا رہا ہے۔۔ ” صالحہ تو زنیشہ کے بھائی روحیل کی تجویز سن کر بےانتہا خوش تھیں انکی بھی دلی خوائش تھی جلد ہی المیر کی شادی ہو اور وہ اپنی گودھ میں المیر کے بچوں کو کھلائیں۔۔۔۔۔۔
جبکے وہاں بیٹھا شاز اور آبی جو بظاہر فون یوز کر رہے تھے پر ماں کی باتیں غور سے سنتے سوچ رہے تھے انکا بس نہ چلتا شادی کے اگلے دن ہی المیر کے بچے لیکر پورے محلے میں گھومتیں۔۔۔۔۔۔۔
” نہیں نہیں ماشاءالله المیر آج بھی اپنی عمر سے چھوٹا ہی لگتا ہے اور میں سمجھ سکتی ہوں میرے خود ارمان ہیں اپنی گود میں پوتوں پوتیوں اور ناواسیوں کو کھیلائوں۔۔۔۔۔ ” امبرین (زنیشہ)کی امی آج روحیل کی ضد پر صالحہ سے شادی کی تاریخ لینے آئیں تھیں ورنہ اس مہینے شادی نہ ہوئی تو تین سال تک پھر وہ اپنی بچی کی رخصتی نہیں کرپائیں گی۔۔۔ روحیل نہیں ہوگا تو زنیشہ خود ہی نہیں مانے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
” سچ کہ رہی ہو!! میں تو زنیشہ کو نکاح والے دن ہی اپنے ساتھ لے آتی مگر مجھے لگا تم اس کی پڑھائی ختم ہونے کے بعد ہی ہمیں بیٹی دوگی۔۔۔۔ “
” ہاں بھابی سچ پوچھیں تو یہی ارادہ تھا پڑھائی پوری کرلے ورنہ شادی کے بعد کہاں ہو پاتا ہے؟؟؟ لڑکی اپنا شوہر سنبھالے گھر سنبھالے یا کتابیں؟؟؟ “
” کیوں نہیں ہو پاتا مایل کے ساتھ ملکر پڑھ لیگی امتحان کے دنوں میں پاؤں پلنگ سے نیچے رکھنے نہیں دونگی ” صالحہ نے اس شاہانہ انداز میں کہا کے شاز اور آبی تو اپنی ماں کو دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔۔
تبھی امبرین کو نجمہ سڑیوں سے آتی دیکھائی وہ سلام کرنے کو اٹھنے لگیں تھیں کے نجمہ کچن کی طرف بڑھ گئی امبرین کو تھوڑا عجیب لگا نجمہ اور مایل کا رویہ میں بھی فرق آیا تھا وہ پہلے کی طرح امبرین یا زنیشہ سے نہیں ملتی تھیں۔۔۔۔۔
” جی بھابی اب وہ آپ کی ہی بیٹی ہے مگر زمیداری بھی تو ہوتی ہے اب انکی عمر ہوگئی ہے شوہر سنبھالیں ہم تو آپ کو یاد ہوگا چھوٹی عمر سے کیسے بڑی بڑی زمیداریاں اٹھا لیتے تھے۔۔۔۔۔ ” انکی بیٹی کی ساس تھیں وہ امبرین نے الٹا انکا ساتھ دے کر اپنی بیٹی کے لئے کہا کے اسے زمیداریاں اٹھانی چاہی۔۔۔۔۔
جس پر صالحہ شروع ہوئیں تو بتاتی چلی گئیں اپنی قربانیاں ایک ایک گن کر بتائیں شاذ تو تنگ آکر اٹھ کر چلا گیا جب کے آبی کانوں میں ہینڈفری لگا کر گانے سنے لگا۔۔۔
امبرین سن تو بظاہر صالحہ کو رہیں تھیں پر دماغ نجمہ کے رویے پر تھا وہ تو بس شادی کی تاریخ لینے آئیں تھیں انہیں لگا تھا صالحہ کے ارمان ہونگے پر صالحہ تو خود راضی تھیں اس سے بڑھ کے انہیں کیا چاہیے تھا؟؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” جب سب لوگوں کی رضامندی ہے تو بسم اللّه کریں ” حیدر نے دونوں فریقین کی بات سنتے جواب دیا۔۔ یہاں صدیق, نجمہ اور وہاں امبرین اور ثمروز صاحب سب رضامند تھے کے اسی مہینے زنیشہ رخصت ہوکر سکندر ولا آجائے۔۔۔۔۔
” بس پھر آج سے شادی کی تیاریوں کی شروعات کرتے ہیں ” صالحہ بیغم کے چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی۔ وہاں بیٹھے سب افراد ایکسائیٹڈ تھے۔۔ سب بڑے بچے وہیں تھے سوائے مایل اور المیر کے المیر ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا اور مایل وہ یونیورسٹی سے آتے ہی اتنی تھک جاتی کے کھانا کھا کر فوراً ہی سوجاتی ہے ابھی بھی اپنے کمرے میں وہ نیند کے مزے لوٹ رہی تھی۔۔۔۔
شادی کی ڈیٹ فکس کرنے کے بعد ثمروز صاحب اور امبرین تو گھر کو لوٹ گئے مگر نجمہ کی بےچینی بڑھا گئے۔ نجمہ کی یہی سوچ تھی کے کسی طرح زنیشہ کے آنے سے پہلے مایل کو یہاں سے رخصت کردیں ورنہ انکی بیٹی پاگل ہوجاے گی کیسے وہ اسے دن رات المیر کے ساتھ برداشت کریگی؟؟؟؟؟
” بھائی صاحب وہ سمرین نے کل ہم سب کی دعوت کی ہے وہ کہ کر گئی تھی۔۔۔ تو کیا کل چلنا ہے؟؟؟ ” انہوں نے کچھ جھجھک کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور سب یکدم نجمہ کی بات پر چونک کر انکی طرف دیکھنے لگے خاص کر آریز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ہممممم۔۔۔ نجمہ باہر کے لوگ ہیں جان پہچان خاص ہے نہیں میرا خیال ہے ہاں کرنے سے پہلے گھر بار لڑکا سب دیکھ لیں۔۔ کم سے کم شادی ابھی تو نہیں کچھ عرصے بعد ہی دیکھیں گئے ” حیدر مرتضیٰ پہلے سے ہی شاید سب سوچ کر بیٹھے تھے نجمہ کو صدیق صاحب نے تو امید دی تھی مگر حیدر مرتضیٰ اپنے جیٹھ کی ایسی باتیں سن کر نجمہ کا سر چکرا رہا تھا وہ سوچ کر کیا آئیں تھیں؟؟ اور یہاں یہ کتاب ہی بند کر کے بیٹھے ہیں۔۔۔
” آپ کو رشتہ سہی نہیں لگا “
” ایسا نہیں!!! بس دل گھبراتا ہے ہمارے ایک فیصلے پر تو ہماری بچی کی پوری زندگی ہے ” حیدر مرتضیٰ کا لہجہ سنجیدہ تھا۔۔۔۔۔۔
” تو بھائی صاحب کل چلتے ہیں سمرین بھابی بےحد خوش اخلاق اور خوش مزاج ہیں ایک دفع سب ہو آتے ہیں انکی دوبارہ کال بھی آئی تھی۔۔۔۔۔ ” نجمہ کے اسرار پر صالحہ نے بھی بولا۔۔۔
” ہاں بھائی صاحب نجمہ بھابی سہی کہ رہی ہیں انکا فون تو مجھے بھی آیا تھا۔۔۔۔۔ “
” ٹھیک ہے پھر ہم پانچوں چلتے ہیں بچوں کو لیکر جانے کی ضرورت نہیں ” حیدر مرتضیٰ کا فیصلہ دو ٹوک تھا آبی کا منہ بگڑا اسکے بڑے تایا ہمیشہ ایسے ہی روب جماتے ہیں۔۔۔۔۔
” اور مایل؟؟؟ ” نجمہ نے دھیمی آواز میں پوچھا جیسے لہجے میں ڈر چھپا ہو۔۔۔۔
” نہیں۔۔۔ “
” ٹھیک ہے جیسے آپ کو سہی لگے ” نجمہ نے پھر کچھ نہ کہا وہ شکر کر رہیں تھیں بات آگے تو بڑھی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
گھر دیکھ کر تو نجمہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔گھر نہ تھا عالیشان محل تھا۔۔۔ چھ سو گز کا بنگلا جس میں گھر کے باہر بڑا سا گارڈن اور پارکنگ ایریا تھا پارکینگ ایرایا میں دو گاڑیاں کھڑی تھیں۔۔ گارڈن میں مختلف قسم کے پودے لگے تھے جنکے نام تک کسی کو معلوم نہ تھے صالحہ تو ایک ایک پھول کو غور سے دیکھتیں ذھن میں حفظ کر رہیں تھیں کے گھر جاکر بچوں سے پوچھیں گی یہ کون کون سے پھول ہیں؟؟؟؟ آبی بھی انکے ساتھ آیا تھا وہ ان سب پودوں کی اسنیسپس بنا کر دوستوں کو بھیج رہا تھا۔۔۔
(آبی پہلے ہی ضد کر کے نجمہ کے ساتھ آ بیٹھا تھا پھر نجمہ نے ہی جیٹھ سے اسرار کیا کے آبی کو لے چلیں۔۔۔)گھر کے اندر چھ کمرے تھے جس میں ایک سمرین اور انکے شوہر کا تھا جب کے دوسرا انکے بیٹے زریق کا کمرہ تھا جو بےحد خوبصورت تھا بلیک اور وائٹ کونٹراسٹ میں۔۔۔۔
بلیک کلر میں بیڈ تھا جس پر سفید چادر بیچی ہوئی تھی۔ تکیہ پر بھی سفید کورز چڑھے ہوئے تھے جبکے بیڈ پر پیڑوں کی سائیڈ پر تحہ شدہ بلیک چادر رکھی ہوئی تھی بیڈ کے دونوں سائیڈز پر سفید لیمپ رکھے ہوے تھے کھڑکی کی ارد گرد بارڈرز وائٹ تھیں جن کو بلیک پردے سے کور کیا تھا۔۔۔۔۔
کمرے کی دیواریں سفید تھیں پر چھت پر بلیک ڈیزائنگ ہوئی تھی۔ بیڈ کے پیچھے والی دیوار پوری بلیک تھی جس پر خوبصورت ڈیزائنگ ہوئی تھی اور وہیں پر الگ سے دیوار پر ایک بڑی سی سفید پینٹگ لگائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ یہی نہیں عالیشان محل نما گھر کا ہر کمرہ اسی طرح خوبصورتی سے سجا ہوا تھا۔
نجمہ اندر جاکر واشرومز بھی دیکھ آئیں تھیں جو قابلِ تعریف تھے باتھ ٹب تھے ہر واشروم میں۔۔ واشروم بھی بڑا سا دو حصوں پر مشتمل تھا ایک سائیڈ شاور باتھ ٹب وغیرہ تھے دوسری طرف دیوار کے لس سائیڈ ڈریسنگ ٹیبل تھی اور الماری رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
کچن بھی صاف ستھرا انگریزی اسٹائل میں تھا۔ مائیکرو ویو اوین اور فریج دیوار کے اندر ہی فکس کرائے تھے۔
بڑے سے حال میں دیوار پر ایل سی ڈی آٹیچ تھی اور وہیں پر صوفہ سیٹ رکھا تھا۔۔ سکندر ولا کے سب افراد پہلے وہیں بیٹھے تھے پھر جب کھانا لگا تو الگ سے ڈائینگ ایریا میں سب چلے آئے۔۔۔
آتے ساتھ ہے سب لوگ پہلے تو سمرین اور انکے شوہر سے ملے پھر حیدر مرتضیٰ نے حال احوال پوچھنے کے بعد اِدھر اُدھر کی جو باتیں شروع کیں تو اصل بات بیچ میں ہی لٹک گئی حیدر صاحب نے ان سے ان کے کاروبار بیٹے کے بزنیس کا پوچھا اور یہ سن کر حیدر مرتضیٰ کو خوشی ہوئی کے انکا اپنا بزنیس سیٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔
کھانے پر جب سب لوگ بیٹھے تھے اسی وقت تھکا ہارا زریق آفس سے سیدھا وہیں ڈائینگ حال میں چلا آیا۔۔۔
” اسلام علیکم ” آتے ہی اسنے باآواز بلند سلام کیا اور سب کو دیکھ کر ایک مسکراہٹ اوچھالی۔۔۔۔۔۔۔۔
” وعلیکم اسلام میری جان!!!! بیٹھو آج تمہارے سسرال والے آئے ہیں۔۔۔۔۔ ” سمرین کا جملا سن کر سب نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔ شگفتہ کا کھانا تو ہلق میں ہی اٹک گیا۔۔۔۔ وہ سب تو ابھی آنے والے پر سہی سے غور نہیں کر پائے تھے کے سمرین نے دھماکا کردیا۔۔جبکے نجمہ تو پہلو بدل کر رہ گئیں۔۔
سمرین تو خود سے رشتہ پکا کر کے بیٹھی ہیں۔۔۔
” مایل کو ساتھ لاتے تو میرے خیال سے آپ مولوی بلوا کر نکاح پروا لیتے۔۔۔۔۔ ” حیدر نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر سمرین تو مسکرا پڑیں مگر باقی سب سمجھ نہ سگے طنز تھا یا مذاق؟؟؟؟
” میرے اختیار میں ہوتا تو ضرور تایا ابو ” یہ جواب زریق کی طرف سے تھا سب یکدم اس کی طرف دیکھنے لگے جو اپنی پلیٹ میں چاول ڈال رہا تھا۔۔۔۔۔ جبکے سب کھانا چھوڑ اسی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ چاول ڈال کر اسنے نظریں اٹھا کر حیدر مرتضیٰ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
” مگر۔۔ گواہ آپ ہوتے آپ کے بغیر نکاح کیسا؟ ” وہ سنجیدگی سے بولا جبکے اسکا لہجہ اسکا انداز حیدر تو کیا سب کو الگ لگا وہ انھیں تایا ابو کہ رہا تھا بلکل مایل کی طرح اور اپنی خوائش اپنی رضا بتاتے ساتھ ان سے اجازت بھی لے رہا تھا۔۔۔۔
” ہمممممم۔۔ آفس میں سر کھپانے کے بعد بھی پورے ہوش و حواس میں ہو ” حیدر مرتضیٰ اسکی حاضر جوابی سے متاثر ہوئے تھے۔۔۔۔
” معملہ ہی ایسا ہے ” اسکی بات پر وہاں بیٹھے سب افراد مسکرا دیے سمرین پہلی دفع اپنے بیٹے کا یہ روپ دیکھ رہیں تھیں خوشی کے ساتھ وہ حیران بھی بہت تھیں کے یہ انکا زریق ہے اور لوگ اسے بےحس کہتے ہیں جو کم سے کم لوگوں سے تو زیادہ احساس کرتا ہے۔۔۔۔۔
حیدر مرتضیٰ غور سے اس شخص کو دیکھ رہے تھے زریق نے کھانا کھانے کے دوران خاموشی سے ایک لیگ پیس اٹھا کر اپنی پلیٹ میں ڈالا پھر آبی کی پلیٹ میں آبی نے ایک نظر زریق کو دیکھا جو اب اپنے کھانے میں مصروف ہوگیا تھا پھر خوشی خوشی وہ اپنا لیگ پیس کھانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانے کے بعد چائے کا دور چلا خواتین گھر کے اندر بیٹھ گئیں تھیں جب کے مرد حضرات باہر ٹہلنے کے لئے نکل گئے تھے ثمروز صاحب کا خیال تھا واک بھی ہوجاے گی مرد حضرات کی اپنی باتیں اور ساتھ ساتھ وہ سب لوگ انکا ایریا بھی دیکھ لیں گئے۔۔۔۔۔
” مایل بن باپ کی بچی ہے ہمیں سگی اولادوں سے زیادہ مایل عزیز ہے چھوٹی ہی عمر میں بہت کچھ برداشت کیا ہے۔۔۔ اپنی آنکھوں سے سامنے بہن کی موت، باپ کا بچھڑنا، یتیمی کے تعنے بےشک وہ کہتی ہے نہ بتاتی ہے مگر مایل کا چہرہ اسکا ہر دکھ عیاں کرتا ہے بچپن میں جب وہ اکثر روتی تھی پریشان ہوتی تھی مجھے سے بس ایک جملا کہتی تھی میرے ابو کیوں نہیں؟؟ تب میرا دل پیس جاتا۔۔۔۔
اسلئے بیٹا بہت ڈرتا ہوں،، بس ایک خوائش ہے حق دار کو اسکا حق دوں قدر دان کو اپنی مایل دوں۔۔۔۔۔ ” حیدر مرتضیٰ خود اس وقت زریق کے ساتھ اکیلے واک کر رہے تھے ثمروز اور صدیق صاحب ان سے تھوڑا آگے چل رہے تھے آبی بھی انہی کے ساتھ تھا۔۔۔
حیدر خود ہی سلو چل رہے تھے تاکے زریق سے اکیلے بات میں کر سگیں اور دل کا خوف دور کرلیں۔۔۔۔
” یہی آج کل سیکھ رہا ہوں تایا ابو!!!! ” وہ انکے ساتھ چلتا ان سے کہ رہا تھا۔ زریق اس وقت شلوار کمیز میں ملبوس تھا جو اس پر جچ رہی تھی۔۔۔۔۔
” کے؟؟؟ “
” میری پناہوں میں وہ خوش کیسے رہے؟؟؟ ” حیدر اسکے جوابوں پر حیران ہوتا تھا پھر محفوظ بھی جو بھی تھا اس میں ایک الگ بات تھی۔ اسکی آنکھیں بھی ہیزل گرین تھیں ماں باپ سے بلکل مختلف بلکے وہ اپنے ماں باپ سے مختلف ہی تھا۔ قد کاٹ میں، انداز میں، چہرے کے نقش میں۔۔ وہ اچھا خاصا لمبا تھا جبکے ماں باپ دونوں چھوٹے قد کے تھے۔ حیدر نے ابھی نوٹ کیا تھا وہ انکی اولاد نہیں لگتا تھا وہ ان سے بہت مختلف تھا۔۔۔۔
” تو سیکھا؟؟؟ “
” جی سیکھ رہا ہوں۔۔۔۔ “
” مجھے خوشی ہے!!!! ہمارا انتخاب سہی ہے ” حیدر صاحب نے اسکی پیٹھ تھپکتے کہا۔ جب وہ سب یہاں سے جانے لگے تھے تو حیدر صاحب نے سمرین کو امید دلائی تھی کہا تھا وہ کل تک رضامندی دے دیں گئے جسے سن کر سمرین بےحد خوش تھی پر زریق کے چہرے کے تااثرات سنجیدہ تھے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” نہیں امی مجھے کیا احتراض ہو سکتا ہے ” المیر بیڈ پر لیٹنے لگا تھا کے صالحہ نے آکر اسے آج کی دن کی پوری کہانی سنائی جسے سن کر المیر کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” تم آجکل اتنے چُپ چُپ کیوں ہو؟؟؟ “صالحہ محسوس کر رہی تھی المیر کی کسی چیز میں دلچسپی نہیں تھی۔ پہلے وہ اور آریز جب بھی آفس سے گھر لوٹتے تھے دونوں ہی الگ الگ موضوع پر گفتگو کرتے تھے واک پر جاتے تھے اب دونوں بھائی کسی کو ساتھ بیٹھتے تک نظر نہیں آرھے تھے۔۔۔۔۔۔یہ چیز صالحہ اور شگفتہ دونوں کو کھٹک رہی تھی۔۔۔۔
” پتا نہیں ڈر لگتا ہے!!!! پہلے ایک غلطی کی۔۔۔۔
” محافظ “بن بیٹھا۔۔۔۔ اب ایسا لگتا ہے جیسے اُسکی زندگی کا حکمران بن بیٹھا ہوں فیصلہ میرا،،،، اختیار میرا مگر زندگی تو اُسکی ہے نہ؟؟؟ “
” کس کی بات کر رہے ہو؟؟؟؟؟ ” صالحہ کے پلے کچھ نہ پڑا تھا بھلا انکا بیٹا کہاں کسی کی زندگی کا فیصلہ کرتا تھا؟؟؟
” آہاں کسی کی نہیں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔ ” وہ جو یکدم سے کمزور پڑھتا منہ سے سب بول چکا تھا۔۔۔ ماں کی تشویش کرتی نگاہیں دیکھ چونک پڑا ماں کو کچھ بتاتا تو ضرور باپ کے جوتے کھاتا۔۔۔ انکے جوتے یہ نہیں دیکھتے شادی شدہ جوان بیٹا ہے یا کنوارہ بس پڑھتا ہے تو سیدھا نشانے پر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔
اسکی ماں کی ایک عادت اچھی بھی تھی برُی بھی کے دنیا کا انھیں معلوم نہیں۔۔۔ انہیں نہیں پتا کیا بات شوہر کو بتانی چاہیے کیا نہیں؟؟؟ اسلئے ہر بات اپنے شوہر کو بتاتی ہیں تاکے بعد میں کسی کو کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے وہ یہ نہیں دیکھتیں یہ بات شوہر کو بتا کر کبھی کبھی وہ اپنی ہی اولادوں کی کلاس بلواتی ہیں۔۔۔۔
” المیر۔۔۔۔۔ ” انہوں نے لہجے میں غصّہ سموئے پوچھا۔۔۔۔۔۔
” کچھ نہیں امی۔۔۔ ” وہ بیزار ہوا اور آنکھیں موند کر بستر پر لیٹ۔۔۔۔ گیا صالحہ اسے تیز نظروں سے گھورتی رہیں مگر وہ اٹھا نہیں پھر لائٹس اوف کر کے کمرے سے نکل گئیں انکے جاتے ہی المیر پھر سے آنکھیں کھولے بےچینی سے لیٹ گیا نیند تو اب آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ڈیٹ فیکس ہوگئی ہے المیر کی شادی کی “
نجمہ ابھی بیڈ پر لیٹی تھی کے انہوں نے مایل کو اطلا دی جو رات کے اس پہر نہا کے واشروم سے نکلی تھی۔۔۔۔
” ہممممم۔۔۔۔۔۔۔ ” ایک خوف کا سایہ تھا جو ایسے لگ رہا تھا اسکے جسم سے ہوکر نکلا ہے بظاہر وہ نجمہ کے سامنے نارمل تھی پر یہ قیامت ایسی تھی کے دل پھٹ رہا تھا وہ دونوں اسکے سامنے ہونگے؟؟؟ یہ سوچ ہی اسکے خون میں خوف کی طرح پھیل رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
نجمہ کے سامنے اس نے اپنے چہرے کے تااثرات نارمل رکھے مگر جیسے ہی وہ سونے کے لئے لیٹی لائٹس اوف ہوئیں تو مایل بےآواز آنسوں بہاتی رہی جتنا دل ہلکا ہوا وہ رو رو کر کرتی رہی یہاں تک کے آنسوؤں جزب کرنے والا تکیہ بھی گھیلا ہوگیا۔۔۔۔
اگلے دن سے شادی کی تیاریاں زور و شور سے ہو رہی تھیں ہر جگہ صرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔۔ لڑکیاں زور و شور سے ڈھولکی بجا کر ناچنے گانے میں مصروف تھیں صالحہ بیغم بھی شوہر کی غیر موجودگی میں اٹھ کر ایک دو ڈُمکے لگا کر پھر ڈر کے مارے بیٹھ جاتیں۔۔
المیر کو یہ سب پسند نہ تھا مگر صالحہ اسے زبردستی لے آئیں ہلکی پھلکی چہرے پر ہلدی لگا کر رسم پوری کی پھر اسی دن رات کو مہندی کا فنکشن بھی تھا جس کا انتظام ثمروز صاحب کے گارڈن میں کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہیں خوبصورت اسٹیج سجايا گیا تھا جہاں پر زنیشہ اور المیر کی مہندی کی رسم ادا کی گئی المیر کی نظر بس ایک دفع مایوں کے جوڑے میں ملبوس زنیشہ پر گئی تو المیر نے دیکھا اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
” نجانے جان کے کرتی ہے یا اتنا خوفزدہ رہتی ہے ” وہ ہلکے سے بڑڑایا۔۔۔۔۔۔
فنکشن رات کے تین بجے تک چلا آبی اور شاذ نے بھائی کی شادی میں جم کر ڈانس کیا اپنے دوستوں کے ساتھ شگفتہ اور صالحہ بھی شوہروں کو ناپاکڑ خوشی سے ناچ رہیں تھیں آج صالحہ کے پیرڑ زمین پر نہ پڑ رہے تھے ہر کوئی زنیشہ اور المیر کی جوڑی کو خوب سرہا رہا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ کا چہرہ پورے ایونٹ کے دارون ڈھکا ہوا تھا المیر بھی اسکا چہرہ نہ دیکھ سگا نہ اسے خوائش تھی ذھن تو اِسکا کہیں اور ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کب گزری پتا ہی نہیں چلا صبح ہوتے ہی ایک ہلچل مچ گئی سب گھر کے بڑے حال کا انتظام دیکھنے صبح ہی صبح وہیں چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔
صالحہ صبح ہوتے ہی ڈرائیور کے ساتھ جاکر المیر کی شیروانی لی آئیں۔۔ شاز اور آبی کے کپڑے پہلے ہی آچکے تھے بس المیر کے کپڑے بیچ میں لٹک گئے تھے۔۔۔۔۔۔
صالحہ المیر کو کپڑے دیکر شاز کو اسکے پیچھے لگا کر خود گھر کی عورتوں کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد پارلر چلی گئیں۔۔ صالحہ نجمہ اور شگفتہ نے ایک جیسا سوٹ لیا تھا جس پر بھاری ڈائمنڈ کا کام ہوا تھا جبکے مایل کے لئے انہوں نے میکسی سلوائی تھی جو کے گرے اور پنک کنٹراسٹ میں تھی۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف دو تین بجے تک زنیشہ کو زبردستی کھانا کھلا کر امبرین پارلر لے آئی خود بھی وہ وہیں سے تیار ہوئیں۔۔
آٹھ بجے کے قریب وہ سب حال میں پہنچے زنیشہ کو برائیڈل روم میں بٹھایا گیا تھا۔۔۔ دلہے کے آنے سے پہلے ہی کھانا کھل گیا سب مہمانوں نے کھانا کھایا تھوڑی دیر بات ہی دلہن کو برائیڈل روم سے باہر لایا گیا۔ دلہن کے آتے ہی مردوں کی سائیڈ سے مرد اور دلہا بھی حال کے دوسری سائیڈ (عورتوں کی سائیڈ)بارات لیکر آئے۔۔۔۔۔
” کیسا ہے میرا بچا ” سمرین نے آکر اکیلی بیٹھی مایل کو گلے لگایا جو سب سے الگ پیچھے ایک کرسی پر بیٹھی اسٹیج کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں؟؟ ” مایل انہیں یکدم دیکھ کر چونک گئی وہ آئیں ہیں تو انکا بیٹا بھی ضرور آیا ہوگا جسے ملنے کی مایل کی کوئی خوائش نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔
مایل اس رشتے کے لئے راضی بھی نہ تھی نہ اسکا دل تھا مگر ماں کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے یہ زہر بھرا گھونٹ پی لیا۔۔۔۔۔۔
سمرین اسے اپنے ساتھ بیٹھا کر باتیں کرنے لگی مگر مایل کا دل و دماغ صرف اسٹیج کی طرف تھا۔۔۔۔۔۔
اسٹیج کی طرف جاتے المیر کے ہر بڑھتے قدم سے مایل کا دل رک رہا تھا۔۔ وہ بےحس اُس تک پہنچ چکا تھا۔۔۔
رسم کے مطابق دلہے کو آئینے میں سے دلہن کا چہرہ دکھایا گیا۔۔۔
پھر دودھ پلائی کی رسم ہوئی…..
اسی کے ساتھ مختلف اور رسمیں ہوئیں جس کے بعد المیر اٹھا تھا اس نے زنیشہ کا مہندی سے سجا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا جو برف کی مانند ٹھنڈا ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
مایل دم سادے اسے دیکھ رہی تھی آس پاس سب لوگ انہیں گھیرے ہوئے تھے لیکن وہ احتیاط سے سنبھال کر اپنی بیوی کو لے جا رہا تھا۔ زنیشہ کو قرآن شریف کے سائے تلے رخصت کیا جا رہا تھا اسکے ماں باپ بھائی سب اسکی جدائی پر آنسوں بہا رہے تھے۔۔۔
ماں کی تو حالت ایسی تھی سینا پکڑ کے رو رہیں تھیں جبکے روحیل اپنی بہن سے گلے ملتے ایسی حالت میں تھا جیسے بس رونے لگا ہو۔۔ جبکے زنیشہ بھی روتے روتے نڈھال ہوچکی تھی۔ صالحہ نے دونوں کو الگ کر کے روحیل کو دلاسا دیا۔ اور آخر کار زنیشہ رخصت ہوکر المیر کے سنگ سکندر ولا آگئی۔۔۔۔۔۔۔
صالحہ اور باقی سب گھر والوں نے ملکر ان دونوں کا استقبال کیا۔۔۔ گھر کے اندر آتے ہی صالحہ نے ایک دو رسمیں زنیشہ سے کروائیں پھر کچھ دیر تک زنیشہ سب کزنس کے ساتھ بیٹھی انکی ہنسی مذاق کا شکار ہوتی رہی۔۔۔۔ صالحہ نے خود ہی سب کو بھگا کر لڑکیوں سے کہ کر زنیشہ کو المیر کے روم میں بھیجا۔۔۔۔۔۔۔۔
مایل کے لئے آج کی رات کانٹوں بھری تھی۔۔۔
زنیشہ اسکی بیسٹ فرینڈ آج اس شخص کی سیج سجا رہی تھی جسے اس نے بےحد چاہا تھا اتنا کے اسکی چاہت میں وہ ماں اور اپنوں کی نظروں میں خود کو گِرا چکی ہے۔۔۔۔۔
اسکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ آج اسے احساس ہو رہا تھا رات کتنی لمبی ہے جو گزرنے کا نام نہیں لی رہی نجانے کتنی دیر وہ بےچینی سے انتظار کرتی رہی اسے پتا ہی نہ چلا کب اسکی آنکھ لگی صبح جب وہ اٹھی نظر گھڑی کی طرف گئی تو صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بغیر چپل پہنے دوڑتی ہوئی المیر کے کمرے کے پاس گئی تو وہ بند تھا۔۔ اسے لگا شاید وہ نیچے ہوں تبھی بغیر منہ دھوئے نیچے چلی آئی دیکھنے کے لئے کے شاید وہ وہاں ہو مگر وہ وہاں بھی نہ تھے۔ الٹا نجمہ نے اس کی ایسی حالت دیکھ کر آنکھیں دیکھائیں مگر مایل کا دماغ کہیں اور ہی تھا۔۔۔۔۔
” اتنے مہمانوں کے سامنے تم ایسی حالت میں آئی ہو ” نجمہ نے دانت پیستے کہا اور سب کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی اسکا بازو سختی سے پکڑ کے کمرے میں لے آئیں۔۔۔۔۔
” مایل ” نجمہ نے اسے بازؤں سے جھنجوڑا وہ ہوش میں نہیں لگ رہی تھی اسکا ذھن کہیں اور تھا۔۔۔۔۔۔
” امی مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔۔ ماموں کے پاس لے چلیں یا نانا کے پاس مجھے یہاں نہیں رہنا نہیں رہنا۔۔۔۔۔ ” وہ یکدم چیخ اٹھی نجمہ اسکی حالت دیکھ کر ڈر گئی پھر وہی سب ہو رہا تھا ایک بار پھر نجمہ نے الماری کی ڈرور سے وہ دوائی نکالی اور زبردستی اس کے منہ میں ڈالی۔۔۔۔۔
نجمہ اسے بیڈ تک لے آئی اور تھوڑی ہی دیر بعد مایل ہوش و حواس سے بیگانہ نجمہ کی گودھ میں گِر گئی۔۔۔ نجمہ نے اسکا ماتھا چوما اور بےآواز آنسوں بہاتی رہیں۔ لیکن انہوں نے سوچ لیا تھا مایل کی شادی اب وہ جلد از جلد کرواکر رہیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں جب نیچے آئے تو سب کنزنس نے مل کر ہوٹنگ کی۔۔۔۔ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھتے ہی المیر نے تو نئی نئی چیزیں دیکھ کر خوب پیٹ بھر کر ناشتہ کیا مگر زنیشہ کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگا رہی تھی المیر نے خود ہی ہر ڈش میں سے ایک ایک چیز اٹھا کر زنیشہ کی پلیٹ بھر دی اور بار بار خود ہی اسے ٹوکتا تاکے وہ کھائے نجمہ جن تھیکی نظروں سے دونوں کو دیکھ رہیں تھیں زنیشہ کو اندازہ ہوتا وہ وہیں بےہوش ہوکر گِر جاتی۔۔۔۔۔۔۔
رات میں ولیمہ تھا جسکی تیاری ناشتے کے بعد ہی شروع ہوگئی۔ ولیمہ بھی خیر و عافیت سے گزر گیا صالحہ کے پیڑ زمین پر نہ پڑ رہے تھے وہ تین سو سے زیادہ تصویریں کھینچوا چکی تھیں اپنی، ،، بچوں کی دلہا دلہن اور پوری فیملی کی پھر بھی پیٹ نہ بھرا۔۔۔۔ سب مہمانوں سے ملتے بھی وہ اتنی خوش تھیں کے نجمہ کو لگ رہا تھا جیسے زنیشہ پہلے سے انکی پسند تھی حالنکے اس ماں کا ارمان پورا ہوا تھا عرصے سے وہ اپنے بیٹے کی شادی کی خوائش مند تھیں۔۔۔۔۔۔۔
آبی نے بھی شادی اور ولیمے پر خوب ٹک ٹاک وڈیوز بنائیں جس پر ویوز کی بڑھتی تعداد دیکھ کر اسکا دل ناچنے کو کر رہا تھی۔۔۔۔۔۔
ولیمے کی رات ہی سب مہمان گھروں کو لوٹ گئے صبح جب وہ دونوں ناشتے کی ٹیبل پر آئے تو حیدر مرتضیٰ نے وہاں مایل کے نکاح کا اعلان کیا۔۔۔۔۔
” اتنی جلدی بھائی صاحب ؟؟؟ ” راتوں رات نجانے کیا ہوگیا تھا حیدر مرتضیٰ کو کے کسی کی رائے لیے بغیر فیصلہ کر ڈالا صالحہ کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں یہ سن کر۔۔۔ آریز بھی حیران تھا بھلا سب کی شادیاں ایسے بھاگن بھاگ میں کیوں کر رہے ہیں؟؟؟؟؟
” ہاں صالحہ جب تک یہاں ہوں کام نپٹ جائیں اچھا ہے ذمداریاں پوری ہو جائیں گی۔۔۔۔۔ ” کسی نے مزید کچھ پوچھا ہی نہیں جبکے نجمہ کے دل میں گویا سکون اتڑ گیا۔ ناشتے کی ٹیبل پر سب تھے سوائے مایل کے اور آج شاید وہ کسی کو یاد بھی نہ تھی یاد تو تب آئی جب نکاح کا ذکر ہوا تھا۔۔۔۔۔آریز اور نجمہ اسکی غیرموجودگی کی وجہ جانتے تھے مگر باقی سب ناپاکر شاید تھکن ہی سمجھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
” مایل نہیں آئی؟؟؟؟ ” سوال صدیق صاحب نے کیا تھا انہیں اچانک خیال آیا مایل یہاں نہیں۔۔۔۔۔ ورنہ شادی کی بھاگ دور نے انہیں اتنا تھکا دیا تھا کے وہ بس سونا چاہتے تھے ناشتہ کرنے کی بھی ہمت نہیں تھی لیکن کل سے پیٹ بھی خالی تھا بھاگ دور نے سب ہضم کروا دیا۔۔۔
” جی بھائی صاحب وہ سو رہی ہے کل رات دیر تک پڑھتی رہی ہے۔۔۔۔۔ ” زنیشہ مایل کا ذکر سن کر چونکی ابھی اسکا سامنا مایل سے بھی ہونا تھا وہ بھول ہی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” ہمممم۔۔۔۔۔۔ ” صدیق صاحب نے ہنکار بھرا۔۔۔۔۔
حیدر مرتضیٰ نے شام کو سمرین اور ثمروز صاحب کو بلا کر نکاح انکی خوائش کے مطابق فیکس کردیا۔ سمرین خوشی خوشی آج سکندر ولا سے گئیں تھیں مگر وہ مایل کو خرچی دینا بھولی نہیں تھی وہ تو اسے اپنی رنگ نکال کر زریق کی نام کی انگھوٹی بھی پہنا کے گئی مایل خالی خالی نظروں سے اپنی انگلی میں سجی اس انگھوٹی کو دیکھنے لگی کوئی احساس ہی نہیں تھا کچھ بھی نہ تھا اس نئے رشتے کو لیکر۔۔۔۔۔۔
ولیمے کے بعد اگلے ہی دن زنیشہ کو المیر اسکے گھر چھوڑ آیا خود بھی وہ کافی دیر وہیں رہا پھر گھر چلا آیا۔ اسکا دل چاہ رہا تھا آفس چلا جائے بوریت ختم کرنے کے لئے مگر اسے حیدر مرتضیٰ نے سخت الفاظوں میں کہا تھا ایک ہفتے تک وہ انہیں آفس میں نہ دیکھے۔۔
حیدر اور صدیق صاحب نے کچھ جانے والوں اور رشتداروں کو مایل کے نکاح میں انوائیٹ کیا تھا کھانے کا ارینجمنٹ گھر پر ہی تھا گھر میں ہی نکاح کا سارا بندوبست کیا تھا گھر کا حال اچھا خاصا بڑا تھا۔۔ گھر کے کونے کونے کو خوبصورت پھول کی لڑیوں سے سجايا گیا تھا ایک دن پہلے سے ہی حیدر مرتضیٰ نے تیاری شروع کردی تاکے آخر میں کچھ رہ نہ جائے اگلے دن نجمہ شگفتہ کے ساتھ مایل کو پارلر لے گئی جب کے زنیشہ اور صالحہ گھر میں ہی تیار ہوئیں تھیں اور مہمانوں کو خوش آمدید کر رہیں تھیں۔ زنیشہ بڑھ چڑھ کے حصہ لے رہی تھی جو جو صالحہ کہ رہیں تھیں وہ فوراً سے وہ کام کرتی جا رہی تھی چاہے وہ وینڈنگ پلینر کو فون کرنا ہو یا کھانے کے انتظام چیک کرنا۔۔۔۔۔۔۔
چھ بجے تک نجمہ مایل کو پارلر سے لے آئیں۔۔۔ جس نے لائٹ پنک کلر کے شرارے کے ساتھ لونگ شرٹ پہنی تھی وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی صالحہ نے جب اسے دیکھا تو باقاعدہ نظر اتاری انکے منہ سے بےساختہ ماشاءالله نکلا۔۔۔۔
” میرے خدا آج تو چاند ہمارے گھر میں ہی نکل آیا ” صالحہ نے اسکا ماتھا چومتے کہا وہ بس خالی خالی نظریں زمین پر ٹکائے ہوئے تھی۔۔۔۔
نجمہ اسے فلحال صالحہ کے کمرے میں لے آئیں جہاں شگفتہ نے اس پر پڑھ کے کچھ پھونکا۔۔۔
” زنیشہ بچے مایل کو یہ اوڑھا دو ” صالحہ نے زنیشہ کو دلہن کی چُنری پکرائی زنینشہ کچھ جھجھک سی رہی تھی۔۔۔۔۔ صالحہ خود کمرے سے نکل گئی اب کمرے میں وہی دو تھیں۔۔۔۔۔۔۔
مایل کی نظریں جھکی ہوئیں تھیں وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی مگر زنیشہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے کے کہیں مایل اسے سنا نہ دے یا بےعزتی نہ کردے تبھی نجمہ سونے کے کنگن لیکر کمرے میں آئیں۔۔۔۔
” کیا کر رہی ہو؟؟ ” انکا لہجہ اتنا سخت تھا کے زنیشہ کا جسم کانپ اٹھا مایل بھی نظریں اٹھاۓ اپنی ماں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
” وہ۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔ چُنری۔۔۔ ” نجمہ نے کھینچ کر اسکے ہاتھ سے چُنری تقریباً چھینی زنیشہ خوف آنکھوں میں سموئے انکی حرکت سے بلکل ہل کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔
” یہاں سے جاؤ میں خود کر لونگی میری بیٹی کے آس پاس تک تک نظر نہ ہو ” نفرت میں ڈوبے الفاظ وہ اسکے منہ پر کھینچ کر مار رہیں تھیں زنیشہ انکے لب و لہجے سے اس قدر خوفزدہ ہوگی تھی کے وہاں سے فوراً بھاگ کر نکلی۔۔۔۔
نجمہ نے اسکے جاتے ہی نفرت سے اُسے دیکھا۔۔۔
” میں آتی ہوں “
بیٹی کی چُنری اور کنگن وہیں رکھ کر ایک کام یاد آنے پر جلدی سے کمرے سے نکل گئیں ۔۔۔مایل اس چُنری کو دیکھ رہی تھی جس پر خوبصورتی سے لکھا ہوا تھا
” زریق کی دلہن ” تبھی مایل جس کی ہتھیلی پسینے سے بھیگی ہوئی تھی اسے قریب سے المیر کی آواز آئی۔۔۔۔۔۔
” امید کرتا ہوں زریق مایل کو خوش رکھے گا!!!!! تم پر یقین کیا ہے میں نے۔۔۔۔۔ اسے کوئی تکلیف نہیں آنی چاہیے۔۔۔۔۔ ” مایل کے ارد گرد سناٹے بھکر گئے اتنا بڑا دھوکا؟؟؟ اسے پاگل بنایا؟؟؟ کیا وہ اس سے جان چھڑوانا چاہتا تھا مگر کیوں؟؟؟؟ اپنی بیوی کے لئے؟؟؟ جب وہ اس سے نفرت کرتا ہے پھر وہ کون ہے اسکی زندگی کا فیصلہ کرنے والا؟؟؟کس نے اسے حق دیا وہ اسکا حکمران بنے؟؟؟
مایل ایک جھٹکے سے اٹھی اور قدم اٹھاتی تیزی سے اس بےحس کے پاس آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آپ کے علاوہ مجھے کوئی خوش نہیں رکھ سکتا سمجھے آپ۔۔۔۔ “وہ اتنی تیزی سے بول رہی تھی کے اسکی سانسیں پھولنے لگیں۔۔
وہ رونے کے ساتھ ساتھ چیخ رہی تھی۔ چُپ چاپ خاموشی سے رہتے اسکے اندر کا لاوا ایک دم پھٹ پڑا تھا وہ یہ کیوں نہیں سمجھتا خوش وہ صرف المیر کے ساتھ رہ سکتی ہے۔۔ جو اِسکی خوشی ہے۔۔۔
” مایل ” وہ حیران ہی تو رہ گیا تھا اسے اپنے پیچھے دیکھ کر یقیناً وہ سب سن چکی ہے۔۔۔۔وہ تو یہاں اپنی ماں سے ملنے آیا تھا اسے کیا پتا تھا مایل یہاں ہوگی
” زریق تمہیں۔۔۔۔ “
” نہیں نہیں۔۔۔۔ ” اس نے چیخ کر اپنے کان بند کرلئے۔۔۔
” آپ کے علاوہ کوئی نہیں سمجھے آپ کوئی نہیں۔۔۔۔ ” وہ چیخ رہی تھی المیر کنگ رہ گیا اس لڑکی کو ذرا اپنی عزت کی پروا نہیں تھی المیر نے کمرے کا دروازہ بند کرلیا وہ اپنی اور اسکی عزت کا تماشا نہیں بنانا چاہتا تھا اگر وہ چلا بھی جاتا یہاں سے تو مایل شاید نیچے نہ آتی تبھی وہ اسے سمجھانے کے لئے رُکا تھا۔۔۔۔۔
” شٹ اپ مایل۔۔۔۔ ” وہ اس سے بلند آواز میں دھارا۔۔۔۔
” یو شٹ اپ۔۔۔ آپ دونوں نے مجھے چیٹ کیا دھوکا دیا۔۔ پہلے سے ہی آپ دونوں کا آفیر۔۔۔۔ ” المیر کا ہاتھ اٹھا تھا اور اگلے الفاظ اسکے منہ میں ہی دب کے رہ گئے مایل بےیقینی سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔
” ایک لفظ نہیں مایل۔۔۔ ایک لفظ نہیں سمجھی۔۔ ” اسکا بس نہ چلتا سب کچھ تباہ کردیتا اتنا غصّہ اسے شاید ہی کبھی زندگی میں آیا ہو۔۔۔۔۔
” آپ کون ہوتے ہیں میری زندگی کے فیصلے لینے والے؟؟ آپ کو کس نے حق دیا خدا بنے کا؟؟؟ میں کیوں مانوں آپ کی بات آپ ہیں کون میرے؟؟؟؟؟ ” وہ سہی تو کہ رہی تھی المیر تھا کون اسکا؟؟ اسے کیا حق ہے اسے آباد یا برباد کرنے کا؟؟؟؟؟؟
” تم خود ہاں کہ چکی ہو!!!! راستہ اسے بےشک میں نے دیا تھا پر پسند وہ تمہاری ہے تبھی آج نکاح۔۔۔۔۔ ” المیر نے جیسے اسے زمین پر لا پٹکا مایل نے اپنے کان بند کرلئے۔۔۔۔ وہ اسکی نہیں اسکی ماں کی پسند تھا۔۔۔
تبھی نیچے سے شاذ نے اونچی آواز میں اطلا دی۔۔۔۔۔
” مولوی صاحب آگئے ہیں “
یہ خبر سن کر مایل کے جسم سے جان ہی نکل گئی المیر کچھ کہتا اس سے پہلے ہی وہ روتے روتے چیخی۔۔۔۔۔۔
” میں نہیں کرونگی شادی سنا آپ نے میں ساری زندگی ایسے بیٹھی رہونگی لیکن شادی نہیں کرونگی “
وہ پوری قوت سے چیخی۔۔۔
” شٹ اپ مولوی صاحب آگئے ہیں۔۔۔ آگر پانچ منٹ میں تم نیچے نا آئیں تو دیکھنا ” وہ لہو رنگ آنکھوں سے اسے تنبیہ کرتا باہر جانے کے لیے مڑا۔۔۔۔۔۔۔
” میں آپ کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرونگی سنا آپ نے۔۔۔۔ ” وہ اسکے پیچھے سے چلائی۔۔ جاتے جاتے وہ مڑا اور ایک زنانے دار تھپڑ سے اسے نوازا۔۔
وہ بے یقینی سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی آج دوسری بار اسکا ہاتھ اٹھا تھا۔۔ اس نے آنسوؤں کو بےدردی سے رگڑا۔۔وہ دونوں اس وقت کمرے میں تنہا تھے وہ آنسوؤں بھری آنکھوں سے اسے تک رہی تھی کے نوک کی آواز آئی۔۔
” چچی تیار کریں اسے میں یہیں ہوں “
اس نے دروازہ کھول کر چچی کو اندر بھیجا۔۔۔ جو اپنی بیٹی کی بھیگی آنکھیں دیکھ تڑپ اٹھیں لیکن اب کیا ہوسکتا ہے؟؟؟ وہ اسے تیار کرنے لگیں پھر سر پر لال دوپٹا اوڑایا۔ اب انکی نظریں المیر پر مرکوز تھیں جسے انکی بیٹی دیوانوں کی طرح چاہتی ہے وہ اسے تیار دیکھ کر اس بےجان وجود کی طرف بڑھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنے ساتھ کھینچتا ہوا چلتا رہا۔۔
” نہیں پلیز۔۔۔ میرے ساتھ یہ ظلم مت کریں۔۔۔ روک جائیں پلیز ما۔۔۔۔۔ “ وہ دونوں بس سڑیاں عبور کر کے نیچے جانے والے تھے کے وہ رو پڑی۔۔۔
” بھائی کہو۔۔۔ اس مقام سے نا گِرو جو میں نے تمہیں دیا ہے۔۔ “ وہ غصّے سے بولا اسکے ماتھے پر کئی شکنیں تھیں آنکھیں سرخی مائل۔
” آپ پچتائیں گئے۔۔۔ آپ روئیں گئے، تڑپیں گئے مجھے پکاڑے گئیں لیکن میں نہیں آؤنگی۔۔۔۔۔ پلیز یہ شادی روک دیں میں کسی اور کا تصور بھی نہ کر سکتی پلیز۔۔ “ وہ ضبط کی انتہا پر تھی۔۔ اس شخص نے کیا کچھ نہیں کیا اسکے ساتھ؟؟ اسکی محبت کو ٹھکرایا، اسے بار بار ذلیل کیا اور اب اپنے پسند کیے شخص کے ساتھ اسے نکاح کے بندھن میں باندھ رہا ہے۔۔ بغیر اسکی اجازت کے؟؟
” اب ایک لفظ نہیں بولنا۔۔۔ “ وہ اسکی دھار سے ایک پل کو سہم گئی
” اللہ‎ کرے آپ مر جائیں “ بےبسی سے کہتی وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رو دی۔۔
” انشااللہ “ وہ اس وقت پتھر بنا ہوا تھا
اسکے الفاظ سن کر وہ کانپ اٹھی۔۔۔ آخر کب اس نے اسکا یہ رویہ دیکھا ہے۔۔وہ اسکو کھینچتے ہوے نیچے لے آیا وہ چیختی رہی لیکن اسے رحم نا آیا۔۔
” آگے کوئی تماشا مت کرنا ہماری عزت کا خیال نہیں تو کم سے کم چچا کا سوچنا۔۔۔ ” یہاں آکر وہ بےبس ہوگئی۔۔
اسکی چلتی زبان کو چُپی لگ گئی۔۔۔ حال میں مولوی کی آواز گونجی اسکی ماں اور تائی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” قبول ہے “
” نہیں کرتا میں تم سے محبت “
وہ گھونگٹ میں چھپی اپنی بےبسی پر رو دی
” قبول ہے “
” گیٹ اوٹ اوف مائے روم “
اسکے آنسوؤں اسکا ہاتھ بھگو رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
” قبول ہے “
” میری پسند تم کبھی نہیں ہو سکتیں۔۔ “
نکاح ہو چکا تھا۔ دو دن بعد رخصتی تھی۔۔ اسکے اندر جینے کی رمک ختم ہو چکی تھی وہ نڈھال سے اٹھ کر ماں کی مدد سے روم میں چلی آئی۔۔۔
” دیکھا نکاح کے ٹائم المیر اسے لایا آخر وہی تو ہے جسے مایل سب سے زیادہ عزیز ہے ورنہ میں سوچ رہی تھی کچھ دن سے مایل المیر اور آریز کے مزاج نہیں مل رہے۔۔۔۔۔ ” صالحہ نے ہنستے ہوئے کہا نکاح کے بعد وہ سب گھر کے عورتیں کھانا کھانے کے لئے بیٹھی تھیں تبھی صالحہ نے کہا۔۔۔۔۔۔۔
زنیشہ بس مسکرا دی۔۔۔۔
نجمہ نے نفرت سے اسے دیکھا آج المیر ہی سہی اس نے کم سے کم مایل کا نکاح زریق سے کرایا تو ورنہ نجمہ کو۔ ڈر تھا وہ تماشا کریگی اپنی زندگی برباد کردیگی اسلئے آج نجمہ نے المیر کو روکا نہیں۔۔۔۔۔ نجمہ زبردستی ان کے ساتھ کھانے کے لئے بیٹھی تھی تاکے گھر کا ماحول سہی رہے ورنہ دل تو بیٹی کی حالت دیکھ کر ہر چیز سے اٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی تک نکاح والے کپڑوں میں ملبوس اپنی محبت کا ماتم کر رہی تھی کے بوٹوں کی آواز اسے اپنے بےحد قریب آتی محسوس ہوئی وہ جو کھڑکی پر ٹانگوں کو سیکڑ کر اپنا سر اس پر رکھے بیٹھی تھی قریب آتی اس آواز سے اپنی پلکوں کو جنبش دیتے اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے کا نظارہ بےحد تکلیف دہ تھا وہ دشمن جاں اسکے سامنے ہی کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آپ نے صرف میرے نہیں اپنے ساتھ بھی غلط کیا ہے آپ کو احساس نہیں غلطی پر ہیں آپ بہت پچھتائیں گئے “
دونوں ہاتھ باندھے سنجیدگی سے وہ اس کے بلکتے وجود کو دیکھ رہا تھا۔
وہ اس سے تقریباً تیرا سال چھوٹی ہوگی مگر اسکی ضد ہمیشہ وہ اسکی ضد کے آگے ہار جاتا وجہ یہی تھی کے وہ اسکے عزیز چچا کی اکلوتی بیٹی تھی اور دنیا میں قدم رکھتے ہی وہ باپ کے سائے سے محروم ہوگی تبھی شاید وہ المیر کے دل کے بہت قریب تھی ہوتی بھی کیسے نہ وہ اپنے چچا کی خوشبو اسی میں تو ڈھونڈتا تھا آخر وہ بھی ضد میں بلکل اپنے باپ جیسی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” کبھی نہیں!!! یہ پچھتاوے میرے مقدر میں نہیں “
وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بلک رہی تھی ابھی بھی وہ اسی پوزیشن میں تھی۔۔۔۔
” محبّت زبردستی نہیں کرائی جاتی یہ فطری عمل ہے ہوئی تو تباہی نہ ہوئی تو آبادی۔۔۔ مگر مایل مجھے محبت ہوئی بھی تو کبھی تم سے نہیں ہوگی میں نے صرف تمہیں اپن۔۔۔۔ ” وہ کہتے کہتے رکا وہ اسے اپنی بیٹی اپنی چھوٹی بہن مانتا تھا کیسے سمجھائے رشتوں میں ملاوٹ اسے پسند نہیں۔۔۔ جسے اپنی بہن اپنی بیٹی مانا ہو اسے ہمسفر؟؟؟ یہ سوچ ہی اسے خود سے نفرت کرنے پر مجبور کردیتی یہی وجہ ہے آج اسنے اپنی جان سے پیاری ہستی پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔
” تمہیں سو جانا چاہیے!!!! ان آنسوں کو پھوچنے کا اختیار اب میرے پاس نہیں۔۔۔۔ ” ہر قدم پیچھے کی جانب اٹھ رہا تھا مايل نے بےاختیار سر اٹھا کر دیکھا اور اسی وقت ایک وجود نے پیچھے سے اکر المیر کے کندھے پر سر رکھا۔۔۔۔
” آپ کہاں چلے گئے تھے؟؟ مجھے پریشان کردیا۔۔۔۔ ” مایل کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا دو دن ہو چکے تھے لیکن اب بھی وہ اس سچائی کو قبول نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
” پریشان نہ ہوا کرو بس واک کرنے آیا تھا “
” رات کے اس پہر ؟؟؟ اور واک کی کیا ضرورت ہے ویسے ہی اس شادی کی بھاگ دوڑ نے آپ کو دبلا کردیا ہے ” المیر اپنے سینے سے اسکے ہاتھ ہٹا کر پلٹا اور محبت سے اسکی کمر کے بازو حمائل کر کے اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔
مايل کے آنسوں میں روانگی آگئی۔۔۔آوازیں اب تک اسکے کانوں میں پڑ رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔یہ حرکت جان کر زنیشہ نے کی تھی یا شاید وہ اسکی موجودگی سے واقف نہیں تھی اسے دیکھے بغیر ہی وہ پلٹ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
” کہیں سے دبلا پتلا نہیں ہوا!!! اس خوشی میں وِیٹ مزید بڑھ گیا ہے ” دل کا درد تھا کے بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی رات قیامت سے کم نہ تھی ہر پل بس ایک ہی سوچ تھی۔۔۔۔۔
جمعرات کو وہ اس شخص کی سیج سجائے گی جسے دیکھنے تک سے اسنے انکار کردیا تھا۔۔۔۔۔وہ پسند اس شخص کی تھا جسے اس نے ” بےحد ” چاہا تھا۔۔۔۔نجانے وہ کون ” اجنبی ” تھا جو اب اسکا ہمسفر بن چکا تھا۔۔۔۔
وہ آنکھیں موندے تھکن سے بےحال وجود کے ساتھ ویسے ہی لیٹی رہی ہوش تب آیا جب وہ دشمنِ جاں ایک بار پھر اسے اٹھانے چلا آیا۔۔۔۔
” مایل یہاں کیوں سو گئی؟؟؟ اٹھو ” وہ نیند میں جھول رہی تھی۔۔۔۔ آنکھوں میں نیند کا خمار تھا اسکا ذھن سو رہا تھا اس نے ایک نظر المیر کو دیکھا اور اسکے کندھے سے لگے اسنے سونے کا سوچا مگر اس سے پہلے ہی المیر نے اسے جھنجوڑا اور اسے کمرے تک چھوڑ آیا۔۔۔ بند ہوتی آنکھوں سے اسنے بس اس شخص کا چہرہ دیکھا تھا جو آہستہ آہستہ اسکی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔