Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 09
Rate this Novel
Episode 09
۔
” مایل یہی کپڑے پہنا آج اور بالوں کو کھلا مت چھوڑنا۔۔۔ اچھا سا کوئی ہیر اسٹائل بنانا لڑکیوں کو دیکھو خود پر کتنا دیہان دیتی ہیں یہی تو عمر ہے۔۔۔ نجانے تمہیں کب سمجھ آئے گا!!! کوئی اچانک سے مہمان وغیرہ آئیں تو اس حلیے میں دیکھ کر دوبارہ آنے سے بھی کترائیں گئے۔۔ ” نجمہ نے اسکے حلیے کو دیکھ کر کہا جس نے آج کل کے فیشن کے حساب سے پھٹی جینز پر لونگ شرٹ پہنی تھی۔ اور بال ایسے پھٹے ہوے تھے لگ رہا تھا دو دن سے کنگی نہیں کی۔۔۔۔۔۔
” امی بیڈ شیٹ چینج کرنے دیں پھر آج ایڈمٹ کارڈ بھی لینے جانا ہے ” مایل نے تکیہ کے کورز چینج کرتے کہا۔۔
” کرلو پھر نہا کر یہ نیا جوڑا پہنا اور یونیورسٹی سے آکر شکل سدھارنا خبردار جو ایسا بنا منہ دھوئے نیچے آئیں بھی تو۔۔۔۔ ” انکی بات مایل نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دی۔ بھلا اسکی شادی ہو رہی ہے؟؟؟ جو تیار ہو۔۔۔ یقیناً نکاح کی مبارکباد دینے رشتےدار آرہے ہونگے۔۔ اسے کیا؟؟ کون سی اسکی ہوئی ہے۔۔۔۔ وہ سر جھٹک کر گندی والی بیڈ شیٹ نکال کر میلے کپڑوں میں رکھ آئی اور صاف ستھری چادر بیڈ پر بچائی۔۔۔۔۔
بیڈ شیٹ چینج کرنے کے بعد وہ گرم پانی سے اچھی سے نہائی اور اپنے ڈاکومینٹس اور پرس لیکر جلدی نیچے چلی آئی۔۔۔ اس ڈر سے کہیں گھر کے مرد چلے نہ جائیں پھر اسکے ساتھ یونی کون جائے گا؟؟
وہ ناشتہ کرنے آئی تو سب جا چکے تھے کیوں کے ٹیبل خالی تھی۔ آبی اسکول چلا گیا تھا جبکے باقی اپنے کاموں کو نکل چکے تھے۔۔۔ وہ بُرا سا منہ بنا کر کچن میں چلی آئی جہاں شگفتہ کچن کی صفائی کر رہیں تھیں اور صالحہ نجانے کس کے لئے چائے بنا رہیں تھیں۔۔۔۔۔
” ارے مایل آج تم نے یونی جانا تھا نہ میں نے المیر کو روک رکھا ہے وہ باہر کار میں تمہارا ہی انتظار کر رہا ہے ” صالحہ نے اسے ٹوسٹ تھما کر جلدی سے اُبلتی چائے کپ میں ڈال کر کپ اسے پکڑایا انہوں نے چائے مایل کے لئے ہی بنائی تھی۔ اور ٹوسٹ بھی الگ سے گرم کر کے اوین میں رکھا تھا۔۔۔۔
المیر کا نام سن کر مایل کا ہلق تک کڑوا ہوگیا لیکن وہ کر بھی کیا سکتی تھی؟؟ کل مایل نے ہی صالحہ سے کہا تھا اسے جلدی سونا ہے کیوں کے کل ضروری کام سے یونی جانا ہے۔۔ ورنہ سب خواتین، کزنس، گھر کے مرد رونک لگاۓ بیٹھے تھے اسے تو ویسے بھی اس شادی سے شدید نفرت تھی۔۔ اور شادی سے زیادہ دلہا دلہن سے نفرت تھی۔۔۔ تو کیسے وہ المیر کے سامنے پوری رات بیٹھتی؟؟؟
” تائی امی آپ نے خومخواہ روکا اُنکا کوئی ضروری کام نہ ہو ” مایل کو شدید کوفت ہو رہی تھی وہ اس شخص کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
” تم سے زیادہ ضروری نہیں ہے یہ کپ لیکر جاؤ کار میں پینا ” انہوں نے اسے جلدی بھگایا مایل مرے مرے قدموں سے ٹوسٹ کھاتی باہر گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی دل سے دعا نکل رہی تھی کے اسکے تایا ہی آجائیں وہ خوشی خوشی اسے چھوڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ یہی سوچتی باہر آگئی سامنے ہی المیر اپنے کار کے پاس ٹیک لگا کے کھڑا تھا مایل کا دل چاہا یہاں سے بھاگ جائے وہ اس شخص سے اتنی بےعزت ہو چکی تھی کے اسکا دل کبھی کبھی چاہتا یا اسے مار دے یا خود کو۔۔۔۔۔
ہر قدم اسے لگ رہا تھا موت کے قریب جا رہا ہے جب کے المیر سنجیدگی سے کھڑا اسکے پیڑوں کی لڑکھراہٹ دیکھ رہا تھا ایسے لگ رہا تھا کوئی زبردستی اسے اس طرف کھینچ رہا ہے وہ جانتا تھا اب مایل شاید ساری زندگی اس سے خود سے مخاطب نہ ہو لیکن یہ بھی سچ تھا جب تک کوئی مایل کے لائق نہیں ملتا وہ اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا خاص کر جب تک وہ اپنے پیڑوں پر کھڑی نہیں ہوجاتی۔۔۔ اسے بھول نہیں جاتی تب تک۔۔۔۔۔!!
دونوں اپنی ہی سوچوں میں گم تھے کے ایک کار زُن سے مایل کے قریب آرکی وہ حیرانگی کے ساتھ ساتھ خوشی سے جھوم ہی اٹھی۔ وہ کار آریز کی تھی بریک لگا کر وہ کار سے باہر نکل آیا۔۔۔۔
” سوری سوری میں لیٹ ہوگیا چلو آؤ جلدی بیٹھو!!!! ” آریز نے مایل کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیا اور اسے بیٹھنے کا کہا۔۔ جب وہ آرام سے کار کے اندر بیٹھ گئی تو آریز اسکی سائیڈ آیا اسے چائے کا کپ تھما کر اب وہ المیر کی طرف مُڑا۔۔۔
” میں مایل کو ڈراپ کردوں گا ” المیر کو اسکا آنا ناگوار گزرا پتا نہیں اسے مایل نے بلایا تھا یا وہ خود آیا؟؟؟
” ہم۔۔۔۔۔۔ ” اسکے چہرے سے غصّہ صاف جھلک رہا تھا۔ آیرز نے اسکا ہاتھ دیکھا جسکی مٹھی بنا کر شاید وہ اپنا غصّہ ضبط کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا پر آریز کا دل چاہ رہا تھا آج کے دن اسکی سوچوں کا رُخ اس عزیز ہستی کی طرف ہو جس کا اس نے دل دکھایا ہے تبھی وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے جان کر مسکرایا اور ہوا بھی یہی تھا پہلے تو المیر حیران ہوا پھر اس جسم میں انگارے دھکنے لگے جسکا اندازہ آریز کو ایسے ہوا کے اسنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر کار پر دے ماری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکا رواں رواں سلگا کر زُن سے کار اڑا لے گیا۔۔۔۔
” تھھھھھھھنننننننککککک یو سوووووووو مچ آریز بھائی۔۔۔۔۔ ” وہ اسکا ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھ کر خوش دلی سے مسکرایا۔۔۔
” وہ بھائی ہے میرا دل نہیں چاہ رہا تھا مگر آج کل ہمارے ستارے نہیں مل رہے۔۔۔۔۔۔ ” ڈرائیونگ کرتے وہ کہ رہا تھا اسکا لہجہ اداس سا تھا!!! مایل کو وہ کیا بتاتا ایک عرصے سے وہ جانتا تھا مایل المیر کے لئے خاص جذبات رکھتی ہے پر اس بات سے انجان تھا المیر کی خوائش وہ مایل نہیں تھی۔۔۔۔ ورنہ شاید بہت پہلے وہ مایل کی زمیداری خود اٹھا لیتا۔۔۔۔۔۔۔۔
” آپ کو کیسے پتا لگا ” وہ اسکے آنے کا پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
” کل رات تمہاری اور چچی کی باتیں سنی تھیں۔ اور اندازہ لگا سکتا ہوں شاید ایک دو ماہ تم المیر سے پک اینڈ ڈروپ سرویسسز نہ لو تو میں ہی اب تمہیں چھوڑونگا۔۔۔۔۔ میں جلدی آجاتا پر پیٹرول نہیں تھا وہی صبح صبح ٹنکی فل کروانے گیا تھا۔۔۔۔۔ ” اس نے اپنے دیر سے آنے کی وجہ بھی بتائی جسے سن کر مایل بس سر ہلا کر رہ گئی۔۔۔۔۔اور اپنی چائے آرام آرام سے پینے لگی تاکے اسکے چھینٹے کپڑوں پر نہ لگیں۔۔۔۔
یونی آگئی مایل نے جب اپنا ایڈمٹ کارڈ لیا تو آریز اسے واپس گھر چھوڑ کر خود آفس چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” مایل تم مجھ سے ناراض ہو؟ علی کو بھیجا تب بھی تم نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔ ” وٹساپ پر زنیشہ کا میسج دیکھ کر اسے غصّہ آرہا تھا سب کچھ اس سے چھین کر بھی وہ اسکے پیچھے پڑی ہے۔۔۔۔۔
” کوئی کام تھا؟؟ “
” تم ایسے کیوں بات کر رہی ہو میری کوئی بات بُری لگی ہے؟؟؟ اس دن بس مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا پھر بخار رہا تین دن تبھی نہیں آئی دوبارہ۔۔۔۔۔ ” زنیشہ کو اسکا لہجہ اسکا رویہ عجیب لگ رہا تھا۔ اسے لگا شاید وہ اس دن کے زنیشہ کے رویے کی وجہ سے ناراض ہے پر اس قدر ناراضگی؟؟؟ وہ دلہن بنی تھی تب بھی اپنی دوست کو بار بار یاد کرتی ماں سے پوچھ رہی تھی جو اس سے چھپ کر نجانے کہاں بیٹھی تھی؟؟؟ ابھی بھی زنیشہ نے اسے وائس نوٹ بھیجا تھا۔۔۔۔۔
” مایل؟؟؟؟ ” اسکا جواب نہ پاکر زنیشہ نے دوبارہ ٹیکسٹ کیا وہ وائس سن چکی تھی مگر اسکا جواب نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔
” مجھے تم سے بات کرنے کی کوئی خوائش نہیں ” مایل کا رپلائے دیکھ کر اسکا دماغ ماؤف ہوگیا۔۔۔۔ اتنی بےرُخی؟؟؟ مایل جانتی ہے زنیشہ ان رویوں کی عادی نہیں پھر بھی۔۔۔
” تم ناراض کیوں ہو پلیز بس وجہ تو بتاؤ؟؟؟ ” وہ بےصبری سے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
” میری زندگی چھینی ہے تم نے۔۔۔۔۔ ” وہ بھوکی شیرنی بنی ہوئی تھی اسکا بس چلتا زنیشہ سامنے ہوتی وہ اسکی گردن مڑور دیتی۔۔۔۔۔
” میں سمجھی نہیں۔۔۔۔ ” زنیشہ نے کانپتے ہاتھوں سے ٹائپ کیا مایل کا رویہ اسکی سمجھ سے باہر تھا وہ اس انتہا پر سوچ کر نہیں جانا چاہتی تھی جہاں اسے خود کا وجود دو لوگوں کے بیچ کانٹے کی طرح محسوس ہو۔۔۔۔۔اس نے تو المیر سے شادی کی بھی ہے بس۔۔۔ کیا مایل؟؟؟
” تم جیسی دوست سے اچھا تھا میں کوئی سانپ پال لیتی ڈستا بھی تو اتنی تکلیف نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ ” اسکا میسج دیکھ کر زنیشہ خوف سے کانپ اٹھی،،،، اسکا ذھن ماؤف ہوچکا تھا آنکھیں نمکین پانی سے بھرتی جا رہیں تھیں اسے لگ رہا تھا وہ اپنا عزیز سرمایہ کھو بیٹھی ہے مایل ہی تو اسکی ایک دوست ہے جو دل و جان سے عزیز ہے اسے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مایل نے آنکھیں رگڑیں جو بےتحاشا سرخ ہو رہیں تھیں۔ یہ دونوں میاں بیوی نجانے کیوں اسکے پیچھے پڑے ہیں۔۔۔
” آپی چچی آپ کو بلا رہی ہیں ” آبی لہراتا ہوا اسکے کمرے میں آیا اسے دیکھ مایل کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔
” یہ تم کیا کر رہے ہو بازو لہرا کر “
” ٹک ٹوک کا نیا ٹرینڈ چلا ہے وہ سیکھ رہا ہوں ” بولتے ہو وہ کمرے سے نکل گیا مایل نے بیڈ پر پڑا اپنا سرخ دوپٹا اٹھا کر سر پر اوڑھا اور چپل پہن کر کمرے سے نکل آئی۔۔۔۔۔
وہ نیچے آئی تو حال میں ہی اسے اپنی دونوں تائیاں اسکی امی کے ساتھ بیٹھیں نظر آئیں۔ انکے ساتھ کوئی عورت بھی تھی جو مایل کو آتا دیکھ غور سے اسے دیکھنے لگی اور مایل کے دیکھنے پر مسکرا پڑیں۔۔۔۔
نجانے انکی نظریں کیسی تھیں؟؟ پتا نہیں کیوں مایل کو وہ اپنی اپنی سی لگیں۔ انکی آنکھیں مایل کو دیکھ کر چمک رہیں تھیں اسے آتا دیکھ باقاعدہ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔
” ماشاءالله دور سے ہی تم دل جیت لیتی ہو معصوم تو ہو پیاری بھی بےانتہا ہو۔۔۔۔۔ ” انہوں نے اسکا چہرہ تھپتھپایا شاید وہ اپنی جلد بازی پر تھوری جھجھک رہیں تھیں ورنہ مایل کو لگ رہا تھا اسکا منہ چومیں گی مگر وہ یہ کرتے کرتے رُک گئیں۔۔۔۔۔
” بس آپ کی نظر ہے!!! ” نجمہ کا دل نجانے کیوں بھر آگیا۔ باپ کا سایہ نہ تھا اور مومنہ۔۔۔۔۔ انکی دونوں بچیاں ایک کا دکھ بھولے نہیں بھولتا اور مایل وہ اسے زندگی کی سب سے بڑی خوشی نہ دے سگیں۔۔ سمرین کا اپنی بیٹی کے لئے پیار دیکھ کر ہی آنکھیں نم ہو رہیں تھیں۔۔۔۔۔
” پر ہماری بچی کسی سے کم ہے کیا؟؟؟ جب بڑوں کا ہاتھ ہوتا ہے بچے انکی آغوش میں پرورش پاتے ہیں تو دنیا کے سائے انکی چالاکیوں سے دور رہتے ہیں مایل بھی اپنے تایا اور چچا کی پناہوں میں پلی ہے۔۔۔ ” صالحہ نے پیار سے مایل کو دیکھتے کہا جو بس ہونقوں کی طرح سب کو دیکھ رہی تھی کے ہو کیا رہا ہے؟؟
” ماشاءالله آپ دونوں بھی مایل کے لئے ماں سے کم
نہیں ” وہ عورت کہے بینا رہ نہ سگی انہوں نے مایل کو اپنے پاس بٹھایا.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” بس یہ ایک ہی چاند تو ہے ہم سب کے پاس ” شگفتہ کے ایک جملے سے سب کو وہی آٹھ سال پہلے والا منظر یاد آیا جب مومنہ کی میت اس گھر سے نکلی تھی سب چیختے ہوئے اسکے پیچھے گئے تھے اور وہ جو ان سب سے روٹھ کر گئی تھی واپس کبھی نہ لوٹی۔۔۔۔۔
” کیا ہوا آپ سب ایک دم سے اداس کیوں ہوگئے؟ ” وہ عورت انکے چہروں کی اداسی بھانپ گئی۔۔
” مایل کی بڑی بہن مومنہ بھی تھی۔۔۔ بس چھوٹی عمر میں ہم سب کو چھوڑ اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔۔۔۔ ” صالحہ کی زبان لڑکھڑا رہی تھی مگر وہ سوچ کر بول رہی تھی کہیں مومنہ کا اثر مایل کی زندگی پر نہ پڑے۔۔۔۔۔
” آئی ایم سوری میری وجہ سے آپ سب اداس۔۔۔۔ “
” نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ” شگفتہ نے بات پوری ہونے سے پہلے ہی کہا۔۔
” جب انسان پیدا ہوتا ہے اسکی موت کا وقت بھی مقرر کیا جاتا ہے!!! آپ سب بس یہ سوچا کریں وہ وہاں محفوظ ہوگی۔۔ وہ خدا کی چیز تھی اسی کے پاس جا لوٹی۔۔۔ ” اس عورت کی بات پر نجمہ کی آنکھیں جو پہلے ہی نم تھیں ناچاہتے ہوے بھی وہ آنسوں گالوں سے بہ نکلے ماحول یکدم افسردہ ہوگیا صالحہ نے نجمہ کو پاس پڑے ٹشو باکس میں سے ٹشو دیا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کے دلاسا دیا۔۔۔۔۔
مایل کی بھی آنکھیں ہلکی نم تھیں پر اس عورت نے اسکا ہاتھ پکڑ کر دبایا اور اپنی طرف متوجہ کیا مایل نے فوراً سے آنکھیں صاف کیں۔۔۔
وہ عورت اب اس کا دیہان ہٹانے کے لئے اس سے مختلف سوال کر رہی تھی اسکی پڑھائی سے ریلیٹڈ، اسکی ہابیز پوچھ رہیں تھیں۔ آگے اسکے مستقبل کا پوچھ رہیں تھیں یونی ختم ہونے کے بعد کیا کرنا ہے؟؟؟
نجمہ اور صالحہ کچن میں چلی آئیں جہاں نجمہ نے اپنے آپ کو ریلیکس کیا اور چائے تیار کی جبکے صالحہ نے مختلف اسنیکس بسکیٹس کیکز اس عورت کے سامنے لا رکھے۔۔۔۔۔
وہ کافی دیر بس مایل سے باتیں کرتی رہی پھر چائے پینے کے بعد جب مایل کو نجمہ نے واپس کمرے میں بھیجا تو وہ عورت بولی۔۔
” مجھے آپ کی بیٹی بہت پسند آئی ماشاءالله بہت پیاری بچی ہے ہماری طرف سے تو رشتہ پکا سمجھیں بس آپ کی ” ہاں ” کا انتظار ہے۔۔ اور اس دوران آپ بھی ہمارے گھر آئیں میرے بیٹے سے ملیں باتیں کریں اور جانیں آپ کی بیٹی کے ” لائق ” ہے یا نہیں ” وہ مسکرا رہیں تھیں۔ نجمہ اتنی صاف گوئی پر حیران رہ گئیں انہوں نے یہی تو سوچا تھا خود سب کچھ دیکھنے کے بعد وہ فائنل کریں گی۔۔۔۔
” جی پر اصل میں بیٹی کا معملا ہے فیصلہ سب سوچ سمجھ کر کریں گئے۔ پہلا حق تو مایل کے تایا کا ہے ایک سے تو آپ کے شوہر کل شادی میں ملے تھے دوسرے بیرون ملک جاب کرتے ہیں جب دونوں کی طرف سے رضامندی ہوگی تبھی۔۔۔ ” نجمہ جھجھک سے گئیں جب کے صالحہ اور شگفتہ بھی اسکی بات سے سہمت تھیں۔۔۔
” جی جی کوئی مسلا نہیں ہے میں اب چلتی ہوں!! پر آپ سب کو جمعے کے دن ہمارے گھر آنا ہے ڈنر پر انوائٹ کر رہی ہوں سب کو منع مت کیجیے گا اور سب کو آنا ہے مطلب پوری فیملی انوائیٹڈ ہے۔۔۔۔۔ ” سب سوچ میں پڑ گئیں سمرین کو واقعی شادی کی بڑی جلدی تھی۔
” ٹھیک ہے ہم سب ضرور آئیں گئے ” جواب صالحہ کی طرف سے تھا پھر وہ عورت تینوں سے ملکر اٹھ کھڑی ہوئی تینوں اسے باہر تک چھوڑنے گئیں جہاں گیٹ کے پاس ہی اس عورت کا ڈرائیور کار میں اسکا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
” صالحہ بھابی آپ نے کہ تو دیا اس طرح ہم جلدی میں کیسے جائیں گئے جان پہچان تو نکل آئے ” شگفتہ نے سمرین کے جاتے ہی پوچھا وہ تینوں اب لاؤنچ ایریا میں آ چکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
” ارے زنیشہ کے بھائی روحیل کا دوست ہے انکا بیٹا۔۔۔ جان پہچان بلکل نہیں ایسا تو نہیں نہ!!! اور تم نے دیکھا مایل کو دیکھتے ہی انکا انداز، انکا لہجہ بتاؤ ایسی ساس تو ہمیں بھی نہ ملی۔۔۔۔۔ ” صالحہ کو تو وہ بھلی عورت دل سے پسند آئی تھی نجمہ بھی شکر کر رہیں تھیں۔۔۔۔ نجانے کیا تھا کے دل اس رشتے پر اسی دن سے آمدہ تھا جب وہ عورت خود چل کے انکے پاس آئ تھی۔صالحہ نے سوچ لیا تھا شوہر کو تو وہ خود منا لینگی اسلئے انہوں نے ہاں کردی مگر شگفتہ نے اسے آخری بات پر ٹوکا۔۔۔۔۔
” صالحہ!!!! پھوپھو نہیں رہیں!!! لوگ چلے جائیں تو پیچھے انہیں اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں انکی مغفرت کی دعا کرتے ہیں جو بھی تھا ساس وہ اچھی تھیں ” نجمہ انکے ذکر پر نجانے کیوں کانپنے لگیں پیشانی پر چھوٹی چھوٹی پسینے کی بوندیں نمودار ہوئیں جو کوئی دیکھ نہیں سگا کیوں کے صالحہ اور شگفتہ ٹیبل سے پلیٹس اٹھا کر کچن میں رکھنے چلی گئیں۔۔۔۔
پر نجمہ کی حالت غیر ہو رہی تھی اسے کبھی وہ یاد ہی نہیں آئیں کبھی نہیں اتنا سب ہوگیا۔۔۔ انکی زندگی الٹ گئی بیٹی چلی گئی،، دوسری تباہ ہوتے ہوتے بچی ہے اگر وقت پر اسے وہ نہ سنبھالتیں تو؟؟؟؟ اس پورے عرصے کے دوران نجمہ کو وہ عورت ایک پل کو یاد نہ آئی مگر آج یاد آئی بھی تو کیسے ایسے خوشی کے موقع پر؟؟؟؟
” تو ڈائن ہے پتھر دل ہے۔۔۔۔ تیرا دل تب پیگلے گا جب تیری دونوں بیٹیاں برباد ہوکر واپس تیرے پاس لوٹیں گی۔۔ ” بیٹے کی موت کے اگلے دن انہوں نے یہ الفاظ نجمہ کے منہ پر مارے تھے اُس وقت تو نجمہ نے ان سنا کردیا مگر آج انکا دل کانپ رہا تھا وہ عورت مرتے دم تک انہیں کوستی ہوئی گئیں تھیں۔۔ کیا انکی بیٹی مایل بھی؟؟؟ نہیں نہیں۔۔۔۔۔ اب نہیں۔۔۔۔ وہ مایل کے ساتھ وہ سب نہیں ہونے دینگی جو مومنہ کے ساتھ ہوا۔ ان چاہا ہمسفر کیسا ہوتا ہے وہ جانتی ہیں۔۔ جو شخص بھی انکی بیٹی کی زندگی میں آئے گا وہی ہوگا جو انکی بیٹی کی قدر کرے، مان دے، محبت دے، انکی بیٹی پر جان چھڑکے نا کے وہ جس سے انکی بیٹی محبت کرے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” نجمہ مایل ابھی بہت چھوٹی ہے اسکی عمر نہیں شادی کی۔۔۔ ” وہ تو گویا مایل کی شادی کا سن کر ہی شاک ہوگئے۔ وہ جو چائے کی چسکیاں لینے لگے تھے چائے فوراً سے رکھ دی موضوعِ گفتگو ہی ایسا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” بھائی صاحب یہی تو عمر ہے۔۔۔ مومنہ بھی ایک سال بڑی تھی تب مایل سے جب اسکی شادی کروا رہے تھے!!!!! میں جانتی ہوں تب یہ فرق تھا اپنا گھر کا بیٹا تھا مومنہ نظروں کے سامنے ہوتی اسلئے کسی کو کوئی مسلا نہیں تھا۔۔۔۔۔ مگر میں یہ نہیں چاہتی کے اتنا اچھا رشتہ ہاتھ سے جائے سمرین جس طرح مایل سے مل رہیں تھیں دیکھ رہی تھیں میرا دل بھر آرہا تھا،،، مایل انھیں اپنی سی لگ رہی تھی اور مایل خود بھی انکے سامنے نہ جھجھک رہی تھی نہ خوف آرہا تھا اسے۔۔۔۔ ورنہ آپ مایل کو جانتے ہیں ہجوم ہو یا کوئی انجان چہرہ کتنا ڈر جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ ” صدیق صاحب نجمہ کی باتوں سے متفق تھے۔۔۔ کہہ تو وہ سچ رہیں تھیں۔۔۔۔
” تمہاری باتیں سہی ہیں مگر دل نہیں چاہتا مایل کو یہاں سے بھیجنے کا ” وہ جیسے تھکے تھکے سے لگ رہے تھے مایل کے جانے کا سن کر انہیں لگ رہا تھا وہ منٹوں میں بوڑھے ہوگئے ہیں۔۔۔پھر یکایک ایک خیال ذھن میں آیا۔۔۔۔
” نجمہ مایل ہماری آنکھوں کے سامنے رہے کتنا اچھا ہوگا۔۔ میں سکون سے مر بھی سکوں گا۔۔۔۔ ” ان کے لہجے میں جیسے التجا تھی۔۔۔۔۔
” آپ ایسا مت کہیں ” وہ انکے مرنے کا سن کر پریشان ہوگئیں اللّه انھیں سلامت رکھے گھر کے دو ہی افراد تو تھے بڑے جنکا سایہ ہے انکے سروں پر اور جنکی وجہ سے ان سب کی اولادیں سیدھی ہیں ورنہ باپ کا سایہ نہ ہو تو سب سے پہلے اولاد ہی بگڑتی ہے۔۔۔۔
” آریز مایل کو بہت خوش رکھے۔۔۔۔ ” بولتے ہوے وہ خود جھجھک رہے تھے آخر زاکون آریز کا سگا بھائی تھا جس نے ایک بیٹی کو برباد کیا اسی کے یہاں نجمہ دوسری بیٹی کیسے دیگی؟؟ کہتے ہی انہوں نے آنکھیں جھکائیں مگر نجمہ نے تیزی سے انکی بات کاٹی۔۔۔۔۔۔
” نہیں بھائی صاحب ایک بیٹی کھو چکی ہوں دوسری کھونے کی ہمت نہیں مجھ میں!!! زاکون بھی تو کتنا اچھا تھا گھر بھر کا فرمانبردار کیا کیا اس نے؟؟؟ آریز کے دل میں ایسا کچھ ہوتا وہ ضرور آگے سے کہتا۔۔۔۔۔اور اگر ایسا ہوا مایل بھی زبردستی آریز کی زندگی میں شامل ہوگی کیوں کے آریز کسی اور کو پسند کرتا تھا۔۔۔ ” نجمہ کی آخری بات پر وہ بری طرح چونکے یہ بات انکے علم میں نہیں تھی۔۔۔۔صالحہ تو انہیں سب بتاتی ہے۔۔۔۔
” یہ کس نے کہا تم سے؟ ” انھیں ابھی تک یقین نہ تھا۔۔۔۔
” آپ شاز سے پوچھیں۔۔۔ ” نجمہ نے اس شخص کا نام کیا بتایا صدیق صحاب نے تیزی سے شاز کا نمبر ملایا جس نے فوراً ہی کال اٹھا لی شاید وہ موبائل ہی یوز کر رہا تھا۔۔۔۔
” کہاں ہو؟؟ ” صدیق صاحب کے پوچھنے پر دوسری طرف شاز چونک پڑا انکا لہجہ عجیب سا لگا شاز کو۔۔۔۔
” گھر پر ہوں ابو “
” جلدی ڈرائنگ روم میں آؤ ” انہوں نے کہتے ساتھ کال کاٹ دی تقریباً دو منٹ بعد شاز انکے سامنے حاضر ہوا۔۔۔
اسکی سانسیں پھول رہیں تھیں شاید وہ بھاگتا ہوا آیا تھا۔۔۔۔۔جب صدیق صاحب نے اس سے آریز کا پوچھا وہ تو گویا اچھل اچھل کر ایک ایک بات بتانے لگا۔۔۔۔۔۔
” جی ابو وہ میری ایک کلاس فیلو کو پسند کرتا تھا۔۔۔مگر وہ آریز کو سخت ناپسند کرتی تھی۔۔ یہی نہیں آریز کے کمرے سے نیند کی گولیاں بھی ملیں تھیں چچی آپ نے نہیں بتایا؟؟؟ ایسا عشق کے مرز میں مبتلا تھا آریز اپنوں کو بھول گیا اور۔۔۔۔”
” بس بس جاؤ تم۔۔۔ ” انہوں نے ہاتھ اٹھا کر مزید اسے بولنے سے روکا شاز کمینگی سے مسکرایا۔۔۔۔۔
” جی ابو ” فرمانبرداری سے کہتے وو وہاں سے چلا گیا مگر ڈرائنگ روم کے باہر کان لگا کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
” نجمہ حیدر کو بلوا لوں پھر انشااللہ ہم دونوں ساتھ ہی پورے تحقیقات کر کے آگے فیصلہ لیں گئے۔۔۔۔”
” جیسے آپکو سہی لگے ” نجمہ پرسکون سی ہوگئی لگ رہا تھا دل سے بھاری پتھر ہٹا ہے بس نجمہ دعا کر رہی تھی لڑکا اچھا ہو ایسا ہو جو انکی بیٹی کی قدر کرے۔۔۔ شاز کو جب اندر سے کوئی آواز نہیں آئی تو وہ منہ بنا کر چلا گیا۔۔ مگر اسے انتظار آریز کے کلائمیکس کا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
