66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

رات کا نجانے کونسا پہر تھا جب اسکی آنکھ کھلی۔ سر بھاری ہو رہا تھا اس نے چکراتے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھاما اسے کچھ دیر پہلے والا واقعی یاد آیا جب وہ اپنی ماں کے سامنے رو رہی تھی۔۔۔۔۔
مایل نے چکراتے سر کو تھامے اٹھنے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی ہوئی پھر سوئچ بورڈ کے پاس آکر لائٹ اون کی۔۔۔۔۔
جیسے ہی لائٹ جلی اسکی پہلی نظر اپنی ماں پر گئی جو اسی کے ساتھ سو رہیں تھیں۔۔۔ مایل نے کچھ دیر انکا چہرہ دیکھا پھر نظر وال کلاک پر گئی تو کچھ سوچ کر وہ چپل پیروں میں پہن کر کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب وہ کمرے میں لوٹی تو اس نے دیکھا نجمہ جاگ چکی تھی منہ دھو کر واشروم سے باہر نکل رہیں تھیں مایل کو جیسے شرمندگی نے آن گھیرا وہ اپنے ماں کے سامنے آج کیا حرکت کر بیٹھی تھی؟؟؟؟؟ نجمہ ٹاول سے چہرہ پونچھا اور اسکے قریب چلی آئیں۔۔۔
” مایل۔۔۔۔۔ ” انہوں نے محبت سے اسے پکارا۔۔۔۔۔۔۔
” امی مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔۔ ” وہ اب بھی شرمندہ تھی۔۔ سر جھکائے ہونٹ کاٹتے بولی۔۔۔۔
” میری جان!!! المیر میرے پاس آیا تھا۔۔ ” انہوں نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” المیر کا نام سنتے ہی مایل نے جھکی گردن اوپر کو اٹھائی اور یہ اتنی تیزی سے ہوا تھا کے یہ حرکت اس کی ماں نے بھی نوٹ کی۔۔۔۔۔۔۔
” مجھے نہیں پتا میرے کس عمل نے مایل کے دل میں میرے لئے ایسے جذبات پیدا کیے۔۔۔ و۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔م۔۔۔۔مجھ۔۔۔س۔۔۔سے۔۔۔ش۔۔۔شادی۔۔۔۔۔۔ ” نجمہ بیڈ پر بیٹھیں تھیں جب کے وہ ایک گھٹنے پر بیٹھا انکی گودھ میں رکھے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لئے ان سے جیسے التجا کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” میرے دل میں مایل کے لئے کوئی ایسے جذبات نہیں!!! اپنی بہن مانتا ہوں اُسے۔۔۔ اسکی ضد میں آکر شادی کی بھی تو مایل ہر روز ایک نئے المیر سے ملیگی مرد جب ضد پر آجاتا ہے تو رشتوں کا احترم بھول جاتا ہے!!! مجھے ڈر ہے میں ایک دن جانور نہ بن جاؤں آگر ایسا ہوا بھی تو اسکی زمیدار مایل ہوگی۔۔۔۔۔ وہ کبھی میرے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی۔۔ میں چاہ کر بھی اسکے لئے کچھ نہیں کر سکتا سوائے اسکے کے اسے خود سے دور کر لوں۔۔۔۔۔میرا خود پر اختیار نہیں۔ میں نہیں چاہتا میری ذات سے اسے تکلیف پہنچے۔۔۔۔۔۔ آپ پلیز اسے سمجھائیں ” نجمہ نے المیر کا کہا لفظ با لفظ اسے سنایا۔ وہ سانس زور سے اندر کو کھینچتی بامشکل ان آنسوؤں کو گالوں پر آنے سے روک رہی تھی اسکی ناک بہ رہی تھی اس نے دوپٹے کی مدد سے اپنی ناک صاف کی۔۔۔۔
” بس میری جان!!! کچھ فیصلے ہمارے اچھے کے لئے ہوتے ہیں بس یہ سمجھو وہ تمہارے قابل نہیں!!! اور اب ماں کو رسوا مت کرنا ایک بیٹی کا غم ابھی تازہ بھی ہے پر دوسری کے لئے اب ہمت نہیں۔۔۔ ” انہوں نے اسے گلے لگاتے نم لہجے میں کہا مایل بھی آج اس بےحس کے لئے بس آخری بار رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مایل اور نجمہ نے سب کے ساتھ مل کر ناشتہ کیا۔ المیر وہاں موجود نہیں تھا جب تک وہ تیار ہوکر نیچے آیا سب ناشتہ کر چکے تھے آج اتوار تھا اسلئے ناشتے کے بعد صدیق صاحب نے سب لڑکوں کو ڈرائنگ روم میں آنے کا کہا تھا۔ وہ بھی جب ناشتہ کر کے آیا سب اسی کے منتظر تھے آج بھی وہاں زاکون نہیں تھا بس آبی شاذ اور آریز ہی وہیں پر تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
” تو برخودار سنا ہے شادی کا بھوت سر پر سوار ہوگیا راتوں رات۔۔۔۔ “
” جی ابو امی کو بتایا تھا۔۔۔ ” کوئی جھجھک نہ تھی وہ پراعتمادی سے ان کے سامنے بیٹھا ان کے سوالوں کا جواب دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔آبی دل ہی دل میں اسے داد دیے بغیر رہ نہ سگا۔۔۔
” دو دن میں کس طرح شادی ہوتی ہے یہ بھی ماں کو بتا دیتے ” انکا طنز بھرا لہجہ وہ ہضم کر گیا۔۔۔۔۔۔۔
” قاضی اور گواہ ہی تو چاہیے!! آپ کا نکاح بھی تو راتوں رات ہوا تھا۔۔۔۔ ” شاذ نے بھی داد طلب نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا کیا حاضر جوابی تھی۔۔۔۔۔۔جب کے اس ماحول سے وحشت صرف ایک شخص کو ہو رہی تھی آریز مرتضیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔
صدیق صاجب کو اپنے بیٹے کا لہجہ اور انداز ایک آنکھ نہ بھایا المیر کبھی اس طرح کی بدتمیزی نہیں کرتا انہیں یقین ہے کچھ تو ایسا ہے جس سے وہ لاعلم ہیں۔۔۔
” تمہارا باپ نہیں مرا جو شادی کے لئے مرے جا رہے ہو!!!! تمہارے نانا کا انتقال ہوا تھا یہی وجہ ہے راتوں رات نکاح ہوا۔۔۔۔۔ ” انہوں نے بھی اسے جھڑکا۔۔۔
” ٹھیک ہے ابو!! پر اسی ہفتے مجھے نکاح کرنا ہے چاہے آپ کی رضامندی ہو یا نہ ہو ” اس بار تینوں کی گردنیں کبھی المیر کی طرف مُڑتیں تو کبھی صدیق صاحب کی طرف۔۔ تینوں بےصبری سے اب صدیق صاجب کے جواب کا انتظار کر رہے تھے آبی اور شاذ کو تو یہی لگ رہا تھا آج المیر کی بھی دُلائی ہوگی لیکن اسکے برعکس صدیق صاحب کا فیصلہ سن کر سب حیران رہ گئے۔۔۔۔
” نکاح پرسوں ہی ہوگا سب بڑوں کی موجودگی میں اور رخصتی اگلے ہفتے!!! تم پوچھ لو اپنی ہونے والی بیوی سے راضی ہے؟ “
” اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ” المیر نے گویا بات ہی ختم کردی سب نے حیرت سے اسکے انداز کو دیکھا صدیق صاحب کو پہلی دفع المیر پر حد سے زیادہ غصّہ آرہا تھا مگر وہ خاموش رہے جوانی کا جوش ہے آج آسمان پر ہے تو زمین پر آنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟؟؟؟
” آریز!!!! حیدر تو یہاں ہے نہیں مگر حیدر سے میری بات ہوگئی ہے۔ اسکا وہی فیصلہ ہوگا جو تمہارا۔۔۔ شگفتہ کا خیال ہے اسی مہینے تمہارے بھی ہاتھ پیلے ہوجائیں۔۔۔ ” انکا رخ اب آریز کی طرف تھا پہلے تو آریز اپنے مخاطب کیے جانے پر چونک اٹھا پھر نہایت دھیمے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
” جیسا آپ کو ٹھیک لگے “
” کوئی پسند؟؟ ” شاذ کمینگی سے مسکرایا۔ اسکا رخ اب آریز کی طرف تھا جس نے لبوں پر زبان پھیرتے کچھ وقف کے بعد جواب دیا۔۔۔۔۔۔
” جسے امی پسند کریں “
” بہتر۔۔۔۔ اور شاذ ساری زندگی ایک ہی کلاس میں رہنے کا ارادہ ہے؟؟؟ ” انہوں نے اس دفع اپنے سب سے نکمے بیٹے پر طنز کیا جو ایک دم سے اپنے پکارے جانے پر گھبرا گیا۔۔۔۔
” دوسروں پر ہنسنے سے فرست ملے تو کچھ سوچے ” المیر کے طنز سے واضع تھا وہ اسکی حرکت دیکھ چکا ہے اگر اندازہ ہوتا اس نے آبی کا استعمال کر کے آریز کے ساتھ کیا کیا؟؟؟؟ تو سب کے سامنے وہ اسے مارنے سے بھی گریز نہ کرتا آخر چھوٹا بھائی تھا اُسے حق حاصل ہے اِسے سدھارنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ابو بس اگلے ماہ پپرز ہیں انشااللہ اس دفع کلئیر ہوجائیں گئے۔۔۔۔۔ ” اس نے ایک نظر باپ اور بھائی کو دیکھتے کہا آبی کی بتیسی اسکی شکل دیکھ کر نکل رہی تھی۔۔۔۔
” خیر ہے اب فرق نہیں پڑتا!!! کل سے آفس آجانا جہاں تک پڑھائی کا سوال ہے وہ ہمارا سر درد نہیں ڈگری نہیں ہوگی بہتر ہی ہے ہمارے لئے!!!! کوئی ان پڑھ کو اپنی بیٹی کیوں دیگا؟؟ بتاتے پھیرنا سیکنڈ ائیر پاس ہوں بس۔۔۔۔ ورنہ اس دھوکے میں شادی ہوئی بھی تو لڑکی ساری زندگی ہمیں کوسے گی۔۔۔۔۔ ” احساسِ توحین سے شاذ کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔جھکی گردن اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھی کوئی جھوٹ بھی اس وقت زبان پر نہیں آرہا تھا شاذ کو پہلی دفع خود پر آج شدید غصّہ آرہا تھا۔ بس اسے افسوس آریز کا تھا اُسکے سامنے کاش ابو اِسے نہ سناتے۔۔۔۔۔۔۔
اب آبی کو اپنی فکر تھی کیوں کے وہی بچا تھا۔۔ اس نے دل سے دعا کی تھی کچھ ایسا ہو کے ابو کا اس تک آتے آتے رُخ ہی پلٹ جائے۔۔۔۔۔ آبی کے دل سے نکلی دعا قبول ہوئی تھی کیونکے اسی وقت صدیق صاحب کا فون بجا تھا جس کو اٹھاتے ہی وہاں سے ملی خبر پر جلد ہی جوتے پہن کر گھر سے باہر نکل گئے ڈرائنگ روم میں بیٹھے وہ چاروں شکر کر رہے تھے ان کے جاتے ہی سب اپنے کمروں کو تقریباً بھاگے تھے کیوں کے وہ آ بھی جاتے تو ایک بار پھر ان معملات کی تفصیل میں چلے جاتے جو کم سے کم المیر کو منظور نہ تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آبی سنو!!!!! ” وہ جو اپنا بیٹ اور بال لیکر گھر کا گیٹ کھولے باہر جا رہا تھا المیر کے پکاڑنے پر تھوک نغلا۔۔۔۔۔
” بھائی قسم لے لیں اُس دن امی کے جوتے کھانے کے بعد ٹک ٹاک ان انسٹال کردیا تھا۔۔ ” المیر کے پکارنے پر رُک کر وہ معصومیت سے بولا۔۔
المیر اسکے رکنے پر آبی کے قریب چلا آیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے ایک انویلپ پکڑایا۔۔۔۔
” یہ لفافہ پکڑو اور زنیشہ کو دے آؤ میں یہیں ہوں ” مطلب تھا وہ اسکے جواب کا یہیں انتظار کریگا۔۔۔۔۔۔۔
” یہ کیا ہے؟؟ ” ہاتھ میں پکڑے لفافے کو وہ الٹ کر دیکھنے لگا۔۔
” حق مہر ہے دیتے ہیں یہ ” المیر کے لہجے میں ہلکی سے غصّے کی جھلک تھی جو آبی نے اسکے لہجے سے بھانپ لی۔۔۔۔۔۔۔
” اوہ یہ میں نے بھی سنا ہے اچھا دیتا ہوں ” اسے یاد آیا اکثر شادی میں مولوی حق مہر کا پوچھتے ہیں اسلئے اسنے سمجھنے والے انداز میں سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔
” گڈ گو فاسٹ ” آبی بیٹ بال وہیں پھینکتا بھاگتے ہوئے سامنے والے گھر کا گیٹ کھول کر اندر چلا گیا جو چوکیدار نے اسکو آتے دیکھ کھولا تھا۔۔۔۔۔۔۔ المیر نے اپنی گاڑھی نکالی اور گیٹ کے باہر گاڑی کھڑی کر کے وہیں کار میں بیٹھا زنیشہ کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
دس منٹ گزر گئے پھر پندرہ بیس اسی طرح تقریباً آدھا گھنٹہ گزر گیا المیر کو یقین تھا آبی علی کے ساتھ کھیلنے بیٹھ گیا ہوگا پر اسے یہ بھی پتا تھا آبی نے اسکا خط زنیشہ کو ضرور دیا ہوگا۔۔۔۔۔
وہ جب نہیں آئی تو المیر کار سے باہر نکل آیا۔۔۔۔ کار اسکے گھر کے سامنے ہی کھڑی تھی وہ وہیں کار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔
اسے محسوس ہوا وہ کسی کی نظروں کے حصار میں ہے۔ المیر کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی۔ ایک جھٹکے سے اس نے سر اوپر کیا پہلے فلور کی رائٹ سائیڈ پر بنی ایک کھڑکی تھی۔ جہاں سے وہ اسے دیکھ رہی تھی پردے کی اوٹ سے۔۔۔۔ جامنی کلر کا پردہ تھا المیر کو اسکی خوبصورت ہاتھ صاف دیکھائی دے رہے تھے پتا نہیں کیوں وہ نیچے نہیں آ رہی تھی۔۔۔ المیر نے بھی ضد باندھ لی تھی وہ تب تک نہیں جائے گا جب تک وہ آئے گی نہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے تفری کے لئے نہیں بلا رہا تھا نہ کسی فضول کام کے لئے نہ ہی وہ شادی سے پہلے آئوٹنگ وغیرہ کا خوائش مند تھا بس وہ اس سے اسکی رائے لینے آیا تھا جب اس لڑکی نے المیر کی ہر بات مان کر اس پر احسان کیا ہے تو کیا اسکا حق نہیں؟؟؟ اسکی بھی شادی ہے وہ کیا چاہتی ہے کسی نے اس سے پوچھا تک نہیں۔۔۔۔۔۔
کافی دیر وہ اسی پوزیشن میں کھڑا رہا۔۔۔ سن گلاسسز کی وجہ سے شاید زنیشہ کو پتا نہیں لگ رہا تھا المیر اسے ہے دیکھ رہا ہے۔۔۔۔ وہ وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا یہاں تک کے مغرب ہوگئی اذان کے ساتھ اسے ٹائم کا احساس ہو رہا تھا اور وہ سمجھ چکا تھا زنیشہ اب نہیں آئے گی۔۔۔ اذان کے آتے ہی وہ بھی پردے برابر کر کے اندر چلی گئی۔ المیر کو غصّہ بھی بےحد آیا مگر وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا کچھ بھی نہیں،،،،، کیونکے وہ اس لڑکی کی کیفیت سے انجان تھا۔۔ جو منٹوں میں روپ بدل رہی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کی تیاریوں میں وقت کیسے پر لگا کر اڑا پتا ہی نہیں لگا وہ دن بھی آن پہنچا جس دن دونوں نکاح کے پاک بندھن میں بندھنے جا رہے تھے۔۔۔۔۔ اس دوران شگفتہ، صالحہ اور نجمہ روز ہی شوپنگ کرنے جاتے ایک دن تو مایل کو بھی نجمہ زبردستی اپنے ساتھ لے گئی تاکے کوئی اسکے چہرے کی ویرانی دیکھ کر سوالوں کا پہاڑ نہ توڑ دے ان پر۔۔
نجمہ نے مایل کے لئے ڈھیر ساری شوپنگ کی۔۔۔ شادی کے علاوہ کچھ لان کے سوٹ گھر میں پہنے کے لئے بھی لئے اور باقی اسکی ضرورت کی ہر چھوٹی بڑی چیز ان تین دنوں میں زنیشہ نے مایل سے کئی بار فون کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر مایل نے اپنا فون ہی بند کردیا تھا۔۔۔
صدیق صاحب صالحہ شگفتہ نجمہ آج سب ایک سے بڑھ کے ایک لگ رہے تھے صالحہ تو باقاعدہ پارلر سے تیار ہوکر آئیں تھیں آخر انکی پہلی اولاد ہے المیر انکے جگر کا ٹکرا۔۔
آج کے دن آبی اور شاذ بھی بہت خوش تھے۔۔۔۔۔ اتنے سالوں بعد تو ان کے یہاں شادی ہو رہی ہے دھیر سے ہی سہی مگر انکے بڑے اب جاکر شادی تو کروا رہے ہیں ورنہ انکی عمر کے اب تو بال بچوں والے ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
زنیشہ کے گھر کے اندر بڑے سے گارڈن ایریا کو خوبصورتی سے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ وہیں نکاح کی تقریب تحہ پائی تھی وہاں تقریباً سب گھر کے ہی افراد تھے بس اکا دکا کچھ قریبی مہمان تھے۔۔ نکاح کی تقریب چھوٹی ہی رکھی تھی بس اپنوں میں مگر دونوں مائوں نے اپنے بچوں کے لئے سجائے ارمانوں کو پورا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
” المیر صدیق ولد صدیق مرتضیٰ آپ کا نکاح زنیشہ ولد سکندر خان سے حق مہر دس لاکھ طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟؟؟ “
پورے حال میں مولوی صاحب کی آواز گونجھ رہی تھی۔ وہ اس وقت المیر کے پاس بیٹھے تھے جو سفید شیروانی میں ملبوس تھا جس کے چہرے کو سہرے کی لڑیوں نے چھپایا ہوا تھا… شیروانی پر بھی گرے کلر میں اچھا خاصا کام ہوا تھا۔۔۔۔
ایک سائیڈ پر المیر تھا اور سارے مرد حضرات تھے۔۔۔ بیچ میں موتیوں کے پھول کا پردہ جس کی دوسری سائیڈ زنیشہ بیچ میں بیٹھی تھی آس پاس سب عورتوں نے اسے گھیرا ہوا تھا۔۔۔
اس نے سفید شرارے پر لونگ شرٹ پہنی تھی جسکی آستینیں فل تھیں۔ شرارے پر خوبصورت گولڈن دیدہ زیب کام تھا۔۔وہ بےانتہا خوبصورت لگ رہی تھی سفید کلر اس پر خوب جچ رہا تھا کانوں میں گولڈن بھاری جھمکے پہنے ہوئے تھے۔ مانگ ٹیکے کے ایک جانب جھومر نے اس کے سنگھار کو رونق بخشی تھی……
ناک میں پہنی نتھ بار بار سرخ لبوں کو چھوتی جس سے زنیشہ پریشان ہوکر چوڑیوں سے سجے ہاتھوں کو تکلیف دیتی بھاری کلائیاں اٹھا کر ہاتھ کی مدد سے نتھ کو لبوں سے دور کرتی۔۔۔ آج وہ محفل کی رونک بنی تھی ہر آنکھ آج اسی پر تھی۔۔۔۔۔
اسکی ماں نے اسے نکاح سے پہلے سرخ بڑا سا دوپٹا اوڑھایا تھا جس کی وجہ سے وہ ہر آنکھ سے پردہ کیے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بار پھر مولوی صاحب کی بلند آواز پورے حال میں گونجی تھی۔۔۔۔
” المیر صدیق ولد صدیق مرتضیٰ آپ کا نکاح زنیشہ ولد سکندر خان سے حق مہر دس لاکھ طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟؟؟ “
” قبول ہے “
سہرے کے پیچھے چھپی یہ آنکھیں جھکی ہوئیں تھیں کوئی سوچ اس وقت دماغ میں نہ تھی دل ہر الزام سے آزاد بلکل باعزت بری تھا۔۔۔ ہر بار المیر کا جواب وہی تھا وہ ایک پل کو نہ رکا تھا نہ ٹھٹکا تھا۔۔۔۔
” قبول ہے “
” قبول ہے “
المیر سے نکاح نامہ سائن کرانے کے بعد مولوی صاحب عورتوں کی طرف بیٹھی دلہن کے پاس آکھڑے ہوئے۔۔۔
” زنیشہ ولد سکندر خان آپ کا نکاح المیر صدیق ولد صدیق مرتضیٰ سے حق مہر دس لاکھ طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟؟؟ “
نجانے کب مولوی صاحب اسکے پاس آکھڑے ہوئے؟؟ سے پتا نا لگا ہوش تو تب آیا جب زنیشہ نے اپنا نام سنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یکدم بےجان وجود میں دل تیزی سے دھڑک اٹھا اسکا الٹا ہاتھ کپکپانے لگا۔۔۔۔۔ سرخ لب بولنے کی خواہش میں بس بےآواز ہلے۔۔۔ اسکا پورا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔ وہ اسی کیفیت میں بےجان مورت بنی رہتی اگر جو اسکی ماں پیچھے سے اسکے دونوں کندھے تھام کر اسکے کان کے پاس نہ جھکتیں۔۔۔۔
” بولو میری جان۔۔۔۔۔۔۔”
ابو بھی دوسری طرف سے اسکے پاس آگئے۔۔ زنیشہ کا کپاکپاتا ٹھنڈا ہاتھ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر سہلایا۔۔۔ مولوی صاحب نے پھر سے اپنے الفاظ دہرائے۔۔۔۔۔
” زنیشہ ولد سکندر خان آپ کا نکاح المیر صدیق ولد صدیق مرتضیٰ سے حق مہر دس لاکھ طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟؟؟ “
اسکے بابا نے ایک ہاتھ اسکے سر پر رکھا اور دھیمے سے پوچھا۔۔۔۔۔۔
” بولو بیٹا۔۔۔ “
” قب۔۔۔۔۔قبول۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔ “
” قبول ہے قبول ہے۔۔۔۔ ” زنیشہ کی اٹکی ہوئی سانسیں بحال ہوئیں یہی تو زندگی کا سب سے مشکل لمحہ ہوتا ہے۔۔۔جب آپ کا گھر،، آپ کی پہچان،، آپ سے جرُے ہر رشتے بدل جاتے ہیں جب آپ اپنے اصل کے پاس پہنچتے ہو۔۔۔۔۔۔
لرزتے ہاتھوں سے زنیشہ نے نکاح نامہ سائن کیا اسکے سائن کرتے ہی ہر طرف مبارکباد کا شور گونجا امی ابو نے ملکر اسکی پیشانی چومی اور اسے گلے لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ لڑکیوں نے آکر سامنے سے پھولوں کا بنا پردہ ہٹایا صالحہ اور صدیق صاحب آکر بیٹے سے گلے ملے پھر صالحہ خود بیٹے کا ہاتھ پکڑ کے اسکے ساتھ چلتیں زنیشہ کی طرف آئیں انہیں آتا دیکھ زنیشہ کی ماں نے اسے کھڑا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
صالحہ احتیاط سے زنیشہ کے چہرے سے بڑا سا گھونگھٹ ہٹانے لگیں انہوں نے اسے پیچھے کی طرف کیا جیسے جیسے دوپٹا اوپر کی طرف اٹھ رہا تھا ویسے ویسے اسکا سوگوار دمکتا حسن المیر کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا بے شک آج وہ حسینا حسن کا پیکر لگ رہی تھی المیر اسے سر سے پیڑ تک غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اسکی تھی صرف اسکی۔۔۔۔
نکاح کے بعد یہ ایک احساس اسے بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسی کے حسن میں کھویا اسکا زرہ زرہ حفظ کر رہا تھا۔۔۔
اور وہ تھی کے جیسے نظریں نہ اٹھانے کی قسم کھا رکھی تھی آنکھیں ایک پل کو نہ اٹھیں تھیں۔۔۔۔ اور ہونٹ گبھراہٹ سے کپکپا رہے تھے دو تین بار اسنے مہندی سے سجے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی نتھ ہونٹوں سے دور کی شاید وہ نتھ اسے آج بہت تنگ کر رہی تھی۔۔۔۔ المیر اسکی حرکت دیکھتا بےاختیار اسکے قریب چلا آیا۔۔۔۔۔
ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد بڑے سے اس دوپٹے کو المیر نے دھیرے سے نیچے کھسکا کر اس حسین چہرے کو ایک بار پھر ہر آنکھ سے چھپا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
جو بھی تھا وہ جانتا ہے اسکے پیچھے کھڑے سب مرد ہی اسکی بیوی کو دیکھ رہے تھے اور ان نگاہوں کی پہچان اُسے ہے۔۔۔۔۔ وہ کوئی چھوٹا بچا نہیں۔ جب وہ اسکی کچھ نہ تھی تب بھی وہ اسے ہر آنکھ سے بچاتا تھا اب تو وہ اسکی محرم ہے تو وہ کیسے برداشت کرتا؟؟؟؟
کچھ دیر بعد فوٹوگرافر نے آکر انکی تصویریں کیمرہ میں محفوظ کیں تب المیر نے خود اسکا ٹھنڈا ہاتھ پکڑ کے یہ کام جلد ہی ختم کیا ورنہ وہ ضرور ان سے الگ الگ پوز بنواتا اور کچھ تصویریں انہوں نے فیملی کے ساتھ بھی لیں اس پورے عرصے میں المیر نے کئی بار اسے ڈھونڈا مگر وہ اسے کہیں نہیں دیکھی نجانے کہاں چھپ کر بیٹھی تھی۔۔۔ کھانا بھی کھایا ہوگا یا نہیں؟؟؟؟ اس کا دل چاہا آریز سے پوچھ مگر۔۔۔۔۔۔ وہ خاموش رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” السلام علیکم بہت بہت مبارک ہو آخر کار بیٹی اپنے گھر کی ہوگئی۔۔۔۔۔ ” مہمانوں میں سے ایک عورت نے آکر زنیشہ کی امی کو مبارکباد دی اس وقت سب کھانے میں مصروف تھے کیونکے کھانا شروع ہو چکا تھا۔۔،۔۔۔
” خیر مبارک بس میری تو دعا ہے اللّه کرے میری بیٹی سمیت سب بیٹیوں کا نصیب اچھا ہو۔۔ ” وہ خوش دلی سے بولیں دل سے ہزاروں دعائیں بیٹی کے لئے نکلیں تھیں۔۔۔۔۔
“آمین۔۔ دراصل مجھے آپ سے اس بچی کا پوچھنا تھا کس کی بیٹی ہے؟؟؟ کون ہے؟؟؟؟ ” اس عورت نے سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک کرسی پر مایل بیٹھی تھی اسکے برابر میں آبی بیٹھا تھا جو اسے کچھ سمجھا رہا تھا دونوں فنکشن سے بےنیاز جیسے کوئی بہت اہم کام کرنے میں مصروف تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
” کون؟؟؟ ” زنیشہ کی ماں کو اتنے مہمانوں میں مایل کہاں دیکھنی تھی۔۔۔۔
” وہ سامنے نارنگی میکسی میں ” انہوں نے باقاعدہ ہاتھ سے اشارہ کر کے دکھایا۔۔۔۔
” اچھا یہ۔۔۔۔ یہ مایل ہے۔۔ میرے داماد کی چچا زاد بہن ہے زنیشہ کی بہت اچھی سہیلی بھی ہے اور اب تو اسکی نند بھی ہوئی۔۔۔۔۔ ” انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تو اس عورت نے انھیں پوچھنے کی اصل وجہ بتائی۔۔۔۔۔۔۔
زنیشہ کی ماں پھر اس عورت کو صالحہ اور نجمہ کے پاس لے گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانے سے بھری پلیٹ لیکر زکی مایل کے پاس رکھی دوسری چیئر پر آبیٹھا۔۔۔۔۔
” کھانا کھاؤ ٹیسٹی ہے۔۔یہ تمہارے لیے ہی ہے میں کھا چکا ہوں ” اس سے پہلے وہ انکار کرتی زکی نے آگاہ کر دیا وہ لایا ہی اسی کے لئے تھا۔۔۔۔۔
زکی نے پلیٹ مایل کی طرف بڑھائی جس نے کچھ جھجھک کر تھام لی اور آبی کو کونی مار کر التجا کی وہ بھی کھائے آبی کہاں منع کرنے والا تھا؟؟؟ دو دفع کھا کر بھی اسکا پیٹ تھوڑی بھرا ہے وہ تو مایل کا بھی ساتھ دینے لگا یہ کھانا ختم کرنے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زکی نے جب اسے کھاتے دیکھا تو اٹھ کر چلا گیا مایل نے شکر کا سانس لیا۔۔۔۔
” بریانی مزے کی ہے نہ آپی ” آبی نے بریانی کا چمچ بھر کر لیتے کہا۔۔۔
” ہاں!!! پر کڑھائی زیادہ مزے کی ہے ” نان توڑ کر کڑھائی میں ڈبو کر مایل نے اسکا نوالہ منہ میں لیتے کہا۔۔۔۔۔
وہ شکر کر رہی تھی اس کے بھائی ایک سے بڑھ کے ایک ہیں احساس کرنے والے۔ وہ جب یہاں آئی تھی اسکا دل چاہ رہا تھا سب برباد کردے۔۔۔ اسی حال میں خود کو شوٹ کر کے اُسکی آنکھوں کے سامنے مر جائے۔۔ وہ کیسے یہ سب بھلا اپنی آنکھوں سے دیکھ پائے گی؟؟؟ سہ پائے گی۔۔۔
مگر اسے تو یہاں اپنا رونا رونے کا بھی موقع نہیں ملا۔ نکاح کے شروع ہونے سے پہلے اور دلہن کے آنے سے پہلے ہی آریز اسکا ہاتھ پکڑ کے زبردستی اسے یہاں سے لے گیا۔۔۔۔۔
” مارکیٹ میں ایک نئی آئیس کریم آئی ہے فیز ٹو میں بس دس منٹ کا راستہ ہے مجھے اور آبی کو کھانی ہے اور آبی کا دل ہے تمہیں بھی ساتھ لے کر جائیں۔۔۔۔ ” وہ منع بھی نہ کر سگی کیوں کے پیچھے سیٹ پر بیٹھا آبی ضد کرنے لگا ناچارہ اسے آریز کی بات ماننی پڑی۔۔۔۔۔
وہ اور آبی آئس کریم کھا کر واپس آئے تو نکاح ہو چکا تھا اس بات کا بھی وہ دُکھ مناتی کے آبی اپنا ایک مسلا لیکر اسکے پاس بیٹھا رہا اب وہ وہی حل کر رہی تھی زیادہ تر تو ایسے لگ رہا تھا جیسے آبی اسے سمجھا رہا ہو۔۔۔
اس دوران زکی بھائی اس کے لئے کھانا لیکر آگئے انکا لایا کھانا کیا وہ بغیر کھائے رہ سکتی تھی؟؟؟ ہر گز نہیں۔۔۔ وہ تو شکر کر رہی تھی۔۔۔۔ زکی جو اپنے دکھ سے آج تک نہ نکلا تھا جس نے دنیا بھلا دی تھی۔۔۔۔ جو اس دنیا سے میلوں دور اپنی دنیا میں کھویا تھا وہ تک اسکی پروا کرتا ہے اسکی پریشانی کو منٹوں میں بھانپ لیتا تو کیا وہ بھائیوں کے معملے میں خوش قسمت نہ تھی؟؟ بلکے اس سے بڑھ کر تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریب کے ختم ہوتی ہی سب آہستہ آہستہ گھر کو لوٹ گئے۔۔ صالحہ کا بےتحاشہ دل تھا کے آج ہی زنیشہ کو رخصت کر کے اپنے ساتھ لے جائے لیکن وہ بس دل کی خوائش دل میں ہی دبا گئیں یہ سوچ کر کے وہ اب انکی ہی تو ہے جب چاہے اپنے ساتھ لے جائیں۔۔۔۔۔۔
زندگی میں پہلی بار المیر اس نے کسی لڑکی کو اس نظریہ سے دیکھا تھا اپنی حکومت سمجھ کر،،،، اپنا سمجھ کر،،، اپنی ذات کا حصہ سمجھ کر،، یہ نیا احساس یہ نیا بدلائوو اسے بےحد اچھا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
کسی کو سوچنا کسی کو چاہنا ایک خوبصورت احساس ہی تو ہے وہ اس سے بےشک دور ہے مگر ہے تو اسکی اب تو اسکے پاس اسے دیکھنے کا سرہانے کا سوچنے کا مکمل اختیار موجود ہے گھر آکر کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ یہی سب سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ آج مایل اسکی کسی سوچ میں نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔