66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

” سچ میں بھابی؟؟ زنیشہ تو بہت پیاری ہے وہ بچی شروع سے مجھے بےحد پسند تھی ” شگفتہ تو المیر کی پسند سن کر بےحد خوش ہوئیں۔۔۔۔۔
” مجھے خود اندازہ نہیں تھا المیر زنیشہ کو پسند کرتا ہے ورنہ میرا بس چلتا پہلے ہی اسکے ہاتھ پیلے کر کے دو عدد بچوں کی دادی بن جاتی ” تینوں دیورانیاں اس وقت کچن میں رات کے کھانے کی تیاریاں کر رہیں تھیں۔ جہاں شگفتہ اور صالحہ اس نئی خبر سے خوش تھیں وہیں نجمہ اپنی سوچوں میں گم تھی۔۔۔۔۔۔
المیر تو ہمیشہ کہتا تھا مایل کی رخصتی کے بعد ہی وہ اپنی زندگی کا سوچے گا پھر یہ سب؟؟؟؟ کیا المیر مایل کی وجہ سے جلدی کر رہا ہے؟؟ المیر نے جو نجمہ سے کہا تھا کیا سب واقعی سچ تھا؟؟؟
اور کیا زنیشہ المیر اور مایل کے رشتے کو سمجھے گی مایل تو ایکزیمز میں دیر رات تک اس کے ساتھ پڑھتی ہے۔ اسکا بچپنا اسکی خوائشیں سب المیر ہی تو جھیلتا تھا نجمہ کو تو المیر کے رہتے کسی چیز کی فکر نہیں تھی مگر اب؟؟؟ ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا تھا نہ؟؟ مگر مایل!!!! اسے نجمہ کیسے سمجھائے اسکا بچپنا کیسے ختم کرے؟ آخر المیر ہے تو اسکا نامحرم ہی نہ۔۔۔۔۔۔۔اور شادی کے بات تو سب کو مایل کے وجود سے چڑ ہوگئی کے شادی کے بعد بھی مایل المیر کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔۔۔۔۔۔آنے والی کے لئے الٹا مسلا بنی ہے۔۔۔۔۔نجمہ سوچ رہ تھی کے آج مایل سے بات کرے لیکن ہمت کہاں سے لاۓ؟؟؟؟
۔۔۔…………………..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” لڑکی کا نام علینہ ہے عمر انیس برس۔۔۔ آٹھ سال پہلے یہ ڈاکٹر حاوز سلیمان کی پیشنٹ تھی۔ اسکی اینٹری بتا رہی ہے وہ اکثر یہاں آتی تھی۔۔۔ مگر جس دن مومنہ کی ڈیتھ ہوئی تھی اس دن اس لڑکی کا بھی کوئی پروسیجر تھا۔۔۔ “
” یہ عدنان اور صبا مغل کی اکلوتی بیٹی تھی امیر ماں باپ کی رئیس بیٹی۔۔” ۔ زاکون اس وقت نرسنگ مینیجر کے آفس میں بیٹھا تھا۔۔۔ عباس نے خود بی ایس این کمپلیٹ کیا ہے اور اکثر وہ نرسنگ کی طرح خود بھی آکر پیشنٹ کی (آئی وی) کرتے ہیں ڈریپ لگاتے ہیں جب کبھی پیشنٹ کی نس نہیں ملتی وہ خود ہی آکر اسکا ٹریٹمنٹ کرتے۔۔ زاکون انکے پسندیدہ اسٹاف میں سے ایک تھا اسلئے انہوں نے یہ انفارمیشن اسکے لئے خاص نکلوائی تھی۔۔۔۔
” تھنک یو سو مچ سر ” وہ انکی بات سن رہا تھا مگر نظریں ان دونوں فائلز پر تھیں ایک جو مومنہ کی تھی دوسری علینہ کی۔۔۔۔۔۔۔
” اینی تینگ فور یو!!!! بس کبھی ہنس لیا کرو ” انہوں نے اسے دیکھ مسکراتے ہوے کہا اور وہ چاہ کر بھی مسکرا نہ سگا۔۔۔۔
” جس دن ڈیتھ ہوئی اس دن تین کاٹن بینڈیجز صرف ایک پیشنٹ پر گئیں تھیں۔۔دونوں کے میڈینس ریکارڈ کے مطابق مومنہ پر کاٹن بینڈیج چارج ہوئی تھی علینہ پر نہیں جب کے ڈیتھ دو ہوئیں تھیں۔” وہ لفظ ” دونوں ” استعمال نہ کر سگا یہ نہ کہ سگا جب دونوں کی ڈیتھ ہوئی کیوں کے آج بھی وہ اپنی ” دنیا ” میں رہنا چاہتا ہے۔۔۔ اس جھوٹ کو سچ مان کر جینا چاہتا ہے کے اسکا ” وجود ” کہیں نہ کہیں ابھی بھی اس دنیا میں۔۔۔
” ہائو از ایٹ پوسیبل؟ ڈیتھ کے بعد کاٹن بیڈیج لازمی یوز ہوتی ہے “
” جی ” فائل کا معائنہ کرنے کے بعد وہ گردن جھکائے نجانے کس نقطے کو غور سے دیکھتے کچھ سوچ رہا تھا عباس اسکی یہی حرکت کب سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” مومنہ بہت محنتی تھی۔ اُسے یہاں کا ہر اسٹاف پسند کرتا تھا اور ڈاکٹر حاوز سلیمان تم جانتے ہو نیرولوجسٹ تھے مومنہ ان سے اپنی مینٹل کنڈیشن ڈسکس کرتی ہوگی۔ لوگوں کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا کرو انکی زبانیں زہر نہ اگلیں تو وہ زندہ کیسے رہیں؟؟؟؟ ” وہ شاید اسکے دل کا حال جان چکے تھے یا جاننا چاہ رہے تھے؟؟؟ وہ نہیں جانتا؟ مگر یہ تکلیف جان لیوا ہے۔۔۔۔
کیا وہ نہیں ہے؟؟
ہے تو حاوز سلیمان کے پاس ہے؟؟
کبھی کبھی سچ اس قدر جان لیوا ہوتا ہے کے انسان جھوٹ کے سہارے ہی سکون بھری زندگی گزارنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
” زکی ” وہ ویسے ہی گردن جھکائے ٹانگ پر ٹانگ رکھے سوچوں میں مگن تھا مگر عباس نے بلایا تو اس نے نظریں نہیں اٹھائیں بس مسکرایا۔۔۔۔۔
” جی۔۔ سوری سر۔۔ بس۔۔ چلتا ہوں ” بس ایک نظر اٹھا کر زکی نے عباس کو دیکھا تھا اور اس ایک نظر نے عباس کو بہت کچھ بتا دیا۔۔۔۔عباس نے سنا تھا زکی کے دوستوں سے وہ کبھی کھل کر نہیں ہنسا نہ مسکرایا ہے آج عباس نے خود دیکھ لیا وہ ہنستا ہے مسکراتا ہے مگر یہ آنکھیں روتی ہیں جیسے آج وہ اس لڑکی کے لیے پھر سے رو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا عباس اسکی پشت دیکھتا بس دل میں اسکے سکون کے لئے دعا ہی کر سگا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” نالائق اولادیں ہیں میرا بتایا ہوا بہترین رشتہ ٹھکرا دیا ” صدیق صاحب کا غصّے سے بُرا حال تھا ایک سے بڑھ کے ایک اولادیں ہیں ان سب بھائیوں کی۔۔۔۔۔ سارے کے سارے انکے سروں پر راج کرتے ہیں۔۔۔
” اب زندگی انکی ہے انھیں گزارنی ہے ” صالحہ نے کمزور سے لہجے میں احتجاج کیا۔۔۔۔۔
” کیا کہ رہا تھا اس ہفتے شادی؟؟؟ شادی کیا رخصت کر کے بیوی کو بھی لے آؤ اسکی۔۔ جب پڑے گی سر پر تب قدر ہوگی باپ کے لفظوں کی ” صدیق صاحب نے ناگواری سے کہا۔۔
” زنیشہ بولتی کہاں ہے؟ اتنی پیاری بچی ہے۔۔ اور اپ غصّہ کیوں ہو رہے ہیں شکر ہے نہ پہلے بتا دیا ورنہ۔۔۔ ” انکا اشارہ شگفتہ کے بیٹے زاكون کی طرف تھا جس نے آخری موقع پر انکار کیا وہ کہتے کہتے چُپ ہوگئیں آخر بیٹے کا دفاع کرنا تھا۔۔۔
صدیق صاحب کو انکی بات ایک آنکھ نہ بھائی اسلئے بس انہیں ایک گھوری سے نوازتے چادر تان کر لیٹ گئے صالحہ نے سکھ کا سانس لیا اور لائٹ اوف کردی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” بس کردو مومنہ اور کتنا رو گئی!! شکر کرو وارننگ لیٹر نہیں ملا اور۔۔۔۔ ” فارا کچھ کہتے کہتے رک گئی اب ظاہر ہے وہ زاکون حیدر کی طرفداری تو کر نہیں سکتی تھی کے اس نے اپنا کام کیا ہے یا اب اس لاپرواہی پر غور کر کے وہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کریگی اسلئے فارا نے بس بات ہی بدل دی۔۔۔۔
” چلو بس کرو اب اور تیاری پکڑو میڈم نے رائونڈ کا کہا ہے وہ بھی سی سی یو میں ” مومنہ جو پہلے ہی نڈھال ہو کر اپنی سرخ آنکھیں بار بار پانی سے صاف کر رہی تھی تاکے یہ آنسوں کسی کو نہ دیکھیں سی سی یو کا سن کر سُن سی رہ گئی دل چاہ رہا تھا دھاریں مار مار کر روئے۔۔۔۔۔
فارا چلی گئی جب کے وہ خوب رو کر اپنی سرخ آنکھیں اچھی طرح پانی سے دھو کر قریباً پندرہ منٹ بعد واشروم سے نکلی اور فارمیسی سے پین اور چھوٹی سے ڈائری لیکر سی سی یو چلی آئی۔۔۔۔۔۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ قدم بڑھاتی سی سی یو کے دروازے کے باہر پہنچی لیکن ہمت نہ تھی اندر جائے۔ پر عائشہ(فارا نے عائشہ کو بھیجا تھا) جو اسکے ساتھ تھی وہ اسکی حرکت دیکھ کر سر پکڑ کر رہ گئی اور اسکا بازو پکڑ کے خود اسے دروازہ کھول کر اندر لے آئی۔۔۔۔۔
اندر آتی ہی اسکی نظر کاؤنٹر پر پڑی جو شکر ہے خالی تھا۔ سی سی یو اچھا خاصا بڑا تھا۔ صاف سترا،،، ہر جگہ پیشنٹ کے بیڈ کے باہر ڈارک بلو پردے لگے تھے دائیں بائیں جانب پیشنٹ کے بیڈز تھے اے سی کی وجہ سے ٹھنڈ بھی بہت تھی بڑا سا حال تھا جس میں بیچ میں آدھے چاند جیسا کائونٹر تھا جہاں پر کمپیوٹر رکھا تھا ایک جگہ۔۔۔۔ تو باکی جگہ خالی تھی پوری۔۔۔۔ اور شاید نیچے خانے بنے تھے جس میں ریپورٹس وغیرہ یا کام کے پیپرز اور دوسرا سامان رکھا ہوگا۔۔۔۔۔
وہ عائشہ کے ساتھ ایک ایک پیشنٹ کے پاس گئی اور انکی فائلز چیک کیں جہاں ساجیشن دینا تھا وہاں دیا باقی وہ سب کی رپورٹس کا معائنہ کرنے کے بعد جلدی سے عائشہ کے ساتھ سی سی یو سے باہر نکلنے لگی وہ نکل ہی رہی تھی۔۔۔۔ اسکی نظریں نیچے تھیں تاکے کوئی اسکی سرخ آنکھیں نہ دیکھ سگے اسی بُرائی میں پتا نہ لگا اور وہ سامنے سے آتے شخص سے ایسا بُرا ٹکرائی کے اسکے چودہ طبق روشن ہوگئے کیوں کے اس شخص کی کی ٹھوڑی زور سے مومنہ کی پیشانی پر لگی تھی۔۔۔
” اندھے ہو ” وہ کراہ کر رہ گئی اپنا سر مسلتے وہ اس کا چہرہ دیکھے بغیر اس پر برس پڑی۔۔۔۔جبکے زاکون حیدر آنکھیں سیکوڑ کر اسے دیکھے گیا۔۔۔۔
” مومنہ۔۔۔۔ ” عائشہ نے دانت پیستے کہا اور اسکی بازو کو اتنی زور سے دبایا کے اسکے ہوش ٹھیکانے آجائیں اور آنکھیں کھول کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھ مومنہ نے جیسے ہی گردن اٹھا کر اس شخص کو دیکھا اسکی سانس اٹک گئی اتنے قریب سے وہ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا مگر یہ سب صرف ایک لمحے کو ہوا اگلے ہی پل اپنا ٹریننگ پیریڈ یاد کر کے اسکے جسم میں انگارے دھکنے لگے۔۔۔۔۔۔
” چھوٹی سی وائل کی ایکسپائری ڈیٹ میلوں دور سے نظر آجاتی ہے اور اتنی بڑی لڑکی سامنے سے آتی ہوئی نظر نہیں آئی؟؟؟؟ ” عائشہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے اسکی عقل پر ماتم کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔
” اب ٹھڑکیوں کی طرح گھور گھور کر کیا دیکھ رہے ہیں؟؟ راستہ دیں ” وہ تو گویا اچھے خاصے بندے کا پورا کریکٹر الٹ گئی وہ تو اپنے اندر کی آگ نکال کر اسکی سائیڈ سے ہوکر جا چکی تھی مگر زاکون حیدر ششد سا وہیں کھڑا رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” صالحہ بھابی زنیشہ کے یہاں گئیں تھیں المیر کا رشتہ لیکر ” وہ جو اپنے کپڑے طحہ کر کے الماری میں رکھ رہی تھی ساکت سی رہ گئی۔ اسکا جسم یکدم سے بےجان ہوگیا شلوار طحہ شدہ زمین پر گڑ گئی۔ نجمہ جو تھک ہار کر رات کا کھانا بنا کر بیڈ پر بیٹھیں تھیں بیٹی کی ایسی حالت دیکھ کر گھبرا کر فوراً سے اسکی طرف لپک کر اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھاما۔۔۔۔۔۔۔۔
” مایل۔۔۔مایل ادھر دیکھو۔۔میری جان۔۔”
” امی۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔۔ ” وہ پاگلوں کی طرح نفی میں سر ہلاتی بےیقینی کی کیفیت میں پیچھے قدم بڑھا رہی تھی۔نجمہ اسکی حالت دیکھ کر خود ڈر گئی۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح چیختی یکدم اپنے بال نوچنے لگی۔۔۔ شاہد بار بار ماں کے کہے الفاظ کانوں میں گونج رہے تھے۔
” امی۔۔۔۔ امی۔۔۔۔ امممممیییییییی ” اسکی چیخیں بلند تر ہوتیں جاری تھیں۔ نجمہ نے گھبرا کر جلدی اسکا چہرہ آزاد کیا اور کمرے کا دروازہ بند کیا ساتھ کھڑکیاں بھی بند کیں۔
نجمہ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا پردے برابر کرنے کے بعد وہ آئیں اور کھینچ کر ایک تھپڑ اسکے منہ پر جڑ دیا مگر مایل بے سود سی بس ماں کو دیکھتی رہی اب اسکا پاگل بند ہو چکا تھا۔۔۔۔ مگر وہ ایسی تھی جیسے کوئی زندہ لاش نجمہ نے اسے بازؤں سے پکڑ کے جھنجھوڑ ڈالا۔۔۔۔
” کسی کے جانے سے دنیا نہیں رکتی مایل۔۔۔۔ تمہارے بابا گئے نا؟؟ میں مری؟؟؟ تم لوگ کو چھوڑا؟؟ مومنہ چلی گئی؟؟ میں نے تمہیں چھوڑا؟؟؟؟ تم میرے لیے جی نہیں سکتی ” نجمہ کی آواز بھر آگئی مگر غصّہ ابھی بھی کم نہ ہوا تھا۔کیوں کے مومنہ کا سن کر وہ مزید چیخ کر رونے لگی اور ماں سے لپٹ گئی۔۔۔۔
” میری اب۔۔۔۔۔ابو۔۔۔۔ک۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔۔ن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔آآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآ۔۔۔۔ ” وہ منہ کھولے چیخ رہی تھی نجمہ کا دل بیٹھا جا رہا تھا جلدی سے اس نے اپنی الماری کھولی اور الماری کے ایک خانے سے ٹیبلٹ کا ایک پتا نکالا اور اس میں سے ایک گولی نکال کر پاس پڑے جگ سے گلاس میں پانی انڈھیل کر زبردستی وہ گولی مایل کے منہ میں ڈالی پھر اپنے ہاتھ سے ہی گلاس اسکے ہونٹوں سے لگایا چیخنے کے وجہ سے ویسے ہی اسے پانی کی طلب ہورہی تھی اسلئے گٹاگٹ وہ سارا پانی پی گئی۔۔۔۔۔۔
پھر آکر خود ہی بیڈ پر بیٹھ گئی اس نے دل پر ہاتھ رکھا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اتنی زور سے کے آوازیں اسکے کانوں تک پہنچ رہیں تھیں۔۔۔۔ وہ خاموشی سے ایک جگہ ٹہری رہی اسکی ماں اسکی ایک ایک حرکت دیکھ رہی تھی۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی مایل کو محسوس ہوا جیسے اسکا سر بھاری ہو رہا ہے آنکھوں تلے کوئی بوجھ آیا ہے جو آنکھیں خود با خود بند ہو رہیں تھیں پھر وہ تکیہ پر سر رکھ کے لیٹ گئی اور منٹوں میں وہ ہوش و حواس سے بیگانہ میٹھی نیند سو گئی نجمہ نے اسے سوتے دیکھ سکھ کا سانس لیا ایک بیٹی کے سر سے ہی داغ نہیں گیا اور وہ دوسری بیٹی کا داغ دار دامن کیسے دیکھ سکتی تھیں؟؟ وہ مایل کے پاس بیٹھ گئیں اور آہستہ آہستہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں۔۔۔۔ مایل کا چہرہ دیکھتے انہیں اندازہ نہیں ہوا کب انکی آنکھوں میں وہ چہرہ دھندھلا سا گیا انہیں مومنہ آج بےتحاشا یاد آرھی تھی وہ بھی آکر انکے سامنے روتی چیختی چلاتی مگر خاموش موت نہ مرتی۔۔۔۔۔۔نجمہ کا دل بھی آج چاہ رہا تھا اپنی ماں کی گودھ میں سر رکھے بلک کر روئیں اپنی اُجری زندگی کا ماتم کریں اتنی محبّت دینے والا اتنی قدر کرنے والا شوہر۔۔۔۔۔ اتنی جلدی انھیں اکیلا کر گیا۔۔۔ بےرحم دنیا کے آسرے چھوڑ کر؟؟؟؟؟ انہوں نے مایل کا ماتھا چوما اور اسکا سر اپنے سینے میں بھینچ کر سسک سسک کر رو پڑیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آبی جلدی کھانا کھا کر پڑھائی کرنے بیٹھو ” المیر نے چاول کھاتے آبی سے کہا جو چاولوں کی دوسری پلیٹ سے انصاف کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
سب ہی وہاں موجود تھے سوائے مایل اور نجمہ کے۔۔۔۔۔
” جی بھائی ” آبی نے المیر کو دیکھ کر برا سا منہ بنایا جو المیر نے تو نہیں مگر صالحہ نے دیکھا اور اسے غصّے سے گھورا جس پر آبی خاموشی سے گردن جھکا کر اپنے کھانے میں مصروف رہا۔۔۔۔۔۔۔
حیدر مرتضیٰ پرسوں ہی واپس لوٹ گئے تھے۔ شگفتہ کو انکی کمی کھانے کے دوران خاص محسوس ہورہی تھی کیوں کے اسی ٹائم وہ سب بچوں سے سوالات کرتے سب سے باتیں کرتے حال چال پوچھتے۔۔۔۔۔۔ اور انکا بیٹا زاکون بھی ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” امی مایل کہاں ہے؟؟ ” المیر جو کب سے مایل کی غیرموجودگی کو محسوس کر رہا تھا آخر پوچھ بیٹھا۔۔۔۔
” زندہ ہے ” جواب پاس ہی بیٹھے آریز کی طرف سے تھا جو اپنا کھانا کھاتے اس پر طنز کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔المیر نے صبر کا گھونٹ بھرا۔۔۔۔۔۔
” امی ” نجمہ کو المیر نے دوبارہ مخاطب کیا جو شاذ سے کچھ کہ رہی تھیں المیر کے بلانے پر اسکی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔۔۔
” مایل اور چچی کہاں ہیں؟؟؟ “
” نجمہ بھابی کی تو طبیعت ٹھیک نہیں آرام کر رہی ہے اور مایل سو رہی ہے تم بھی تب نہیں سنتے جب انکو بتا رہی تھی ” صالحہ کا اشارہ صدیق صاحب کی طرف تھا جنہوں نے کرسی پر بیٹھتے ہی پہلے مایل اور نجمہ کا پوچھا تھا۔۔۔۔۔ المیر نے پھر کچھ نہ کہا مگر جانتا تھا وہ بہت تکلیف میں ہوگی پتا نہیں اسے خبر ہے یا نہیں کے وہ زنیشہ سے شادی کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
” مبارک ہو ” آریز نے دھیمے سے اسے مبارکباد دی ایسے کے کوئی سن نہ سگے۔۔۔۔۔۔
” کس لئے ” المیر کو اچنبھا ہوا۔۔۔۔
” جسے پسند کرتے تھے مل گئی “
” ایسا کچھ نہیں ” وہ بھڑک اٹھا لہجہ سخت تھا مگر آواز دھیمی۔۔۔۔
” یقین کرلیا ” آریز زخمی سا مسکرایا اور آخری روٹی کا نوالہ چبا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔ جبکے پیچھے سے المیر مٹھی بھینچ کر رہ گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔