Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 06
Rate this Novel
Episode 06
شدید غصّے میں وہ گھر سے نکلا تھا اسے ایک گھنٹا ہو چلا تھا وہ سڑکوں پر بےمقصد گھوم رہا تھا۔۔ اسے خود سے گھن آرہی تھی نفرت ہو رہو تھی مایل کی سوچ سے۔۔ یہ کب کیسے ہوا اسے سمجھ نہیں آرہا آخر اس سے غلطی کہاں ہوئی؟؟ وہ مایل سے ایک دفع پوچھنا چاہتا تھا ایک دفع اسے اپنے سامنے کھڑا کر کے اسے شرمندہ کرنا چاہتا تھا اسکی ایسی ” بےشرم ” سوچ پر۔۔۔۔۔۔۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھا کے اسکا فون بج اٹھا وہ یہ کال ریسیو نہ کرتا اگر یہ کال ” صدیق صاحب ” اسکے باپ کی نہ ہوتی تو۔۔۔
” جی ابو!!!! “
” نالائق پہلے سلام کیا کرو ” انہوں نے اسکی آواز سنتے ہی ٹوکا۔۔۔۔
” جی ابو اسلام علیکم!!!! “
” وعلیکم اسلام!!! المیر حیدر نے تمہارے لئے ایک اچھا رشتہ دیکھا ہے بولو تو بات چلاؤں وہ بندہ آج سعودیہ لوٹ گیا تو پھر یہ رشتہ ہاتھ سے گیا۔۔۔۔۔۔ “
” ابو ایٹ لیسٹ دو سالوں تک شادی نہیں کرونگا!!! میرے اپنے سر درد بہت ہیں ایک نیا نہیں پال سکتا۔۔۔۔” کہتے ساتھ المیر نے فون کاٹ کر کے ڈیش بورڈ میں پٹکا ویسے ہی وہ شادی کے نام سے چڑا ہوا تھا رہی سہی کسر اسکے باپ نے پوری کردی۔۔۔۔۔
۔…………………………
وہ گھر لوٹا تو مایل اسے گارڈن میں ہی جھولے پر بیٹھی نظر آئی اسے دیکھتے ہی المیر نے راستہ بدلا لیکن وہ بھاگتی ہوئی اس کی راہ میں حائل ہوگئی۔۔
” آپ مجھ سے ناراض ہیں؟؟ ” وہ اسکے سامنے آکھڑی ہوئی المیر کی رگیں تن گئیں۔۔۔۔۔
” اپنے کمرے میں جاؤ ” سخت لہجے میں وہ بولا۔۔۔۔۔
” آپ کی ناراضگی میری جان لے لیگی ” اسکے لفظوں نے المیر کا دماغ بھگ سے اڑا دیا۔ وہ اسکے اندر کے وحشی جانور کو جگا گئی۔۔۔۔۔
” جسٹ شٹ اپ!!!! ورنہ یہ گردن در سے الگ ہوگی ” وہ اسکی گردن اپنی مٹھی میں جکڑے دھارا مایل کا سانس اٹک گیا۔۔۔۔۔۔
” آئ ایم سوری!!!! ” وہ اس پر زور نہیں ڈال رہا تھا بس اپنے ہاتھوں میں اسکی گردن جکڑی تھی شاید مایل کو ڈرانے کے لئے اور لمحے کے ہزارویں حصے میں المیر نے اسے آزاد کردیا۔۔۔۔ وہ بےبس تھا،،، انتہائی بےبس وہ چاہ کر بھی اسے تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” مجھ سے کسی چیز کی امید مت رکھنا!! کوشش کیا کرو میرے سامنے مت آؤ ” وہ دبے دبے سخت لہجے میں بولا مایل ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رو دی آخر کہاں وہ اسکی سختی برداشت کر سکتی تھی؟؟؟
” آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟؟ جبکے شروعات آپ نے کی تھی۔۔۔ ” المیر نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔
” بکواس بند کرو ” اسے خود پر یقین تھا وہ کبھی خود سے مایل کو کچھ نہیں کہ سکتا۔۔۔۔وہ تو گویا سنتے ہی بھڑک اٹھا تھا۔۔۔۔۔
” یہ سچ ہے!!! یاد کریں جب آپ دوست کی شادی سے آئے تھے آفان ہاں آفان کی شادی سے۔۔۔۔۔ ” المیر نے آنکھیں سیکوڑ کر اسے سرخ نگاہوں سے گھورا پھر جیسے ماضی کے منظر کو یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔۔
” تم۔۔۔ “
” یاد کریں آپ نے کہا تھا۔۔۔۔۔ “
ذھن پر زور دینے سے بھی اسے کچھ یاد نہ آیا۔۔ وہ آفان کی شادی میں گیا تھا،،، اسے یاد ہے اس نے وہاں سی فوڈ کھایا تھا۔۔۔۔۔
آفان انکا پڑوسی تھا آفان کے ابا اور صدیق صاحب کی اچھی دوستی تھی اسلئے المیر اور گھر کے سب ہی لڑکے آفان کی شادی میں گئے تھے بہت عرصہ قبل وہ لوگ امریکہ شفٹ ہوگئے تھے لیکن شادی یہاں اپنے رشتے داروں میں ایک پاکستانی لڑکی سے کی۔۔۔ شادی میں تقریباً کھانا بھی پاکستانی کھانوں سے الگ تھا۔۔۔۔ اور المیر کو علم نہ تھا وہ جو سالن کھا رہا ہے اس میں مشرومز ہیں احساس تو اسے تب ہوا جب اسکی طبیعت بگڑی وہ فوراً خود ہسپتال چلا آیا گلے میں خارش خطرناک ہو رہی تھی اور اسکین پر الگ داغ بن رہے تھے۔ ڈاکٹر نے اسے اینٹی الیرجی انجیکشن لگایا تھا۔۔ وہ بہت مشکل سے ڈرائونگ کرتے گھر پہنچا تھا۔ دوائی کے زیر اثر وہ نیند میں جھولتا بار بار غنودگی میں جا رہا تھا۔ گھر پہنچتے ہی اسے مایل نظر آئی جو احتیاط سے اسے اسکے روم تک چھوڑ آئی پھر کیا ہوا اسے یاد نہیں۔۔۔ کیا المیر نے اسے کوئی امید دی تھی؟؟ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے جب وہ اسے اس نظر سے نہ دیکھتا ہے نہ بہن سے بڑھ کے کچھ مانتا ہے؟؟؟ سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹنے لگا یہ لڑکی اسے پاگل کردیگی۔۔۔۔۔۔۔
” یاد کریں ” وہ ایک بار پھر روتے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔۔۔
” شٹ اپ!!! کچھ نہیں کہا تھا ” المیر دھارا اگر ایسا ہوا بھی تھا تو بھی وہ خود سے یقین نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔
” کہا تھا!! آپ نے کہا تھا مایل تم کتن۔۔۔۔۔کتنی۔۔۔۔پ۔۔۔پیاری۔۔۔۔۔ہ۔۔۔۔ہو۔۔۔۔پ۔۔۔۔پر میری پہنچ سے بہت دور ” شرم و حیا سے کہتی وہ خود زمین میں دھنستی جا رہی تھی مگر آخری جملا اس نے آنکھیں بند کر کے جلدی سے کہا جبکے المیر شاک کی سی کیفیت میں اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
کس کو شوٹ کرے؟؟؟ خود کو یا مایل کو؟؟؟ اگر مایل مزید یہاں رہی تو یہ پاگل پن اس حد تک پہنچ جائے گا جہاں المیر چاہ کر بھی پھر کچھ نہیں کر پائے گا۔۔۔۔
” تمہاری پڑھائی اب شادی کے بعد ہوگی!!!! تیاری کرلو اسی ہفتے تم دلہن بن کر یہاں سے رخصت ہوگی ” وہ جیسے کسی فیصلے پر آن پہنچا مایل صدمے کی سی کیفیت میں اسے تک رہی تھی اسکے جسم میں جان نہیں تھی کے ہل سگے یا بول سگے اس ظالم نے لمحے اسے موت کی سزا سنا دی۔۔۔۔۔
” سنا تم نے؟؟؟؟ ” اسکی تیز آواز مایل کے کانوں میں چُبتی اسکے کانوں کے پردھے پھاڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
” کبھی نہیں!!! میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی ” وہ پوری قوت سے چیخی۔۔۔۔ آنکھوں سے آبشار بہ رہا تھا جو پل بھر کو ٹھر نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔
” جاؤ گی ضرور جاؤ گی!!!! ” وہ اس سے زیادہ اونچی آواز میں چیخا۔۔۔۔۔۔
” میری ماں زندہ ہے میرے تایا چچا سب ہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔” وہ اس کٹھور شخص کے سامنے بلکل بےبس تھی کسی چڑیا کی طرح خوفزدہ سی رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” انکی نگرانی میں تمہاری شادی میں خود کرواونگا “
” آپ ڈر گئے ہیں نہ مجھ سے ؟؟؟ آپ ڈرتے ہیں۔۔۔ آپ کو ڈر ہے کہیں آپ میرے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دیں ” اسکی بات سن کر المیر کا پاڑا ساتویں آسمان کو جا پہنچا۔۔۔ اسکی سوچ پر المیر کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔۔۔
” بکواس بند کرو!!!! خود کو میری نظروں میں مت
گِرائو “
” گِرایا تو آپ نے ہے مجھے!!!!! میرے دل میں ایسے جذبات پیدا کر کے۔۔۔۔ ابھی بھی آپ اپنی انا اپنی،،جھوٹی عزت،، و شان میں یہ سب کر رہے ہیں۔۔ تاکے کوئی یہ نہ سمجھے کے آپ نے میری زمیداری لی اور اب مجھ سے ہی وہ سب
وصول۔۔۔۔۔ ” غم و غصّے سے اسکا دماغ پھٹ رہا تھا المیر اسکی سرخ آنکھیں دیکھ رہا تھا جو کسی ندی کی طرح بہ رہی تھی۔۔۔ مگر اسکے الفاظ اس شخص کے اندر اُبلتے لاوا کو بھڑکانے کے لئے کافی تھے۔۔۔۔
” منہ بند کرو اپنا۔۔۔ ” المیر نے سخت نظروں سے گھورتے اسے وارننگ دی۔۔۔ پر آج وہ چُپ ہوئی تو شاید یہ زبان پھر اس شخص کو اسکا اصلی چہرہ نہیں دیکھا پائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” یہ سچ ہے میں آپ سے عمر میں چھوٹی ہوں!! آپ کو یہ ڈر ہے دنیا آپ کو نشانہ بنائے گی اسلئے میرے ساتھ یہ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ میری زندگی تباہ کر رہے ہیں۔۔۔ “اسکا سانس پھول رہا تھا جسم الگ اس شخص کے خوف سے کپکپا رہا تھا۔۔
” تمہاری سوچ۔۔۔۔ ” المیر نے نفرت سے اسے دیکھتے کہا مگر وہ اسکی بات کاٹ گئی۔۔۔۔
” اگر ایسا نہیں تو پہلے خود شادی کریں۔۔ ” وہ ان نفرت بھری نگاہوں کو خود کی طرف اٹھتا دیکھ صدمے سے چیختی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔۔ وہ نہ اتنی بدتمیز تھی نہ المیر اسے کبھی ان نظروں سے دیکھتا تھا پر آج لگتا ہے زندگی ختم ہوگئی۔۔۔۔۔دونوں ایک دوسرے سے بہت دور تھے بہت۔۔۔۔
” آج تک آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟؟؟؟ آپکے بیچ کے سب شادی شدہ ہیں بچے ہیں انکے۔۔۔۔آپ ہی اکیلے کیوں ہیں؟؟ ” اسکے سوال نے المیر کو لاجواب کردیا۔۔۔ وہ جواب دے تب بھی کبھی وہ اسکی بات کا یقین نہیں کریگی کے اسنے فیصلہ کیا تھا مایل کی شادی کے بعد ہی وہ خود اپنی زندگی کا سوچے گا۔۔۔۔۔۔
” میری شادی کروانی ہے نہ؟؟؟ کرونگی لیکن اس دن جب آپ میرے سامنے میری جیسی ہی لائیں گئے اگر میری سب باتیں جھوٹی ہیں تو جائیں کریں کسی کم عمر لڑکی سے شادی۔۔۔۔ جو میری ہم عمر ہو۔۔۔۔۔۔ “
” بولیں اب کہیں نہ شٹ اپ آپ کو لگتا ہے باپ نہیں تو میں چُپ رہوں گی؟؟؟؟ نہیں میری چُپ اس دن آپ کو مار دیگی جس دن میں یہاں سے کسی اور کے ساتھ رخصت ہونگی ” وہ ابھی بھی زمین پر اسی پوزیشن میں بیٹھی جیسے اس سے التجا کر رہی تھی یہ آنکھیں ان لفظوں کا ساتھ نہیں دے رہیں تھیں وہ اس سے شادی کا کہ رہی تھی مگر ان آنکھوں سے التجا کرتی جیسے جھولی پھیلائے پیار کی بھیک مانگ رہی تھی المیر سے رہا نہیں گیا وہ وہاں سے بھاگ گیا۔۔ ہان مایل نے اسکی پشت دیکھی تھی وہ لمبے لمبے قدم اٹھاتا اسکی آنکھوں سے لمحے میں اوجھل ہوگیا۔۔۔ اور وہ گھٹنوں میں سر دیے سسکتی رہی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” اٹھو۔۔۔۔۔ ” وہ جو گارڈن ایریا میں گھٹنوں پر سر رکے سسک رہی تھی سر پر کسی مہرباں کا ہاتھ محسوس کرتے گردن اوپر کو اٹھائی۔۔۔۔۔۔
” تم کس کے لئے رو رہی ہو؟؟؟ جو خود بےحس بن چکا ہے؟؟ ” آریز کے دل کو کچھ ہوا اسکی روئی روئی سرخ آنکھیں دیکھ کر۔
” آریز بھائی۔۔۔۔ ” وہ تو اسے دیکھتے ہی چہرہ ہاتھوں میں چھپائے اسکے سینے سے جا لگی۔۔ آج بھی مایل کا دماغ وہی بچوں جیسا ہے۔ آریز سوچ رہا تھا اس میں اتنی سمجھ نہیں کے وہ اسکے لئے نامحرم ہے کزن نامحرم ہی ہوتا ہے بھائی کہنے سے وہ اسکا محرم بھائی نہیں بن سکتا۔۔۔۔۔۔
” بس رو نہیں!!! تم ایسے شخص کی وجہ سے اپنوں کو کیوں تکلیف دے رہی ہو؟؟جانتی ہو کسی نے تمہیں یہاں ایسی حالت میں دیکھا تو تمہارے لئے کتنا بڑا مسلا بن سکتا ہے؟ ” وہ تو گویا یہ بات سنتے ہی آریز سے دور ہوئی۔۔ آریز نے مسکراہٹ چھپانے کے لئے ہونٹ دانتوں تلے دبایا۔۔۔۔۔۔
” وہ۔۔۔۔ ” ایک بار پھر سے اسکا دُکھ تازہ ہوگیا۔۔۔۔۔وہ اپنی ایسی حالت کی وجہ اسے بتانے لگی تھی مگر ہونٹ کچھ کہنے کی صورت میں بس پھرپھرا کر رہ گئے۔۔۔۔
” جانتا ہوں سمجھا بھی چکا ہوں اس وقت وہ آسمان پر ہے لیکن زمین پر آنے میں وقت نہیں لگے گا منہ کے بل گِرے گا!!! تم اب جاؤ سوجاؤ ویسے بھی اتنی رات رات کو یہاں پھرو گی جن چمٹ جائیں گئے۔۔۔۔”
” آپ آج بھی مجھے تنگ کر رہے ہیں ” وہ روتے روتے ہوئے باگ کر گھر کے اندر چلی گئی۔۔ سچ بات تو یہ تھی اسے آج بھی ” جنات” سے بہت ڈر لگتا تھا۔ آریز نے ہنستے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا آج کل اسکا دل بلکل خالی ہو چکا ہے وہ جان چکا ہے کچھ طوفان ایسے ہوتے ہیں جو سالوں سال اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔اسکی مثالیں اسکے سامنے ہیں،،،، زاکون، مومنہ اب مایل اور المیر۔۔ وہ بھی جسکے انتظار میں تھا اب تو وہ شخص اسکے لئے لاحاصل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔
کل تک وہ مایل کے لئے بےحد پریشان تھا مگر آج وہ جان چکا ہے انسان کو ہر چیز نہیں ملتی کچھ چیزوں کی حسرت بس حسرت بن کر رہ جاتی ہے۔۔ وہ بھی آج تک جس کے انتظار میں تھا اب وہ انتظار بھی آج اسکے ایک اقرار سے ختم ہوگیا اسے یقین ہے اسی ماہ اسکی ماں اسکی شادی کردیں گی۔۔ مایل کے ساتھ بھی یہی ہوگا کیوں کے یہی انکا مقدر ہے انکی محبتیں انکے مقدر میں کبھی تھیں ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” یہ لے موٹے تیرا موبائل اور یاد رہے منہ کھولا تو یہ تیرا موٹا پیٹ چیر دونگا ” شاذ نے آبی کو اسکا موبائل لوٹاتے دھمکی دی اب جب وہ اسکا کام کر چکا تھا تو آبی کا موبائل رکھ کر وہ کیا کرتا؟؟ سدھارنے کے لئے تو اسکی ماں کی چپل ہی کافی ہے۔۔۔۔۔۔
” حلیم تو بہت مزے کا ہے کس نے بنایا امی نے یا زنیشہ نے؟؟؟ ” نجمہ نے علی کا لایا ہوا حلیم ٹیسٹ کیا تو تعریف کیے بغیر رہا نہیں گیا۔۔۔
” امی نے بنایا ہے آپی تو سخت بیمار ہیں بخار ہی نہیں اتر رہا ” علی جو زنیشہ کا بھائی تھا دکھ سے بولا وہ زنیشہ سے دس سال چھوٹا تھا۔۔۔۔
” کیوں پرسوں تو ٹھیک تھی؟؟ اللّه خیر کرے بچی کو نظر تو نہیں لگی.۔۔۔ “
” پتا نہیں بس جب سے آپ لوگ کے یہاں سے آئی تھیں تب سے بخار میں تپ رہی ہیں ” المیر جو آفس جانے کے لئے تیار ناشتہ کرنے ڈائنگ ٹیبل پر آیا تھا علی کی باتیں سن کر ٹھٹکا اسے یاد ہے زنیشہ کی وہ بےتاب نظریں جو اسکا عکس عکس حفظ کر رہیں تھیں۔۔۔۔
اسنے پہلی بار اسے ڈانٹا تھا ورنہ تو ہر وقت مسیحا کی طرح ہر دفع ہر کہیں اسکے ارد گرد موجود ہوتا۔۔۔۔
علی جا چکا تھا صالحہ نے انڈا پراٹھا اور چائے سے بھرا مگ لا کر ٹیبل پر رکھا۔۔۔ المیر نے ناشتہ شروع کیا تو نجمہ بھی چئیر کھسکا کر وہیں بیٹھ کر اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھتی رہیں۔۔۔
” امی میں زنیشہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ” وہ جو اپنے بیٹے کو دیکھ رہیں تھیں چونک اٹھیں۔۔۔۔۔
” زنیشہ؟؟ ” انکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔۔
” مت پوچھیئے گا کچھ آپ آج ہی ان سے بات کریں!!! اور اسی ہفتے کی کوئی تاریخ فکس کریں ” وہ بڑے نوالے لیتا جلدی ناشتہ ختم کرنے پر تھا تاکے صالحہ کے سوالوں سے بچ سگے۔۔۔۔
” ارے ایسے کیسے پہلے تمہارے باپ سے تو بات کروں بیٹھے بیٹھائے بھلا رشتے ہوتے ہیں کیا بس تم نے کہ دیا تو ہوگئی شادی وہ بھی تو مانیں لڑکی دیں گئے یا نہیں؟؟؟؟ ” صالحہ بیغم کو تو زنیشہ شروع سے ہی پسند تھیں بس بیٹے کی بےصبری انہیں ایک آنکھ نہ بھائی۔۔
” جیسا ٹھیک لگے کریں پر اسی ہفتے ورنہ چار سال تک میرا کوئی ارادہ نہیں بنے گا۔۔۔۔ “
المیر ناشتہ کرنے کے بعد آفس کے لئے نکل گیا ویسے بھی وہ لیٹ ہو۔ چکا تھا دن کا ایک بج رہا تھا جبکے صالحہ سر پکڑ کر بیٹھ گئیں انہیں المیر کی بےصبری سمجھ نہیں آئی وہ اٹھیں اور یہ خبر اپنی دونوں دیورانیوں کو بتانے کے لئے انکے پاس چلی گئیں۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” سی سی یو میں ابھی ڈسپینسینگ کس نے کی تھی؟؟؟ ” اس وقت فارمیسی میں چار لڑکیاں موجود تھیں مومنہ، عائشہ مریم اور فارا تبھی دھرم سے دروازہ کھولتی میڈم چیختی ہوئی آئیں۔۔ اور بولتے ساتھ تیز قدم اٹھاتیں اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئیں۔۔۔۔۔۔۔
سی سی یو کا سن کر مومنہ کی سیٹی گم ہوگی انجیکشنز نکالیں اس نے تھیں مگر دیے (ڈسپنس) اسنے نہیں بلکے فارا نے کرائے تھے۔۔۔۔۔
” کس نے کی تھی؟؟ ” اس بار انکی آواز میں سختی تھی مومنہ چئیر گھما کر آگے سیسٹم کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئی جیسے سیسٹم میں انڈینٹس آئے ہوں۔۔۔حالنکے وہ خالی تھا۔۔۔۔
نوٹ:-
(ہر ادارے کا اپنا ایک الگ سافٹ وئیر ہوتا ہے اسی طرح انکے ہسپتال کا سافٹ وئیر تھا۔ ہر کسی کی اپنی آئی ڈیز بنیں تھیں ہر کوئی اپنی آئی ڈی سے چارج کرتا تھا تاکے غلطی کرنے پر اسے بندے پر پینیلٹی لگے (یعنی غلطی پر پیسے کٹیں) اس لئے جب بھی وہ لوگ کوئی بڑا انسٹرومنٹ چارج کرتے جو لاکھوں کا ہوتا میڈم سے کوڈ ضرور پوچھتے ہیں کے کس کمپنی کا چارج کرنا ہے تاکے پرائز میں فرق نہ آئے )
سسٹم دیکھو تو سامنے بےشمار پیشنٹس کی لسٹ تھی جو آئے گئے ایکسپائر ہوئے لیکن فرق ان سے نہ پڑتا بلکے جب پیشنٹ کا انڈینٹ آنا ہوتا تب ہی ایڈمیٹڈ پیشنٹ کا نام آتا اسکرین پر اور ایک ریڈ لائن شو ہوتی ہے جو انڈینٹ آنے کا ثبوت ہے۔۔۔ ایک ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کے سارے انڈینٹس ساتھ آتے ہیں اور پورا سسٹم بھر جاتا۔۔۔۔ پھر جیسے ہی اوپن کرتے ہیں اسے چارج کر کے پرنٹ نکالتے ہیں وہ انڈینٹ جاتے رہتے ہیں۔۔۔۔
” کس نے کی؟؟ ” ایک مرتبہ پھر انکی آواز گونجی۔۔۔۔۔
مومنہ کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوا اگر انہوں نے کیمرہ چیک کیا تو؟؟ اللّه جی اس سے اچھا یہ نہیں وہ خود اقرار کرلے۔۔۔
وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی بولنے کا کے فارا بول اٹھی۔۔
” میڈم میں نے ڈسپینس کیا تھا “
” لیکن نکالا میں نے تھا ” وہ بھی چُپ نہ رہ سگی۔ گلے تک تو پھنس چکی تھی پھر منہ بچا کر کیا کرتی؟؟؟ اسلے جھٹ چئیر سے اٹھ کھڑی ہوئی اور مجرموں کی طرح میڈم کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔۔
” اندھوں کی طرح نکالا ہے؟؟؟؟ عبّاس (نرسینج مینیجر)
کی کال آئی ہے میرے پاس بتاؤ کیا جواب دوں؟؟ پوچھ رہا ہے آپ کی لڑکیاں ریجیسٹرڈ فارماسسٹ ہیں ؟؟ ” اتنا سخت لہجہ آج پہلی بار وہ سن رہی تھی ورنہ میڈم تو اتنی اچھی تھیں انجیکشن ٹوٹنے پر بس گھورتیں ڈانٹتی نہیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
” بولو مومنہ اندھوں کی طرح نکالا ہے؟؟؟ رونا نہیں میرے سامنے ایک آنسو بہایا تو تھپڑ کھاؤ گی سب کے سامنے۔۔۔۔” سختی سے کہتے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اسکے آنسوں دیکھ کر کچھ نرم پڑ گئیں لیکن پھر جیسے کسی فیصلے پر پہنچ کر انہوں نے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔۔
” اب دو ہی راستے ہیں یا وارننگ لیٹر یا تمہارا ٹرینینگ پیریڈ بڑھا دوں!!! تمہاری ٹرینینگ ہی بڑھانی پڑے گی۔۔مجھے آگے بھی جواب دینا ہے سمجھی؟؟ نائو نو موڑ آرگیومنٹس آئندہ ایسی غلطی کرنے پر سو دفع سوچو گی تم ” ٹریننگ بڑھنے کا سن کر اسکا سانس اٹک گیا۔۔ بےساختہ گردن اٹھا کر میڈم کو دیکھا جو سخت نظروں سے اسے دیکھ رہیں تھیں پھر یہ نظریں خود با خود جھکتی چلی گئیں۔۔۔۔ وہاں بیٹھی باقی لڑکیاں بھی تھوڑی بہت اندر سے سہم چکی تھیں سوائے عائشہ اور فارا کے جو ایسی سیچوینشز سے آلریڈی گزر چکے تھے۔ آج تو اسکے آنسوں بھی میڈم کو پیگلا نہ سگے ورنہ وہ تو سب کی سنتی ہیں۔۔۔۔۔
” اور تم فارا ایک تو آنکھوں سے اندھی ہے پر دوسری تو عقل سے ہی پیدل ہے۔۔۔ تمہیں عقل نہیں آئی کے چیک کرلوں؟؟؟ وہ ایکسپائر انجیکشن ابھی ایک نرسینگ اسٹونڈ لگانے والی تھی وینٹ پر پڑے پیشنٹ کو انکا ٹی ایل زاکون نہ دیکھتا تو آج تم دونوں کا لائنسسز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کینسل ہوجاتا۔۔۔۔ ” زاکون کا نام سنتے ہی اسکی سرخ آنکھیں مزید سرخ پڑ گئیں۔۔۔۔ رونا تو اسے اور شدت سے آرہا تھا اسی لئے وہ فارمیسی سے نکل کر واشروم میں چلی آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے کے سارے زخم ہے سنبھلے
جو تم دیے دی مجھے
اب دھڑکتا ہے سینے میں میرے
ہیں و پتھر کوئی دل نہیں ہے۔
وہ اپنے سینے پر زور زور سے تھپڑ مارتا منہ پھاڑ کے چیخ رہا تھا آنکھیں لال تھیں جو پانی سے بھری تھیں۔ جو جلدی ہی گالوں پر بہ آیا۔۔۔۔
زندگی بھر جس میں چاہا۔
زندگی بھر جس میں چاہا۔
مرکے بھی مجھ کو حاصل نہیں ہوتا
وہ رو رہا تھا ہاتھ کی مٹھی بنا کر آسمان کی طرف دیکھتے دانت بھینچے وہ یہی لفظ دہرا رہا تھا۔۔۔۔۔
بے وفا تیرا معصوم چھیہ
بھول جانے کے قابل نہیں ہے۔
بھول جانے کے قابل نہیں ہے۔
بھول جانے کے قابل نہیں ہے۔
دل درد سے پھٹا جا رہا تھا یہی لفظ دوڑاتے وہ روتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھا۔۔۔۔۔۔۔ پھر جب ” ڈن ” کی آواز سنی تو اٹھا اور بھاگتا ہوا علی کے پاس آیا جو اسکی ویڈیو بنا رہا تھا۔۔۔۔
” نالائق نکمے باپ کے جھوتے کھا کر بھی یہ ٹک ٹوک کا بھوت نہ گیا؟؟؟؟ ” صالحہ نے سختی سے آبی کا کان مڑورا اپنے بیٹے کی یہ حرکت دیکھ کر انکا پارا ہائی ہوگیا جو اپنے اتنے سے بالوں کی بھی پونی بنا کر ٹک ٹاک پر ناچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا تو تھو تھو کرے گی ان پر۔۔۔۔
صدیق صاحب سہی کہتے ہیں انکی اولادیں انکے ہاتھ سے نکل چکی ہیں ایک اپنی پسندیدہ لڑکی سے شادی کرنے پر مرا جا رہا ہے دوسرا لڑکی کے عشق میں مجنوں بنا پھرتا ہے تیسرا ٹک ٹاک پر مجرے کرتا ہے۔۔۔ وہ دکھ سے سوچتیں آبی کو گھسیٹ کر اپنے بنگلے کی طرف چلی آئیں آبی ان سے معافی مانگ رہا تھا مگر وہ کان بند کیے اسے گھسیٹ کر لے جا رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
وہ علی کے یہاں زنیشہ کا رشتہ مانگنے ہی تو گئیں تھیں کے انہیں آبی وہاں ملا۔۔۔۔۔ زنیشہ کی ماں رخسانہ کے پاؤں تو زمین پر نہیں پڑ رہے تھے ایسا رشتہ خود بیٹھے بیٹھائے گھر چلا آیا۔۔۔۔ ابھی تو نجمہ بس زبان سے کہ آئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔مگر جلد ہی انکا ارادہ تھا اسی ہفتے منگنی کریں بس انھیں صدیق صاحب کا انتظار تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
—– حال ——-
بھاری ہوتے سر کے ساتھ اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔
” آ ” پیاس کی شدت سے اسکا گلا سوکھ رہا تھا۔ اس نے ارد گرد ہاتھ مار کر لیمپ کی روشنی جلانی چاہی تو اسکے دائیں جانب رکھا لیمپ جل اٹھا روشنی ایک دم سے اسکی آنکھوں میں لگی اس نے گردن موڑ کر سر دوسری سائیڈ پر کیا جس سے لیمپ کی روشنی اسکی آنکھوں سے دور ہوئی۔۔۔۔
” کوئی ہے؟؟؟ امی۔۔۔۔۔ ” بامشکل آواز اسکے گلے سے برآمد ہوئی ایسا کیوں لگ رہا تھا کے وہ کافی دنوں سے سوتی رہی ہے؟؟؟
وہ بامشکل ایک ہاتھ کے دباؤ سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی اور اٹھی بھی مگر آس پاس کسی کو نہ پاکر وہ سوچ میں پڑ گئی سب کہاں گئے؟؟؟؟؟
” کوئی نہیں ہے یہاں ” یہ آواز۔۔۔۔۔۔ یہ آواز وہ ہزاروں میں پہچان سکتی ہے۔۔ جسے سن کر اسکا وجود لرز اٹھا تھا۔۔۔۔۔
اسکا جسم ہولے ہولے کپکپا رہا تھا۔
” مجھے چھوڑ کر چلی آئیں؟؟ ” وہ نجانے کہاں سے اندھیرے میں سے نکل کر اسکے سامنے روشنی میں آ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
” ا۔۔۔ار۔۔۔ارحم۔۔۔۔ کہاں ہے؟؟؟ ” آنکھوں میں بےتحاشا خوف لئے وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔۔
” وہیں چلا گیا جہاں سے آیا تھا ” آج بھی اسکا چہرہ سخت تھا۔۔۔۔ نا پچھتاوا تھا نہ دکھ۔۔۔۔۔۔ وہ بہت تھک چکی تھی اب تو اس میں ہمت بھی نہ تھی اس شخص سے لڑنے کی۔۔۔
” مجھے بھی مار دو!!!!! میری جینی کی خوائش ختم ہو چکی ہے “
” تمہیں دیکھ کر تو جینے کی خوائش جاگ اٹھی ہے!!!! کیسے مار دوں میری جان!!!! ” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے بولا لہجہ کسی بھی احساس سے عاری تھا چہرے پر بھی سنجیدگی چھائی تھی۔۔۔۔۔۔
اس شخص کا مکرو چہرہ دیکھ کر اسکے اندر سے وہ خوف وہ ڈر جا چکا تھا۔۔۔ وہ بےآواز رو رہی تھی بس آنسوں آنکھوں سے بہ رہے تھے۔۔۔ وہ خود کو بےحد کمزور محسوس کر رہی تھی تبھی ایک بار پھر وہ بیڈ پر ڈھ گئی آہستہ آہستہ اسکا جسم سو رہا تھا پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسکا دماغ سو چکا تھا۔۔۔ وہ نہ زندہ میں شمار تھی نہ مُردوں میں بس وہ گھٹ گھٹ کر سسک رہی تھی۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
