Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 05
Rate this Novel
Episode 05
المیر کیا ہوا؟؟؟
وہ جو غصّے میں تیزی سے گھر کا دروازہ عبور کر رہا تھا
آریز کی حرکت سے رُک گیا جس نے اپنا دایاں ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کے روکا تھا۔۔۔۔۔
” کچھ نہیں۔۔۔” اسکا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔۔۔۔
” کچھ تو ہوا ہے بتاؤ۔۔” آریز کو اسکا سرخ چہرہ دیکھ کر ہی صاف محسوس ہو رہا تھا وہ ضبط کی انتہا پر ہے۔۔ آریز کا پوچھنا تھا وہ پھٹ پڑا۔۔۔۔۔۔۔
مایل!!!!! دماغ خراب ہے اسکا۔۔۔ پتا نہیں کیا بکواس کیے جا رہی ہے۔۔۔
” المیر کیسے بات کر رہے ہو؟؟ ” اسکا سخت لہجہ وہ مایل کے لئے برداشت نہ کر سگا۔۔۔ اور المیر تو خود مایل کے خلاف کچھ نہیں سنتا۔۔۔۔۔۔۔۔
” تو کیا کروں؟؟؟ دل چاہ رہا ہے زندہ زمین میں گاڑھ دوں اسے۔۔۔۔۔ ” اسکا غصّہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔
” کیا کہا اُسنے؟؟؟ ” آریز کا لہجہ بھی نہ چاہتے ہوئے تیز ہوگیا۔۔۔۔۔
” گند بھرا ہے اسکا ذھن میں!!!! اسکی شکل سے نفرت ہو رہی ہے “
” بولو بھی۔۔۔۔۔۔۔ ” آریز چڑ گیا۔۔۔۔
” ہماری شادی۔۔۔۔۔ ” وہ یہ کہتے ہی خود ماتھے پر ہاتھ رکھے سر جھکا گیا۔۔۔ وہ کہتے ہوئے خود تقریباً شرم سے پانی پانی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” تو؟؟ صرف تم اندھے ہو ورنہ مجھے محسوس ہو چکا تھا۔۔۔ ” المیر نے بےیقینی سے اسے دیکھا اسکا کون سا عمل اسکے لئے سزا بن گیا؟؟؟ اسکے کس عمل سے یہ غلط فہمیاں پیدا ہوئیں؟؟؟ اسکا دماغ یکدم سن سا ہو گیا۔۔۔۔
” سوچ کر مجھے خود سے گن آرہی ہے.۔۔۔ بہن سمجھا تھا اسے۔۔۔ بیٹی کا درجہ دیا تھا۔۔۔۔ ” اسکا لہجہ کمزور تھا جب کے آریز کے چہرے کے تاثرات بلکل نارمل تھے۔۔۔۔۔
” کیا کزنس میں شادی نہیں ہوتی؟؟؟ ” آریز کا جملا سن کر وہ بھڑک اٹھا سختی سے اس نے آریز کا کالر جکڑا۔۔۔۔۔
“میرے ہاتھوں شہید ہوگے ” وہ پھنکارا۔۔۔۔۔۔۔
” جو غلطی زکی بھائی نے کی وہ مت دہرانا!!!! ” آریز کی آنکھوں میں التجا تھی اسے المیر سے ایسے ریکشن کی توقعہ نہ تھی۔۔۔۔۔
” اس جمعے کو مایل کا نکاح ہوگا!!! جو میں خود کرواؤنگا۔۔۔۔ ” وہ جیسے کسی فیصلے پر پہنچ کر یکدم آریز سے دور ہوا اسکا کالر چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
آریز سن سا رہ گیا۔ آج اسے المیر میں اپنا بھائی زاکون دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ وہی سفاک انسان جس پر آج ہر کوئی ترس کھاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
” بھائی کی حالت دیکھ کر بھی تمہیں خوف نہیں آتا؟؟؟؟ ” آریز اسے دیکھتے کمزور لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
” پتھر دل ہوں،،، سفاک ہوں،، خود پرست ہوں!!! کاش ساری عمر ایسا رہتا تو آج اسکی بکواس نہ سنتا ” وہ دھارتا ہوا اسکے سینے پر ہاتھ رکھے خود سے دور دھکیلتے وہاں سے نکلتا چلا گیا وہ اپنی کار لیکر گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔ جبکے آریز کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمودار ہوئیں آنے والے وقت کا سوچتے ہی اسکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” بیٹی انڈینٹ (indent) دیدو “
مومنہ کی آج بھی ایوینگ شفٹ تھی وہ جب سے آئی تھی اس قدر کام تھا کے اسکی ہمت جواب دے گئی صبح سے وہ تین اسٹاف کے ساتھ بتمیزی کر چکی تھی۔۔۔۔۔
” اور کتنا دوں آنٹی؟؟ مجھے ہی لیکر چلی جائیں۔۔۔ ” وہ تھک ہار کر چیئر پر بیٹھ گئی جو سسٹم کے آگے رکھی تھی۔۔۔ سامنے بڑا سا شیشہ لگا تھا جس سے نرسنگ اسٹاف اور آتے جاتے لوگ دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
آنٹیاں(پورٹرز) اور کچھ نرسنگ اسٹونڈس ہر وقت فارمیسی کے سر پر سوار ریتے جب کوئی پیشنٹ ایڈمٹ ہوتا انڈینٹ کمپیوٹر پر آتا اور آنٹیاں یا نرسنگ اسٹونڈس لینے آتے۔۔۔۔۔۔۔۔
” وہ دیکھو مومنہ وہ زاکون ہے۔۔۔۔۔ ” عائشہ جو پیچھے سے انجیکشنز نکال رہی تھی فوراً چیخی مومنہ نے نظریں اوپر کر کے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔
وہ اچھا خاصا لمبا چوڑا تھا۔۔۔ گری رنگت صاف شفاف چہرہ وہ اسکی ایک سائیڈ ہی دیکھ سگی تھی اسلے چہرے کے نقش کا اندازہ نہ کر سگی مگر اسکے فیچرز بھی بلکل پرفیکٹ لگ رہے تھے۔۔۔۔ تیز نقش۔۔ وہ اسے تب تک دیکھتی رہی جب تک نظروں سے اوجھل نہ ہوا ہو۔۔۔۔
” بیٹی انڈینٹ دیکھو آیا تو نہیں کمپیوٹر میں؟؟ ” وہ جو اُسے تک رہی تھی بدمزہ ہوئی اور غصّے سے آنٹی کو دیکھا۔۔۔۔
” آنٹی نہیں ہے۔۔ اب کیا اپنے سر پر لکھ کر دیکھاؤں؟؟ ” آنٹی اپنی باسکٹ لیکر اسے گھورتی وہاں سے چلی گئیں۔۔۔ جبکے مومنہ اسی کو سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔
عائشہ کہ رہی تھی۔۔
” اللّه خیر آج اسکی شفٹ ہے ” پر وہ اسی کو دیکھ کر الجھ گئی تھی کیا مومنہ اسکی طرح خوبصورت نہیں تھی جو اس شخص نے اسے انکار کر دیا؟؟؟ وہ سوچوں میں الجھی تھی کے ایکسٹینشن(فون)چیخ اٹھا۔۔۔
” اسلام علیکم!!!! ” فون اٹھاتے ہی مومنہ نے عادتاً سلام کیا۔۔۔۔
” انڈینٹ کیا ہے نکال کر رکھو پورٹر لینے آرہا ہے۔۔۔ ” اسکا حکم سن کر مومنہ کو آگ ہی تو لگی تھی لیکن وہ ظاہر ہے بدتمیزی کر نہیں سکتی۔۔۔اور سامنے والا اتنا بدتمیز تھا آگے سے سلام کا جواب تک نہیں دیا۔۔۔
” نوکر سمجھ رکھا ہے انڈینٹ نکالو۔۔۔ ” وہ غصّے سے بربرائی۔۔۔
” ایسے بولیں کے جسکو سنانا ہے وہ صاف سن سگے۔۔۔ ” دوسری طرف سے اسکی بربرائٹ پر صاف طنز کیا گیا تھا مومنہ کا منہ بیگڑا۔۔۔۔
” نکال رہی ہوں۔۔۔ ” سخت کوفت میں مبتلا وہ بولی۔۔۔۔
” آپ کا نام؟؟ ” وہ اسکی آواز سے اسے پہچان تو چکا تھا مگے پھر بھی کنفرم کرنے کو وہ پوچھ بیٹھا۔۔ آخر اسکا بیزار لہجہ بھانپ جو چکا تھا۔۔۔
” مومنہ!!!! اور تمہارا نام؟؟ “
” زاکون!! مومنہ جلدی نکال دو پورٹر بھیج رہا ہوں ” نام سن کر اسکا سانس ہلق میں اٹک گیا اتنی دیر سے وہ ایک ایسے بندے سے بحث کر رہی تھی جو اسکے سامنے سے ابھی گزرا تھا جسکی سوچ میں ہی وہ الجھی سب پر چڑ رہی تھی۔۔ اللّه وہ کیا سوچ رہا ہوگا اسکے بارے میں؟؟ سی سی یو میں پیشنٹ ویسے ہی اتنے کریٹیکل ہوتے ہیں ہے اور اس نے بحث بھی کس سے کی؟؟ جس سے پہلے ہی وہ شرمندہ ہے وہ اسے سست اور لاپروا ہی سمجھتا ہوگا۔۔۔۔
مومنہ کا دل چاہ رہا تھا سر دیوار میں دے مارے اوپر سے اسنے ٹی ایل (ٹیم لیڈر) کو تم کہ کر بلایا۔۔ وہ روے بھی تو کس کس بات پر روئے؟؟؟؟اب عائشہ آگے آکر سسٹم کلیر کر رہی تھی مطلب سارے انڈینٹ چارج کر کے انکے پرنٹ دے رہی تھی۔(سسٹم میں نرسنگ والے اپنی ڈیمانڈ کے مطابق صبح شام اور رات میں انڈینٹ کرتے ہیں جنھیں پھر الگ الگ شفٹ کے فارماسسٹ چارج کر کے قوائینٹیٹی(qunatity) ایڈ کر کے وہ پرنٹ نکالتے ہیں پھر وہ چیزیں انکے پورٹر لینے آتے ہیں ہر فلور کے الگ۔۔۔۔جبکے مومنہ اسی بندے کا انڈینٹ سسٹم سے نکال کر اسکا سامان نکالنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” نجانے کب سے وہ یہ زہر پی رہا ہے؟؟ ” شگفتہ نے ابھی آریز کی وارڈ روب سے نیند کی گولیوں کی شیشی ڈھونڈی تھی وہ تو بس ایک نظر اپنا شک دور کرنے آئیں تھیں انھیں کیا پتا تھا انکا بیٹا ہر روز زندگی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔
” شفگتہ تم مت پریشان ہو شرم تو انہیں آنی چاہیے… جن ماں باپ نے پالا اسکی قدر نہیں اور ایک لڑکی کے لئے خود کو ختم کر رہا ہے ماں باپ کا بھی نہیں سوچا ” نجمہ تو بھری بیٹھیں تھیں دل چاہ رہا تھا جوتے سے آریز کی پٹائی کریں۔۔۔۔۔
” کیا ہو رہا؟؟ ” آریز کی آواز پر دونوں پیچھے مڑیں شگفتہ کو پہلی بار اپنے بیٹے کو دیکھ غصّہ آرہا تھا۔۔۔۔
یہی تو ایک جینے کی وجہ تھا۔۔۔۔
کتنا مان تھا۔۔
فخر تھا انہیں اپنے بیٹے پر۔۔۔۔
آج سب ختم ہوگیا۔۔۔۔۔
” کیوں میری زندگی حرام کی ہے تم دونوں نے؟؟؟؟ ایک وہاں عاشقی کرتا پھرتا ہے دوسرے تم!!!!! آخر ماں باپ کا کیوں نہیں سوچتے جنکا دل پھٹتا ہے تمہیں دُکھ میں دیکھ کر صرف ایک لڑکی کے خاطر تم یہ زہر پیتے ہو؟؟؟؟؟ شرم نہیں آتی۔۔۔۔ مرنا ہی ہے تو مجھے مار کر مرو۔۔ ” وہ اسکا کالر مٹھی میں جکڑ کے روتے روتے چیخ رہیں تھیں۔۔۔۔ آریز تو سن سا رہ گیا۔۔ سب کچھ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔
” شگفتہ رو مت کیوں اپنے انمول آنسوں ضائع کر رہی ہو یہ نکمی اولادیں کہاں ماں باپ کا درد سمجھ سگیں گی “
آریز دونوں کو حیرانگی سے دیکھ رہا تھا اسکی سمجھ سے سب باہر تھا۔۔۔
” امی۔۔۔۔ ” وہ کچھ کہنے لگا تھا کے شگفتہ نے رکھ کے تھپڑ اسکے منہ پر دے مارا۔۔۔۔۔۔
” چُپ بلکل چُپ ایک لفظ نہیں۔۔ “
” بھلا ہو شاذ کا اُس نے بتا دیا ورنہ ہمیں تو شاید تمھارے یہ کارنامے تمہاری فاتحہ پڑھنے پر پتا لگتے۔۔۔۔ ” وہ چیخ رہیں تھیں انکا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔۔۔
آریز شاذ کا نام سن کر ہی چُپ ہوگیا کوئی صفائی بیکار ہے جب اسے معلوم ہی نہیں اسکی ماں کو کیا کہا گیا ہے؟؟؟؟؟؟ تو وہ صفائی میں بولے کیا؟؟؟
وہ مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑا تھا۔۔
آخر کر بھی کیا سکتا تھا؟؟ وہ صفائی دیتا کچھ کہتا تو کہیں اسکی ماں کا بی پی شوٹ نہ کر جائے اسی ڈر سے وہ خاموش کھڑا رہا۔۔۔۔۔۔۔
” بولو مرنا ہے تو مجھے مار کر اپنا شوق پورا کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔۔ ” انکا غصّہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ایک بار پھر اسکا کالر جکڑ کے چیخ پڑیں۔۔۔۔۔
” امی جو آپ کہیں گی کرونگا پلیز روئیں نہیں آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی ” وہ بےبس ہوا تھا اپنی ماں کی ایسی حالت دیکھ کر۔۔۔۔
” ایسا ہے تو شادی سے انکار کیوں کرتے ہو ” وہ اسے دھکا دیتیں خود سے دور دھکیل چکی تھیں جبکے نجمہ کو اندازہ نہیں تھا شگفتہ کی طبیعت اس قدر بیگڑ جائے گی۔۔۔ انہوں نے سوچا ہی نہیں ایک بیٹے کا دکھ کم تھا جو اب دوسرا بھی۔۔۔۔
” اب کرونگا!!!! جس سے کروا دیں۔۔ کرلونگا ” نگاہیں جھکائے وہ مجرموں کی طرح کھڑا تھا شگفتہ کا غم کم ہونے کو نہیں تھا وہ نیچے گئیں اور اپنے ساتھ کام والی ماسی کو لے آئیں۔۔۔۔
اپنی نگرانی میں انہوں نے کمرے کا کونا کونا صاف کروایا جہاں جہاں لاک لگا تھا ہر چیز کھول کھول کر دیکھی جب پوری طرح تسلی ہوگئی تو ایک آخری نظر اسے دیکھتیں کمرے سے نکل گئیں نجمہ بھی انکے پیچھے چل دی جب کے آریز آج پہلی دفع خود کو بےحد بےبس محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔
مایل اور خود کے معملے میں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
—– حال——-
” میں آپ کو محسوس کرنا چاہتا ہوں!!!! ” بھاری گھمبیر آواز اسکی سماعتوں میں گونجی۔۔
بےہوش ہونے کے بعد اسے کمرے میں لیا گیا تھا اسکا بیٹا اسکے پاس ہی سو رہا تھا۔۔۔۔ اس نے ابھی اپنی آنکھیں کھولیں ہی تھیں کے اس دشمنِ جاں کی آواز پھر ان کانوں میں گونجی۔۔۔۔۔ آخر کیوں وہ ہر وقت اسکی سوچوں میں ہے۔۔۔۔ ایک درندے سے وہ کیسے محبت کر سکتی ہے؟؟؟
اسے یاد ہے اسکی ہر بات،،،، اسکی ہر حرکت اسکا ہر انداز۔۔۔۔۔۔
وہ آگ کی جوت سے کھیل رہا تھا۔۔۔۔
” مجھے درد کیوں نہیں ہوتا؟؟؟ یہ آگ مجھے کیوں نہیں جلاتی؟؟ میرے اندر خوف پیدا کیوں نہیں کرتی؟؟؟ انسان اس سے ڈرتا ہے مجھے یہ کھیلونا کیوں لگتی ہے۔۔۔۔” وہ اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی جو آگ سے کھیل رہا تھا۔۔
اپنا پورا ہاتھ اسنے کینڈل کی جلتی جوت پر رکھا تھا۔ وہ آگ اس پر بےاثر تھی وہ ہاتھ ہٹانے کا نام تک نہیں لے رہا تھا اسکے برعکس وہ آگ کو دیکھے جا رہا تھا بےحد قریب سے بغیر پلکیں جھبکائے جبکے وہ اسکی بیوی خوف سے اسے تکے جا رہی تھی۔۔۔۔ جب برداشت نہ ہوا تو روتے ہوئے خود اس نے اسکا ہاتھ اس آگ سے ہٹایا۔۔۔ جس پر اب چھالے بن رہے تھے۔۔۔۔۔
وہ جو نجانے کب سے ایک بار پھر اسکی یادوں میں بری طرح الجھی تھی ہوش کی دنیا میں تب آئی جب اسکا بچا چیخ کر رونے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بچے کو احتیاط سی گودھ میں لیکر فیڈ کرانے لگی فیڈ کے دوران وہ کبھی اسکے ہاتھوں سے کھیلتی تو کبھی اسکے ننے پیروں سے اچانک سے اسکی نظر اپنے بچے کی ٹانگ پر گئی۔۔ اسکی آنکھوں میں حیرانگی در آئی وہ اسکی دونوں ٹانگوں کو غور سے دیکھنے لگی۔پھر اس نے اسے پلٹ کر اسکی پیٹ دیکھی وہاں بھی کوئی نشان نہ تھا۔۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟ اسکے پورے جسم پر کوئی نشان نہ تھا وہ اسکے پورے کپڑے اتار چکی تھی۔۔۔۔ ہسپتال سے گھر آتے اسنے ایک دفع بھی اسکا چہرہ نہیں دیکھا۔۔۔۔ اسکی ماں نے اسکے بچے کو سلایا کیا انھیں بھی پتا نہیں لگا؟؟؟ اسکا چہرہ اسنے غور سے دیکھا تو وہ اسے مختلف لگا۔۔۔ وہ اسکے بچے کی طرح گورا تھا،،، ہیلدی فیز تھا مگر اسکا بچا نہ تھا۔۔۔۔۔۔ اگر یہ اسکا بچا نہیں تو اسکا بچا کہاں ہے؟؟؟؟؟؟
ہسپتال میں وہ کیسے ایڈمٹ ہوئی؟؟؟ اس سے پہلے وہ کہاں تھی؟؟؟؟ اسے یاد ہے وہ خود نہا کر نکلی تو اسکا شوہر آفس سے جلدی ہی آگیا تھا بیوی کے کپڑے خراب نہ ہوں اسلئے وہ خود ہی اپنے بچے کو نہلانے لے گیا۔۔۔۔
لیکن اسے کیا پتا تھا؟؟ وہ جانور ہے انسان کے روپ میں حیوان ہے وہ اپنے بچے کو تیز گرم پانی میں نہلا رہا تھا بچے کی چیخیں سن کر وہ واشروم میں بھاگتی ہوئی آئی تھی اور یہ منظر دیکھتے ہی اسنے اس شخص کو دور دھکیلا اور اپنا بچا لیکر وہاں سے بھاگ آئی۔۔۔۔۔۔۔
اسے سب یاد آرہا تھا۔۔۔۔
پھر وہ اسکے پیچھے آیا تھا۔۔ اسکے ساتھ دو آدمی بھی تھے اس درندے نے اسکا بچا اس سے چھینا تھا وہ چیخی تھی روئی تھی مگر وہ بےرحم بنا رہا۔۔۔
” یہی ہے وہ سانپ!!! اسی کی وجہ سے ہم دونوں کے بیچ فاصلے ہیں۔۔ یہ جب سے آیا تھا اس نے تمہیں مجھ سے چھین لیا ہے۔۔۔ یہ میرا بیٹا نہیں ہو سکتا یہ آستین کا سانپ ہے جو میرے ہی بل میں چھپا مجھے ڈس رہا تھا ” چلا کر کہتے اسکے شوہر نے اپنی بیوی کی آنکھون کے سامنے اپنے دو ماہ کے بیٹے کو اس گہری کہائی میں پھینک دیا پھر وہ اسے گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا تھا لیکن سامنے سے آتی کار نے انہیں ٹکر مار کر دونوں کو دور اچھالا اسکی آنکھ پھر ہسپتال میں کھلی تھی۔۔۔۔
لیکن اسکا بچا کیا وہ؟؟؟؟
” نہیں۔۔۔۔ نہیں ” وہ چیخی۔۔۔۔۔۔
” آآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآآ” وہ بالوں کو مٹھی میں جکڑ کے چیخ رہی تھی اسکی ماں تائی چچی بھاگتی ہوئی اندر آئیں۔۔۔۔۔ وہ شخص بھی اسکی چیخیں سن کر بھاگتا ہوا آیا جو اسکی بربادی کا زمیدار تھا۔۔۔۔۔
” کیوں میری جان لینے کے در پر ہو کیا ہوا ہے ” اسکی ماں اسکی ایسی حالت دیکھ کر روتے ہوئے بولیں جبکے اسکی چچی اسکے ہاتھ اسکے بالوں سے آزاد کروا رہیں تھیں۔۔۔
وہ اسکی ایسی حالت دیکھ کر زلزلوں کی زد میں تھا قدم قدم پیچھے بڑھاتا یہاں سے بھاگنے کی چاہ میں تھا۔۔۔۔ اسکی ایسی حالت اسکا دل نچوڑ رہی تھی۔۔۔
” یہ میرا بچا نہیں یہ میرا ارحم نہیں۔۔۔۔۔ اسے مار دیا مار دیا۔۔۔ اس ظالم نے میرے۔۔۔ سامنے۔۔۔میرے سامنے امی اسے کہائی میں پھینک دیا۔۔۔۔۔۔ ” اس انکشاف پر سب صدمے کی سی حالت میں اسے بلکتا دیکھ رہے تھے جو ایک بار پھر دوائیوں کے زیرِ اثر غنودگی میں چلی گئی۔۔۔۔
