66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

“شگفتہ!!!! اے شگفتہ کہاں ہو؟؟؟ ” صالحہ پیغام حال سے ہی شگفتہ کو آواز لگاتیں کچن میں چلی آئیں جہاں وہ کریلوں کو نمک لگا کر رکھ رہیں تھیں.۔۔۔۔
” جی آپا یہاں آجائیں کیچن میں۔۔۔۔ “
” تم یہاں کریلے میں نمک ڈال کر زہر کم کر رہی ہو وہاں تمہارا بیٹا روز زہر پی رہا ہے۔۔۔ ” وہ اسکے سر پر جا کھڑی ہوئیں ان کی آواز تک انکی اونچی تھی۔۔۔
” آپا کیا کہ رہی ہیں؟؟؟ “
” سچ ہی کہ رہی ہوں!!! آریز جیسا سمجھدار لڑکا آخر ایسی بیوقوفی دیکھائے گا مجھے بھی یقین نہیں تھا۔۔۔ یہ سب سن کر میرا تو دل ہی دہل گیا۔۔۔۔ ” صالحہ نے باقاعدہ دل پر ہاتھ رکھے ساری بات شگفتہ کو بتائی جسے سن کر شگفتہ کو اپنے بیٹے پر بےپناہ ترس آیا۔۔ ساتھ صدمہ بھی ہوا وہ اپنا کام چھوڑ کر آریز کے کمرے کی طرف چل پڑیں جبکے صالحہ انہیں آوازیں دیتے انکے پیچھے چلی آئیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ا۔۔۔۔۔۔سسسساسلام ع۔۔۔۔۔۔۔علیکم ” وہ جو بُک ریک کا جائزہ لیتا اپنی مطلوبہ کتاب ڈھونڈ رہا ہے جانی پہچانی آواز پر ایک پل کو ابرو اٙچکا اگلے ہی لمحے وہ بےنیاز سا دوبارہ جائزہ لینے لگا۔۔۔
” وعلیکم اسلام۔۔۔ “
وہ مڑا نہیں تھا اپنے کام میں مشغول رہا۔۔ جبکے وہ قدم بڑھاتی این اسکے پیچھے آن کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔
” آپ کی امانت۔۔۔۔ “
اسے بےنیاز پاکر دل میں درد کی ایک لہر اٹھی تھی جو وہ خاموشی سے چھپا گئی اسکے چہرے کے تاثرات نارمل تھے۔ وہ مڑا تھا اور اس لڑکی نے نظر اٹھا کر اس خوبرو شخص کو دیکھا تھا۔۔ دل زور سے دھڑک اٹھا۔۔۔۔۔۔
” ضرورت نہیں “
بھاری مردانہ خوبصورت آواز پر اس نے اسے دیکھا۔۔ سفید شلوار کمیز میں ملبوس شفاف رنگت کا مالک تھا۔۔ شہد رنگ آنکھیں ابرو اچکا کے اسے دیکھ رہی تھیں وہ حیران تھا شاید اسکے دیکھنے کے انداز سے۔۔ وہ اسے دیکھ نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا وہ اسکا ایک ایک نقش حفظ کر لینا چاہتی تھی۔۔۔
” زنیشہ!!!! “
رعب دار آواز سے یکدم وہ سہم گئی۔ وہ جو غور سے اسے تک رہی تھی چونکی۔ اور اپنی بےخیالی پر جی بھر کر شرمندہ ہوئی۔۔۔
” کوئی تمہیں اس طرح دیکھتا تو۔۔۔!!!! ” وہ کہتے کہتے لب بھینچ گیا۔ وہ غصّہ نہیں کرنا چاہتا تھا پر وہ کیسے اس لڑکی کو سمجھائے اسکی بےخیالی لاپرواہی اِسی کے لئے کتنا بڑا مسلا بن سکتی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ جن نظروں سے اسے تک رہی تھی وہ انجان نہ تھا نہ بچا تھا جو اسکی بولتی نگاہوں کو نہ سمجھ پاتا۔
” جاؤ یہاں سے!!! ” وہ اسے اس وقت سفاک، بے رحم ہی لگا لیکن وہ لڑکی سمجھ نہ پائی وہ اسکے بھلے کے لئے ہی کہ رہا تھا۔
” المیر بھائی آپ ایسا کیوں کہ رہے ہیں؟؟ اور غصّہ کیوں کر رہے؟؟؟ ” مایل جو ابھی المیر کی لائیبرری میں آئی تھی اسے زنیشہ پر غصّہ کرتے دیکھ خود غصّے میں آگئی۔۔۔۔۔
” غصّہ نہ کروں تو کیا کروں؟؟ تمہاری دوست دوستی کا قرض ادا کر رہی تھی ” مایل سے کہتے المیر نے بات بنائی جبکے جیسے ہی المیر کی نگاہیں زنیشہ کی طرف اٹھیں وہ اسی پوزیشن میں جم گیا۔۔۔۔ زنیشہ کی نظریں شرم سے زمین میں دھنسی جا رہیں تھیں ان نظروں نے جیسے نہ اٹھنے کی قسم کھا رکھی ہو روئی جیسے ملائم گال سرخ پڑ چکے تھے گلابی ہونٹ الگ کپکپا رہے تھے جو شاید گلابی لپسٹک کی وجہ سے بےتحاشا خوبصورت لگ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
المیر نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی وہ ہمیشہ بڑا سا دوپٹا شانوں پر پھیلائے خود کو پورے طریقے سے کور کرتی تھی۔ لیکن وہ اسکے رونے سے سخت چڑ چکا تھا۔۔
اسکا ڈرنا جھجکنا المیر کو سخت کوفت میں مبتلا کرتا اگر وہ اسکی مدد کرتا تھا،، اسے اہمیت دیتا تھا تو صرف اسلئے کے وہ مایل کی دوست تھی بس۔۔۔۔۔
” زنیشہ تم رو رہی ہو؟؟ المیر بھائی کیسا قرض آپ نے آخر کہا کیا ہے؟؟ ” مایل اسکی آنکھوں سے بہتے آنسوئوں کو دیکھ کر پریشان ہی تو ہوگئی تھی۔ جبکے المیر کو اس فسادی لڑکی پر غصّہ ہی آگیا تھا وہ اسے ایک سرد نگاہ سے نوازتا وہاں سے چلا گیا جب کے زنیشہ کا ضبط جواب دے گیا مایل کے گلے لگ وہ بری طرح رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ڈاکٹر انہیں اسپنج باتھ دینا ہے “
وہ جو چئیر پر بیٹھا سامنے سوئی لڑکی کو محویت سے تک رہا تھا چونک اٹھا۔۔۔
سامنے جہازی سائز بیڈ پر وہ خوبصورت لڑکی کئی سالوں سے گہری نیند سو رہی تھی جس میں کوئی ہلچل نہ تھی کوئی آندھی کوئی طوفان اسکے وجود میں جنبش پیدا نہ کر سگا۔۔۔۔۔۔
وہ ہر روز یہاں آتا تھا۔۔۔ ہر روز۔۔۔اس امید کے ساتھ کے آج وہ اسکے سامنے کھڑی ہوکر اس سوال کریگی اسے سزا دیگی اسکا گریبان پکڑ کے چیخے گی لیکن یہ حسرت حسرت ہی رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھا اور قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا کئی پل وہ اسکے چہرے کو دیکھتا رہا جو اسے بےسکون کر کر خود سکون سے سو رہی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اس حسین چہرے کو چھونا چاہا مگر یہ ہاتھ ہوا میں ہی کہیں رک گیا وہ اس سے دور تھی بہت دور وہ چھونا بھی چاہے تو اسے چھو نہیں سکتا تھا۔۔۔آخر حق کہاں رکھتا تھا؟؟؟
حبیبہ وہی منظر دوبارہ سے دیکھ رہی تھی۔۔ تقریباً آٹھ سال ہو چکے تھے اسے یہاں آئے وہ شخص گھنٹوں اسی طرح اپنی بیوی کو ایسے دیکھتا تھا۔۔۔بیوی؟؟ وہ سوچ میں پڑ گئی۔۔ پتا نہیں بیوی ہے یا کوئی اور کیوں کے آج تک اس شخص نے سامنے سوئی لڑکی کو کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا،، یہاں تک کے جب وہ اسے چینج کرانے لگتی وہ کمرے سے ہی نکل جاتا۔۔۔۔۔ پھر بھی اُس شخص نے اس لڑکی کا تعرف اپنی بیوی کہ کر کرایا تھا اب نجانے وہ شخص اسکا کیا تھا؟؟؟۔۔ وہ سوچوں کو جھٹک کر اس لڑکی کو اسپنج باتھ دینے کے بعد احتیاط سے اسے کپڑے پہنانے لگی۔۔۔۔۔۔۔
جبکے ڈاکٹر کب کا جا چکا تھا۔ حبیبہ نے جیسے ہی ” کلک ” کی آواز سنی وہ سمجھ گئی ڈاکٹر جا چکے ہیں ڈاکٹر کے جاتے ہی آٹومیٹک دروازہ خود با خود بند ہوگیا تھا یہ شہر سے دور ایک ایسی جگہ تھی جہاں کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا حبیبہ کو ہی پانچ سال ہو چکے تھے وہ اپنے گھر تک نہیں گئی تھی اور یہ ایسی جگہ تھی جہاں سے صرف وہ انٹرنٹ کے ذریعے ان سے رابطہ کر سکتی ہے۔۔
پتا نہیں کیوں وہ اس جگہ آگئی؟؟ اسے کبھی کبھی وحشت ہوتی لیکن وہ اپنی سیلیری سوچتی اور گھر کے حالات تو شکر ادا کرتی۔۔۔۔۔ لیکن اس دفع اسکا ارادہ تھا جانے کا وہ کچھ دن کے لئے پھر سے اپنی دوست سے یہ ڈیوٹی کروائے گی جیسے پانچ سال پہلے کروائی تھی تاکے ایک دفع وہ اپنے گھر والوں کو دیکھ سگے۔۔۔۔
” میں نفرت کرتی ہوں شدید نفرت۔۔۔۔۔۔۔ “
” مجھے مار دو یہ خوف میری جان لے لیگا۔۔۔ “
” اسکی چیخیں آج تک میرے کانوں میں گونجتی میرے کانوں کے پردے پھاڑتی ہیں “
” وہ مجھے ڈھونڈ لیے گا۔۔۔۔ “
آج بھی ان آوازوں میں چھپا درد اسے پہلے دن کی طرح ہی تکلیف پہنچاتا تھا بس فرق اتنا تھا اب یہ آوازیں بند ہو چکی ہیں بس ایک تصور ہے۔۔۔۔۔ جو اسے اس تکلیف سے آزاد نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔
” تھک چکا ہوں،،،، بہت تھک چکا ہوں لوٹ آئو۔۔۔۔۔ “
صوفہ کی پشت سے سرٹکائے وہ آنکھیں موندے وہی پرانا وقت یاد کر رہا تھا جب وہ اسکے پاس ہوتی تھی،، اسکے ساتھ ہوتی تھی،،، ہسپتال میں اسکے روم میں بغیر پوچھے کیسے اپنی ملکیت سمجھ کر وہ اس پر حکم چلاتی تھی۔۔ لمحہ لمحہ ایک بار پھر اسکے ذھن پر کسی فلم کی طرح چلنے لگا۔۔۔۔۔۔
کے یکدم سے جیب میں رکھا فون بج اٹھا۔۔۔۔۔۔
فون نکال کر نظر اسکرین پر کی تو ” ڈاکٹر ہاشم ” کا نام جگمگا رہا تھا۔۔۔
اس نے پہلی فرست میں کال اٹینڈ کی۔۔۔
” حاوی کیسے ہو یار؟؟؟ کس دنیا میں کھو گئے ہو ملتے ہی نہیں ” ڈاکٹر ہاشم اسکا کولیگ ہونے کے ساتھ کلاس فیلو بھی تھا۔۔ اسکے لہجے میں دکھ تھا وہ حاوز کو کال تک نہیں کرتا تھا جانتا تھا وہ اٹینڈ کرے تب بھی بات نہیں کریگا۔۔۔۔۔۔۔
” ٹھیک ہوں!!! “
” زاکون حیدر آیا تھا!! اُسے پتا چل گیا اس دن دو لوگوں کی موت ہوئی تھی۔۔۔ وہ آٹھ سال پہلے کے سارے ریکارڈز نکلوا چکا ہے۔۔ اسے معلوم ہوچکا ہے آپریشن تم نے کیا۔۔۔ اور وہ یہ بھی جان چکا ہے تمہارے ساتھ جو وجود ہے وہ دنیا کی نظروں میں مر چکا ہے مگر ابھی تک زندہ ہے ” بےدیہانی سے سنتے وہ آخری بات پر چونک اٹھا اسے زاکون حیدر سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ جیئے مرے بےشک پوری زندگی اسے ڈھودنتا رہے مگر۔۔۔۔
وہ اپنے بدلے میں اسکا بڑا نقصان کر سکتا ہے جسے آٹھ سال تک چھپا کر رکھا تھا اگر وہ بات منظر عام پر آ گئی تو اسکے آگے حاوز سلیمان کی سوچ مفلوج ہوجاتی۔۔۔۔
اس نے فوراً فون کٹ کر کے ایک نمبر ٹائپ کیا اس سے پہلے کے وہ ڈائل کرتا وٹساپ کے نوٹیفیکیشن نے اسے چونکا دیا اس نے چیٹ کھولی تو تصویر لوڈ ہو رہی تھی اور جیسے ہی اسکی آنکھوں نے وہ تصویر دیکھی حاوز سلیمان ساکت رہ گیا کیا دنیا واقعی گول ہے؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔
وہ تصویر کسی اور کی نہیں بلکے مایل کی تھی۔۔۔۔۔
ہاں مومنہ ملک کی بہن مایل۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے گلے لگ ہچکیوں سے رو رہی تھی مایل کو اسے سنبھالنا دنیا کا مشکل ترین کام لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
” زونی ہوا کیا ہے؟؟ اتنا کیوں رو رہی ہو میرا دل بیٹھ
رہا ہے۔۔۔۔” مایل کے واقعی ہاتھ پاؤں پھول گئے کوئی اس طرح اسے روتے دیکھتا تو پتا نہیں کیا سمجھتا۔۔۔۔
” مج۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔خ۔۔۔۔۔خو۔۔۔۔۔خود۔۔۔س۔۔۔۔ سے شرم۔۔۔۔آرہ۔۔۔۔۔۔۔رہی ہے۔۔۔۔۔۔ ” وہ ٹوٹے الفاظوں میں اسکے گلے لگ نجانے کیا کہ رہی تھی مایل کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
” المیر بھائی نے کیا کہا ڈرو نہیں بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔ ” مایل کو نجانے کیوں خوف محسوس ہو رہا تھا کہیں المیر بھائی نے زنیشہ کے ساتھ بدتمیزی؟؟؟ یہ سوچ ہی اسے زمین میں گاڑھ دیتی وہ ایسے تو نہ تھے۔۔۔۔۔۔۔
” مجھے گھر جانا۔۔۔۔ ہے۔۔۔ ” المیر کا نام سنتے ہی وہ یکدم سے اس سے دور ہوئی مایل نے دیکھا اسکی آنکھیں بےتحاشا سرخ تھیں۔۔ ہونٹ الگ کپکپا رہے تھے بلکے اسکا پورا وجود ہی کپکپا رہا تھا وہ اٹھی اور واشروم میں بند ہوگی تھوڑی دیر بعد جب وہ آئی تو خود کو سنبھال چکی تھی۔۔۔۔ مایل اس سے پوچھتی رہ گئی لیکن اس نے زبان نہ کھولی الٹا آنسوں آنکھوں سے بہنے لگے اسلئے مایل کو چُپ رہنا پڑا۔۔ زنیشہ کا بنگلا برابر میں ہی تھا اسلئے وہ اسے گیٹ تک چھوڑ کر اندر چلی آئی لیکن اسے کیا پتا تھا ایک اور قیامت اندر اسکا انتظار کر رہی ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مایل اندر آئی تو اسے ڈرائنگ روم سے آوازیں آرہی تھیں وہ دھیرے سے قدم بڑھاتی ڈرائنگ روم کے قریب جا پہنچی اور پردے کے پیچھے سے چھپ کر اندر بیٹھے لوگوں کو دیکھنے لگی وہاں اسکے چچا تایا موجود تھے عورت وہاں کوئی نہیں تھی۔۔۔۔۔
” تو کیا سوچا؟؟ تمہاری بھابی بھی روز سر کھا رہی ہے صباء کی اب عمر ہوگئی ہے۔۔ تم المیر سے بات کر کے دیکھو۔۔۔۔۔۔۔ “
” مجھے امید ہے المیر منع نہیں کریگا اسکی کوئی پسند ہوتی وہ ہمیں پہلے ہمیں بتاتا۔۔ ” یہ آواز اسکے اپنے تایا کی تھی۔۔۔ مایل کا سانس ہلق میں اٹک گیا۔۔۔ اگر وہ دیوار کو نہ تھامتی تو ضرور یہیں گڑ پڑتی۔۔۔۔۔۔ اسکا دل چاہ رہا تھا وہ چیخے ،چلائے،،، سسک سسک کر روئے تاکے ہر شخص اسکی بربادی دیکھے،، اسکے تایا جو خود کو اسکا باپ کہتے ہیں اپنی ہی بیٹی کے حالِ دل سے انجان ہیں؟؟ انہیں دیکھتا نہیں دن رات اسکے ہونٹوں پر ایک ہی تو نام ہوتا ہے ” المیر ” پھر وہ کیسے؟؟؟ آخر کیسے؟؟؟ اسکا دل پھٹ رہا تھا،،، دل میں اٹھتی درد کی لہر اس غصّے سے کم تھی جس سے اسکا دماغ پھٹ رہا تھا وہ پاگلوں کی طرح بھاگتی ہوئی اندھا دھند آگے بڑھ رہے تھی کے زور دار ٹکر سے اسے اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا سر پر ہاتھ رکھے وہ کرا اٹھی۔۔۔۔۔
نظر اس لوہے جیسے سینے پر پڑی آخر تھا کون؟؟؟؟ پر جیسے ہی اس اس شخص کا چہرہ دیکھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔
المیر جسکا موڈ آج کل کافی خشگوار تھا مایل کو روتا دیکھ پریشان ہو اٹھا۔۔۔
” مایل کیا ہو؟؟؟ “
” المی۔۔۔ المیر بھائ۔۔۔بھائی۔۔تا۔۔تایا۔۔۔ اب۔۔ابو۔۔ نے۔۔ “ وہ ہچکیاں لیتی ہلکان ہو رہی تھی۔ ہاتھوں کی مٹھی بناتے وہ بار بار اپنے آنسوں پونچھ رہی تھی چہرہ حد سے زیادہ سرخ ہوچکا تھا۔۔۔
” کیا کہا پاپا نے بتائو ڈانٹا؟؟ “ وہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرہ تھمتا پریشان ہوگیا کبھی اس طرح اسے روتے کہاں دیکھا تھا چہرہ تک تپ رہا تھا۔۔۔۔
” مايل ہوا کیا ہے بتاؤ پلیز میں پریشان ہو رہا ہوں ” وہ ابھی تک ہچکیاں لے رہی تھی۔۔۔اس بات سے بےخبر اسکی حالت دیکھ کر المیر کو اپنی سانسیں اٹکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔نجانے ایسا کون سا دکھ تھا جسے بیان کرنے تک کی ہمت نہ تھی؟؟
” ت۔۔۔۔ت۔ ۔۔تا۔۔۔۔تایا۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔ابو۔۔۔آ۔ ۔۔آ۔۔۔پ۔۔۔آپ۔۔۔۔آپک۔۔۔۔آپکی۔۔۔ش۔۔۔۔شادی۔۔۔۔۔کر۔۔۔کرانا۔۔۔۔۔چ۔ ۔۔” وہ جو آنکھیں سیکوڑ کے اس کا چہرہ تھامے ہوے تھا ٹھٹکا یکایک ابرو اچکا کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
” تو شادی کیا؟؟ اس میں تم اتنی برُی طرح کیوں رو رہی ہو؟؟ مایل بات کیا ہے بتاؤ تو۔۔۔۔ ” اسے خاموش دیکھ کر المیر نے اسے کندھوں سے تھامے جھنجوڑا۔۔۔۔۔۔
” وہ ہماری شادی نہیں آ۔۔۔آپ ک۔۔۔کی۔۔۔ کسی۔۔اور سے آپ جاکر کہیں آپ مجھ۔۔۔مجھ سے۔۔۔شادی۔۔۔۔۔کرنا۔۔چاہتے ” وہ جو اسے كندھوں سے تھامے ہوئے تھا ٹھٹکا۔۔۔اسکا مطالبہ سن کر المیر کو اپنے سامنے زمین آسمان ہلتے ہوئے محسوس ہوئے کیا اسنے غلط سنا تھا؟؟؟؟؟؟؟
” کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ “
” ہم۔۔۔۔ہماری شادی۔۔۔۔ ” کندھوں پر گرفت خود با خود ڈھیلی پڑ چکی تھی۔۔۔ایک دم سے ہر چیز دھندھلا گئی۔۔
جب منظر واضع ہوا تو کیا کچھ نہ تھا؟؟؟ حیرانگی، بےیقینی کی کیفیت آخر کہاں اس سے غلطی ہوئی؟؟؟؟؟۔۔۔۔ یہ سوچ اسکے دماغ میں آئی بھی کیسے؟؟؟؟ وہ کیا سمجھ رہی تھی اسے؟؟؟؟ وہ اب بے یقین بےیقینی کی کیفیت میں حیرت زدہ کھڑا اسے دیکھ رہا تھا جو آنسوں بہاتی خود کو ہلکان کر رہی تھی اس بات سے بےخبر اسکے الفاظ سن کر سامنے کھڑا شخص خود کو انگاڑوں پر دہکتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اسنے اپنا ماتھا مسلا اب بھی وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا اس وقت ان دونوں کے بیچ ہو کیا رہا تھا؟؟؟ وہ قدم قدم اٹھاتا پیچھے کی جانب بڑھا۔۔۔۔۔
وہ اسکے لئے رو رہی تھی؟؟؟؟
اسکے لئے بلک رہی تھی؟؟؟
کیا وہ اسے پسند؟؟؟ پسند تو کرتی ہے بھائی سمجھتی ہے وہ اسے۔۔۔۔۔لیکن اس قدر تکلیف؟؟؟ کوئی بھائی کے لیے تو ایسے نہیں تڑپتا!!!!!!!! پھر۔۔۔۔۔۔ اسکے ذھن میں جھماکا سا ہوا۔۔۔۔۔اسکا سر پھٹ رہا تھا کاش جو ” گندی ” سوچ اسکے ذھن میں آرہی ہے اس سے پہلے موت اس پر مہربان ہوجاے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے پلٹا اسکے قدم دروازے کی جانب تھے اگر وہ دو پل بھی یہاں کھڑا رہا تو شاید خود کو کچھ کرلیتا یا مایل کو شوٹ کردیتا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔حال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لمبے لمبے ڈھگ بڑھتا کمرے میں چلا آیا۔۔۔ تو آج فیصلہ ہوگیا وہ غلط تھا اول روز سے غلط تھا۔۔۔ کتنا مان تھا یقین تھا اپنے فیصلے پر آج اسکے خود کے کہے الفاظ اس پر قہقے لگا رہے تھے۔۔۔۔۔۔
” آپ پریشان نہ ہوں ڈاکٹر نے کہا ہے وہ ٹھیک ہے ” اسکی بیوی نے اسکی پشت دیکھتے اسے اطلا دی۔۔۔ وہ کھڑکی کے سامنے کھڑا بےبس سا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا وہ اسے دیکھ کر پھر سے چیخے چلائے نہ اسلئے وہ یہاں چلایا آیا لیکن اسکا دل و دماغ وہیں تھا وہ لڑکی اسکے حواسوں پر چھا رہی تھی۔۔۔۔
” ہممم ” اسنے بس ہمم کہنے پر اکتفا کیا۔۔۔۔
” آپ ٹینشن نہ لیں ” وہ اسکی کیفیت سے واقف تھی مگر اسکا یہ انداز کس قدر اسے اذیت دیتا تھا وہ انجان تھا۔۔۔۔۔
” سب ختم ہوگیا۔۔۔۔ ” وہ بڑبڑایا۔۔۔۔۔
” آپ۔۔۔۔ ” کہنے کے لئے لب کھولے مگر وہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔۔
” میں خدا بنے چلا تھا۔۔ اسکی قسمت کا فیصلہ کرنے چلا تھا۔۔میں۔۔۔میں نے زبردستی کی اسے تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ” قرب سے کہتے اسکی آواز بھرا گئی۔۔۔۔۔۔۔جبکے سامنے کھڑی اسکی بیوی زلزلوں کی زد میں تھی اپنے منہ سے نکلتا لفظ بھی اسے اجنبی لگا۔۔۔۔۔۔۔
” کیوں ؟؟؟ “
” وہ صرف مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ ” ایک اور بم پھوڑا تھا۔۔۔۔وہ کہ رہا تھا اور یہ انکشاف آج ہر نفرت سے پردہ اٹھا رہا تھا۔۔۔۔۔
” اسے دکھ اس بات کا نہیں میں نے اسے ٹھکرایا۔۔۔ ” دھیمی بھاری آواز کمرے کی وحشت کم رہی تھی مگر اس کے اندر وحشت مزید بڑا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” اسے دکھ اس بات کا بھی نہیں کے زبردستی اسکی شادی کرائی “
” اسے دکھ صرف اس بات کا ہے،،،،، ” وہ رکا گلے میں گلٹی سے ابھر رہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اسے دیکھ رہی تھی رات کے اندھیرے میں اسکا خوبصورت چہرہ جو آسمان کو تک رہا تھا ہلکی داڑھی جو لمبی گردن تک تھی وہ کبھی اس گلے کو دیکھ رہی تھی جس میں گلٹی ابھر رہی تھی تو کبھی ان آنکھوں کو جس میں ہلکا پانی اکر فوراً جزب ہوجاتا۔۔۔۔۔ یکدم وہ پیچھے مڑا۔۔۔۔۔۔
” اسے دھوکہ دینے والے وہ تھے جن پر وہ اندھا اعتماد کرتی تھی۔۔۔ وہ تھے جو اسے جان سے زیادہ عزیز تھے۔۔ وہ جو لاکھ برائیاں رکھتے ہوئے بھی اسکے لئے فرشتے تھے ” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے کہ رہا تھا جبکے وہ سوالیہ نظریں اس پر جمائے ہوئی تھی۔۔۔۔
” ہم۔۔۔۔۔۔۔۔ ” حیرت سے آنکھیں پوری کھل گئیں وہ آج کن تیر سے اسکے وجود کو زخمی کر رہا تھا ؟؟؟؟ وہ تو اپنی ذات سے بھی انجان تھی تو کسی کی بربادی کا سبب کیسے بن سکتی ہے؟؟؟
کیا وہ اسے بھی قصوار سمجھ رہا تھا؟؟؟
دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ایک کی آنکھوں میں ڈھیر سارے سوال تھے تو دوسرا بس خالی دماغ سے سوچ رہا تھا زندگی کیا سے کیا ہوگئی؟؟؟ وہ کہاں کھڑا ہے ؟؟؟؟؟؟ زمین ابھی تک پیڑوں تلے کیسے موجود ہے؟؟؟
جاری ہے۔۔۔۔۔۔