66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

وہ اپنے بچے کو اپنے سینے سے لگاتی اسکی ہمراہی میں چل رہی تھی۔۔۔۔ وہ اس سے آگے چل رہا تھا۔۔۔۔
جبکہ وہ ڈری سہمی اسکے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔۔
ڈر صرف اس بات کا کہیں کوئی اس سے اسکا بچہ نہ چھین لے۔۔
گھر میں قدم رکھتے ہی اسے حیرت نے آن گھیرا نفرت سے اسنے اپنے ساتھ چلتے اس شخص کو دیکھا جو ہر جگہ اسکا تماشا بناتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” صرف تمہارے آنے کی اطلاع دی تھی “
وہ ان نفرت بھری نظروں سے نظریں چڑاتا بےبسی سے بولا اسے علم نہ تھا کے اسکی ایک اطلاع پر گھر کا ہر فرد یہاں جمع ہوجاے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آج بھی بھری محفل میں میرا تماشہ بنانا چاہتے ہیں ؟؟؟؟ جیسے اُس دن بنایا تھا۔۔۔۔ زبردستی میری شادی اس شخص سے کردی جس نے مجھے برباد کر کے آج وہیں اسی جگہ لا چھوڑا جہاں سے آپ نے مجھے رخصت کیا تھا ” لفظوں کا تھپڑ اسکے منہ پر مارتی وہ اپنے کمرے میں جانے لگی کے اسکی گود پر سویا اسکا بچہ زور زور سے رونے لگا۔۔۔۔۔
” بیٹا وہ تمہاری سخت پکڑ سے رونے لگا ہے ” وہاں کھڑا ہر شخص خود سے بھی نظریں چرا رہا تھا لیکن اسکی ماں چُپ نہ رہ سکی بچے کی تکلیف دیکھ کر بلاآخر دکھ سے بولیں۔۔۔
” نہیں یہ اپنی ماں کی بربادی پر رو رہا ہے جس میں آپ سب بھی شامل ہیں یتیم سمجھ کر مجھے کسی کچرے کی طرح ایک حیوان کے ہاتھوں میں پیھنک دیا جس نے مجھے پاگل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔۔ ” وہ لہو رنگ آنکھوں سے ایک ایک شخص کو دیکھتی چیخ رہی تھی۔۔ساتھ روتے ہوے اپنے بچے کی پیٹھ تھپک رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” میں اسے چھوڑونگا نہیں جان سے ماردونگا پلیز تم اپنی طبیعت۔۔۔۔۔ “
” ڈونٹ یو ڈئیر ٹو ٹچ می!!!!! آپ خود کیوں نہیں مر جاتے۔۔۔۔ ” اسکے ایک جملے سے وہاں کھڑے افراد حیرت زدہ رہ گئے۔۔۔۔۔۔ وہ بھی نہایت حیرت سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
جو کبھی اسکے آگے جھکی تھی۔۔۔ اپنی محبت مانگ رہی تھی اور وہ؟؟ اسے ٹھکرا کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ گیا۔۔
وہ جو ” ہمیشہ ” ” محبت ” ” پیار ” کا عادی تھا اپنے لئے ایسے الفاظ سن کر سن سا رہ گیا وہ بھی اُس ہستی سے جو اسکے لئے جان دینے تک کو تیار ہوجایا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
” نفرت کرتی ہوں میں آپ سے شدید نفرت میری زندگی سے دور چلے جائیں آپ!!!!!! چلے جائیں!!!! جاتے کیوں نہیں۔۔۔۔ ” وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی اسکی ماں چچی سب اسکے قریب چلے آئے وہ اسے سنبھالتے خود نڈھال ہو رہے تھے اسکے پاس سے بچہ لیکر اسکی ماں اسے چُپ کرانے لگی جب کے وہ اپنی چچی کی باہوں میں چیختی بےہوش ہو چکی تھی وہاں سے بھاگنے والا پہلا شخص وہی تھا جو اسے یہاں لیکر آیا تھا اسکی بربادی کا زمیدار۔۔۔۔ وہ بھاگتا ہوا پاس بنے بنگلو سے ڈاکٹر کو بلانے کے لئے دوڑا اس بات سے بےخبر دو آنسوں بھری آنکھوں نے اسکی کی ایک ایک حرکت نوٹ کی اور وہ ہارتی ہوئی کسی روبوٹ کی طرح اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر مرتضیٰ اور شگفتہ کے دو بیٹے تھے آریز اور زاکون۔۔
دونوں ہی خاندانی بزنیس سنبھالتے تھے مگر زاکون نے مومنہ کی ڈیتھ کے بعد نرسینگ پروفیشن جوائن کرلیا وہ اپنا بی ایس این تک مکمل کر چکا ہے۔۔۔۔۔۔
جبکے صدیق صاحب اور صالحہ کے تین بچے تھے۔ سب سے بڑا بیٹا المیر جس نے بی بی اے کرنے کے بعد باپ کے ساتھ بزنیس سنبھالا دوسری نمبر پر شاذ جسکا مشکل ہی پڑھائی میں انٹرسٹ ہوتا اسلئے آج تک وہ پاس آئوٹ نہیں ہوا تیسرے نمبر پر آبی جو ابھی دس سال کا ہے اور ساتویں جماعت میں ہے۔۔۔
حیدر مرتضیٰ سب بھائیوں میں سب سے بڑے تھے دوسرے نمبر پر صدیق صاحب اور تیسرے پر جواد جو مومنہ کے بچپن میں ہی ان کا ساتھ چھوڑ کر اس فانی دنیا سے رخصت ہوگے۔۔۔۔ جواد اور نجمہ کی دو بیٹیاں ہیں مومنہ ملک اور مایل۔۔۔۔۔۔۔
” کیا بات ہے آج اتنا سناٹا کیوں ہے؟؟؟ “
حیدر مرتضیٰ (آریز اور زاکون کے ابا ) نے ڈائینینگ ٹیبل پر آج سب کی خاموشی باخوبی نوٹس کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکے سوال پر سب نے ایک دوسرے کو دیکھا سوائے بڑوں کے جو بےنیاز بنے کھانا کھانے میں مصروف تھے۔۔۔۔۔
” کچھ نہیں بھائی صاحب ان نکموں کی وجہ سے سب کا موڈ خراب ہے ” شاذ جو اپنی پلیٹ پر جھکا پلائو کھا رہا تھا بےاختیار اس طنز پر نظریں اٹھا کر ماں کو دیکھا اور اسی وقت صالحہ بیگم نے بھی ایک تیز نظر شاذ پر ڈالی نظر ایسی تھی کے نوالہ ہلق میں اٹک گیا۔۔۔ یکدم اسے کھانسی کا دورا شروع ہوا۔۔۔۔
” یا اللّه خیر بیٹا یہ پانی پی لو ” شگفتہ بیگم جو شاذ کے ساتھ ہی بیٹھیں تھیں ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر اسکے ہاتھ میں تهمایا جس نے ایک ہی سانس میں پانی ہلق سے اتارا۔۔۔۔۔۔
” کیوں کیا ہوا ” چاولوں سے انصاف کرتے انہوں نے مزید پوچھا۔۔۔۔۔
” کچھ نہیں پاپا وہی چھوٹی موٹی باتیں ” آریز نے بات سنبھالنی چاہی تاکہ کہیں پھر سے کوئی جھگڑے کی وجہ نہ پوچھنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” جب بڑے بات کر رہے ہوں بیچ میں بولنا چھوٹوں کا کام نہیں ” حیدر مرتضیٰ نے سختی سے اسے ٹوکا آریز کا چہرہ احساس توہین سے سرخ پڑ چکا تھا جو المیر مايل اور شاذ نے باخوبی نوٹ کیا شاذ کے لب مسکراہٹ میں کھلے۔۔۔جبکے المیر نے آنکھوں سے آریز کو چُپ رہنے کا اشارہ کیا آریز پھر خاموش ہوگیا۔۔۔۔
” کچھ نہیں ہوا حیدر بس بچوں کے چھوٹے موٹے
جگڑے ” صدیق صاحب (صالحہ کے شوہر) نے انہیں آنکھیں دیکھاتے کہا جس کا صاف مطلب تھا اب ایک لفظ بھی نہیں۔ وہ مزید کوئی بحث نہیں چاہتے تھے نہ ماحول خراب کرنا چاہتے تھے۔۔۔
” ہممم۔۔۔۔۔ ” حیدر مرتضیٰ نے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔۔
” بس شگفتہ۔۔۔۔ ” شگفتہ کو اپنی پلیٹ میں مزید چاول ڈالتے دیکھ حیدر صاحب نے کہا۔۔۔۔۔شگفتہ کی دیکھا دیکھی صالحہ نے بھی وہی عمل کیا صدیق صاحب نے افسوس سے انہیں دیکھا صالحہ جیسا پیس شاید ہی دنیا میں کوئی ہو۔۔۔۔۔۔
” مایل بیٹا اتنی چُپ کیوں رہنے لگی ہو؟؟؟ ” مایل جو صالحہ چچی کی حرکت پر مسکرا رہی تھی یکدم اپنے پُکارے جانے پر گڑبڑا گئی المیر اور آریز کے لب مسکرائے اسکی بوکھلاہٹ پر۔۔۔ آج پھر وہ جانے سے پہلے مايل کو ایموشنل کر رہے تھے۔۔۔۔۔
” نہیں چاچو بس ایسے ہی ” سر اٹھا کر وہ جبراً مسکرائی اب سب اسے ہی دیکھ رہے تھے جس سے وہ خجل سی ہوگئی۔۔۔۔
” رپورٹس آگئیں بچے ؟؟؟ ” مایل نے چونک کر انہیں دیکھا۔ وہ سال میں صرف پندرہ دنوں کے لئے پاکستان آتے تھے انکی جاب دبئی میں تھی لیکن وہ اسکی پل پل کی خبر رکھتے تھے۔ پرسوں وہ واپس دبئی جا رہے ہیں لیکن اس بار وہ پورے پانچ سال بعد آئے تھے مايل کو نجانے کیوں ان سے جھجھک سی محسوس ہو رہی تھی جسے وہ خود محسوس کر چکے تھے۔۔۔۔۔
” اپنی بیٹی سے انجان نہیں ہیں بس بیٹی تھوڑی جھجکتی ہے باپ سگا ہوتا بےدھڑک اپنی خوائشات پوری کرواتی پر ہم تایا ہیں باپ کا درجہ حاصل نہیں۔۔۔ ” بےساختہ مايل کی آنکھیں نم ہوگئیں المیر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
” نہیں تایا ابو ایسا نہیں ہے!!! باپ کا مطلب مجھے آپ سے اور چاچو سے پتا لگا ہے ورنہ بابا کے لمس سے تو میں بچپن سے انجان ہوں میں کبھی بابا کے لئے نہیں روئی کیوں کے آپ دونوں نے کبھی محسوس نہیں ہونے دیا میںرے بابا میرے پاس نہیں ” وہ نم لہجے میں کہتی سب کو آبدیدہ کر گئی۔۔۔ حیدر مرتضیٰ نے آنکھ جھپکتے ھلکے سے اس نھنے موتی کو آنکھ سے باہر نہ آنے دیا بھائی کی موت نے ہی انہیں اتنا سخت سنجیدہ کردیا تھا۔۔۔۔۔
” ایسا ہے تو مجھے آئیرپوٹ چھوڑنے میری بیٹی بھی
جائے گی ” وہ محبت پاش لہجے میں بولے تو مايل نم آنکھوں سے مسکرائی۔۔۔ ” میں آپ سے پہلے تیار ہوکر نیچے آجاؤں گی “
” یہ ہوئی نہ بات میرے بچے ” خوشی انکے لہجے سے جھلک رہی تھی مسکراہٹ پہلی بار ان ہونٹوں پر آن ٹہری۔۔۔۔
” ممی آبی کہاں ہے؟؟ ” المیر نے ماحول کی سنجیدگی کم کرنی چاہی اچانک ہی خیال آیا آبی بھی منظر عام سے آج غائب تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” وہ تو نو بجے ہی کھانا کھا کر سو گیا آج موااا موبائل جو اسکے پاس نہیں ” صالحہ نے نخوت سے کہا المیر نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا باقی سب اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے جبکے حیدر مرتضیٰ مايل کو دیکھتے گہری سوچ میں چلے گئے آخر المیر کی حرکت ان سے پوشیدہ نہ تھی۔۔۔۔
” اسلام علیکم ” ذاکون حیدر نے آتے ہی باآواز بلند سلام کیا۔ سب کی نظریں پہلے تو زاکون کی طرف اٹھیں پھر حیدر مرتضیٰ کی طرف۔۔
حیدر مرتضیٰ نے آٹھ سالوں سے اپنے بیٹے سے بات کرنا تو دور نظر تک اٹھا کر نہیں دیکھا لیکن زاکون انکی ایک نگاہ کے لئے بھی ترستا تھا جب سے مومنہ اسے چھوڑ گئی تھی دنیا ہی اس سے روٹھ گئی دنیا کیا؟؟؟ وہ تو آج تک خود سے بھی روٹھا ہوا تھا۔۔۔۔۔
” زکی آؤ کھانا کھاؤ بنڈی بنی ہے “
” امی بھوک نہیں۔۔۔ ” زاکون کہتے کہتے روکا کیوں کہ اسکی ماں کرسی سے اٹھ چکی تھیں آنکھیں تک انکی نم ہونے لگیں تھیں زاکون بےبسی کے مارے اپنا بیگ صوفہ پر رکھ کر ڈائنیگ ٹیبل کے پاس آیا اور چیئر کھسکا کر انکے ساتھ بیٹھ گیا سب ماں بیٹے کی کاروائی دیکھ رہے تھے سوائے مرتضیٰ حیدر کے جنھیں اسکے جیتے جاگتے وجود کی پروا ہی نہیں تھی۔۔۔۔
” یہ لو بنڈی اور یہ پالک گوشت۔۔ “
وہ بےتابی سے اسکی پلیٹ بھرنے لگیں پہلے دو روٹیاں رکھیں پھر دو پیالوں میں سے اک میں بھنڈی اور ایک میں پالک گوشت بھر کے ڈالنے لگیں۔۔ زکی نے انہیں ٹوکا۔۔۔
” امی بس۔۔۔ ” وہ نگاہیں اٹھائے انہیں ملتجی نظروں سے دیکھنے لگا تو شگفتہ کو اپنے خوبرو بیٹے پر ترس آہی گیا وہ اس کے پاس بیٹھ گئیں بیٹے کے ہلق میں جاتا ہر نوالہ انہیں اپنے ہلق سے اترتا محسوس ہوتا۔۔۔۔۔
نجانے کیوں اسے دیکھتے ہمیشہ آنکھیں نم ہوجاتیں۔۔۔۔
بیٹے کے حالِ دل سے واقف تھیں روز یہ دل پھٹتا ہوگا ہر طرف صرف پچھتاوا ہوگا،،، ہر دعا میں خدا سے بس وہ وقت مانگتا ہوگا کے کاش وہ وقت لوٹا دے اس وقت کی قدر جان دے کر بھی کرونگا۔۔۔
مایل کی نگاہیں اس شخص پر ٹھر سی گئیں۔۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سے اسے بےگناہ لگتا تھا حالانکہ وہی اسکی آپی کا قاتل تھا مگر۔۔۔۔
وہ شخص ایک بند کتاب تھا۔۔۔
نہ روتا تھا نہ بلکتا تھا نہ درد بانٹتا تھا مگر پھر بھی مایل نے آج تک اسے کھل کر ہنستے یا مسکراتے نہیں دیکھا تھا۔۔۔
وہ ہنستا بھی تھا تو لگتا ہے اسکی آنکھیں رو رہی ہیں۔۔
وہ سانس لیتا بھی تھا تو لگتا ہے بس وقت گن رہا ہے۔۔۔
وہ کب خوش ہوا تھا؟؟
کبھی ہنستا بھی تھا؟؟
کبھی زندگی بھی جیتا تھا ؟؟؟؟
اسکی بےرونق زندگی کا گواہ تو ہر شخص تھا۔۔۔
اسکی آنکھوں کی ویروانی کسی سے پوشیدہ نہ تھی۔۔۔۔
تبھی تو نجمہ بیگم بھی اس سے کیا شکایت کرتیں؟ وہ تو اپنی بیٹی کی ہنسی اسی شخص میں ڈھونڈتی تھیں۔۔۔
وہ جلدی کھانا ختم کر کے یہاں سے اٹھنا چاہتا تھا اسے ہمیشہ ایسے ماحول میں گھٹن محسوس ہوتی تھی وہ تنہائی کا عادی تھا تنہائی اسے پسند تھی۔۔۔۔۔۔
اسی چکر میں جلدی نوالہ چباتے نوالہ اسکے ہلق میں اٹک گیا گلے میں جلن کے ساتھ کھانسی کا دور چلا سب سے پہلے جس نے بےتابی سے پانی سے بھرا گلاس آگے بڑھایا وہ مخلص ہاتھ اور کسی کے نہیں بس اس عورت کے تھے جسکی بیٹی کی موت کا زمیدار وہ خود تھا۔۔
زاکون حیدر نے نگاہیں اٹھا کر انھیں دیکھا وہ نم آنکھوں سے مسکرا رہیں تھیں
” جب تمہیں دیکھتی ہوں مجھے لگتا ہے مومنہ میرے سامنے کھڑی ہے اسکا عکس مجھے تم میں دکھتا ہے!!!! مگر تم اتنے خفا ہو کے میرے سامنے تک نہیں آتے “
سالوں پہلے کہی گئی بات ذہن میں آئی۔۔۔ وہ مسکرا بھی نہ سکا پانی کا گلاس انکے ہاتھوں سے لیکر اسنے اپنے ہونٹوں سے لگایا۔۔۔ اسے یہاں بیٹھنا مشکل لگ رہا تھا۔۔ وہ پانی ختم کر کے چئیر کھسکا کر اٹھ کھڑا ہوا بنا کسی کو دیکھے اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور ماں سے مخاطب ہوا۔۔۔۔۔۔
” یقین کریں میرا!!! ہسپتال میں کھانا کھایا تھا!!! میری دنیا تو مجھ سے روٹھ چکی ہے آپ سے جھوٹ بول کر اب کیا خود پر زندگی حرام کردونگا؟؟ آپ پلیز آرام سے کھائیں مجھے سخت نیند آرہی ہے ” وہ بس ایک نظر باپ کو دیکھتا سیڑیاں چڑھتا اپنے کمرے کی طرف چل نکلا۔۔
اسے یقین تھا اسکا باپ اس سے ملے بغیر چلا جائے گا۔۔ اس نے خود تک آتے سارے دروازے اپنے ہاتھوں سے بند کیے تھے اُسکے جانے کے بعد وہ بس ایک زندہ لاش بن کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
آج بھی تنہائی میں بیٹھتے بس وہ یہی سوچتا ہے مومنہ نے واقعی خودکشی کی تھی یا اُس شخص نے اسے قتل کیا تھا؟؟
حاوز سلیمان۔۔۔ یہ نام ذہن میں آتے ہی اسکے جسم میں انگارے دہکنے لگتے۔۔ نفرت کی انتہا ہوتی تو کوئی زاکون حیدر سے پوچھتا اس نام سے اسے کتنی نفرت ہے۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی وہ اپنے بیڈ پر ڈھ سا گیا۔۔۔
وہی تنہا رات وہی تنہائی اور اسکی یادیں۔۔۔
اور بےشمار سوچیں۔۔۔
کیا حاوز سلیمان نے اسکی مومنہ کو مارا تھا؟؟؟
یا اسنے خودکشی کی تھی؟؟؟
کب وہ ان سوالوں سے آزاد ہوگا زندگی کا ہر لمحہ اسے صدیوں جتنا بھاری لگتا۔۔ آٹھ سال ہوگے وہ شخص اسے نہ ملا۔۔۔ بلکے اسکی تلاش میں اور مومنہ کی چاہ میں وہ اس پروفیشن میں آیا تھا یہاں تک کے اسکا بی ایس این تک مکمل ہونے والا ہے اور آج بھی وہ پہلے دن کی طرح وہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ حاوز سلیمان کی تلاش میں ایک زندہ لاش وہ اسکی پہنچ اسکی سوچ تک سے دور تھا۔۔۔۔
مومنہ کے جانے کے بعد وہ ہر اس راستے پر چل نکلا تھا جہاں سے مومنہ کی خوشبو اسے محسوس ہوتی تھی۔۔۔
ہر اس بات کی تہہ تک پہنچنا چاہتا تھا جو مومنہ کے جانے کے بعد پہیلی بن کر رہ گئی تھی۔۔۔
دنیا کہتی ہے زاکون حیدر کے انکار نے مومنہ کو مار دیا۔۔
لوگوں کے سوالوں سے بچنے کے لئے۔۔۔
سکون حاصل کرنے کے لئے اس نے موت کو چُنا تھا۔۔
اسکی موت ہسپتال میں ہی ہوئی تھی۔۔۔
لیکن وہ سانسیں لے رہی تھی۔۔۔
ریکوری ہوئی تھی۔۔۔
پھر کیا کیا تھا حاوز سلیمان نے؟؟
لوگ کہتے تھے دونوں ایک دوسرے سے!!!! پر زاکون حیدر کی چیخیں نکل جاتی۔۔۔۔ وہ اس شخص کی زبان تک ہلق سے نکال دیتا جو مومنہ کے خلاف لفظ تک بولتا ہے۔۔۔ وہ اپنی مومنہ کو جانتا تھا وہ رشتوں میں ملاوٹ نہیں کرتی وہ ایسی لڑکی تھی جسے اپنی عزت نفس اپنے باپ کی عزت جان سے زیادہ عزیز تھی۔۔۔
وہ مومنہ تھی اسکی مومنہ۔۔۔۔
اسکے کردار کی گواہی کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں تھی وہ پاک تھی۔۔۔۔۔زاکون حیدر جانتا ہے۔۔۔
وہ حساس تھی۔۔۔۔۔محبت کرنے والی تھی۔۔۔ دلوں کو جیتنے والی تھی۔۔۔ زاکون حیدر سے یہ بات چھپی نہ تھی
وہ خدا کا بہترین تحفہ تھی جسکی قدر وقت رہتے وہ نہ کر سکا۔۔۔۔۔
کبھی کبھی اسکا دل چاہتا وہ بھی وظیفے کرے قدرت کے الٹ ان راستوں پر چلے جو وقتی سکون اور زندگی بھر کی تباہی کا ذریعہ بنتے ہیں۔۔۔
پھر انجام سوچ کر کانپ اٹھتا ہے۔۔،۔
ایک دو دفع وہ شدید ڈپریشن میں آکر ایسی سوچیں پالنے لگا۔۔۔۔ مومنہ کی چاہ میں وہ اندھیروں میں روشنی ڈھونڈنے چلا تھا اس نے کالے جادو کا سنا تھا وہ اس سے وقتی سکون اور آخرت کی تباہی حاصل کرنا چاہتا تھا پر پھر حواس میں لوٹا تو اپنی ہی سوچ پر کانپ اٹھا۔۔۔۔۔
مومنہ ملک کو اس جہاں سے اپنی دنیا میں لے آئے ایک پل کو یہ سوچ آتی پر اگلے ہی پل وہ لرز اٹھتا یہ انسانوں کے بس کی بات نہیں یہ سوچنا بھی خود کو دین سے خارج کرنا ہے بےشک صرف اللّه ہر چیز پر قادر ہے اور وہ اُس مالک کی شے تھے جو اُسنے واپس لیلی۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ اس دل کا کیا کرے جو مومنہ کے لئے سکون چاہتا تھا۔۔ اسے مومنہ کی موت منظور تھی مگر خود کشی نہیں۔۔۔۔۔
وہ جو بیڈ پر لیٹا تھا اٹھ کھڑا ہوا، قدم اٹھاتا فاصلے تہہ کرتا وہ اپنے سامنے بنی اس دیوار کے آگے آکھڑا ہوا دھیرے سے دیوار پر لگے پردے ہٹائے تو وہ معصوم چہرہ پھر ان آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے کی وجہ بنا۔۔۔۔۔۔
یہ وہ واحد تصویر تھی جو اسے پل پل اپنی کی گئی غلطی کی یاد دلاتی ہے۔۔۔۔
اُس سے محبت کی یاد پھر تازہ کرتی ہے۔۔۔
اور ایک بار پھر وہ ان پچھتاوں میں گِر جاتا۔۔۔۔
یہ اسی دن کی تصویر ہے جب وہ اسے روتا چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔
وہ بےحد حسین لگ رہی تھی مایوں کے جوڑے میں ملبوس وہ سیدھا اس دل پر قہر ڈھارہی تھی پنک شرارہ اورنج شرٹ میں وہ حسن کی دیوی بالوں میں پھول سجائے ہوئے تھی۔ وہ کرسی یا شاید بیڈ پر بیٹھی اپنی قسمت پر ماتم کر رہی تھی۔ انگلی سے آنکھ سے نکلتا موتی صاف کر رہی تھی کے تبھی اس کی نظر اوپر کو اٹھی کلک کی آواز کے ساتھ وہ منظر ہمیشہ کے لئے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔۔۔۔
تصویر کھینچنے والا آریز تھا جو ہر بات سے انجان بس اپنی بہن کو مایوں کے جوڑے میں دیکھنے آیا تھا۔۔۔لیکن اسے روتا دیکھ وہ واپس لوٹا تھا اور اُس پر گزری قیامت سن کر دل تھام بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
یہ تصویر زاکون حیدر نے آریز سے لی تھی۔۔
نجانے کب وہ اس تصویر کا دیوانہ ہوا؟؟؟ شاید روز دیکھ دیکھ کر۔۔۔
اسکی ماں نے کہا تھا۔۔۔
وہ اسکے لئے نامحرم تھا۔۔۔
مرنے والوں کی تصویر نہیں رکھتے۔۔۔۔۔
اس نے دل پر پتھر رکھ کے آہستہ آہستہ اسکی سب تصویریں جلائیں تھیں لیکن اس تصویر کو جلانے کی ہمت اس میں نہ تھی۔۔۔۔
اسے ڈر تھا۔۔۔
خوف تھا۔۔۔
کہیں وہ اسے بھول نہ جائے۔۔۔۔
کہیں یہ چہرہ اسکی یاداشت سے مٹ نہ جائے۔۔۔
آنکھوں سے میری اس لئے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی۔۔
یہ سچ تھا اسکی آنکھیں ہمیشہ سرخ رہتیں رات جگے کا پیغام دیتیں آج بھی یہ سرخ آنکھیں مومنہ کا دیدار کرتے کب نیند کی وادیوں میں اتر گئیں اسے ہوش نہ رہا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…..
المیر ڈنر کرنے بعد روم میں چلا آیا مایل بھی اپنی کتابیں لیکر المیر کے روم میں چلی آئی ساتھ ہاتھ میں چائے سے بھرا مگ تھا جو اکثر کھانے کے بعد المیر لیتا تھا۔۔۔
” جی تو بتائیں ٹیسٹ کی تیاری کی ہے؟؟ “ المیر نے اسکی بک میں سے ٹائم ٹیبل نکال کر پوچھا اگلے ہی ماہ اسکے پپرز تھے اور المیر کی ان دنوں پوری توجہ بس مایل پر تھی۔۔
” وہ تو آپ کرائینگے نا “
” میں اپنے دیے گئے ٹیسٹ کی بات کر رہا ہوں “
” جی وہ تو آپ نے جب سمجھایا تبھی میں نے رات کو بیٹھ کر رٹ لیا “
” ہم چلو رجسٹر دو میں یہ پانچ نمریکلس سول کرتا ہوں پھر آگے کے دس تم مجھے کر کے بتاوگی “ المیر کی بات سن کر مایل نے سر ہلایا تبھی نجمہ مایل کو دیکھنے کے گرز سے المیر کی روم میں آئیں اور اسے پڑھتا دیکھ واپس کمرے میں چلی آئیں۔۔۔۔۔۔
وہ بیٹی کی ماں تھیں اس طرح رات کے وقت انہیں گوارا نا تھا کے مایل المیر سے پڑھے لیکن کسی ٹیوٹر پر بھی انہیں بھروسہ نہیں ایک ٹیوٹر المیر نے لگایا تھا لیکن اسکی حرکتیں دیکھ المیر نے کچھ ہی دن میں اسے فارغ کر دیا نجمہ اور المیر دونوں ہی واقف تھے مایل ابھی چھوٹی تھی ان مردوں کی اٹھتی ہوس بھری نظروں سے انجان تھی بس تبھی نجمہ کا دل ہر وقت سہما سا رہتا ایک ہی تو جگر کا ٹکڑا ہے انکے جینے کا سہارا۔ نجمہ کو المیر پر خود سے زیادہ یقین تھا لیکن بس رات کے وقت پڑھانا منظور نہیں تھا لیکن المیر بھی کیا کرتا یہ بڑی بات نہیں تھی کے اتنی ٹف روٹین ہونے کے بعد بھی وہ مایل کو پڑھاتا تھا وہ تو اسکی شکر گزار تھیں۔۔۔آخر پڑھے گی لکھے گی تو اچھے گھر سے رشتے بھی آئیں گئے۔۔ مایل کے ساتھ وہ بھی اپنی سوچوں میں الجی جاگتی رہیں جب تک مایل پڑھ کے واپس نہ آئی اور اسکے آتے ہی وہ مایل کے ساتھ پُر سکون ہوکر سو گئیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک گھنٹے سے بیٹھا ان سے اپنے گزشتہ رویوں کی معافی مانگ رہا تھا لیکن وہ تھیں کہ اس کی ایک سننے کو بھی تیار نہ تھیں۔۔۔۔۔۔۔
” چلو معاف کر دو نگی مگر میری ایک شرط ہے ” وہ جو نیچے ان کے گھٹنوں کے پاس بیٹھا تھا ایک دم چونکا۔۔۔۔۔۔پھر سنبھل کر بولا۔۔۔۔۔۔
” ہان ہاں امی بولیں کون سی شرط۔۔۔۔۔”
” آریز سے اتنی نفرت کیوں؟؟ ” کھوجتی نگاہوں سے اسے دیکھتے آج جیسے انہوں نے ہر سچ سننے کی قسم کھا رکھی تھی۔. .
” جیسے آپکو بتاؤں گا آپ یقین کرلیں گئی۔۔۔” بےزار سا انداز تھا آریز کا نام سنتے ہی اس کا دماغ گھوم جاتا تھا۔لیکن وہ آیا اسی کام کے لئے تھا ورنہ کب اس نے اپنی بدتمیزیوں کی معافی مانگی تھی؟؟؟؟ اور صالحہ یہی سوچ رہیں تھیں کہ شاید آج باپ اور ماں کے جھگڑے کی وجہ سے ان کے بیٹے کو تھوڑی شرم آ گئی۔۔۔۔۔۔۔
” پھٹے منہ جا نہیں بتا جیسے سننے کے لئے میں تو مری جا رہی ہوں ” ایک ہاتھ سے اسے پیچھے دھکا دیتے وہ بھڑک اٹھیں۔۔۔۔۔۔
” امی اسلئے کہ رہا ہوں کے ” لڑکی ” کا معملہ ہے ” ان کے قریب آکر رازداری سے بولا۔۔۔ آخر آج اس راز کو عیاں اس طرح کرنا تھا کے جیسے اسکا دل برباد ہوا ہے ویسے ہی اس انسان کی زندگی تباہ و برباد ہو۔۔۔۔۔۔
” چل جھوٹا “
” میں جھوٹا ہوں تو آریز شادی کیوں نہیں کر رہا ؟؟؟ ” اسے بھی غصّہ آگیا گھر کا ہر فرد ” آریز ” کو فرشتہ صفت انسان ہی سمجھتا تھا لیکن وہ اپنے غصے کو قابو کرتے نارمل سے انداز میں بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” بولیں نہ ویسے تو بول بول کر مُردوں کو قبر سے زندہ کرتی ہیں اب چُپ کیوں ہوگئیں ” وہ مصنوئی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے طنز کر گیا جس پر اسکی ماں نے رکھ کے ایک جھانپڑ اسے رسید کیا۔۔۔
” پوری بات بتاؤ پھر دیکھتی ہوں کتنی ملاوٹ ہے “
” آریز میری کلاس فیلو جاسمین کو پسند کرتا تھا۔۔۔آریز نے اسے پروپو۔۔۔۔ ” وہ پروپوز کہتے کہتے رک گیا ایک نظر ماں کو دیکھا جو آنکھیں سیکوڑ کر ایسے دیکھ رہیں تھیں جیسے ایک جھوٹ پر اسکی زبان ہلق سے نکال دینگی شاذ نے تھوک نگلتے بات جاری رکھی۔۔۔
” رشتہ جوڑنے کی بات کی۔۔۔۔ مطلب ادب سے پوچھا کے محترمہ کیا آپ کے گھر رشتہ بھیج سکتا ہوں؟؟ وہ لڑکی بڑے شریف خاندان کی پارسا لڑکی تھی مجال ہے جو کسی نوجوان سے بات کرے امی ارے وہ تو ” میل ٹیچرز ” یعنی ہمارے مرد استاد ان تک سے بات نہیں کرتی۔۔۔ اتنی شریف ہے یونیورسٹی میں فل نقاب کر کے آتی ہے۔۔۔ “
” مگر۔۔۔۔۔ ” وہ کہتے کہتے روکا۔۔۔
صالحہ جو پوری انکھیں کھولے غور سے سن رہی تھی اسکے چُپ ہونے پر بولی۔۔۔
” پھر کیا ہوا ہائےےے اتنی اچھی لڑکی تھی آریز کو کیوں منع کیا ہمارے گھر کی بہو بنتی تو ہر جگہ گھر میں برکت ہی برکت ہوتی ” صالحہ نے دکھ سے کہا شاذ نے لب دانتوں تلے دبایا شکر تھا اس کہانی پر انہوں نے یقین کرلیا۔۔۔۔۔
” وہ بن سکتی تھی ” سر جھکائے وہ بولا۔۔۔
” امی وہ مجھے بھی بہت پسند تھی۔۔ آج تک۔۔۔۔ ہے۔۔۔ ” وہ لفظ تلاش رہا تھا سچ کہتے ہیں۔۔ اظہارِ محبت دنیا کا سب سے مشکل ترین کام ہے ماں سے کہتے آج پھر ہر یاد اسکے زہن میں تازہ ہو رہی تھی نفرت نئے سرے سے اس دل میں امڈ اٹھی۔۔۔
” امی وہ اچھی لڑکی تھی تبھی تو۔۔۔۔۔ حلال حرام کا ڈر تھا اسے۔۔۔ وہ کہتی تھی۔۔۔۔ ” میں تم سے شادی کرلوں لیکن مجھے ڈر ہے میں تمھارے بھائی کی پسند ہوں ایسی پسند جس نے اسے ٹھکرا کر کے تمہیں چُنا۔۔ آگر کل کو شیطان اس پر حاوی ہوا تو؟؟ ایک ہی گھر میں رہتے اسنے کچھ غلط کیا تو؟؟؟ برا کبھی کبھی ہوکر رہتا ہے۔۔ اذیت ایسی ملتی ہے جو تباہ کردیتی ہے اگر ایسی اذیت مجھے ملی میں زندگی سے ہار بیٹھوں گی۔۔ تب شاید تم بھی مجھ سے نفرت کرو مگر میں۔ آہاں۔۔۔ نقصان تو میرا ہوگا نہ؟؟؟ میں اپنا آج سنوار کر کل برباد نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔ میں تمہاری بہت عزت کرتی ہوں،،،،، لیکن تم سے شادی نہیں کر سکتی ” وہ نم آنکھوں سے اسے کہتی اسکی نظروں سے اوجھل ہوچکی تھی وہ انکی آخری ملاقات تھی ماں کو بتاتے کب اسکی آنکھوں سے آنسوؤں نکلے وہ نہیں جانتا۔۔۔۔ وہ بس اتنا جانتا تھا سامنے کا ہر منظر دھندھلا گیا تھا۔۔۔۔۔
۔……………………………
ویٹنگ ایریا میں کافی دیر انتظار کرنے کے بعد اس کا نمبر آیا وہ اپنے نمبر کی پکار سن کر ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
” اللہ کرئے اب یہ ڈاکٹر ہی تمہارا خوف دور کرے ہماری محنت تو رائیگیاں گی۔۔۔ “وہ ماں کی ان سنی کرتی بس ڈاکٹر کے روم کی طرف بڑھی اب تو ہاتھوں کے ساتھ جسم بھی کپکپا رہا تھا۔۔۔۔۔
” اسلام علیکم ” مایل نے سلام میں پہل کی۔۔
ڈاکٹر جو فائل پر جھکی ہوئی تھیں چونکیں۔۔۔۔
” وعلیکم السلام بیٹا بیٹھ۔”
” اندھے ہو کیا دیکھ کر نہیں چل سکتے ” مایل جو آگے بڑھ کر سیٹ پر بیٹھنے لگی تھی اپنی ماں کی جھنجھلائی آواز اور ایسا تکیہ کلام سن کر بس سر جھکا کر رہ گئی۔۔ ڈاکٹر کے الفاظ تک منہ میں رہ گئے۔۔۔
شاید ان دونوں کے علاوہ کوئی اور بھی آ رہا تھا یا شاید روم سے جا رہا تھا پر مایل کا کہاں دھیان تھا وہ تو اپنی ہی سوچوں میں الجھی بس فوراً سے ڈاکٹر کے آگے رپوٹس کھول کے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
مایل دیکھ رہی تھی ڈاکٹر کا سارا دھیان دروازے کی طرف تھا پھر مایل کی ماں کو قریب آتا دیکھ انکی طرف متوجہ ہوئیں۔۔۔۔
اسلام علیکم ڈاکٹر صاحبہ “
” وعلیکم اسلام ” ڈاکٹر کے جواب دیتے ہی خاموش بیٹھی مایل نے بلاآخر بولنا شروع کیا۔۔۔۔۔
” ڈاکٹر مجھے نہ ہائپوتھائریڈزم (hypothyriodism) ہے میرا دل تیز دھڑکنے لگتا ہے اچانک سے خودباخود پھر بلڈ ٹیسٹ اور ٹی ایس ایج ٹیسٹ کرایا تو ٹی ایس ایچ لیول ہائی آیا آپ مجھے کوئی دوائی دیں مجھے خوف آتا ہے۔۔۔۔ بہت ڈر لگتا ہے کہیں دل تیز تیز دھڑک کر یکدم سے بند نہ ہوجاے۔۔۔ ” ڈاکٹر جو اسکی باتیں غور سے سن رہی تھی آخر میں مسکرائیں۔۔۔۔۔۔
مایل کی ہر رپورٹ انکے سامنے کھلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
” مایل۔۔ بہت پیارا نام ہے۔۔۔۔” انہوں نے دونوں ہاتھ ڈسک پر رکھے رپورٹس اپنے طرف کھسکائیں۔۔۔
” پہلے رپورٹس دیکھتے ہیں۔۔۔ ” ڈاکٹر خود اس کے ہاتھ سے رپورٹ لے کر پڑھنے لگیں جیسے جیسے پڑھتی گئی ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی جب کے مایل انکی مسکراہٹ دیکھ کر رونے جیسی ہوگی۔۔۔۔
” آپ نہیں جانتیں۔۔۔ “
” ڈاکٹر صاحبہ یہ تو بلی کو اچانک سے دیکھ کر ڈر جاتی ہے۔ کچھ نہیں ہوا ہے بس بیٹھے بٹھائے وہم ہمیں تو پتا نہیں کیا کیا ہوتا ہے مجال ہے جو ٹیسٹ کرائے ہوں۔۔۔ اُٹھ کر سارے گھر کے کام کرو ساری بیماریاں خود بھول جائیں گی آج کل کی نوجوان نسل ایک تو سارا دن بستر پر بیٹھی رہتی ہے کھانا پینا سب بستر پر ہلتی جلتی ہے نہیں سستی کو بیماری کا نام دے کر وہم پا لیں گی ” اپنی ماں کی تقریر سن کر مایل بے بسی سے رونے لگے۔۔۔۔
” نہیں ڈاکٹر میں سچ کہہ رہی ہوں مجھے بہت خوف آتا ہے جہاز جب گزرتا ہے اس کی آواز سے خوف آتا ہے کہیں بلڈنگ پر کریش نہ ہوجاے پٹاخوں کی آواز سے ڈرتی ہوں۔۔۔ بارش سے ڈرتی ہوں بادل اتنی تیز آواز سے گرجتے ہیں ڈر لگتا ہے آسمان نہ پھٹ جائے۔۔۔۔ میں خود نہیں ڈرتی میرا ہاتھ خود با خود کپکپانے لگتا ہے پھر سہی ہوجاتا۔۔۔۔۔۔۔میرا بی پی بھی صحیح نہیں ہے سسٹول(systole) سہی آتا ہے ڈائسٹول(Disystole) اتنا کم۔۔۔ صرف ساٹھ۔۔ “
“میرا چالیس بھی آتا ہے دیکھ لو بچے۔۔۔ ” انہوں نے ہاتھ آگے کیا بی پی آپیریٹس سامنے رکھا تھا مطلب چاہو تو چیک کرلو؟؟
” نہیں۔۔وہ ” وہ جو رو رہی تھی یکدم گھبرا گئی۔۔
” بیٹا یہ سب وہم ہے اصل مسلہ موٹاپا ہے جو کے ایک بیماری ہے تم اتنی موٹی نہیں مگر ہر انسان کا جسم الگ ہے جو چیز تم پر اثرانداز نہیں دوسروں پر ہوتی ہے اس طرح گڈ اور بیڈ فیٹ ہوتا ہے جو اچھا ہے وہ نقصان نہیں پہنچاتا جیسے وہ تھوڑے صحت مند لوگوں میں ہوتا ہے لیکن وہ تندرست ہوتے ہیں کوئی بیماری نہیں اب ایک بندہ ڈھانچا ہے اسے بلڈ پریشر شگر سب ہوگا مگر ایسا نہیں فیٹ اسکے جسم میں نہیں فیٹ ہوتا ہے مگر برا۔۔اسی طرح تمہاری ہر بیماری کا علاج وزن ہے تمہیں چلنا نہیں دوڑنا ہے دوڑو اور جہاں تک بات ہے خوف کی۔۔۔۔ خود کو مضبوط کرو مضبوط دل کی مالک بنو اس طرح ڈرو گی تو اس دنیا میں کیسے جی سکو گی؟؟؟ ڈرنا گھبرانا چھوڑدو تم جتنا ڈرو گی ڈرانے والے اور ڈرائیں گئے اور اگر اس چیز کا دوسروں کو علم ہوگا تو صرف اپنا مذاق بناؤ گی۔۔۔۔ ” مایل حیرت زدہ سی انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اکثر لوگ میڈیسن لکھ کر کام تمام کر دیتے ساری زندگی وہ ” سہارا ” دوا کو بنا کر چلتے اور انہوں نے کتنی آسانی سے ہر مسلہ حل کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔
” تم بلکل ٹھیک ہو!!! بس کھانا کھا کر لیٹنے بیٹھنے سے ہارٹ پر پریشر بڑھتا ہے جسکی وجہ سے تمہیں درد ہوتا ہے۔۔اور جہاں تک رہی بات آوازوں کی انسان کی زندگی میں کچھ ایسے حادثے یا واقعات پیش آتے ہیں جو ساری زندگی کے لئے اسکے ذھن پر اثر چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔ تم نے کچھ تو دیکھا یا سنا ہے جسکی وجہ سے ان چیزوں کا خوف تمہارے دل میں بیٹھ گیا ہے اور جب یہ سب تمہارے سامنے ہوتا ہے تمہیں اینزائٹی (Anxiety) کی وجہ سے لیفٹ سائیڈ پر درد ہوتا ہے۔۔ میں تمہیں میڈیسن دیدوں لیکن وہ صرف تمہاری سوچ کا علاج کریگی تمہاری بیماری کا نہیں کیوں کے بیماری تمہاری بس خود کی سوچی گئی ایک سوچ ہے اصل ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ سمجھی؟؟؟ “
” پر۔۔۔۔۔۔ کوئی۔۔۔ میڈیسن دل۔۔۔۔۔تھوڑا۔۔۔۔۔۔ ” مایل نے کچھ جھجھک کر کہا ماں کی گھوری تک فراموش کردی۔۔۔ ڈاکٹر سر پکڑ کے مسکرائیں۔۔۔۔
” شادی کے بعد آنا بچے ہوجائیں پھر آنا تب دونگی ابھی تم چھوٹی ہو بچوں کے بعد آنا ” انہوں نے اسکی فائل بند کرتے کہا ساتھ ساتھ وہ کسی پپیپر پر رپورٹس سے کچھ دیکھ کر لکھتی جا رہیں تھیں مايل کچھ شرمندہ سی ہوتی مسکرائی ایک ڈر تھا جو اسکا دل سے اُڑن چھو ہوگیا تھا اسکی ماں بھی بیٹی کو پُر سکون دیکھ کر دل ہی دل میں ڈاکٹرنی کو دعائیں دے رہیں تھیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آریز؟؟؟ ” وہ جو آج تک اُسکے لفظوں کے حصار میں تھا چونک اٹھا آج بھی وہ آخری ملاقات اسے پہلے دن کی طرح ہی اذیت دیتی تھی۔۔۔۔۔
آج بھی اس لڑکی نے اسے اپنی قید سے آزاد نہیں کیا۔۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں ” اپنی ماں کو ایک نظر دیکھتے وہ اٹھا کھڑا ہوا۔ صالحہ بیٹے کا یہ حال پہلی دفع دیکھ رہی تھیں آریز کی زبان سے نکلتا ہر لفظ انہیں سچ لگ رہا تھا بیٹے کی حالت دیکھ کر وہ خود حیرانگی کے ساتھ پریشان تھیں کاش انکا بیٹا پہلے ہی انہیں اس بات سے باخبر کرتا تو شاید آج وہ اپنے بیٹے کے لئے کچھ کر پاتیں۔۔۔۔
مگر آج انہیں ایک بات تو معلوم ہوگی آریز کے شادی نہ کرنے کی وجہ بھی وہ لڑکی ہے اور آریز آج بھی صرف اس لڑکی کے لئے اپنے پیاروں کی بھی بات نہیں مانتا ماں کا روتا چہرہ دیکھتے بھی وہ آج بھی صرف اس وجہ سے شادی سے انکاری ہے؟؟؟؟؟ صالحہ بےتابی سے اٹھ کھڑی ہوئیں انکے پیٹ کا درد بڑھتا ہی جا رہا تھا جو تب تک نہیں رُکنا تھا جب تک وہ یہ بات شگفتہ کو نہیں بتاتیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” جی انکل یہی چاہیے اسکی قیمت کیا ہے؟؟ “
اپنی مطلوبہ کتاب انکل کے ہاتھ میں دیکھ کر وہ مطمئن ہوگئی۔
” پچیس سو ستائیس روپے۔۔۔۔ “
قیمت سن کر اسکے چہرے پر اداسی چھا گئی ایسا نہیں تھا پیسے اسکے پاس نہیں تھے مگر اس وقت اسکے ہاتھ میں صرف دو ہزار تھے اسے لگا تھا پندرہ سو میں اسکا کام بن جائے گا مگر یہ کتاب اسکی سوچ سے زیادہ مہنگی تھی۔۔۔۔
” میرے پاس تو بس دو ہزار روپے ہی ہیں اب کیا
کروں؟؟ ” اپنی مٹھی کو کھول کر وہ سوچنے لگی جس میں دو ہزار روپے ہی موجود تھے دکان میں رش بڑھتا جا رہا تھا اس دکان میں کوئی عورت بھی نہ تھی صرف مرد حضرات تھے جس کی وجہ سے اس نے اپنے گرد پھیلی چادر کو سختی سے تھام لیا تھا۔۔۔۔
” سیم یہی کتاب ایک اور چاہیے!!! یہ ان دونوں کی قیمت۔۔۔۔۔ ” مانوس سی آواز پر اسکا دل تیزی سے دھڑک اٹھا وہ اسکے پیچھے ہی کچھ فاصلے پر کھڑا تھا اسکی کلون کی مہک سے بھی وہ لاکھوں میں اسے پہچان سکتی ہے دکاندار سیم اس جیسی ایک اور کتاب لے آیا جسے اس شخص نے اپنے ہاتھ میں لیکر دوسرے ہاتھ سے اسکی قیمت ادا کی۔۔۔۔۔۔
” کتاب لیلو رش بڑھ رہا ہے۔۔۔۔ ” اسے ھدایت کرتا وہ دکان سے نکل آیا وہ بھی کتاب لیکر جلدی سے بو
بک اسٹور سے باہر نکل آئی جب تک اسے رکشہ نہیں ملا وہ شخص وہیں کار سے ٹیک لگائے سن گلاسسز پہنے کھڑا رہا کچھ قدم آگے چلتے ہی اسے ایک چنگچی والا ملا جو اسکے روٹ پر جانے کے لیے تیار تھا جیسے ہی وہ چنگچی میں بیٹھی وہ شخص بھی اپنی کار میں بیٹھ کر اس چنگچی کے پیچھے چل نکلا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔