Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 02
Rate this Novel
Episode 02
۔۔حال۔۔۔۔۔۔
” میرا بچہ۔۔۔ میرا بچہ کہاں ہے؟؟ بولو کہاں ہے “
وہ نرس کو جھنجھوڑتے ہوے وہ چیخ اٹھی۔۔
کوریڈور عبور کرتے وہ شخص اس آواز پر چونک اٹھا اسکے بازوں میں سویا بچہ ڈر کے رونے لگا۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اس روم کی طرف بڑھا وہ دعا کر رہا تھا جو وہ سوچ رہا ہے سچ نا ہو لیکن زندگی نے ابھی اس سے امتحان لینے تھے وہ اپنے بازوں میں روتے بچے کی پیٹھ تھپکتے اسے چُپ کرا رہا تھا جبکے اسکے قدم اپنی منزل کی طرف رواں تھے۔۔
” بیٹھی رہو مر گیا ہے تمہارا بچا۔۔۔ ” نرس نے حقارت سے اسے دیکھتے کہا جس نے دو دن سے اسکا جینا حرام کیا ہوا تھا اس سے پہلے کے وہ اس پر برستی کمرے میں کسی کی موجودگی کو محسوس کر کے اس نے نظریں دروازے کی طرف مرکوز کیں اور آنے والے کے ہاتھ میں وہ بچہ دیکھ کر سانس روکے اسے دیکھنے لگی پھر اگلے ہی پل تیزی سے وہ اسکی طرف بڑھی اور اس سے بچہ چھپٹا، وہ روتے ہوئے دیوانہ وار اس بچے کو چومنے لگی وہ بچہ اتنا پیار پا کر چیخ کر رونے لگا جب کے آنے والا شخص پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا، جسے وہ دنیا بھر میں ڈھونڈ رہا تھا وہ ملی بھی تو کہاں؟؟؟؟ اس شخص کی آنکھیں حیرت و بے یقینی سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔ وہ اسے پہچان تک نہیں رہی تھی وہ تو بس اس بچے میں گم تھی۔۔
” یہ کیا ہو رہا ہے اور آپ ہیں کون ؟؟ ” نرس جو اس لڑکی کے ساتھ یہاں موجود تھی اسکی حالت کو دیکھ کر فوراً ڈاکٹر کو بُلا لائی جو اب اُس آنے والے شخص سے اسکا تعارف مانگ رہا تھا۔۔
” ڈاکٹر اسے کیا ہوا ہے؟؟ اور یہ یہاں اکیلی کیوں ہے؟؟ “
اس شخص نے ڈاکٹر کا سوال نظر انداز کر کے پوچھا۔۔
” یہ ہماری پیشنٹ ہیں آئی تھنک انکی دماغی حالت ٹھیک نہیں پر آپ کون ہیں؟؟ “سامنے کھڑے شخص کے آگے زمین و آسمان گھوم گیا۔۔۔
” آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گئے نا پرومیس کریں۔۔؟؟ “
” پرومیس ہمیشہ تمہارے ساتھ رہونگا “
وہ اس کی خوائش سن کر مسکرایا۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کر اسنے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔
وہ اب بیڈ پر بیٹھی اس بچے کو بہلا رہی تھی۔ سامنے کھڑا ٹوٹا بکھرا شخص آج حقیقت میں جان چکا تھا وہ کیا کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔؟؟؟اسے وہ سب باتیں یاد آرہیں تھیں جو اسنے اسے کہتے سنا تھا۔۔۔۔۔۔
” میں۔۔۔میں سچ کہ رہی ہوں یقین کرو میرا وہ عام انسان نہیں وہ کوئی اور ہے۔۔۔۔اس۔۔۔۔اسے موت سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔اسے کچھ محسوس نہیں ہوتا اسے اپنے دل کی دھڑکن تک محسوس نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ “
” و۔۔۔۔۔وہ آگ سے کھیلتا ہے۔۔۔ میں کیسے سمجھائوں مجھے اس سے خوف محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔ وہ قاتل درندا ہے اپنی بھوک کے لئے وہ معصوموں کی جان لیتا ہے۔۔۔۔۔ ” وہ اپنے بال نوچتی بلک رہی تھی۔۔۔۔۔ اسکا پورا وجود خوف سے کانپ رہا تھا۔۔۔ وہ شاید اس وقت بھی اسے اپنے آس پاس محسوس کر رہی تھی اس وقت بھی خوف لاحق تھا کہیں وہ اسے سن تو نہیں رہا؟؟؟۔۔۔۔۔
کیا وہ اس دن سچ کہہ رہی تھی؟؟؟ سب سچ؟؟؟ لیکن ہر کسی نے اسے ” سازش ” کا نام دے کر اُسے اُس جہنم میں واپس بھیج دیا اور آج جب وہ اسے ملی تو اس حال میں؟؟؟؟؟ وہ جو اسے اپنی جان سے ” عزیز تر ” محسوس ہوتی تھی وہ اس کے ساتھ کیا کر بیٹھا تھا؟؟؟؟؟؟؟؟ قرب سے آنکھ میچے وہ زلزلوں کی زد میں تھا کیا اس سے بڑی قیامت اس پر گزری تھی؟؟؟؟؟
ہسپتال کی فارمیلیٹیز پوری کرنے کے بعد وہ اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ ڈاکٹر کے مطابق وہ ٹھیک تھی مگر جب سے وہ ہسپتال آئی تھی تب سے اسنے ہر کسی سے ” میرا بچہ کہاں ہے ؟؟ ” پوچھ پوچھ کر اپنے ساتھ انکی بھی حالت خراب کردی شاید وہ کسی گہرے صدمے میں تھی۔۔۔۔۔ اور وہ جانتا تھا وہ ” گہرا صدمہ کیا ہے ؟؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بھی وہ دو آنکھیں اسکا پیچھا کرتی ہسپتال تک پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔۔وہ جو اندر جانے لگا تھا مٹھی بھینچے اس منظر کو دیکھنے لگا۔۔۔۔وہ اس بچے کو اپنے سینے سے لگائے کار کی فرنڈ سیٹ پر آبیٹھی کار کا دروازہ بند کرتے ہی وہ شخص بھی تیزی سے اپنی سائیڈ پر آیا اور زن سے گاڑھی اڑا لے گیا۔۔۔
پیچھے رہا تو صرف وہ اکیلا،،، تنہا،،، آج ایک بار پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” دیکھا دوسروں کے لئے آگ لگانے والے کے اپنے ہاتھ بھی جلتے ہیں ” دونوں نے نہایت حیرانگی سے اس ” ٢ فٹ ٣ انچ کے اپنے بھائی کو دیکھا اسکی ایسی زبان درازی پر سختی سے المیر نے اسکا کان پکڑ کے مڑوڑا۔۔۔۔۔۔۔۔
“آ!!! کیسے ظالم بھائی ہیں آپ اتنے چھوٹے بچے پر تشدد کر رہے ہیں ” آریز تو اسکی قینچی کی طرح چلتی زبان دیکھ کر دھک سے رہ گیا۔۔۔۔۔مجال ہے جو بڑے بھائی سے بھی ڈرے؟؟
” المیر یہ تو ہاتھ سے نکل چکا ہے عمر دیکھو دس سال اور زبان دس گز کی۔۔۔”
” یہ فضولیات کہاں سے سیکھی ہے ؟؟؟ ” المیر نے اب کے گرفت تھوڑی سخت کی جس سے وہ بلبلا کر رہ گیا۔۔۔۔
” ب۔۔۔بھائی۔۔۔آئندہ نہیں کرونگا پلیز چھوڑیں کان دکھ رہا ہے۔۔ آآآآآ” کان ایسی سختی سے مڑوڑا تھا کے اسے اپنی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔ دوسری طرف آریز نے اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اسکی جیب سے باہر نکلتا فون پورا نکال کر اپنی جیب میں رکھا جس پر وہ چیخ اٹھا۔۔۔۔
” ب۔۔۔۔۔بھا۔۔۔۔بھائی بھائی نہیں آپ سہی نہیں کر رہے۔۔۔ یہ دشمنی مہنگی پڑے گی “
” آبی ” المیر نے آنکھیں دیکھاتے اسے سختی سے ٹوکا۔۔ (بڑا ہے تم سے ادب کرو ” آنکھوں ہی آنکھوں میں تنبیہ کی گئی۔۔۔۔
(خود کون سا چھوٹوں کی عزت کرتے ہیں؟؟؟) اسکا بھی جواب حاضر تھا المیر نے اسے سخت گھوری سے نوازا۔۔۔۔۔۔
” اب یہ اسی صورت میں ملے گا جب بیس دفع میرا دیا ٹاسک پورا کروگے۔۔ کان پکڑ کے پہلے نیچے بیٹھو پھر اوپر اٹھو چلو شروع ہوجائو کچھ تو یہ چربی بھی پگلےگی۔۔۔ “
” اُٹھک بیٹھک ” المیر کی ڈیمانڈ سن کر آبی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔۔۔
” سنا نہیں؟؟؟ ” اسے ٹس سے مس نا ہوتے دیکھ المیر نے کرخت لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔وہ دونوں ہاتھوں سے کان پکڑے پہلے نیچے بیٹھا پھر اٹھا اس دوران غصّے سے بھری سرخ آنکھیں آریز پر تھیں جس نے اسکے تاثرات دیکھ کر مسکراہٹ چھپانے کو ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبایا جبکے المیر دونوں ہاتھ باندھے سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔
ابھی پانچ ہی مشکل سے ہونگے کے وہ اپنی وزن کی وجہ سے ہانپنے لگا روئی جیسے نرم ملائم گال سرخ ہوگئے سلکی بال پسینے کے بائث ہلکے سے ماتھے سے چپک گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آبی تھک چکا تھا لیکن جلدی جلدی اُٹھک بیٹھک مکمل کرنے کی کوشوش کرنے لگا کے اسی جلدی میں ” ٹھا ” کی آواز سے جہاں آبی کی رونی صورت بنی وہیں آریز کا ہلق پھاڑ قہقہ فضا میں گونجا۔۔۔۔
المیر بھی پہلی دفع صورت حال دیکھ کر کھل کر مسکرایا۔۔۔۔۔
” میری چڈی پھاڑ دی ٹہریں میں امی کو بتاتا ہوں ” وہ ایک ہاتھ سے اپنی ایک آنکھ کو مسلتا دوسرے ہاتھ سے پیچھے سے پھٹی اپنی چڈی کو کور کرتا دوڑتا ہوا وہاں سے بھاگا تھا۔۔۔۔آریز نے ہنستے ہوئے آبی کا فون آگے کیا جسے المیر نے لے کر اپنی جیب میں رکھا۔۔۔۔۔
دونوں جیب میں ہاتھ ڈالے گھر کے گیٹ سے باہر نکلے۔ اکثر کھانے سے پہلے گھر کے مردوں کی عادت تھی کے آدھا گھنٹہ واک ضرور کرتے۔۔۔۔۔
” ٹک ٹوک نے آج کل کے بچوں کو بگاڑ دیا ہے “
المیر جانتا تھا یہ ساری ڈائیلاگ بازی وہ ٹک ٹوک دیکھ کر کرتا تھا۔۔۔۔
” ہممممم ” آریز نے بس ہمم کہنے پر استفسار کیا۔۔۔۔
” علاج ہوا ؟؟؟ ” آریز کے اچانک پوچھنے پر المیر نے گردن موڑ کے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
” کس کا ؟؟ ” وہ چونکا
” آپ کی مریض کا ” المیر بےساختہ مسکرایا۔ گھر میں ہر کوئی جانتا تھا المیر کا مايل کے لیے کیا مقام ہے ؟؟؟؟ شاید ہی کسی نے اس پر اتنی توجہ دی ہو جتنی المیر نے دی ہے۔۔۔۔۔
” مرض ہی لاعلم ہے ” وہ کندھے اچکا کے بولا۔۔۔۔
” اس مرض کا کوئی علاج بھی نہیں ” آریز نے مسکراتے کہا المیر نے ابرو اچکا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
” کس مرض کا ؟؟؟ “
” وہم ” یہ بحث لمبی ہوتی کیوں کے وہ خود نہیں جانتا اصل بات کیا ہے؟؟؟ اس لئے وہ خاموش رہا اس نے موضوعِ گفتگو ہی بدل دیا۔۔۔۔۔۔۔
” تم سناؤ شادی کب کر رہے ہو ؟ “
” کوئی انسانوں والا سوال پوچھو!!!!! ” وہ اکتا ہی تو چکا تھا ہر کوئی اسے دیکھتے ہی صرف ایک سوال پوچھتا ہے شادی کب کروگے؟؟؟؟ وہ لوگ تک پوچھنے آتے جن کا دور دور سے بھی آریز سے کوئی تعلق نہ تھا۔۔۔۔۔
” لڑکی کا معملہ تھا؟؟؟؟ ” اس کے اکتانے کا الگ ہی مطلب سمجھا تھا وہ۔۔۔۔ آریز جانتا تھا وہ شاذ اور اسکے بیچ دشمنی کی وجہ ” کوئی لڑکی ” ہی سمجھتا ہے۔۔۔۔
” ایسا کچھ نہیں تھا ” جان چھڑانے والا انداز تھا۔۔۔۔۔
” یقین کرلیا ” جتنے پر سکون انداز میں المیر کا جواب آیا صاف طنز تھا مگر چُبا نہ تھا بس محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔
” تم کب کر رہے ہو ؟؟؟ ” آریز نے الٹا اسی سے سوال کیا۔۔۔
” مایل کی شادی کے بعد ” وہ سن سا رہ گیا چلتے قدم رک گئے۔ گردن موڑ کر اسنے حیرت سے المیر کو دیکھا جو اسکی کیفیت سے لاعلم آگے چلتا جا رہا تھا۔۔۔
لیکن اسے اپنے ساتھ موجود ناپاکر پیچھے مڑا۔۔۔۔۔
” کیا ہوا؟؟؟؟ “
“آ۔۔۔۔ ک۔۔۔کچھ۔۔۔۔ن۔نہیں۔۔۔۔ تم چلتے رہو میں جوائن کر رہا ہوں “
” اوکے ” نجانے وہ اسکی اڑتی رنگت محسوس کر چکا تھا یا جان کر انجان تھا؟؟؟ مگر المیر کا سپاٹ چہرہ بتا رہا تھا وہ انجان ہے۔۔۔۔۔۔
” اے میرے خدا نجانے یہ صرف میری سوچ اور میرا نظریہ ہے یا مایل کے دل میں بھی المیر کے لئے کچھ ہے؟؟؟ اگر کچھ ہے بھی تو اسے صبر دینا۔۔۔۔۔۔یا میرے مولا بس اسکی قسمت ” مومنہ ملک ” جیسی نہ ہو۔۔۔ “
وہ اپنے بازو سے ماتھے پر آیا پسینہ پونچھتا ہلکی رفتار سے دوڑنے لگا تاکے جلد المیر تک پہنچ سکے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک ہسپتال کا منظر تھا۔۔۔۔
جہاں ہر طرف افراطفری مچی ہوئی تھی۔ آج اسکا پہلا دن تھا وہ ہر طرف نظریں گھما کر اس ماحول کو دیکھ رہی تھی جہاں تیزی سے نرسیسز اسٹریچر پر کسی پیشنٹ کو لے جا رہیں تھیں تو دوسری طرف کچھ نرسسز فارمیسی کے باہر باسکٹس لیکر کھڑی تھیں ڈاکٹرز کچھ باہر کی طرف جا رہے تھے تو کچھ اسکے ساتھ اندر آتے اپنے فلورز پر جا رہے تھے تین چار لفٹ میں داخل ہوگئے کچھ او پی ڈی میں چلے گئے۔۔ اسنے سب کو دیکھ کر ایک گہری سانس لی۔۔۔
آج اسکا پہلا دن تھا سب کچھ اسے فزیکس کی طرح لگ رہا تھا جو دیکھ کر بھی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔
وہ فارمیسی میں چلی آئی شکر فارمیسی ڈھونڈنے میں اسے دیر نہیں لگی۔ باہر ہی بڑا شیشہ لگا تھا جہاں سے اندر کا سارا منظر واضع تھا۔۔۔۔۔۔اور باہر لکھا بھی تھا انِ پیشنٹ فارمیس۔۔۔۔۔۔
پچھلے ہفتے اس نے انٹرویو دیا تھا ٹرینی فارمیسسٹ کے لئے اور کل ہی اسے کال کر کے جوائینگ کے لئے بلایا گیا تھا اور آج وہ یہاں تھی۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی وہ فارمیسی کے اندر داخل ہوئی اسکا دماغ گھوم گیا پتا نہیں وہ لیٹ آئی تھی یا آج کام زیادہ تھا؟؟؟ دور چئیر پر ایک میڈم بیٹھیں تھیں (فورمیسی مینیجر جنہوں نے اسکا انٹرویو لیا)جو کمپیوٹر میں اپنا کام کر رہیں تھیں بیچ میں ایک لکڑی تھی اور ایک اور کمپیوٹر سسٹم لگا تھا جس پر دوسری لڑکی کام کر رہی تھی لکڑی شاید دونوں کو الگ کرنے کے لئے لگائی گئی تھی۔۔ وہ لڑکی پیپر سے کچھ دیکھ کر کمپیوٹر میں فیڈ کر رہی تھی دو لڑکے انجیکشن سائیڈ (جہاں بے شمار انجیکشن دیوار سے اٹیچ شلف پر رکھیں تھیں) پر جو جو انجیکشنز ختم ہوئیں تھیں انھیں لگا رہے تھے۔۔۔۔
ایک اور لڑکا ہر جگہ پر ڈیمانڈ لگا رہا تھا مطلب جو جو سرجری کا سامان ختم ہوا تھا وہ لگائے جا رہا تھا۔۔۔۔
پہلے دن تو اس نے ہر چیز کو باریکی سے اوبزرو کیا پھر جب وہ خود انکے ساتھ مل کر کام کرنے لگی اسے آہستہ آہستہ سب سمجھ آنے لگا۔۔۔۔
ؓیہاں کی مینجر میڈم تھیں جو پیچھے بیٹھ کر سب کو دیکھنے کے ساتھ اپنا کام کرتی تھیں۔۔ ہر کوئی ہر کام ان سے پوچھ کر کرتا تھا کوئی بڑا آئیٹم کسی اور ہسپتال سے منگوانا ہو یا کچھ ارینج کرنا ہو ایسا آٹیم جسکی ارجنٹ نیڈ ہو اور جو انجیکشن یا ٹیبلیٹس شورٹ ہوجاتیں اس پر ڈاکٹرز فارمیسی پر برستے جس کو میڈم اپنے طریقے سے بات کر کے ہینڈل کرتیں۔۔۔اور ارینج کرواتیں یا الٹرنیٹ پر میڈم منواتیں۔۔۔۔۔
اسے یہاں رہ کر کافی باتیں سمجھ آگئیں۔۔۔۔
پہلی بات تو یہ کے کبھی فارمیسی اور نرسنگ اسٹاف کی آپس میں دوستی نہیں ہو سکتی۔۔۔۔
دوسری یہ کے یہاں ہر کام سوچ سمجھ کر کرنا ہے ایک غلطی کسی کی جان لے سکتی ہے یا تو آپ کو ہمیشہ کے لئے ٹرمینیٹ کرسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
یہاں اس فارمیسی میں چار طرح کی ڈیزیگنیشنز تھیں۔۔
ایک میڈم تھیں جو فارمیسی کی مینیجر تھیں۔۔۔
دوسرے نمبر پر سینیئر فارمیسٹ تھے جو بڑے کیسسز ہینڈل کرتے تھے جیسے ہارٹ سرجری کے کیسسز کمپیوٹر میں پوسٹ کرنا انہیں چارج کرنا پیشنٹ پر اور خود سے انکا سامان نکالنا اسے کیبیچ ٹیکنیشن کو ڈسپینس کرانا۔۔۔۔اور میڈم کے ساتھ جو لڑکی بیٹھی تھی وہ وہی کام کرتی تھی ساتھ جو کمپنی سے سامان آتا اسے لیکر چیک کرنا اس کی ریسیونگ دینا اور اسے سسٹم میں فیڈ کرنا۔۔۔۔۔
تیسرے نمبر پر تھے جونیئر فارماسسٹ جو پورے ہسپتال کو چلاتے تھے۔۔ ایمرجینسی میں پیشنٹ آتے جو ٹریٹمنٹ کے بعد الگ الگ فلورز پر شفٹ ہوتے تھے جس دن ایمرجینسی روم چلا مطلب اس دن ہسپتال چلا۔۔ باقی لیبر روم گائنی روم کبھی چلتا تو کبھی سکون ہوتا۔۔ مگر ان سب فلورز کو چلاتے تھے جونیئر فارمیسسٹ اور ٹرینی فارمیسسٹ جن کی نرسنگ سے بالکل نہیں بنتی۔۔ وہ بھی ایز آ ٹرینی ہی ابھی آپائنٹ ہوئی تھی۔۔۔۔۔اور چوتھی یہی ڈیزیگنیشن تھی ٹرینی فارمیسسٹ۔۔۔ اسے بھی جونیئر فارمیسسٹ کے ساتھ ملکر انکے کام میں مدد کرنی تھی۔۔۔۔۔
یہ سب چیزیں اسے آہستہ آہستہ سمجھ آئیں تھیں
جیسے کے جب وہ پہلے دن آئی تھی تو کچھ ڈاکٹرز اسے جاتے ہوئے نظر آئے تھے تو کچھ ڈاکٹرز اندر آتے دیکھے تھے تب اسے سمجھ آیا تھا کے وہ کچھ ڈاکٹرز کا جانے کا ٹائم تھا تو کچھ کے آنے کا اسی طرح نرسنگ کا بھی جانے اور آنے کا ٹائم تھا۔۔۔ مگر ابھی بھی بہت کچھ تھا جن سے وہ انجان تھی۔۔۔۔۔
آج اسکا بارواں دن تھا میڈم نے اسکی ایک سینئر کے ساتھ آج ایوینگ شفٹ لگائی تھی۔۔ اس وقت فارمیسی میں عائشہ اور وہی تھی۔۔۔۔ باقی میڈم اور مورنگ شفٹ والے پانچ بجے ہی جا چکے تھے۔۔۔۔
” میں عصر پڑھ کے آتی ہوں اس سے پہلے کے یہاں رش بڑھ جائے۔۔۔۔ ” عائشہ نے اپنا موبائل لیتے مومنہ سے کہا رش کا مطلب تھا کے اچانک سے الگ الگ فلورز سے نرسینگ والے آکر اپنے اینڈٹس(پیشنٹ پر جو سامان چارج ہوتا ہے اوپر سے نرسنگ والے وہ انڈینٹ کرتے ہیں جس پر فارمیسی والے اپنی مرضی سے کوائینٹٹی ایڈ کرکے سامان نرسنگ کو دیتے ہیں) نہ لینے آجائیں۔۔ جب اینڈٹ لینے آتے ہیں تو تقریباً ہر فلور کے ساتھ ہی آتے پھر آنٹیاں۔آتیں تو وہ یا نرسنگ اسٹوڈنٹس آپس میں باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔۔
ابھی عائشہ نے سسٹم میں دیکھا تھا وہاں کوئی انڈینٹ شو نہیں ہوا تبھی وہ نماز پڑھنے کے لئے اٹھی تھی۔۔۔
انڈینٹ مطلب وہ چیزیں جو فارمیسی سے پیشنٹ کے لئے جایئں گی جیسے ڈرپ لگنا اسکا سارا سامان اسکے ساتھ ساری میڈینسسز وغیرہ وہ سب ہر نرسنگ اسٹاف اپنے پیشنٹ کا الگ انڈینٹ کرتا ہے۔۔۔۔دن میں جب انھیں آڈرز ملیں ڈاکٹر سے۔۔۔۔۔
” میڈم جلدی سوڈیم تھائیوسلفیٹ چاہیے اور اسٹاف زاکون کا نام لکھ لیں وہ انڈینٹ کردیں گئے۔۔۔ ” مومنہ چیئر پر بیٹھی موبائل یوز کر رہی تھی کے اچانک ایک نرسنگ اسٹوڈنٹ ہانپتی ہوئی فارمیسی تک آئی اور ایک ہی سانس میں بولی۔۔۔۔
(نوٹ :- ایمرجنسی میں اکثر نرسنگ یا خود ڈاکٹرز فارمیسی سے کوئی انجکشن یا سامان لینے آتے تو فارماسسٹ کا کام ہے انکو دیکر انکا نام اپنے پاس لکھ لینا جب پیشنٹ کی طبیعت یا کنڈیشن بتہر ہوجاے تو ڈاکٹر انڈینٹ کرے مطلب سسٹم سے وہ چیز فارماسسٹ کو بھیجے جسے فارمیسسٹ خود چارج کریگا کے اس نے کتنے انجیکشنز دیے ہیں کتنے دینے ہیں )
” نہیں پہلے اوپر سے جاکر انڈینٹ کرو پھر لینے آنا ایسے آلائوو نہیں ” آرام سے جواب دیتے وہ موبائل رکھ کر اب سسٹم کو دیکھ رہی تھی کے کہیں کوئی اینڈٹ تو نہیں آیا جبکے لڑکی اسکی اس حرکت پر سلگ اٹھی۔۔۔
” میڈم پیشنٹ سیریس ہے میں CCU سے آئی ہوں۔۔۔ پوائزنینگ کا کیس ہے دیدیں۔۔۔”
اس کے لہجے میں غصّہ صاف نمایاں تھا۔۔۔
” تم CCU سے آئی ہو یا ICU سے پہلے انڈینٹ کرو پھر ملیگا۔۔۔۔ ” وہ لڑکی اسے حیرت وہ غصّے سے دیکھتی واپس پلٹ گئی۔۔۔کیوں کے ٹائم ویسٹ کرنا پیشنٹ کی جان کا رسک لینا تھا۔۔ جبکے اسے جاتے دیکھ مومنہ خوش ہوئی تھی کے وہ مسلے ہینڈل کرنا جان چکی ہے اسنے سنا تھا کے یہاں نرسنگ کے لوگ چیزیں مانگنے آتیں ہیں اور انڈینٹ نہیں کرتے اس طرح وہ چیز چارج نہیں ہوتی اسلئے اسے میڈم نے ہی کہا تھا کوئی بھی آئے بغیر اینڈٹ کرے اسے کوئی چیز کبھی مت دینا۔۔۔۔۔
لڑکی کے جانے کے کچھ دیر بعد عائشہ آگئی جسے دیکھتے ہی مومنہ نے پوری کہانی اسے سنائی اور عائشہ سن سی رہ گئی۔۔۔
” عائشہ پتا ہے ابھی سی سی یو سے ایک لڑکی انجیکشن لینے آئی تھی میں نے نہیں دیا کہا اوپر جاکے انڈینٹ کرو پھر دونگی دیکھا میں اب شاپاٹر بن گئی ہوں نہ “
جب ہوش آیا تو عائشہ سر تھام کے رہ گئی۔۔۔
” سی سی یو؟؟؟ سی سی یو میں جب جو مانگتے ہیں دیتے ہیں پیشنٹ ونٹ پر ہوتا ہے۔۔۔۔ ” عائشہ پریشانی سے بولتی ایکسٹینشن (فون)ڈھونڈنے لگی (وائرلیس فون جس سے فلورز پر بات کر سکتے ہیں)تاکے پہلے وہ بات کلئیر کر لے وہ ایکسٹینشن ڈھونڈ ہی رہی تھی کے خود ہی وہ چیخ اٹھا عائشہ اور مومنہ نے بےساختہ ایک دوسرے کو دیکھا کہیں سی سی یو سے ہی کال نہ ہو؟؟ عائشہ نے جھٹ سے فون اٹھایا۔۔۔
” ہیلو اسلام علیکم۔۔۔ جی وہی کلئیر کرنے کے لئے آپ کو کال کرنے لگی تھی۔ وہ نیو ٹرینی ہے اسے اتنا معلوم نہیں آپ پورٹر کو بھیج دیں میں انجیکشن دیتی ہوں آپ بعد میں انڈینٹ کردینا۔۔۔۔ ” عائشہ کو نجانے دوسری طرف سے کیا کہا گیا کے اس نے پریشانی سے فون فوراً مومنہ کی طرف بڑھایا جس نے آنکھیں پھیلاتے پہلے اپنی طرف بڑھتے فون کو دیکھا پھر تھوک نگلتے کانپتے ہاتھوں سے فون لیکر کان سے لگایا۔۔۔۔
” اسلام علیکم۔۔۔ ” کیا پتا سلامتی بھیجنے پر سامنے والے کا غصّہ کچھ کم ہو؟
” سی سی یو کا مطلب جانتی ہیں آپ؟؟؟؟ ” وہ بولا نہیں دھاڑا تھا۔
” جی۔۔۔ جی۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ مجھے۔۔معلو۔۔۔معلوم۔۔۔نہیں۔۔۔”
” آپ کو اندازہ ہے آپ کی اس بچکانہ حرکت سے کسی کی جان جا سکتی تھی؟؟؟؟۔۔۔” وہ دبے دبے سخت لہجے میں بولا۔۔۔۔
” سوری۔۔۔۔۔۔ ” مومنہ کی آنکھیں بھر آئیں اتنا سخت لہجہ؟؟؟
” آپ کے سوری کا کیا کروں؟؟؟؟ ڈو یو ہیوو اینی آئیڈیا اگر پیشنٹ ایکسپائر ہوجاتا؟؟؟؟ آئ ایم اسپیچلیس آپ کے اندر انسانیت نام کی بھی چیز نہیں ہے۔۔۔۔ ” وہ شخص تو آج اسکی جان لینے کے در پر تھا اپنے لفظوں سے ایسے وار کر رہا تھا کے مومنہ کا دل کانپ اٹھا۔۔۔۔۔
” آپ کا نام؟؟؟؟ ” مومنہ کو خاموش پاکر اسنے پوچھا۔۔۔۔۔۔جبکہ اسکا سوال سن کر مومنہ کی جان ہلق میں آ اٹکی کیا وہ اسکی کمپلین کریگا؟؟؟؟؟
” میڈم؟؟؟؟ ” اسکی خاموشی سے وہ تپ اٹھا۔۔
” میرا آج پہلا دن ہے مجھے سچی معلوم نہیں تھا میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔۔ ” وہ منت کرنے لگی۔۔۔۔۔
” آپ کا نام؟؟؟ ” اب کے وہ قدرے سختی سے بولا اسکی کسی بات سے اس سنگ دل کو فرق نہ پڑا۔۔۔۔
” مومنہ۔۔۔ ” نام سنتے ہی اس نے جھٹ سے فون رکھ دیا جب کے مومنہ کا پورا وجود کپکپا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ نے اسے پانی پلا کر تسلی دی مگر وہ تھی کے ہچکیاں لیکر رو رہی تھی۔۔۔
“مومنہ پلیز سب آتے جاتے لوگ دیکھ رہے ہیں ” عائشہ نے تنگ آکر کہا کیوں کے ہر اسٹاف واقعی دیکھتا ہوا جا رہا تھا ویسے ہی فارمیسی میں لڑکیاں بھری پڑی ہیں جنھیں نرسنگ اسٹاف شوق سے دیکھ کر اندر جاتا ہے۔۔۔۔
عائشہ نے اسے پہلے چپ کرایا پھر کچھ سوچ کر اسے آہستہ آہستہ سے بتانے لگی۔۔۔۔
تم نہیں جانتی اسے اسکا پورا نام ” زاکون حیدر ” ہے سب اسکے بیچ کے لوگ اسے ” زکی ” کہتے ہیں۔ وہ ایلیٹ کلاس سے بیلونگ کرتا ہے جتنی اسکی یہاں سیلری ہے اتنے اسکے ملازم کماتے ہیں۔۔۔۔۔۔اسکا غصّہ ہونا جائز تھا کوئی بھی انسان اپنے پیشنٹ کے لئے فکر مند ہی ہوتا ہے اور وہ تو زکی تھا جو اپنے پیشنٹ کی جان بچانے کے لئے خود کو بھی قربان کر سکتا ہے۔۔ پہلے شاید وہ ایسا نہیں تھا۔۔ یا تھا معلوم نہیں۔۔۔ مگر۔۔
” مگر کیا؟؟؟ ” مومنہ جو غور سے اسے سن رہی تھی اسے چپ ہوتے دیکھ بےچین ہوگئی۔۔۔ عائشہ نے آنکھیں بند کر کے گہری سانس خارج کی۔۔۔۔
” مومنہ اس دنیا میں انسانیت ختم نہیں ہوئی تم نے مشہور لوگوں کے بارے میں سنا ہوگا جنہوں نے بےشمار قربانیاں دیں تھیں۔۔ ایدی صاجب جنکی دنیا عزت کرتی ہے ان سے عظیم بھلا کون ہو سکتا ہے؟؟؟ کوئی انکی برابری نہیں کر سکتا مگر کچھ لوگ ابھی بھی ہیں جن میں انسانیت ہے انہی میں سے ایک مومنہ ملک تھی یہاں کام کرتی تھی ایز آ نرس اور زکوان حیدر کی منگیتر تھی مومنہ ملک۔۔۔۔۔۔
وہ بہت الگ تھی بہت۔۔۔۔۔
احساس رکھنے والی۔۔۔۔
خدمت کرنے والی۔۔۔۔
معصوم۔۔۔ حسین۔۔۔ اور سب سے بڑی بات اسکا مضبوط کردار۔۔۔۔
یہاں کا نرسنگ اسٹاف بہت ٹھرکی ہے بہت لوگوں نے اسے تنگ کرنے کی کوشش کی اس سے دوستی کرنے کی کوشش کی مگر وہ اتنی مضبوط کردار کی تھی کے کسی شہزادے کے آگے بھی نہ جھکی۔۔۔۔
اکثر وہ جب اپنے پیشنٹ کے لئے کچھ انجیکشنز یا ٹیبیلٹس کا پوچھنے آتی تب یہیں اس جگہ کھڑی ہوکر پوچھتی تھی۔۔۔۔۔ اتنی باتیں ہیں جو تمہیں چاہ کر بھی سمجھا نہیں سکتی کچھ تمہاری سمجھ میں ابھی آئیں گی نہیں۔۔۔۔۔۔
مومنہ غور سے عائشہ کی باتیں سن رہ تھی وہ کسی سوچ میں غرق کہیں اور ہی پہنچی ہوئی تھی شاید وہ اسی ” مومنہ ” کے خیال میں تھی۔۔۔۔اور اسی جگہ کو تک رہی تھی جہاں وہ آکر کھڑی ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔
” عائشہ ” ۔۔۔۔ مومنہ نے اسکا بازو ہلایا عائشہ چونک اٹھی۔۔۔
” مومنہ کہاں ہے اب؟؟؟ “
مومنہ کے سوال پر عائشہ کی آنکھیں ایک لمحے کو پھیلیں پھر اسنے یکدم اپنی آنکھیں بند کرلیں۔۔
” مرگئی ” عائشہ کے بازو پر مومنہ کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی منہ کھولے وہ اسے تک رہی تھی جیسے عائشہ کے اگلے لفظوں کا انتظار کر رہی وہ یقیناً اس سے مذاق کر رہی ہوگی۔۔۔ مگر کتنی ہی دیر گزر گئی عائشہ خاموش رہی۔۔۔۔۔
” ک۔۔۔۔۔۔۔۔ ک۔۔۔۔ کی۔۔۔۔کیسے؟؟ ” وہ ہکلائی آنکھیں نجانے کیوں ہلکی سی نم ہونے لگیں۔۔۔۔۔۔
” خود کشی کرلی ” مومنہ کا سانس حلق میں اٹک گیا۔۔۔
” کیوں؟؟؟ ” مومنہ جھکی عائشہ کے گھٹنوں پر دونوں ہاتھ رکھے وہ بےتابی سے بولی۔۔۔۔
” زاکون حیدر کی وجہ سے “
” نکاح سے ایک رات پہلے وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا۔۔ ” یہ الفاظ کسی شاک سے کم نہ تھے مومنہ کو یکدم سے اس شخص سے نفرت سی محسوس ہوئی دل سے بددعائیں نکلنے لگی۔۔۔ بےاختیار اسکے منہ سے نکلا۔۔۔
” قاتل ” عائشہ نے نظریں پھیر کر اسے دیکھا اور گہرا سانس لیتی پیچھے ہوئی جس سے اسکے گھٹنوں پر مومنہ کے رکھے ہاتھ وہیں ٹھر گئے۔۔۔۔
” پتا نہیں کیا سچ ہے کیا جھوٹ!!! مگر مومنہ کی جس دن ڈیتھ ہوئی تب سے ایک ڈاکٹر غائب ہیں زاکون حیدر کو لگتا ہے وہی قاتل ہے جبکے وہ بہت اچھے ڈاکٹر تھے۔۔۔ اور سننے میں آیا ہے مومنہ ان سے اکثر باتیں کرتی تھی۔۔۔ پتا نہیں شاید افئیر۔۔۔۔۔۔۔۔ ” عائشہ کہتے کہتے رک گئی مومنہ غور سے سنتے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
” مومنہ مجھے کچھ نہیں معلوم کسی مرحوم پر الزام لگانا۔۔۔ استغفار لوگ بہت باتیں کرتے ہیں ذھن بھی خراب کرتے ہیں یہ تک تھا کے اسے زاکون سے شادی نہیں کرنی تھی تبھی اس نے۔۔۔۔ ” عائشہ نے سختی سے آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لیا اور ہونٹوں پر زبان پھیرتے بولی۔۔
” بس مومنہ میں سوچتی ہوں تو سر دُکھنے لگتا ہے!!! یہ پہیلی اسکی موت کے ساتھ ہی دفن ہوگی یہ ڈرامہ نہیں حقیقت ہے جو کسی بھی انسان کو پوری معلوم نہیں ہوتی۔۔۔۔ ” مومنہ نے اثبات میں سر ہلایا تبھی ایک پورٹر انڈینٹ لینے آیا تو عائشہ اٹھ کر اسے ڈسپینس کرانے لگی مگر مومنہ گہری سوچ میں ڈوب گئی۔۔۔۔
۔………………..
” شازی بھائی امی رو رہی ہیں ” آبی ہانپتا ہوا اس تک آیا شاز کو خبر دیتے ہی جھک کر گھٹنوں پر دونوں ہاتھ رکھے وہ گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔۔۔۔۔۔
” کوئی نئی خبر سناؤ ” وہ جو جھولے پر لیٹا کچھ سوچ رہا تھا اسکی بات سن کر بیزار ہوا۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو روز کا معمول تھا
” آریز بھائی کی وجہ سے ” اور وہ جو لیٹا تھا لفظ ” آریز ” سن کر جھٹکے سے اٹھ بیٹھا آبی کا تیر سہی نشانے پر جا لگا تھا۔۔۔۔
” اس کمینے نے امی سے بدتمیزی کی؟؟؟ ” وہ بھڑک اٹھا۔۔آبی گڑبڑا کر سیدھا ہوا۔۔۔۔۔
” نہیں۔۔۔وہ۔۔۔ آپ کے جانے کے بعد آریز بھائی اور مما باتیں کر رہے تھے تبھی ابو آگے اور سب سن کر امی کو خوب ڈانٹا۔۔۔ ” اسکے انداز دیکھ کر تھوک نگلتے اسنے سارا قصہ سنایا۔۔۔۔
” امی بہت غصّے میں تھیں؟؟ ” سارے واقع سے انجان بنتا اسے بس اپنی ماں کی فکر تھی جنکا چھوٹی چھوٹی بات پر بی پی ہائی ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔
” ہاں ایسا ویسا انکا بس چلتا آپ کا قیمہ بنا کر محلے میں بانٹتیں ” دانت پیس کر اس نے ایک ہاتھ سیدھا کیا اور دوسرے پاتھ پر چاقو کی طرح مارا گویا تصور میں اپنی بھڑاس شاذ کے ٹکرے کر کے اتار رہا ہو۔۔۔۔۔
” میں تھوڑی کہہ رہا ہوں امی نے کہا جو ابو نے سن لیا ” شاذ کی سرد نگاہیں خود پر مرکوز دیکھ اسنے تھوک نگلتے اپنا (کات)ہاتھ نیچے کیا۔۔۔
” کیا کہا تھا ” وہ اسکے انداز پر بھڑک کر سختی سے بولا
” ی۔۔۔۔۔۔۔۔ی۔۔۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اسکی سرد نظروں سے وہ ابھی تک گھبرایا ہوا تھا۔۔۔۔۔
” بول بھی چکو اب۔۔۔۔۔” جھنجھلا کر کہتے وہ کچھ نرم ہوا۔۔
” ی۔۔۔۔۔۔۔یہہی کے آپ جیسی نافرمان اولاد کسی دشمن کی بھی نہ ہو اور آریز بھائی۔۔۔۔ ” آریز نام پر اسکی خون خوار نظروں کو خود پر دیکھ آبی کی سٹی گل ہوگی۔۔۔
” آگے بکو ” وہ پھر بھڑکا۔۔۔۔
” ان جیسا صابر فرمانبردار ہمارے خاندان میں دور دور تک کہیں پیدا نہیں ہوا آپ قتل کردیں تب بھی آریز بھائی معاف کردیں گئے ” وہ گویا مشین کی طرح ایک ہی سانس میں بولتا جملہ مکمل کر کے چُپ ہوگیا (آدھی آگ اسکی خود کی لگائی ہوئی تھی)۔۔۔۔۔۔۔۔ شاز جو سرخ چہرے سے اسے سن رہا تھا جیب سے فون نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگا۔۔۔
اپنی گاردگی کا رزلٹ دیکھ کر آبی کا دل ناچنے کو چاہا۔۔۔
” شاذی بھائی ” اسے واپس موبائل میں مصروف ہوتا دیکھ کر کچھ دیر بعد آبی نے ڈرتے ڈرتے اسے پکارا۔۔۔۔۔۔
” کیا ہے ؟؟؟ ” بےزار سا انداز تھا
” وہ ابو نے آپ کی نافرمانیوں کے قصے سن کر میرا فون لےلیا اور المیر بھائی کو دے دیا۔۔۔ مجھے وہ فون ” آخر میں لہجہ التجا کرتا تھا وہ معصوموں کی طرح ہاتھ باندھے نظریں جھکائے کھڑا تھا۔۔شاید وہ اس شکل پر ہی رحم کھا لے؟؟؟؟
” موٹے پڑھائی میں ذرا سا بھی دھیان ہے کیا ؟؟ سارا دن ٹک ٹاک پر مجرے کرتا ہے ” شاذ نے اٹھ کر اسکے سر پر اک تھپڑ جڑا۔۔۔۔۔۔
” بھائی ڈکشنری میں سے معنی نکالنے میں بہت ٹائم لگتا ہے گوگل پر ایک سیکنڈ میں دیکھتا ہوں ٹائم بھی بچ جاتا ” وہ اپنا سر مسلتا تیز لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔
” بارا گھنٹے نیٹ پر آوارہ گردی کرتے ہو اسکا افسوس نہیں دو منٹ محنت کرنے پر افسوس ہے ” وہ بھڑک اٹھا پھر یکایک ایک سوچ سے اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی یعنی ایک تیر سے دو نشانے؟؟؟ اور مدد صرف آبی ہی کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
” چلو ٹھیک ہے تمہارا فون لانا میرا کام ہے۔۔۔ اسکے بدلے تمہیں آریز کے روم میں ایک ٹیبلٹ کی شیشی رکھنی ہے مگر دن کے ٹائم جب چچی اسکے روم کی صفائی کرواتی ہیں “
” ڈن بھائی ” وہ تو خوشی سے جھومتا اسے گلے لگ گیا۔۔۔۔
” پرے ہٹ موٹے نہایا کر بھینس سے زیادہ تجھ سے بدبو ہے ” ہاتھ سے اسے خود سے دور جھٹکتے وہ فون لیکر اٹھ کھڑا ہوا آبی گرتے گرتے بچا۔۔۔۔
” بھائی بےعزتی کے لائک ہی ہیں ” منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا وہ بھی اسکی ہمراہی میں لاونج میں چلا آیا۔۔۔۔۔
۔…………………….
جاری ہے۔۔۔
