Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 01
Rate this Novel
Episode 01
پاپا کس سے پوچھ کر آپ نے میرا رشتہ تحہ کیا؟؟؟ آخر میری زندگی کا فیصلہ لینے والے آپ ہوتے کون ہیں؟؟ ” پورے حال میں ذاکوان حیدر کی دھاڑتی آواز گونجھ رہی تھی ہر شخص آج اسکے ” اس نئے چہرے ” سے حیران تھا۔۔۔۔
باپ کی ہاں میں ہاں ملانے والا۔۔۔۔
گھر بھر کا فرمانبدار بیٹا آج اپنے ہی باپ سے اس قدر اونچی آواز میں بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔ سب حیرت زدہ تھے۔۔۔
” بیٹ۔۔۔۔ بیٹا ہمیں لگا تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا تم ہمیشہ کہتے ہو جو ہمارا فیصلہ ہوگا وہی تمہارا ” حیدر مرتضی کی کمزور آواز بامشکل حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔۔
” آپ کوئی کھیلونا نہیں خرید رہے پاپا۔۔ ” وہ غصّے سے چیخا۔۔
” عمر بھر کے لئے اپنا بوجھ میرے سر پر مار رہے ہیں۔۔۔۔ اور امید رکھ رہے ہیں زندگی بھر میں اس سے زخم کھاتا رہوں ۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا ہم نے ٹھیکا لے رکھا ہے؟؟؟ بچپن سے ہمارے سروں پر مسلط ہیں اب تو جان چھوڑ دیں۔۔۔۔ ” وہ جو غصّے سے پاگل ہو رہا تھا نجمہ چچی کو دیکھ کر مزید سرتاپا سلگ گیا۔۔ نجمہ کو یہاں کھڑا رہنا مشکل لگا اگر وہ یہاں رُکتیں تو ضرور دماغ کی کوئی نس پھٹ جاتی اتنی بےعزتی؟؟؟ اتنی زلت؟؟؟ اتنی رسوائی؟؟؟
شوہر نہیں تو کیسے وہ آج سرے عام بےعزت ہو رہی ہیں۔۔
ان سے چھوٹا انہی کے ہاتھ کا پلا ان پر کیسے نفرت کے تیر برسا رہا ہے۔
کئی آنسوں خاموشی سے انکی آنکھوں سے بہہ نکلے۔۔۔
انکا جرم تھا وہ بیوہ تھیں۔۔۔
اور سب سے بڑا جرم تھا بیٹیوں کی ماں تھیں۔۔۔
” بکواس بند کرو!!! تم نہیں پالتے جو بھونک رہے ہو۔۔۔زبان نہ کھینچ لوں تمہاری وہ میرے سگے بھائی کی اولادیں ہیں!!! تم ہمارے ہی ٹکروں پر پلنے والے ہم سے زبان لڑا رہے ہو؟؟؟۔۔۔۔ ” صدیق صاحب جو اسکے بڑے تایا تھے درشتی سے بولے انکے صبر کا پیمانا لبریز ہوگیا۔۔۔ آنکھیں شولے اگل رہیں تھیں بس نہ چلتا سب کے سامنے جھوتا نکال کر اسکی خال ادر دیں۔۔۔۔۔
” نہیں ٹکروں پر ہم نہیں وہ پل رہے ہیں!! اور اب تو مر کے بھی یہ شادی نہیں کرونگا۔۔ کوئی یتیم نہیں میں کے کسی عیرے گیرے سے باندھ دیں مجھے ” وہ اپنے لفظوں کی کاٹ سے انجان بس اپنا غصّہ اتار رہا تھا اس بات سے بے خبر کے وہ وجود جس کے لئے وہ زہر اگل رہا ہے دور کھڑی اسکی ہر بات سن رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تایا کچھ کہنے لگے تھے مگر مرتضیٰ حیدر کے کمزور ہاتھوں نے انھیں روک دیا۔۔ جوانی کے جوش سے سب واقف تھے انکے کہے الفاظ اسے مزید طیش دلا سکتے ہیں اور اس تیش میں وہ کچھ غلط کر جاتا تو؟؟؟ تایا چاہ کر بھی کچھ نہ کہ سگے سب وہاں خاموشی سے اس خود غرض شخص کی خود غرضی کی انتہا دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
وہ پاس پڑی ٹیبل کو ٹھوکر مارتا ایک نفرت بھری نگاہ سے سب کو نوازتا باہر جانے کے لیے مڑا کے تبھی اسے دروازے کے اوٹ سے ایک خوبصورت مہندی سے سجا ہاتھ نظر آیا سرخ و سفید گجروں سے سجی وہ کلائی بےحد حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
یہ آنکھیں وہیں ٹھر گئیں اس حسین منظر نے زاکون حیدر کے پاؤں جکڑ لیے۔۔۔۔۔۔۔
مہندی سے سجے ہاتھ سے اسکی نظر ان پتلی خوبصورت انگلیوں پر گئی جس کے ناخن پر سرخ نیل پینٹ لگا تھا جس نے ان ہاتھوں کو مزید نکھار دیا تھا۔۔۔۔۔
ہاتھوں سے ہوتی اسکی نظر کاجل سے سجی ان آنسوں بھری آنکھوں پر گئیں جو رونے کے بائث سرخ ہو رہیں تھیں۔۔۔ بےشک وہ اسکی ہر بات سن چکی تھی۔۔۔۔۔ مایوں کے جوڑے میں ملبوس وہ سیدھا اس دل پر قہر ڈھارہی تھی پنک شرارہ اورنج شرٹ میں وہ حسن کی دیوی بالوں میں پھول سجائے ہوئے اسکا امتحان لے رہی تھی۔۔۔۔
ذاکوان حیدر نے گہری نظروں سے اسکے سراپے کو دیکھا مگر وہ جی بھر کر دیکھتا اس سے پہلے ہی وہ پلٹ کر وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔
” زکی بھائی آپ آپی سے شادی نہیں کریں گئے؟؟؟ “
نارنگی شرارے میں ملبوس مایل جو محض سولا سال کی تھی زاکون حیدر کے راستے میں حائل ہوئی وہ جو مومنہ کے جانے کے بعد گھر سے نکلنے لگا تھا مایل کی بات پر جھبڑے بھینچے۔۔۔۔
” نہیں!!!!! ” سرد مہری سے کہ کر وہ تن فن کرتا گھر سے ہی نکل گیا۔۔مایل کی آنکھوں سے ڈھیروں آنسوں بہ نکلے۔۔۔۔ہر شخص حیران تھا پل بھر میں منظر بدل گیا تھا۔۔۔
تایا تائی بڑے چچا چاچی سب ایک دوسرے سے نظریں چُرا رہے تھے۔۔۔۔ یکدم ایک آواز سے سب چونک اٹھے سب سے پہلے اس طرف بھاگنے والا المیر تھا جو ابھی حال میں داخل ہوا تھا نجمہ چچی کے گڑتے وجود کو دیکھ سب کی دھڑکنیں رُک سی گئیں تھیں المیر اور ضامن انکے وجود کو اٹھائے انہیں ہسپتال لے آئے۔۔۔۔۔۔۔
” ابھے تو اپنی شادی چھوڑ کر یہاں آیا ہے؟؟؟ اور اتنا سب سنانے کی ضرورت کیا تھی؟؟؟ ” وہ جب سے آیا تھا تب سے سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا عاصم کو بھی اسنے یک سردی میں بلینکٹ سے باہر نکال کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا جو گہری نیند سو رہا تھا مگر اب سرخ آنکھوں سے نیند میں جھولتے اس شخص کے تشن دیکھ رہا تھا جو آگ لگانے کے بعد بےپرواہی سے سیگریٹ کے گہرے کش لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” مجھے خوف صرف ایک چیز سے آتا ہے “
چکر کاٹتے کاٹتے اب وہ تھک کر بیڈ پر ڈھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” ابھے کیا بک رہا ہے میں تجھ سے پوچھ کیا رہا ہوں “
وہ اسکے سامنے کھڑا چلا ہی اٹھا اس پر ایک تو اسکی نیند خراب کی اوپر سے اپنا سوگ؟؟؟
” میرا غصّہ!!!! میرا سب سے بڑا دشمن ہے۔۔ جو کہا ہے وہ صرف ایکشن کا ریکشن تھا۔۔۔۔ ” زاکون اسکی پروا کیے بغیر چھت کو دیکر قرب سے بولا اسکا دل ہی جانتا تھا آج وہ کتنی بڑی غلطی کر آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
” غصّہ تھا مگر ابا پے وہ کیسے آخر کیسے میری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ مجھ سے بغیر پوچھے کر سکتے ہیں؟؟؟ ” قرب سے کہتے وہ جھنجلا کر بیڈ سے اٹھا۔۔۔۔۔ عاصم خاموش ہوگیا اور ہاتھ باندھ کر اسے سنے لگا۔۔۔۔۔
” شادی مذاق نہیں ہے عاصم!! زندگی بھر کی آبادی اور بربادی کا فیصلہ ہے یہ تو مومنہ تھی اگر کوئی اور ہوتی تو؟؟؟ تم خود بتاؤ آخر سمجھ کیا رکھا ہے مجھے؟؟؟؟ میں کیا کوئی گلی کا کتا ہوں جس سے پوچھنا تک گوارا نہیں کیا۔۔۔۔ ” وہ اب اٹھ کر دانت پیستے واپس کمرے کی چکر کاٹنے لگا۔۔۔ عاصم جانتا تھا اس وقت اس شخص کا غصّہ عروج پر تھا۔۔۔
ورنہ اسے مومنہ کبھی ناپسند نہیں تھی وہ تو اسے بےحد عزیز تھی مایل اور مومنہ تو گھر بھر کی جان تھیں چچا کی وفات بعد کسی نے بھی انہیں محسوس نہیں ہونے دیا وہ دونوں یتیم ہیں۔۔ اور مومنہ وہ تو شروع سے اسے بہت پسند تھی اسے محبت تھی اسکی سوچ سے اسکی تربیت، اسکے اخلاق، اسکی پرورش سے۔۔ اسے پوری کی پوری مومنہ سے محبت تھی جو اسکے عزیز چچا کا عکس تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے چچا کی طرح وہ بھی اللّه کی ہر مخلوق سے محبت کرتی تھی نرم صاف دل کی مالک تھی تبھی مومنہ نے ماں سے لڑجھگڑ کر نرسنگ پروفیشن جوائن کیا تھا۔ لوگوں کے لئے نرسنگ پروفیشن کسی اچھی کیٹیگری میں نہیں انکے مطابق یہ گندا پروفیشن ہے بلکے ایک آیا جیسا پروفیشن ہے مگر اسکی اصلی قیمت وہی جانتے ہیں جو اس شعبے سے تعلق رکھتے تھے۔۔۔۔۔۔
تبھی آج وہ اسے دیکھ کر دنگ رہ گیا وہ جو ہر وقت سادا سی اپنے اسکرب میں ملبوس رہتی تھی آج اسکے سامنے قیامت بن کر کھڑی تھی۔۔ اسکے لئے سجی تھی وہ۔۔ اسکا انگ انگ صرف زاکون حیدر کے لئے تھا اسکے نام کی مہندی وہ اپنے ہاتھوں میں سجائے اسے ہی بھیگی آنکھوں سے تک رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آنکھیں ہی تو ہیں جو زبان کی چُپی ہرا کر ہر اقرار کرتی ہیں۔۔۔ مومنہ ملک کی آنکھوں میں بھی زاکون حیدر کا جہاں آباد تھا جسے آج وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا مگر غصّہ ابھی بھی وہیں تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنے باپ کا غصّہ بھی اسی پر اتاڑ آیا تھا رہ رہ کر اسے ہر شخص سے شدت سے نفرت محسوس ہو رہی تھی آخر ان سب نے اسے سمجھا کیا ہے؟؟؟؟
کون ہوتے ہیں وہ اسکی زندگی سے کھیلنے والے؟؟؟
آگر اسے مومنہ پسند بھی ہے تو کیا وہ اتنا غیر اہم ہے کے اسے معلوم تک نہیں اسکی شادی کس سے ہو رہی ہے۔۔۔ اسکے ماں باپ نے بتانا تک فرض نہ سمجھا۔۔۔۔
” زکی یار ذرا سوچ پہلے تو تو رہا ماں باپ کا فرمانبردار بیٹا۔۔۔ “
بکواس بند کر ” وہ دھار اٹھا لفظ ” فرمانبردار ” سن کر۔۔ ہر کوئی جانتا تھا وہ ماں باپ کی ہاں میں ہاں ملانے والا ہے گھر میں تو سب اسے ماں باپ کا چمچا بھی کہتے تھے اور وہ مانتا بھی کیوں نا؟؟ اسکے باپ کے فیصلے ہی تو تھے کے آج وہ یہاں ہے ایک کامیاب انسان کے روپ میں۔۔۔۔۔
” ابھے بولنے تو دے “
عاصم نے بیچارگی سے منت کی وہ گہرا سانس لیکر رہ گیا۔۔۔۔۔۔
” ہان تو دوسرا یہ وہ تجھے کسی گائے بیل بکری سے نہیں باندھ رہے وہ جس لڑکی سے تیری شادی کر رہے ہیں یہ تو سوچ وہ ہے ہی ایسی کے تیری ہاں میں ہاں ملائیگی اپنے دنیا چھوڑ کر تیری خوشی کے لئے تیری دنیا جیئے گی تیرے کہنے سے اٹھے گی سوئے گی تو خود ہی تو بتاتا تھا تیری وہ کزن سانس بھی دوسروں کے لئے لیتی ہے وہ جو ہر کسی کا احساس کرتی ہے اپنی زندگی میں شامل ہوے اس ” خاص ” شخص کو تو سر آنکھوں پر بیٹھائے گی۔۔۔۔۔
زاکون حیدر غور سے اسکی باتیں سن رہا تھا غصّہ تو کسی جاگ کی طرح آہستہ آہستہ بیٹھ رہا تھا۔۔۔
اور سامنے کھڑا شخص اس فن میں ماہر تھا وہ اسکے کہے گئے الفاظ اسے ہی لوٹا رہا تھا۔۔۔ یہ سچ تھا سچ ہے
” مومنہ ملک ” اسے بہت عزیز تھی۔۔۔۔۔۔
” اور پتا ہے ایک بات کہوں جتنی محبت تو اپنے چچا سے کرتا تھا یقین جان اگر تیرے ابا تیری اس کزن کا کہیں اور رشتہ کرتے سب سے زیادہ تو بھڑکتا ہو سکتا تھا شادی رکوا کر گن پائنٹ پر خود ہی نکاح کر لیتا۔۔۔۔۔ ” ناچاہتے ہوے بھی مسکراہٹ خود با خود اسکے ہونٹوں پر رینگی۔۔۔۔۔۔
” پتا نہیں کبھی سوچا ہی نہیں پر آج سوچ کر اچھا لگ رہا۔۔۔۔۔ ” دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اسنے سر اوپر کر کے چھت کی طرف دیکھا جیسے وہ آسمان میں اسے ڈھونڈ رہا تھا جس نے دنیا میں جوڑیاں بنائیں تھیں۔۔۔۔۔۔ کبھی اسنے سوچا کیوں نہیں “مومنہ ” بھی تو اسکی ہمسفر بن سکتی ہے اور دیکھو ماں باپ کو۔۔۔۔۔ کیسے انکی نظریں ہیرے کو آسانی سے تراش لیتی ہیں۔۔۔۔۔۔
” تو اب کیا سوچا ہے؟؟؟ کلائمکس تو شوٹ کر آئے ہو آئیڈینس نے دیکھ بھی لیا۔۔۔ ” عاصم نے اسے مسکراتے دیکھ طنز کیا کیوں کے وہ وہاں آگ سے زیادہ پیٹرول چھڑک آیا تھا جس سے تباہی خطرناک ہونے والی تھی۔۔۔۔
” نہیں انٹرول تھا کلائمکس ابھی باقی ہے۔۔۔۔۔ ” ایک غرور تھا اسکے لہجے میں وہ جانتا تھا اب بھی سب اسی کی ہاتھ میں ہے۔۔۔۔
” صبح تو ہو ہی گئی ہے چل ناشتے کا انتظام کر میں نہا کر پھر نکلتا ہوں۔۔۔۔ ” وہ کہکر خود ہی عاصم کی الماری سے آرام دہ سیاہ رنگ کا شلوار سوٹ لیکر نہانے چلا گیا جبکے عاصم اسے گالیاں بکتا ماں سے ناشتے کا کہنے چلا گیا۔۔۔۔۔
جب وہ گھر کے لئے کار لیکر نکلا تو صبح کے دس بج رہے تھے عاصم سے اس نے کہ تو دیا تھا مگر اسکا دل جانتا تھا وہ کتنا ڈرا ہوا ہے ایک گیم آج اس نے کھیلا تھا ڈر تھا اگلا گیم اسکا باپ اسکے خلاف نہ کھیلے۔۔ یہی سوچتے سوچتے وہ گیٹ کے پاس آن پہنچا گارڈ نے گیٹ کھولا تو وہ اندر چلا آیا اور راستوں سے گزر کر اپنے بنگلے کی طرف آیا مگر یہ کیا؟؟؟ وہاں ایمبولینس دیکھ کر اسکے ہوش اڑ گئے لوگوں کا ایک ہجوم تھا کچھ گاڑیاں باہر کھڑی تھیں۔۔ زاکون حیدر کو یکدم ایک خوف نے جھکڑ لیا وہاں وہ کانپتی ٹانگوں سے باہر نکلا اسے ہوش نہ تھا ورنہ کار ضرور لاک کرتا وہ بس ہجوم کو چیڑتا اندر چلا آیا بڑے سے حال میں سب لوگ بیٹھے تسبیاں پڑھ رہے تھے زاکون حیدر کا سانس زندگی میں پہلی بار رکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
چچا کے بعد آج ایک بار پھر کسی اپنے کی موت اسکی روح فنا کر رہی تھی۔۔۔ اسکی ٹانگیں بری طرح کانپ رہیں تھیں قدم بڑھانا دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا مگر وہ سانس روکے دل تھامے قدم بڑھاتا گیا ہر قدم اسے اس انسان سے دور لے جا رہا تھا راستہ تھا کے بڑھتا چلا جا رہا اس نے گردن پھیر کر ارد گرد بیٹھے ان لوگوں کو دیکھا سب اسکے اپنے تھے چچا چچی تایا تائی اسکے بھائی اسکی کزنس سب اس وجود پر جھکے کانپتے ہاتھوں سے کچھ پڑھ ررہے تھی اسکی چچیاں تائی ہاتھ میں سپارہ لیے اس وجود پر پھونک رہیں تھیں آخر وہ کون تھا؟؟؟ وہاں سے تین وجود غائب تھے ان آنکھوں سے ڈھوڈنا چاہا پر نا مایل ملی نہ زلیخا چچی نہ مومنہ کہیں چچی تو نہیں؟؟؟ اےے میرے خدا مجھے چھوٹے سے جرم کی اتنی بڑی سزا نہ دے اسکا دل لرزز اٹھا مگر۔۔۔۔۔۔۔
زاکون حیدر کی زندگی وہیں تھم گئی ہر شے اپنے جگہ ساکت ہوگئی خاموشی سے جان اس جسم سے نکلی۔۔
کیوں کے زمین پر وہ لیٹا وجود کوئی اور نہیں بلکے ” مومنہ ملک ” تھی اسکی مومنہ۔۔۔۔۔۔
وہ گڑنے کے انداز میں زمین پر بیٹھا اسکی ہڈیوں کی آواز زور سے آس پاس بیٹھے لوگوں نے سنی مگر کسی کو فرق نہ پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکے زاکون حیدر خاموشی سے اس چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کوئی ہوش ہی نہ تھا ارد گرد کیا ہو رہا ہے؟؟؟
دل میں کوئی احساس نہ تھا۔۔۔۔
کوئی تکلیف نہ تھی۔۔۔۔
کچھ تھا ہی نہیں مگر آنسو؟؟ وہ کیوں بہ رہے تھے؟؟؟ پر وہ جانتا کب تھا؟؟ وہ تو بےخبر بس مومنہ کو دیکھے جا رہا تھا جو اسکی نیند اڑا کر خود میٹھی نیند سو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ مومنہ تھی تبھی سب چاہنے والے اسکے گرد جھکے اسکی مغفرت کی دعائیں کر رہے تھے اس پر پڑھ کے پھونک رہے تھے تاکے وہ جان قبر کے عذاب سے محفوظ رہے۔۔۔۔۔
وہاں سب لوگ ایک دوسرے سے بےخبر بلک رہے تھے یہ احساس جان لیوا تھا کے آج کے بعد وہ کبھی اسے دیکھ نہیں پائیں گئے۔۔۔۔۔
” دفنانے کا وقت ہوگیا ہے مزید نہیں رُک سکتے “
نجانے کتنا وقت بیت گیا پتا ہی نہ چلا سب جو اسکی موت کو فراموش کیے بت بنے بس زکر میں مصروف تھے اس سدا پر کانپ اٹھے ہر بار یہ تکلیف نئے سرے سے اٹھتی ہے کے وہ نہیں رہی۔۔۔۔
وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی۔۔۔۔
کبھی اسے دیکھ نہیں پائیں گئے۔۔۔
اور شاید آہستہ آہستہ اس چہرے کو بھی بھول جائیں گئے۔۔۔ اور مومنہ ملک صرف ایک حسین یاد بن جائے گی آج اسکی زندگی کے پنے ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں گئے۔۔۔۔
جیسے ہی مرد اس کے وجود کو اٹھانے کے لئے آگے بڑھے چچی تائی دیوانہ وار اسے چومنے لگیں پاس بیٹھی عورتیں ان تینوں کو اس سے دور کر رہیں تھیں مگر وہ روتی ہوئیں اس کے چہرے کو خود سے لگا رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
وہ معصوم بچی آخری بار ماں کا لمس تک نہ پا سگی۔۔
ماں ہونش میں ہی کہاں تھیں؟؟؟ زندگی بھر کے لئے بیٹی کے لمس سے محروم ھوگئیں ایک آخری جھلک تک انھیں نصیب نہ ہوئی۔۔۔۔۔بہن کو تو شاید علم تک نہ تھا باپ کے بعد ایک اور قیامت ان پر آگزری تھی۔۔۔
اور پہلی بار زاکون حیدر کی نگاہیں اس چہرے پر پڑیں۔۔۔
اسکی آنکھیں بند تھیں۔۔۔۔۔۔
ناک اور ہونٹوں کو روئی سے بند کیا تھا۔۔۔
چہرہ بےرونک سا تھا۔۔۔
پہلی بار اسے شاید مومنہ ملک سے خوف محسوس ہوا تھا یا موت کا منظر قریب سے دیکھ کر روح تک لرز اٹھی تھی۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی مومنہ کو اٹھایا گیا زاکون حیدر کی بلند چیخیں گھر میں گونجی۔۔۔
ہر کسی نے اسکی چیخیں سنی تھیں دو تین لوگ بھاگتے ہوئے اسکے پاس آئے تھے وہ کانوں پر ہاتھ رکھے پاگلوں کی طرح چیخ رہا تھا کوئی کہ رہا تھا مومنہ کی ماں کو بلاؤ کوئی مایل کو آوازیں دے رہا تھا لیکن دونوں نجانے کہاں تھیں؟؟؟؟ اور لوگ میت کو اٹھاۓ ہمیشہ کے لئے اس گھر سے دور قبرستان کی طرف لے جا رہے تھے ایسا روح فساں منظر تھا تھا کے ہر آنکھ اشک بہا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ چلی گئی۔۔۔۔۔
سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر وہ اس گھر سے چلی گئی۔۔۔
جیسے ہی میت نے سکندر ولا پار کیا زاکون حیدر بھاگتا ہوا اس کے پیچھے گیا اسے ہوش نہ تھا وہ بس میت کے پیچھے بےمقصد بھاگ رہا تھا اس بات سے انجان ایک کار اسکے بےحد قریب تر آرہی تھی جو اسے ٹھوکر مار اسکے زخمی وجود کو روڈ پر بلکتا چھوڑ اپنی منزل کی طرف رواں ہوگئی۔۔۔۔۔
۔………….
آٹھ سال بعد۔۔۔۔۔
” المیر بھائی میں سچ کہ رہی ہوں میرے دل کی دھڑکن خود با خود تیز ہوتی ہے اور لیفٹ سائیڈ پر عجیب سا لگتا ہے ایسا لگتا ہے کرنٹ گزر رہا ہے ” المیر اپنی فائل پر جھکا بےدہانی سے اسکی ہر بات سن رہا تھا۔۔۔۔۔
ساتھ بیٹھا آریز جو موبائل یوز کر رہا تھا اپنی مسکراہٹ چھپانے کو اسنے دوسرا ہاتھ ٹھوڑی پر رکھا۔۔۔ باقی خواتین اس وقت کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہیں تھیں۔۔۔۔
” میں یہاں مر رہی ہوں آپ کو فائل کی پڑی ہے ؟؟؟ ” المیر کو اپنی طرف متوجہ نہ پاکر وہ غصّے سے چیخی۔۔ کل پوری رات اسی حالت کی وجہ سے تو وہ سو نہیں پائی تھی اور ہر کوئی ” ہوتا ہے ” کہ کر اسکی بات ٹال دیتا۔۔۔۔
” کیا فضول بولے جا رہی ہو؟؟؟ اللّه نہ کرے ایسا ہو آج ہی میں اپنے دوست سے پوچھ کر تمہارے سارے ٹیسٹ کرواتا ہوں ” المیر اسکی فضول گوئی پر سلگ ہی تو اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
جبکے آریز سوچ رہا تھا ” ہر سانس پر اسے لگتا ہے کوئی بیماری ہوئی ہے ” یوز وہ موبائل کر رہا تھا لیکن کان اسی طرف تھے۔۔۔۔
” نہیں میں نے سرچ کیا ہے آپ بس میرا ای سی جی کروائیں مجھے پکا یقین ہیں مجھے دل کی بیماری۔۔۔۔ ” ناچاہتے ہوئے بھی آنکھوں میں یکایک ڈھیروں آنسوؤں بھر آئے۔۔۔۔۔۔
” شٹ اپ مایل نوٹ آ سنگل ورڈ اٹھو فوراً ” غصیلے لہجے میں کہہ کر المیر نے فائل پٹکی اور جیب سے فون نکالا ساتھ آنکھ کے اشارے سے مایل کو چابیاں اٹھانے کا کہا آریز اس پورے عمل کے دوران انجان بنا رہا۔۔۔۔
مایل نے جھک کر چابی اٹھائی اسی دوران اس کی نظر آریز پر پڑی اور اس کی مسکراہٹ دیکھ کر مایل کو نئے سرے سے غصہ آیا جسے نہ چاہ کر بھی وہ پی گئی ورنہ المیر اس وقت غصے میں اس کو اس کو ڈانٹتا۔۔۔۔۔
” گاڑھی میں بیٹھو ” فون رکھتے ہی المیر نے اس کے ہاتھ سے گاڑھی کا ریموٹ لے کر کار آن کی اور اسے بیٹھنے کا کہہ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔۔
” ہم کہاں جا رہے ہیں؟؟؟؟ “
” تمہاری کنڈیشن ایک دوست سے ڈسکس کی ہے۔۔ اس کا کہنا ہے ٹی ایس ایچ اور بلڈ ٹیسٹ کرواؤ۔۔۔۔ ” گاڑھی کو ریورس کرتے المیر نے جواب دیا وہ خوش تھی اسے لگا تھا وہ ساری زندگی اپنی بیماری کو ڈھونڈتی رہے گی مگر شکر تھا اسے کچھ تو پتا چلا آخر اس کنڈینشن میں کونسے ٹیسٹ کرانے چاہیے؟؟؟
گاڑی اپنی منزل کو رواں تھی وہ کافی دیر خاموش بیٹھی رہی لیکن پھر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے المیر سے فون مانگا۔۔۔۔
” اپنا فون دیں “
دایاں ہاتھ آگے کو پھیلائے وہ ڈرائیو کرتے المیر کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
” جیب سے نکالو ” مایل نے بنا جھجھکے المیر کے کُرتے کی جیب سے فون نکالا اور پھر گوگل سے پوری تحقیقات کرنے کے دوران اسکی آنکھیں حیرت سے کھلتی یا پھیلتی گئیں۔۔۔۔۔۔
” المیر بھائی TSH ہی بڑھا ہوا یا کم ہے دیکھیں سارے سمٹنمز میچ ہوتے ہیں۔۔
دل کا تیز دھڑکنا۔۔۔
کونسٹیپیشن۔۔۔۔(کبز)
ٹھنڈ لگنا۔۔ میں جب ہاتھ دھوتی ہوں اتنی ٹھنڈ لگتی ہے سچی۔۔”
المیر نے افسوس سے اسے دیکھا وہ شاید بھول چکی تھی دسمبر سردیوں کا مہینہ ہے اچھے خاصے انسان اس موسم میں کلفی کی طرح جم جاتے ہیں۔۔۔۔
” دیکھیں کمزوری, جلدی تھکاوٹ ہوتی ہے۔۔۔۔
اسکن ڈرائے رہتی رہتی ہے۔۔۔
چہرہ سوجھ گیا ہے۔۔۔
ڈپریشن بھی ہے۔۔ اسی سوچ میں تو ڈپریشن جو پہلے سے ہے اور بڑھ جاتا ہے اللّه دیکھیں سب سیم ہے یہ سب مجھے ہوتا ہے ” المیر کے پاس اس کی ہر بات کا جواب تھا لیکن وہ اس وقت خاموش بیٹھا رہا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کی ہر بات کا مطلب وہ کچھ اور ہی نکالے گی یہی سوچتی رہے گی کوئی اسکی پروا نہیں کرتا۔۔۔۔۔
” چلو دیکھتے ہیں تمہارے وہم کا علاج یہ ٹیسٹ ہی ہے ” المیر کی بے فکری دیکھ کر مایل کو مایوسی ہوئی جو کندھے اچکا کر پرسکون سا ڈرائیو کر رہا تھا۔
کچھ ہی دیر میں گاڑھی بلڈ بینک کے آگے آرکی المیر نے کار پارک کرکے مایل کی طرف کا دروازہ کھولا۔۔۔۔
” آؤ تمہارے دماغ کا علاج کرواؤں ” وہ سنجیدگی سے بولا مایل کو اس کا طنز زور سے چُبا تھا اب حالت یہ تھی یہاں آکر بلڈ بینک کو دیکھ کر اسے احساس ہوا تھا انجیکشن کے تھرو بلیڈ نکلے گا۔۔۔ اب وہ آ تو گئی تھی مگر المیر کے سامنے وہ کیسے اب انجیکشن سے بلڈ نکلوائے؟؟؟؟
” آؤ کیا سوچ رہی ہو؟؟؟ ” اسے اُسی جگہ برجمان دیکھ کر ایک اور بار مخاطب کیا مایل گاڑھی سے اتر کر بےدلی سے اس کے پیچھے چل دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی نمبر چٹ لیکر وہ المیر کے ساتھ ویٹنگ ایریا میں بیٹھ گئی پھر جیسے ہی نمبر اناؤنس ہوا المیر اس کا ہاتھ پکڑ کے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔
” گھبراؤ نہیں میں ہوں نا کچھ نہیں ہوگا بس ڈرنا بند کرو ” وہ جو کب سے اس کی اڑی رنگت دیکھ رہا تھا اسے تسلی دے گیا۔۔۔۔
” مجھے انجکشن سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔ ” وہ اس کا بازو پکڑ کے سہمی سے آواز میں بولی المیر تو اس بات سے کب سے واقف تھا وہ شروع سے ہی جانتا تھا مایل کو انجکشن سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔۔
” وہ بڑی انجکشنز ہوتی ہیں اور موٹی بھی ان چھوٹی پتلی انجکشنز سے کچھ نہیں ہوتا کب گئیں نکلیں پتا نہیں لگے گا۔۔”اس کے نازک ہاتھ پر ہاتھ رکھے وہ اس کا خوف دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اگلے دس منٹ وہ اسی طرح سہمی سی ہر آتے جاتے کو دیکھ رہی تھی جو سامنے کاؤنٹر پر ایک آدمی سے بلڈ نکلوا کر باہر جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
تین چار کاؤنٹر بنے تھے ہر کاؤنٹر پر کوئی نہ کوئی آ کر بلڈ نکلوا رہا تھا۔۔۔
کاؤنٹر کے پاس پہنچتے ہی المیر نے خود اس کا بازو آگے کیا جہاں پٹی باند کر پریشر ڈالنا تھا المیر نے خود وہ پٹی ٹیکنیشن سے لے کر مایل کے بازو پر باندھ دی۔۔۔
اور سب کچھ المیر کے کہے مطابق ہی ہوا وہ اس کا ہاتھ نرمی سے تھامے ہوئے تھا وہ اسے تسلی دے رہا تھا اسے باتیں کر رہا تھا تاکہ اسے درد کا احساس نہ ہو اور ایسا ہی ہوا تھا کب سُئی آئی نکلی اسے پتا ہی نہ لگا۔۔۔۔۔۔
بلڈ ٹیسٹ کے بعد اب رپورٹس شام میں ملنی تھیں اسلئے وہ دونوں گھر آگے۔۔۔۔۔
” اب ٹینشن نہیں لینا رپورٹس کلئیر ہی آئیں گی ” ڈرائیونگ کے دوران وہ اس سے کہہ رہا تھا مایل اسے کیا بتاتی اب پہلے سے وہ پرسکون تھی کیونکہ پہلے اسے یہی لگا تھا کہ دل کی بیماری ہے پر شکر تھا ” مسلا ” کچھ اور ہی نکلا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” المیر تم خوامخواہ اسے لے گئے ارے کچھ نہیں ہے بس تھوڑا وزن کم کریگی ٹھیک ہوجاے گی ” مايل کی امی (نجمہ بیگم) نے مایل کو ایک سخت گھوری سے نوازہ جو المیر کے ساتھ ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
” چچی وہم کا کوئی علاج نہیں یہ ضروری تھا ” چچی کے ساتھ والے صوفہ پر آ بیٹھا جہاں وہ بیٹھی بھنڈی کاٹ کر اب اٹھنے لگیں تھیں۔۔۔۔
” خوامخواہ بچے کو خوار کروا دیا ” کلس کر کہتیں وہ کٹی ہوئی بھنڈیاں لیکر کچن میں چلی گئیں۔۔۔مایل نے افسوس سے اپنی ماں کو جاتے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” المیر بھائی کبھی کبھی شک ہوتا ہے میری سگی امی کہیں بچپن میں ایکسچینج تو نہیں ہوگئیں ؟؟؟؟؟ ” المیر جو ابھی جیب سے فون نکال کر کل کا شیڈول چیک کرنے لگا تھا مايل کا فقرہ سن کر بس اسے ایک گھوری سے نوازا۔۔۔۔
” کل یونیورسٹی جانا ہے جاکر تیاری کرو پھر صبح دیر کرتی ہو ” اسکا رعب دار لہجہ سن کر مايل منہ بناتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
المیر بھی اٹھ کر گارڈن ایریا میں آگیا تاکے بلال کو فون کر کے اس سے کل کا شیڈیول ڈسکس کرے۔۔۔۔۔۔۔
” امی جان آج کھانے میں کیا پکا ہے ؟؟؟ ” وہ جو ابھی تھکا ہارا یونی سے لوٹا تھا شوز کے تسمے کھولتے باآواز بلند اسنے ماں کو آواز دی۔۔
” گوشت کا سالن، بھنڈی، آلو گھوبی اور پلاؤ ” صالحہ بیگم وہیں سے ٹھنڈے پانی کا گلاس لیتی ہوئی آئیں۔۔۔۔۔۔
” امی یہ گوشت کھا کھا کر میرا ہاضمہ خراب ہوگیا ہے چکن کیوں نہیں بنتا اس گھر میں ؟؟؟ ” انکے ہاتھ سے پانی لکیر گٹا گھٹ وہ ایک ہی سانس میں پی گیا صالحہ بیغم نے افسوس سے اسے دیکھا یہ بچپن سے اسکی عادت تھی۔۔۔۔
” کل ہی تو پکا تھا اور آج آریز کا دل چاہ۔۔۔۔۔۔۔ ” جھک کر ٹیبل سے گلاس اٹھاتیں وہ کہتے کہتے رُک گئیں پر اب کیا ہوسکتا تھا زبان پسلی تھی اور بُرا ہو اسی وقت آریز سیڑیاں اترتا نیچے آیا۔ پر صالحہ بیغم اور شاذ کی نظر ابھی آریز پر نہیں پڑی تھی۔۔۔ جبکے آریز کے ہونٹوں پر کھوکلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔۔۔
” کمینا سالا،،،،، ایسے شیطانوں کی عمر نجانے کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے؟؟؟ اور شریف لوگ بیچارے راتوں رات فنا ہوجاتے ” نفرت بھرے لہجے میں کہ کر اسنے گلاس ٹیبل پر پٹکا۔۔۔۔
” تمہارے سامنے تو آریز کا نام لیتے ہوئے بھی سو بار سوچنا پڑتا ہے آخر اس کے ساتھ تمہارا مسلا کیا ہے؟؟ کیوں بچے کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہو؟؟ کچھ تو شرم کرو بڑا بھائی ہے تمہارا اتنا سناتے ہو اور بیچارہ آگے سے ایک لفظ نہیں کہتا۔۔۔ ” صالحہ بیغم کی آواز غم و غصّے سے نم ہوگئی۔ تین سال پہلے ہی آریز گریجویوٹ ہوا تھا جہاں گھر بھر میں خوشی کا سماں تھا وہیں ناجنے ان دونوں کے بیچ ایسا کیا ہوا تھا کے شاذ اس دن سے آریز کی جان کا دشمن بن بیٹھا تھا۔ اور یہ دشمنی کسی سے چھپی نہ تھی آریز کا دل دکھانے کا موقع وہ کسی محفل میں نہیں چھوڑتا تھا۔۔۔
ہر کوئی دونوں سے پوچھ پوچھ کر تھک چکا تھا مگر مجال ہے جو دونوں میں سے کسی نے زبان سے ایک لفظ بھی نکالا ہو۔۔۔۔۔
” یار امی۔۔۔۔ ” وہ لب پھینچ گیا ماں کی آواز میں گُلتی نمی نے نئے سرے سے اسکا خون خشک کردیا۔۔۔۔وہ مزید بولنے لگا تھا کے صالحہ نے بھناتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
” نہیں ہوں میں تمہاری ماں!!! بڑوں کی نا عزت کرتے ہو نہ احترام اور آریز سے کچھ سیکھو بڑے تو بڑے خود سے چھوٹوں کا بھی کتنا احترام کرتا ہے اور ایک میری نکمی اولاد ہے خود تو جہاں بھر میں بدنام ہے ماں کو بھی بدنام کر کے چھوڑیں گے!!!! ایک یہ ہے بد لحاظ اور ایک وہ ٹِیک ٹاکر دونوں نافرمان اولادیں میرے نصیب میں تھیں۔۔۔ ” نہ آنے والی آنسوں کو بھی پونچتے ہوے وہ غم زدہ ہوگئیں آریز قدم اٹھاتا انکی طرف چلا آیا وہ جو ماں کا لیکچر سن کر سر ہاتھوں میں دیے بیٹھا تھا آریز کی آواز پر غصّے سے مٹھی بھینچ گیا۔۔۔۔۔۔
” چچی کیوں خود کو ہلکان کرتی ہیں؟؟ اللّه نے میرے جیسی نیک اولاد دیکر بیلینس بھی تو کیا ہے ” دونوں کندھوں سے انہیں تھمتا وہ محبت سے انکی پیشانی چوم گیا جبکے وہ شرارتی لہجے میں کہ رہا تھا صالحہ مسکرا پڑیں۔۔۔۔
” آریز ناجانے کب ان دونوں کو ماں کا احساس ہوگا انکا ابا بھی مجھ سے لڑتا ہے بھلا بتاؤ میں نے پڑھایا تھا جو فیل ہوئے تو مجھے سنا رہے ؟؟؟ پاس ہوں تو میری اولاد،، بڑا کام کریں تو میری اولاد اور فیل ہوں تو تمہاری اولاد ؟؟؟؟ کارنامے سر انجام دیں تو تمہاری نکمی اولادیں بتاؤ یہ کہاں کا انصاف ہے ” صالحہ بیغم بولنے پر آئیں تو دل کا سارا غبار باہر نکال پھینکا ایک یہ ناکارہ اولاد خون چوستی تھیں دوسرا انکا باپ جو سارے الزام صالحہ بیغم پر لگاتے۔۔۔۔۔۔
شاز تو مزید لیکچر سے بچنے کے لئے آہستہ سے وہاں سے کھسک گیا مگر آریز کو سبق سیکھانےکا وہ سوچ چکا تھا۔۔۔۔ جبکے آریز انکے لئے کچن سے ٹھنڈا پانی لے آیا ساتھ اپنی ماں ( آمنہ )کو بھی۔۔۔ اکثر ہی شاذ کی وجہ سے صالحہ کا بی پی ہائی ہوجاتا۔۔۔۔
” چچی فکر نہ کریں کچھ چیزوں کو ٹائم دینا چاہیے سب بہتر ہوجاے گریجویٹ ہوتے ہی وہ اصل زندگی سے واقف ہوگا دنیا داری آہستہ آہستہ اسے سمجھ آجائے گی پتا لگ جائے گا ہر کہیں سورسز کام نہیں آتیں “
” ہان صالحہ آریز سہی کہ رہا ہے!!! اس طرح خود کو ہلکان مت کرو بہتری کی امید رکھو انشااللہ سب ٹھیک ہوجاے گا ” آمنہ نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے انہیں دلاسا دیا۔۔۔۔۔
” آریز میرے بچے!!!! شرمندگی ہوتی ہے جب وہ اپنے الفاظوں سے تم پر وار کرتا ہے ” وہ ٹھوٹے لہجے میں بولیں۔۔۔
” چچی!!! اپنے خلاف باتیں خاموشی سے سنتا ہوں، جواب دینے کا حق وقت کو دے رکھا ہے۔۔۔ دلوں سے نفرت کسی کے سمجھانے سے نہیں جاتی بلکے عزیز چہروں کے بےنقاب ہوتے ہی ہوتی ہیں بس فرق یہ ہے بےنقاب تو ہر چہرہ ہوتا ہے کچھ وقت کے ساتھ کچھ وقت کے بعد۔۔۔۔۔ ” نرمی سے انہیں سمجھاتے وہ صالحہ کو خود سے بھی بڑا لگ رہا تھا۔۔۔ کس قدر صبر تھا اس میں۔۔۔ کس قدر صاف دل تھا وہ جانتی ہیں کبھی اسنے بھولے سے بھی شاذ کو بددعا نہ دی ہوگی۔۔۔۔۔۔
آمنہ نے محبت بھری نظروں سے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھا اور بےاختیار دل سے دعا نکلی ” اللّه تمہارا دامن خوشیوں سے بھر دے ” جبکے صالحہ بیغم پھر سے اس ” تین سال ” پرانے قصے کا پوچھتیں اس سے پہلے المیر کی آواز نے انہیں اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔۔۔۔
” کیا ہو رہا ہے یہاں امی کون سے قصے سنا کر رُلا رہیں ہیں ” المیر نے لاؤنچ میں قدم رکھتے ہی استفسار کیا اسکی پہلی نظر ماں پر ہی گئی اور وہ سب سمجھ کر بھی انجان بنا۔۔۔ انکی حالت کے پیش نظر اسنے ماحول کی سنجیدگی کم کرنی چاہی۔۔۔۔۔۔۔
” کچھ خاص نہیں بس بہو کے ارمان جاگے ہیں،، مگر یہ تم نے اس فسادی کے کان کیوں پکڑے ہیں؟؟؟ ” المیر کو آبی کے کان پکڑتے دیکھ آریز نے پوچھا۔۔۔۔۔
” آ۔۔۔۔بھائ۔۔۔بھائی آرام سے پکڑیں ” المیر نے اسکے سر پر ہلکا سا تھپڑ مار کر چھوڑا۔۔۔۔۔
” ایریا میں بدنام کر کے چھوڑا ہے ابھی سامنے والی سلیم بھائی کی بیٹی کے ساتھ ٹک ٹوک بنا رہا تھا۔۔۔۔ اور آجکل کے فضول گھانے۔۔۔۔ ٹھکرا کر میرا پیار میرا انتقام دیکھے گی۔۔۔ ” المیر نے ایک اور چپیٹ اسکے سرخ گال پر ماری جبکے آریز اور آمنہ نے اپنی امڈ آنے والی مسکراہٹ روکی۔۔۔۔۔۔
” نافرمان اولاد ہے میرے ہاتھ تو لگے اسکے انتقام کا بھوت اتارتی ہوں۔۔۔” ماں کو پیڑوں سے چپل آزاد کرتے دیکھ ہی عبد اللّه بھائی کے پیچھے چھپ گیا۔۔۔ المیر نے گردن موڑ کر اسکی حرکت دیکھی۔۔۔۔۔۔
” امی “
” چچی “
یِکایک المیر اور آریز کی چیخ ایک ساتھ نکلی۔۔۔۔
پر اب کیا ہوسکتا ہے؟؟؟؟؟؟
چپل ٹھیک صالحہ نے نشانے پر دے ماری پر یہ کیا؟؟ عبد اللّه کے ہٹتے ہی چپل سیدھا باہر سے آتے صدیق صاحب(صالحہ بیغم کے شوہر) کے منہ پر جا لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چپل انکے چودہ طبق روشن کر گئی وہ سن سے رہ گئے ایک پل کو سمجھ نہ آیا ہوا کیا؟؟؟ بس کانوں میں ” بن ” کی آواز گونجتی رہی۔۔۔پہلے سامنے نظر منہ پر ہاتھ رکھی دونوں خواتین پر گئیں پھر چہرہ گھما کر ساتھ کھڑے المیر کے پہلو میں چھپے عبداللّه کو دیکھتے ہی وہ صورتحال سمجھ گئے انکا ” پاڑا ” یایک ہائی ہوگیا۔۔۔۔۔۔
” عبداللّه ” انکی دھارتی آواز سنتے ہی ایک کے بعد ایک وہاں سے بھاگا المیر،،عبداللّه،،آریز اور پھر پیچھے آمنہ بیغم بھی خاموشی سے کچن کی طرف چل دیں جبکے صالحہ صدمے کی سی حالت میں انکے پاس آئی۔۔۔
” اللّه جی میں عبدالله کو مار رہی تھی یہ کیا ہوگیا ہائے پورا گال سوجھ گیا اتنا تو زور بھی نہیں لگایا تھا جتنا نشانا چھاپہ ہے ” صالحہ بیغم تو بوکھلاتی ہوئیں انکا سوجا گال دیکھتی رہیں جبکے وہ غصّے سے لال چہرہ لئے سامنے دیکھتے خاموش تھے جو صاف ناراضگی کا اشارہ تھا۔۔۔۔۔۔۔
صالحہ انہیں چپ دیکھ کر مزید اپنا غصّہ نکالنے لگیں۔۔۔۔
” بے شرم ناکارہ اولادیں ہیں آپ سہی کہتے ہیں شرم و حیا ہی نہیں ایک ہم ہیں باپ کو بچانے کے لئے خود جھوتے کھاتے تھے اور یہ خود کو بچانے کے لئے باپ کو جھوتے کھلاتے ہیں۔۔۔۔ ” انکا چہرہ وہ اپنے دوپٹے سے صاف کرتیں ساری بھڑاس بچوں پر نکال رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
” بس کردو بیغم تمہاری اس زبان کی وجہ سے گھر میں نہیں ٹکتے تمہارے یہ کارنامے دیکھ کر دو تو ہاتھ سے نکل گئے ہیں اب تیسرے کا مستقبل بھی خطرے میں نظر آرہا ہے ” انکا اشارہ المیر کی طرف تھا۔۔۔۔ لہجہ تیز نہیں تھا مگر الفاظ کھٹیلے تھے وہ جو پہلے ہی غصّے میں تھیں ایک بار پھر سے شوہر کے ہاتھوں اس عزت افزائی پر کھول کر رہ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکا ہاتھ جھٹکتے اوپر اپنے کمرے کی طرف غصّے سے تیز قدم اٹھاتے جا رہے تھے صالحہ بیغم بھی پریشانی سے انکے پیچھے چل دیں جو بھی تھا آخر وہ بچوں کی وجہ سے شوہر کو ناراض تھوڑی کر سکتی ہیں وہ بھی اتنی محبت اور عزت دینے والے شوہر کو۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا بیک سنبھالتی وہ بس اسٹاپ پر جانے کے لئے گھر سے نکلی بس اسٹاپ دس منٹ کی دوری پر ہی تھا اور وہ روز اسی ٹائم گھر سے نکلتی تھی تاکہ اسے وہاں بس کا انتظار نہ کرنا پڑے۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ قدم ہی چلی ہو گئی کہ اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے چل رہا ہے گردن موڑ کر اس نے پیچھے دیکھا تو کانپ کر رہ گی۔ دو آوارہ لڑکے اسے ہی دیکھ رہے تھے ایک نظر میں وہ ان کے حولیے سے جان گئی تھی وہ کیسے ہیں؟؟ ایک سگریٹ پی رہا تھا تو دوسرا سر پر پٹی باندھے منہ میں ماچس کی تیلی دبائے ہوئے تھا۔۔۔۔
خوف کے مارے اس نے اپنی رفتار بڑھا دی لیکن یہ محسوس کرتے دیر نہیں لگی کہ اُن کی رفتار بھی اس کی رفتار سے مل رہی تھی۔۔۔۔
بامشکل کانپتی ٹانگوں سے وہ چل رہی تھی روڈ بس کچھ قدم کی دوری پر تھا مگر اس سنسان گلی میں صبح کے اس وقت سردیوں کے موسم میں رات کا گمان ہو رہا تھا۔۔۔ دائیں بائیں طرف بڑے بنگلے بنے ہوئے تھے مگر ہر گیٹ بند تھا اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ رات کے اس پہر اس سنسان گلی میں اکیلی چل رہی ہے خوف سے اسکے قدموں میں مزید روانگی آگئی۔ تیز چلنے کے باعث اب ٹانگیں بے جان سی ہو رہی تھیں اسے رونا آ رہا تھا کاش صبح پاپا کو اٹھا کر ان کے ساتھ آجاتی اپنی بے بسی پر اس کا دل پھوٹ پھوٹ کے رونے کو چاہ رہا تھا تبھی یکدم سے اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے ساتھ چل رہا ہے۔۔۔۔
اسکا سانس ہلق میں اٹک گیا اسے لگا ابھی کوئی اسکا ہاتھ پکڑے گا یا اپنے ساتھ گھسیٹ کر لے جائے گا اور اسکے ہلق سے آواز تک نہ نکل سکے گی اسنے بیگ کو سختی سے پکڑ لیا جیسے یہی ایک سائبان اسکے لئے بچا ہے یہی انکے منہ پر مار کر وہ بھاگ جائے گی لیکن ہمت کہاں تھی؟؟ یکدم وہ ڈھیلی ہوگی گردن موڑ کر اسنے دیکھنا چاہا وہ کتنے قریب آچکے تھے مگر یہ کیا؟؟؟ گردن موڑتے ہی اپنی ساتھ چلتے شخص کو دیکھ کر یکدم اس کی اٹکی سانسیں بحال ہویں وہ ہزاروں میں بھی اسے پہچان سکتی ہے وہ تھا ” ایک اجنبی ” لیکن آج اس کے لئے تپتی دھوپ میں چھاؤں بن کر آیا تھا اور اسے دیکھتے ہی اس کی رفتار خودبخود سست ہوگی۔۔۔۔۔۔
مگر ساتھ چلتا اجنبی اس کی حالت بھانپ کر اب رُکا تھا ۔۔۔۔۔اشارہ تھا مزید ان ٹانگوں پر ظلم نہ کرے۔۔۔۔۔
ورنہ لڑکھڑا کر گر جاتی۔۔۔۔
وہ اس کی حالت کے پیش نظر اس کے ساتھ کھڑا رہا۔۔۔۔ تاکے وہ اپنی پھولتی سانسیں بحال کر سکے۔ ۔۔۔
لڑکے تو اسے دیکھتے ہی خاموشی سے دوسری گلی کی طرف روانہ ہوگئے اب ان دونوں کے علاوہ وہاں کوئی نہ تھا۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب اسے لگا وہ چلنے لائق ہو چکی ہے اس اجنبی نے اپنے قدم بڑھائے۔۔۔۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ زمین کو تکے جارہی تھی اس شخص کے ساتھ کھڑے رہنا بھی کتنا مشکل ہے نہ جانے وہ اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا؟؟؟؟ کیا وہ اسے دیکھ رہا ہوگا؟؟ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اسنے نظر گھما کر دیکھا تو اُسے اپنے فون میں مصروف پایا۔۔۔۔
وہ دھیرے دھیرے اس کے ساتھ چل رہا تھا پھر آگے جا کے اس کی چال میں روانگی آگئی بس اسٹاپ آ چکا تھا وہ خاموشی سے جا کر اسٹاپ پر کھڑی ہوگی وہ بھی بے نیاز بنا دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے اس کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔۔۔۔۔(کسی صاحبان کی طرح)
بس کے آتے ہی اس نے شکر بڑا سانس خارج کیا بس جب اس کے پاس آن روکی۔۔۔
اس نے اس شخص کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
یکدم دل تھم سا گیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اور یہ ایک نظر اس کا دل زور سے دھڑکا گئی وہ جو ” تھنک یوں” کہنے کے غرض سے رکی تھی ہلق سے آواز تک نہ نکال سگی اور کنڈیکٹر کے آواز دینے پر بس میں آبیٹھی۔۔۔۔
ایک بار اور دیکھ کر آزاد کردے مجھے
میں اب بھی تیری پہلی نظر کی قید میں ہوں۔۔۔۔
اسنے دل پر ہاتھ رکھا وہ ابھی بھی اسی رفتار سے دھڑک رہا تھا۔۔ وہ ابھی تک اس ایک نظر کے حصار میں تھی اس بات سے انجان کہ وہ ایک نظر اس کے لیے ناسور بن جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
