Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Umeed (Episode 05,06)

Umeed by Kiran Malik

اگلے دو دن سکون سے گزر گئے سکندر کو اب اپنا آپ مکمل لگتا تھا جیسے دنیا کی ہر خوشی مل گئی ہو۔۔۔کسی چیز کی کوئی کمی باقی نا رہی ہو۔۔۔اسے دنیا اپنی مٹھی میں بند ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔وہ بہت خوش تھا اور پوری کوشش کرتا کہ گل بہار اسکی آنکھوں کے سامنے رہے۔۔۔

وہ اسکی امیدوں سے ذیادہ معصوم اور پاکیزہ تھی۔۔۔اسے اپنی قسمت پر رشک آرہا تھا۔۔۔لیکن وقت بدلتے دیر کہاں لگتی ہے۔۔۔

گل بہار لان میں پودوں کو پانی دے رہی تھی اور سکندر بیٹھا چائے پینے کے ساتھ ساتھ اپنی بٹھکتی نظروں کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔

دل ہی دل میں وہ بھی بہت خوش تھی کہ کم از کم ایک جہنم سے خدا نے اسے نکال کر ایک جنت میں ڈال دیا۔۔۔جہاں سکون ہے۔۔عزت ہے۔۔۔کوئی اسکو اسکا ماضی یاد نہیں کرواتا۔۔۔۔لیکن سچ کہتے ہیں کہ خوشیوں کی عمر کم ہوتی ہیں اور دکھوں کی طویل۔۔

وہ دونوں لان میں موجود تھے دونوں ہی خوش دکھائی دیے رہے تھے۔۔۔جب سکندر نے گیٹ کھولتے اور پھر پنجارو کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔۔

وہ ایک دم سے اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔جانتا تھا کہ آنے والے کون ہیں۔۔۔اسکے چہرے پر حیرانگی واضح تھی۔۔۔

یہ یہاں اچانک کیسے۔۔۔اسی سوچ کے ساتھ وہ آگے بڑھا تاکہ مہمانوں کا استقبال کر سکے۔۔۔

پنجارو میں سے دو گن مین اترے جنہوں نے پیچھے کے دونوں دروازوں کو فورا کھولا۔۔

اندر سے ایک مرد نکلا۔۔۔ جس کے چہرے سے ہی جاگیردارانہ کرخت لہجہ اور رعب و دبدبہ جھلک رہا تھا۔۔۔

پیشانی پر بل ڈالے لان کی طرف آرہا تھا۔۔۔اسکے ساتھ ایک عورت بھی تھی جو اپنے لباس اور انداز سے ہی ایک جاگیردارن معلوم ہوتی تھی۔۔۔دونوں کے چہروں پر بلا کی سنجیدگی تھی۔۔

سکندر نے انکے قریب جا کر انہیں سلام کیا اور پھر لان سے گزر کر اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔

دونوں نے اس اجنبی لڑکی کو بڑی گہری نظروں سے ایک لمحہ دیکھا اور پھر آگے بڑھ گئے۔۔۔۔

گل بہار اپنی جگہ پر ہی بت بنی کھڑی رہی۔۔۔اسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کریں۔۔۔

سکندر ان دونوں کے ساتھ اندر ڈرائینگ روم میں بیٹھ گیا۔۔۔اسے کچھ کچھ حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو چکا تھا۔۔

تایا سائیں آپ لوگ یوں اچانک؟؟؟کوئی اطلاع بھی نہیں کی۔۔۔میں آپ لوگوں کے لیے چائے پانی کا بندوبست کرتا ہوں۔۔

سکندر اٹھنے لگا تو تایا سائیں بولے۔۔۔آواز ایسی تھی کہ کسی کے بھی ہوش اڑا دے

بیٹھ جاو آرام سے کچھ نہیں کھانا پینا ہمیں۔۔۔

پھر تائی جی بولی۔۔۔سکندر تمہارے تایا سائیں کو کسی نے ایک خبر دی ہے ہم اسی کی تصدیق کرنے اتنی دور آئے ہیں۔۔۔

اور ظاہر ہے یہ خبر ان تک محسن نے اس دن فون کر کے پہنچائی تھی۔۔

سکندر کو اپنے سامنے زمین اور آسمان گھومتے ہوئے نظر آنے لگے اور دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔

یااللہ ان تک اتنی جلدی خبر کیسے پہنچ گئی۔۔

سکندر تم یہاں کسی لڑکی کو لے کر آئے ہو؟؟اور وہ بھی۔۔۔۔۔بات ادھوری چھوڑ دی کیونکہ ان کے خاندان میں ایسی جگہ کا نام لینا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھے ٹانگ کے اوپر ٹانگ رکھے۔۔۔تیوری چڑھائے پوچھ رہے تھے۔۔۔

سکندر کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا جواب دے۔۔۔تایا سائیں نے کچھ دیر اسکے چہرے کی طرف دیکھا کوئی جواب نا ملنے پر پھر بولے۔۔۔

ہم نے تم سے کچھ پوچھا ہے سکندر۔۔ہم تمہارے جواب کے منتظر ہیں۔۔۔

تمہارے تایا سائیں جو پوچھ رہے ہیں ان کا جواب دو سکندر۔۔۔کہہ دو کہ ہمیں کسی نے جھوٹی خبر دی۔۔۔۔

وہ اپنے اندر کی کیفیت پر قابو پاتے اور تھوڑا جھجھکتے ہوئے بولا۔۔۔جانتا تھا کہ اب طوفان آ چکا ہے اور جو بھی ہو اس سے ہر حال میں گزرنا ہی ہے۔۔۔۔

“جی یہ سچ ہے”۔۔۔۔

الفاظ کا بم سکندر نے ان دونوں کے سروں پر پھوڑا تھا۔۔۔وہ ہکا بکا سے اپنے بھائی کی واحد نشانی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔

وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ انکے خاندان کا اتنا ہونہار ۔۔۔اتنا فرمانبردار۔۔۔۔اتنا قابل لڑکا اس طرح کی حماقت کر سکتا ہے۔۔۔۔

تایا سائیں شدید غصے میں صوفے سےاٹھے تو سکندر اور تائی جی بھی ساتھ ہی کھڑی ہو گئیں۔۔۔۔

تمہیں شر م آنی چاہیے تم نے ہماری پشتوں کی عزت خاک میں ملا دی۔۔۔اگر اتنا ہی شوق تھا اس جگہ جانے کا تو رات گزار کر آ جاتے۔۔۔وہاں کی گندگی کو یہاں لا کر میرے مرے ہوئے بھائی کی روح کو تکلیف تو نا پہنچاتے۔۔۔وہ غصے سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور آواز ہر طرف گونج رہی تھی۔۔

آپ اتنا غصہ مت کریں ۔۔بچہ ہے ۔۔ماں باپ کا سایہ سر پہ نہ ہو تو بچے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں۔۔۔۔ہم سمجھائیں گے تو سمجھ جائے گا ابھی معاملہ اپنے ہاتھ میں ہے کسی کو اس بات کی خبر نہیں ہے۔۔۔تائی معاملے کو سلجھانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔آخر انہوں نے بھی تو اپنی بیٹی کو سکندر کی دلہن بنانا تھا۔۔کتنے خواب دیکھ رکھے تھے انہوں نے ان دونوں کی شادی کو لے کر۔۔۔۔اور اب حالات قابو سے باہر ہوتا دیکھ کر ان کی جان پہ بن گئی تھی۔۔۔

تم ابھی کے ابھی اس کچرے کو وہیں پر پھینک کر آو جہاں سے اسے اٹھا یا تھا۔۔۔۔۔تایا نے اپنا حکم صادر کر دیا۔

سکندر خاموش تماشائی بنا سب دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ ان دونوں کی بہت عزت کرتا تھا اور انکو تکلیف پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ پروقت نے اسے کس کس سے ٹکر لینے پر مجبور کر دیا تھا۔

تم نے سنا نہیں ہم نے کیا کہا؟؟؟جاو اور اس بے غیرت نیچ کو یہاں سے لیکر ۔۔۔۔ورنہ ہم اس کو گولی مار دیں گے۔

سکندر کا ضبط اب جواب دے گیا تھا اور محبت کا جذبہ رشتوں پر غالب آگیا تھا تبھی اس نے کہا جو وہ نارمل حالات میں کبھی نہ کہتا اور دونوں کے حکم کی تعمیل میں سر جھکا دیتا۔

وہ یہاں سے کہیں نہیں جائے گی۔۔۔۔وہ یہیں رہے گی۔۔۔

اور دونوں کی حیرانگی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔۔۔کیا یہ وہی سکندر ہے جو آنکھ اٹھا کر بات تک نہیں کرتا تھا اور وہ آج ہمارے سامنے کھڑا ہم سے بغاوت کر رہا ہے وہ بھی اس دو کوڑی کی لڑکی کے لیے۔۔۔۔۔ یہ انکی توہیں کی حد تھی۔۔

کیا بکواس کر رہے ہو تم ہوش میں تو ہو؟؟۔۔۔۔آخر کیوں اپنے پشتوں کی عزت کو خاک میں ملانے پر تلے ہوئے ہو؟؟؟۔۔۔۔۔۔اپنی عزت کی پرواہ نہیں تو کم از کم ہماری عزت کی ہی پرواہ کر لو۔۔

وہ غصے میں چیخ رہے تھے اور تائی کو اپنے خواب اپنی آنکھوں کے سامنے ٹوٹتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔۔

میں اس لڑکی سے بہت محبت کرتا ہوں اور اسے کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔سکندر نے ہمت کرکے بات کہہ دی۔۔

ہا ہا ہا۔۔۔واہ تو جناب کو ایک طوائف سے محبت ہوگئی۔۔۔پوری دنیا میں تمہیں ایک وہی محبت کے قابل ملی تھی ساری دنیا کی لڑکیاں مر گئی تھیں کیا؟؟؟؟یہ کیوں نہیں کہتے کہ اسے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے یہاں لائے ہو۔۔۔اور نام محبت کا لے رہے ہو۔۔۔۔۔۔کیوں ایسا ہی ہے نا۔۔۔۔۔۔سکندر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھ رہے تھے۔۔۔۔۔اور اسکی آنکھیں غصے ۔۔دکھ اور تکلیف سے سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔اور اپنا خود پر ضبط کھوتا جا رہا تھا۔۔۔۔اس لیے پھٹ پڑا کیونکہ اب مزید چپ رہنا اسکی محبت کہ توہین تھی اور وہ اسکی خاطر ہر ایک سے لڑ سکتا تھا۔۔۔۔

بس کر دیں تایا سائیں بہت ہو چکا۔۔۔میں اپ کی بہت عزت کرتا ہوں اور اسے چھوڑنے کے علاوہ جو بھی کہیں میں کرنے کو تیار ہوں۔۔۔لیکن میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔۔

وہ کہہ رہا تھا اور تایا سائیں کو آج وہ واقعی ایک جاگیردار لگ رہا تھا جو ایک چیز کو اگر حاصل کرنے کا ارادہ کر لے تو پھر چاہے سب کچھ تباہ ہو جائے اس سے پیچھے نہیں ہٹتا۔۔

اور میں اسے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے یہاں نہیں لایا۔۔۔میں اسے اپنا نام دینا چاہتاہوں ۔۔۔شادی کرنا چاہتاہوں میں اس سے۔۔۔۔کہہ کر سکندر خاموش ہو گیا۔

تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے۔۔۔۔۔۔یہ جان لینا کہ اسکے بعد ہم تمہاری شکل بھی نہیں دیکھیں گے اور ہم سے تمہارا ہر رشتہ آج سے اور ابھی سے ختم۔۔۔تایا سائیں نے آخری ہربہ اپنایا۔۔۔کہیں نہ کہیں امید تھی وہ اپنا فیصلہ بدل لے گا۔۔

سکندر اس وقت کس قدر مجبور اور بے بس تھا اس سے بہتر اور کوئی نہیں جان سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بہت سی محبتوں کے درمیان کھڑا تھا اور فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا کہ کسے چنے۔۔۔۔بہت ہی مشکل۔۔

اس نے دل سے پوچھا کیا میں گل بہار کو چھوڑ دوں؟؟تو دل نے ہنس کر کہا جب سانس کوچھوڑ دو گے تو زندہ کیسے رہو گےاور یہ رشتے کہاں نبھا پاو گے۔۔۔۔۔ دل نے فیصلہ سنا دیا اور ایک بار پھر محبت ہر رشتے پر غالب آگئی۔

سکندر کے منہ سے بڑی مشکل سے الفاظ ادا ہونا شروع ہوئے۔۔۔۔

اگر آپ لوگوں کو میری اور میری خوشیوں کی ذرا بھی پرواہ ہے تو اپ میرے فیصلے کی عزت کریں گے۔۔۔۔۔سکندر نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی۔۔۔۔۔ دل البتہ کس کرب سے گزر رہا تھا اسکا باہر کے لوگوں کو اندازہ نہیں تھا۔۔۔

اور وہ دونوں کھڑے ایک دوسرے کو بے یقینی سے دیکھنے لگے کہ اس انسان نے اتنی آسانی سے ایک غیر کو چن کر اپنوں کو پرایا کر دیا۔

وہ کچھ دیر سکندر کو دیکھتے رہے جو اب نظریں پھیرے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور پھر تایا سائیں نے تائی کو چلنے کا کہا اور وہ دونوں اسکی آنکھوں کے سامنے سے اسکے گھر سے نا امید لوٹ گئے۔۔۔

ان کے جانے کے بعد سکندر ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح صوفے پر ڈھے سا گیا اور رکے ہوئے آنسووں نے اس کے چہرے کو بھگونا شروع کر دیا۔۔

گل بہار خاموش تماشائی بنی اس ساری صورت حال کو دیکھ رہی تھی اور حیران تھی کہ یہ شخص مجھ سے شادی کر نا چاہتا ہے؟؟ساتھ ساتھ دکھی بھی تھی کہ میری وجہ سے یہ انسان اپنے قریبی رشتے کھو رہا یے۔۔۔ایسا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔اسے سوچ سوچ کر بہت تکلیف ہو رہی تھی کہ میری وجہ سے یہ انسان کیا کیا کچھ برداشت کر رہا ہے۔۔۔۔گل بہار کی آنکھ سے آنسو بہہ کر اسکے گال پر آگیا۔

وہ جو کچھ دیر پہلے دل ہی دل میں سب ٹھیک ہوجانے پر خوش تھی اور سمجھتی تھی کہ دنیا بڑی رحم دل ہے اب سمجھ آ رہا تھا کہ بھلا یہ دنیا اتنی ہمدرد کہاں ہے۔؟؟؟ایک جھٹکے میں ساری غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔۔۔۔۔۔ یہ دنیا تو لفظوں کے تیروں سے جسم اور روح پر ان مٹ نشانات چھوڑتی ہے۔۔۔اس دنیا کے الفاظ دل کو چھلنی کر دیتے ہیں۔۔۔یہاں آپ کا ماضی ہی آپکی پہچان ہوتا ہے۔۔۔دنیا خدا تھوڑی ہے جو ایک سجدے سے راضی ہو جائے یہاں تو ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اگر جان بھی دے دی جائے تو وہ بھی اس دنیا کے لیے معمولی بات ہے۔

_____

اے زندگی کبھی تو دوگھڑی ہنسنے کی اجازت دے دے۔

کبھی تو میرےدرد کو الوداع کہنے کی اجازت دے دے۔۔

کبھی تو مجھکو مجھ سے ملنے کی اجازت دے دے۔

اے زندگی کبھی تو مجھ کو اتنی سی اجازت دےدے۔

گل بہار اپنی زندگی کے دو پل کے سکون کے بعد واپس اسی مقام پر آگئی تھی جہاں سے چلی تھی۔۔۔وہی ذلت ،وہی رسوائی،وہی ماضی اور وہی ماضی کی تلخ یادیں۔۔جن کو وہ بھلے بھول جاتی پر دنیا کبھی نہیں بھولنے دیتی۔۔

سکندر اپنے تایا سائیں اور تائی جان کے جانے کے بعد کتنی ہی دیر صوفے پر بیٹھا رہا۔۔۔دکھ اور تکلیف اسکے چہرے پر واضح تھی۔۔

گل بہار دروازے سے لگی کافی دیر اسے دیکھتی رہی۔پھر کچن سے پانی لے کر آئی اور اسکے سامنے کیا۔۔ خود کو وہ یوں ظاہر کر رہی تھی جیسے اسے کچھ معلوم ہی نہیں۔۔اپنے چہرے پر بہتے آنسووں کوبھی اچھی طرح صاف کر چکی تھی۔

جب پانی سکندر کے آگے کیا تو ایک دم سے چونکا۔۔

سکندر نے ہاتھ آگے بڑھا کر گلاس تھام لیا۔ اور شکریہ کہہ کر لبوں سے لگا لیا۔۔گل بہار جس خاموشی سے آئی تھی اسی خاموشی سے چلی گئی۔۔۔

میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔۔دنیا کو جو کہنا ہے کہتے رہیں۔۔میں نے ہمیشہ اپنوں کی ہر بات کے آگے سر جھکایا ہے مگر اس بار میں ایسا نہیں کروں گا۔چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے میں گل بہار کو کبھی نہیں چھوڑو گا۔۔۔جب میرے اپنوں کو میری خوشی کی پرواہ نہیں تو مجھے بھی نہیں ہے۔۔۔وہ غصے اور دکھ کے ملے جلے جزبات کے ساتھ سوچ رہا تھا۔اسے بلاشبہ ان لوگوں کے رویے نے دکھی کیا تھا۔۔۔وہ گلاس کو یونہی تھامے بیٹھا رہا اور سوچ کی وادیوں میں غرق رہا۔۔۔اسے یہ بھی ہوش نہیں تھی کہ گلاس اسکے ہاتھ میں ٹوٹ چکا ہے اور خون بہہ کر فرش کو سرخ کر رہا ہے۔

گل بہار اپنے کمرے میں تھی۔اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اب آگے کیا کرے۔۔سکندر کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔پھر جیسے کچھ سوچ کر کمرے سے باہر نکلی۔۔اور قدم ڈرائینگ روم کی طرف بڑھا دئیے۔۔

جیسے ہی اندر داخل ہوئی تو نظر سکندر کے ہاتھ پر پڑی جس سے خون کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔۔

اسکی ایک دم سے چیخ نکلی تو سکندر جیسے خیالوں سے لوٹا۔۔۔اور فورا کھڑا ہو گیا۔۔۔

وہ بھاگتی ہوئی سکندر کے پاس آئی۔۔۔اور اسکا ہاتھ تھام لیا جس میں سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔نا جانے کیوں اسکی آنکھوں میں نمی سی اتر آئی تھی۔۔۔

یہ ۔۔یہ۔۔کیسے۔۔اوہ کتنا خون بہہ رہا ہے۔۔۔ وہ بہت گھبرائی آواز میں فکر مندی سے پوچھ رہی تھی۔۔۔

سکندر یوں گل بہار کے ہاتھ پکڑنے پر حیران ہوا اور پھر اگلے ہی پل اسکی اتنی فکرمندی دیکھ کر دل کو سکون سا محسوس ہوا۔۔۔

ارے کچھ نہیں وہ گلاس ہاتھ میں ٹوٹ گیا ۔۔معولی سی چوٹ ہے ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔

گل بہار سکندر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کہنے لگی۔۔۔آپ کو یہ معمولی سی چوٹ لگتی ہیں۔۔دیکھیں تو کتنا خون بہہ رہا ہے۔۔پھر سکندر کو صوفے پر بٹھا کر خود فرسٹ ایڈ باکس لینے بھاگی۔۔۔

سکندر اسے روکتا رہ گیا لیکن اس نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا۔۔۔

فرسٹ ایڈ باکس سے روئی نکالی اور پھر احتیاط سے خون کو صاف کیا۔۔۔گل بہار کے ہاتھ کانپ رہے تھے اس نے زندگی میں پہلی بار اتنا خون دیکھا تھا۔ پھر دوائی لگائی اور پٹی باندھ دی۔۔

سکندر اس سارے عمل کے دوران اسکے چہرے کے اتار چڑھاو کو دیکھتا رہا اور ایک لمحے کے لیے بھی نظر نہیں جپھکا سکا۔۔۔سکندر کو اتنا درد نہیں ہوا تھا جتنا وہ اس کے چہرے پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔وہ اپنے خوابوں کی شہزادی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔

اب آپ اپنے کمرے میں جا کر آرام کریں ۔کہہ کر گل بہار فرسٹ ایڈ باکس اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔۔۔

آپ اتنی فکر مند نہ ہوں۔اتنی معمولی سی چوٹ ہے اور ویسے بھی آپ نے پٹی باندھ دی ہے تو ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔سکندر نے محبت سے گل بہار کی بندھی ہو پٹی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔

پلیز آپ آرام کریں۔۔کانچ کافی اندر تک چلا گیا تھا اور اسے ٹھیک ہونے میں بھی ٹائم لگے گا۔۔۔اور۔۔۔

وہ ابھی کچھ اور کہتی سکندر مسکراتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔۔۔ارے ارے۔۔بس کریں میں جارہاہوں اپنے کمرے میں۔۔ٹھیک ہے۔۔اب آپ پریشان مت ہو۔۔۔

سکندر کو کمرے میں جاتا دیکھ کر گل بہار کو تھوڑا سکون محسوس ہوا۔۔۔پھر کچن میں گئی اور ہلدی والا دودھ بنا کر سکندر کے کمرے میں دینی چلی گئی۔۔۔۔ کمرے پر ناک کر کے اندر داخل ہوئی سکندر کوئی فون کال اٹینڈ کرنے میں مصروف تھا۔۔

گل بہار نے دودھ کا گلاس ٹیبل پر رکھا اور سکندر کو اسے پینے کا اشارہ کرتی باہر چلی گئی۔۔۔

اسے یوں دیکھ کر سکندر کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئی ایک سکون تھا جو جسم اور روح پہ لگے زخموں پر مرہم کا کام کر رہا تھا۔۔۔

گل بہار اپنے کمرے میں آکر یہ سوچے گئی کہ ناجانے کونسی ڈور ہے جو اسے سکندر کی طرف کھینچ رہی ہے۔۔۔وہ اسکی احسان مند ہے۔۔بس۔۔۔ایک انسان کے احسان کا بدلہ جو وہ چاہ کر بھی نہیں چکا سکتی تھی۔۔۔ شاید اسی لیے مجھ سے اسکی تکلیف برداشت نہیں ہوئی۔

___________

اگلے دن سکندر آفس میں اپنے روز کے کاموں میں مصروف تھا جب محسن کمرے کا دروازہ بجاتا اندر داخل ہوا۔۔۔

تایا سائیں سے اس نے ساری معلومات حاصل کر لی تھیں جسے سن کر وہ ششدر رہ گیا تھا۔۔۔۔اسے بلکل امید نہیں تھی کہ وہ انکا حکم ماننے سے انکار کر سکتا ہے اور آج وہ سکندر سے ملنے آفس میں موجود تھا تاکہ وہ کھل کر اس سے اس موضوع پر بات کر سکے۔۔۔اور وہ خود وہ غلطی نا دہرائے جو وہ پچھلی بار دہرا چکا تھا۔۔اسے سوچ سمجھ کر بات کرنی تھی۔۔

آو محسن بیٹھو۔۔۔۔۔سکندر نے فائل ایک طرف رکھتے ہوئے اور کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ پھر پوچھاکیا حال ہیں جناب کے۔۔۔

میں تو بلکل ٹھیک ہوں فٹ فاٹ۔۔سکندر اس کے ہاتھ پہ بندھی دیکھ چکا تھا اسی لیے فکر مندی سے پوچھنے لگا۔۔۔

یہ چوٹ کیسے لگی تمہیں؟؟؟

کچھ نہیں یار بس کل گلاس ہاتھ میں ٹوٹ گیا تھا کہتے ہوئے کل کے تکلیف دہ واقعات اسکی آنکھوں کے سامنے آگئے۔۔۔جسے محسن محسوس کر چکا تھا۔۔۔۔اس پل اسے گل بہار سے اور بھی نفرت محسوس ہوئی۔آخر یہ اور کتنی تکلیف دے گی اور کیا کیا سہنا پڑے گا میرے دوست کو۔۔

اور کیا لو گے چائے کافی۔۔۔اوہ تمہارے لیے تو آفس میں جو کچھ بھی ہے منگوا لوں ہے نا؟؟؟سکندر انٹر کام کو اٹھا کر پوچھنے لگا۔۔۔تو محسن اپنے خیالوں سے لوٹا

بس ایک کپ چائے۔۔۔

واقعی؟؟سکندر نے تھوڑی حیرانگی سے پوچھا۔۔۔

ہمم۔۔۔جب سکندر نے انٹرکام رکھ دیا تو محسن اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔تم نے آگے کا کیا سوچا ہے؟؟

کس بارے میں؟؟سکندر نے انجان بنتے ہوئے کہا

میں تمہارے اور گل بہار کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔۔۔

تمہیں تایا سائیں سے اطلاع مل چکی ہوگی اور وہی میرا آخری فیصلہ ہے۔۔سکندر محسن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہہ رہا تھااور محسن جیسے اپنی چوری پکڑے جانے پر شرمندہ ہوا۔۔

سوری یار میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا۔۔میں تو بس۔۔

میں جانتا ہوں اور تم نے جو بھی کیا اچھا کیا آخر ایک نا ایک دن تو ان کو اس حقیقت کا پتا چلنا ہی تھا۔۔سکندر نے جیسے اسے تسلی دی اور اسکی شرمندگی کو کم کیا۔۔۔

تو پھر تم گل بہار سے پکا نکاح کر رہے ہو اور اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹو گے؟؟

بلکل میں جو کہہ رہا ہوں وہ میں ٹھان چکا ہوں اور تم جانتے ہو کوئی بھی مجھے میرے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔۔

اور اس نکاح کے بعد جو طوفان آئے گا اسکا اندازہ تو تمہیں بخوبی ہوہی چکا ہوگا۔۔۔کل تو صرف ٹریلر تھا۔

میں جانتا ہوں محسن مجھے اپنے نام مقام عزت ہر چیز سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔۔۔اور پھر بھی یہ سودہ گھاٹے کا نہیں ہوگا۔۔۔۔یہ دل کا معاملہ ہے جہاں کوئی بھی بازی ہار جیت کے بغیر کھیلی جاتی ہے۔

چائے پیو۔۔چائے آگئی تو سکندر نے محسن کو پینے کے لیے کہا اور خود دوبارہ کسی کام میں مصروف ہوگیا۔۔

میں تمہیں یہ بے وقوفی نہیں کرنے دے سکتا۔تم ابھی محبت میں پاگل ہوئے ہوئے ہو اور میرا اس محبت نامی بلا سے برسوں کا ساتھ ہے۔آج کل کے دور میں محبتیں نہیں ہوتیں سکندر صرف ٹائم پاس ہوتا ہے جو وہ لڑکی تمہارے ساتھ کر رہی ہے اور تمہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے۔۔محسن سکندر کو دیکھ کر سوچ رہا تھا۔۔۔اور آگے کا لائحہ عمل طے کر رہا تھا۔

Episode 6

محسن نے اپنے ذہن میں اگلا لائحہ عمل طے کر لیا تھا۔اسی کو سرانجام دینے کے لیے اس نے گاڑی سکندر کے گھر کی طرف موڑ دی۔جانتا تھا کہ وہ ابھی آفس میں ہی ہے تو یہی بہترین موقع ہے۔

گھر کے اندر آکر سامنے کھڑی سلیمہ کو آواز دی۔

جی صاحب جی۔۔۔سکندر صاحب تو ابھی تک آفس سے نہیں آئے۔۔۔

مجھے سکندر سے نہیں ملنا۔تم جا کر گل بہار کو بلا کر لاو۔۔

محسن کی بات سن کر سلیمہ کے منہ سے زور سے” جی” نکلا اور پھر اگلے ہی لمحے سر کو اثبات میں ہلاتی چلی گئی۔۔۔

کمرے کے دروازے پر دستک دی اور جواب ملنے پر اندر داخل ہوگئی۔۔۔

گل بہار بالوں میں کنگھی کر رہی تھی۔ہاتھ روک کر پوچھا۔۔۔۔ کوئی کام تھا؟؟

جی بی بی جی وہ آپ کو محسن صاحب بلا رہے ہیں۔۔۔

محسن کون محسن؟؟گل بہار پہلی بار یہ نام سن رہی تھی۔

جی وہ سکندر صاحب کے بڑے گہرے دوست ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔یوں سمجھ لیں کہ بھائی ہیں دونوں۔۔سلیمہ نے ساری تفصیل بتائی تو گل بہار نے کہا “تم چلو میں آتی ہوں”

تھوڑی دیر کے بعد گل بہار محسن کے سامنے ڈرائنگ روم میں کھڑی تھی۔۔

محسن ایک پل کے لیے تو نظر جپھکنا ہی بھول گیا وہ واقعی بہت خوبصورت تھی اور کسی کے بھی ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی۔۔۔

اوہ تو اتنی خوبصورت بلا سے بھلا کون بچ سکتا ہے۔۔میرے دوست بچارے کا کیا قصور۔۔۔ اسے تو گھائل ہونا ہی تھا۔۔

میں محسن ہوں سکندر کا دوست۔۔۔پھر بات کو آغاز کیا

جی سلیمہ نے مجھے بتایا۔۔آپ کو مجھ سے کوئی کام تھا؟

محسن طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگا۔۔۔بھلا مجھے “تم جیسی” عورت سے کیا کام ہو سکتا ہے۔۔۔

اور سن یہ سن کر گل بہار کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔۔مطلب اسکے ماضی سے یہ شخص آگاہ ہے۔۔۔۔پھر جیسے ہمت کرکے بولی۔۔۔تو آپ مجھ سے کیوں ملنا چاہتےتھے؟؟

اس لیے تاکہ تمہیں تمہاری اوقات یاد دلا سکوں کہ تم کس گندی نالی کا کیڑا ہو۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے دوست کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی۔۔۔ شدید غصے میں کہتا کھڑا ہو گیا تو اسکے ساتھ گل بہار بھی کھڑی ہوگئی۔۔۔جو بس رو دینے کو تھی۔۔۔

دیکھا ہو گا نا کہ لڑکا اکیلا ہے ۔۔۔اتنا مالدار ہے اور تھوڑا بےوقوف بھی تو کیوں نا اسکو اپنی محبت او نہیں نہیں محبت بھلا کہاں تم جیسی عورتیں کرتی ہیں۔۔تو کیوں نا اسے اپنی اس خوبصورتی کے جال میں پھانس کر سب کچھ ہتھیا لیا جائے۔۔کیوں ایسا ہی ہے نا گل بہار صاحبہ۔۔۔۔محسن غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔

گل بہار نے بمشکل کہا۔۔نہیں میں ایسی نہیں ہوں۔۔۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔ میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔

اوہ واقعی تو آپ کا کوئی ایسا ارادہ نہیں ہے ۔ وہ وہاں نکاح کی تیاری کرکے بیٹھا ہے اور تم کہتی ہو کہ تمہارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔گل بہار بی بی کسی اور کو بیوقوف بنانا مجھے نہیں۔۔۔سکندر تمہاری اس بھولی صورت سے دھوکا کھا سکتا ہے میں نہیں۔۔۔تم جیسی عورتوں کی اصلیت مجھ سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا۔

آنسو اب گل بہار کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔۔ذلت و رسوائی کی انتہا تھی۔۔۔وہ بس نظریں جھکائے خاموشی سے محسن کو سنتی رہی۔۔۔کہنے کی اوقات ہی بھلا کہاں تھی۔

میرا دوست اپنی عزت؛ اپنا نام ؛اپنا مقام؛ اپنے رشتے سب کچھ تم دوٹکے کی لڑکی پر قربان کر نے جارہا ہے۔جان بوجھ کر خود کو آگ میں دھکیل رہا ہے۔۔۔۔۔اس نے اس ایمپائر کو کھڑا کرنے کے لیے کتنی محنت کی ہے بھلا تم جیسی جسم فروش کیا جانے کہ محنت کیا ہوتی یے۔۔۔عزت اور مقام کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔۔۔ اور وہ تمہاری وجہ سے ان سب سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔۔۔صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔۔محسن نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

گل بہار کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔۔جودہ بائی کے بعد آج پہلی بار کوئی اس سے یوں بات کر رہا تھا۔

ناجانے کو نسی منحوس گھڑی تھی جب میں نے اسے اس کوٹھے پر چھوڑا۔۔۔پر خیر جو ہوا سو ہوا۔۔۔اب تم بتاو کہ تم سکندر کی جان چھوڑنے کی کیا قیمت لو گی۔۔۔جتنی بولو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔

بولو کیا قیمت ہے تمہاری؟؟؟

وہ اس سے پوچھ رہا تھا اور گل بہار رو رو کر بےہوش ہونے کو تھی۔۔

محسن نے اسے جھنجھوڑ کر پوچھا۔۔۔بتاو کیا قیمت ہے تمہاری ابھی تمہار ےمنہ پر مارتا ہوں دفع ہو جاو اسکی زندگی سے۔۔۔

م۔مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے ۔۔میں چلی جاوں گی۔۔۔گل بہار کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور ہچکی بندھ گئی تھی۔۔۔۔اس لیے بمشکل اتنا ہی کہہ پائی۔۔

اچھا واقعی تو تم چلی جاو گی؟؟ اور سارا الزام مجھ پہ ڈال دو گی؟؟بولو ایسا ہی کرو گی نا

نہیں میں سکندر صاحب سے کچھ بھی نہیں کہوں گی۔۔۔میں خاموشی سے یہاں سے چلی جاوں گی۔۔۔اسکی آواز بھرائی ہوئی تھی۔

ایک لمحے کو محسن کو اس پر ترس آیا مگر اگلے ہی لمحے پھر اپنے موڈ میں واپس لوٹ آیا۔۔۔۔خاموشی سے چلی جاو گی تو وہ پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈنا شروع کو دے گا۔

تو پھر میں کیا کروں؟؟گل بہار کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ انسان کیا چاہتا ہے۔۔

تمہیں اسطرح سے جانا ہے کہ سکندر تمہاری شکل سے بھی نفرت کرے۔۔۔۔ اور اگر تم یہاں سے نہیں گئیں اور سکندر کو کچھ بھی بتایا تو یاد رکھنا میں تمہارا قتل کر دوں گا سمجھی۔۔۔

وہ ایک بار پھر کڑی نظروں سے گھورتا اور انگلی سے تنبیہہ کرتا وہاں سے نکل گیا۔

گل بہار کا پورا وجود ایک پتے کی طرح کانپ رہا تھا وہ وہیں فرش پر بیٹھ کر پوری رفتار سے رونے لگی۔۔

کافی دیر رونے کے بعد اس نے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھا دیئے جہاں اس نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگی۔۔۔

نماز ادا کرنے کے بعد دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے تو محسن کی باتیں پھر سے کسی خنجر کی طرح چھبتی ہوئی محسوس ہوئیں۔۔۔

یااللہ یہ شخص مجھے کیا سمجھ رہا ہے میں ایسی تو نہیں ہوں۔۔تو تو جانتا ہے۔۔میں پاک ہوں میری نیت پاک ہے۔میں بھلا سکندر کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہوں جس نے مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا مجھے اس دلدل سے نکالا۔۔پر شاید میری قسمت میں یہ ذلت اور رسوائی لکھ دی گئی ہے جسے میں چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتی۔

یااللہ میں اس شخص کا نام کبھی خراب نہیں ہونے دوں گی ۔میں تو ہوں ہی بدنام ۔۔پر اسکا نام میری وجہ سے گندہ ہو یہ میں کبھی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔چاہے اسکے لیے مجھے خود کو کتنا ہی ذلیل کروانا پڑے میں کروالوں گی۔۔۔۔۔ آنسووں نے نا رکنے کا ارادہ کر لیا تھا وہ بار بار ان کو پونچھتی مگر وہ پھر سے باہر آجاتے۔۔۔وقت کہاں سے کہاں لے آیا تھا پر یہ آنسو آج بھی وہیں کے وہیں تھے۔۔۔

_________

وہ بہت خوش تھا یوں جیسے ہواوں میں اڑ رہا ہو۔آج وہ گل بہار کو اپنے دل کی بات بتا دے گا اور اپنی محبت کااعتراف کر لے گا۔۔۔اور کل نکاح کے بعد وہ میری ہو جائے گی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔یہ احساس ہی اتنا خوبصورت تھا تو اسکی تعبیر کتنی خوبصورت ہوگی۔۔یہی سوچ کر ہی ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے لبوں پر پھیل گئ۔۔۔نظر گاڑی سے باہر ایک پھولوں کی دکان پر پڑی تو گاڑی روک کر اندر داخل ہوگیا۔۔۔خوبصورت سرخ گلابوں کا گلدستہ خریدا۔۔۔سکندر کو سرخ گلاب بہت پسند تھے تبھی خرید کر بڑے پیار سے انکو چھوا تو دل نے کہا واقعی کوئی بھی پھول سرخ گلاب سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس سے بڑھ کر کوئی اور تحفہ ہو سکتا ہے۔۔۔اور جب تم انہیں چھوو گی تو انکی خوشبو اور خوبصورتی دونوں میں اضافہ ہو جائے گا۔۔۔سوچ کے ساتھ ہی ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔پھر واپس گاڑی میں بیٹھ گیا اور رخ گھر کی طرف موڑ لیا۔۔۔

آج یہ راستہ اتنا لمبا کیوں ہوگیا ہے یار ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔۔حالانکہ روز اسی راستے سے ہی تو جاتا ہوں۔۔۔دل کی بےقراری اور خوشی بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔سکندردل ہی دل میں خود سے ہی سوال کر رہا تھا ۔۔۔اور خود ہی جیسے وضاحتیں بھی دے رہا تھا۔

__________

محسن کا ٹینشن کے مارے برا حال تھا اور اسی ٹینشن میں وہ اپنے کمرے کے چکر کاٹ رہا تھا۔۔غصے میں وہ سب گل بہار کو کہہ تو آیا تھا لیکن اگر اس نے اپنا منہ کھول دیا اور سب سکندر کو بتا دیا تو وہ تو میری شکل سے بھی نفرت کرے گا۔۔۔یہ میں نے کیا کیا۔۔کوئی اور طریقہ نکل ہی آتا۔

میں بھی تو ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر ہی سوار رہتا ہوں۔تھوڑا صبر کر لیتا۔۔۔اچھا خیر اب ہو بھی کیا سکتا ہے۔۔۔اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئ کھیت۔۔۔تیر تو کمان سے نکل چکا ہے اور وہ واپس نہیں آسکتا اب تو خاموشی سے انتظار کر نا ہے۔۔۔آخر کار یہ سوچ کر اس نے خود کو بیڈ پر گرا دیا۔۔۔اور آنکھیں بند کرکے دل میں دعا کرنے لگا کہ سب ٹھیک سے ہو جائے۔۔۔اور محسن کے لیےایک ایک لمحہ بھاری ہو رہا تھا۔

__________

وہ بلاشبہ ایک خوبصورت شام تھی آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور یوں لگتا تھا جیسے ابھی بارش شروع ہو جائے گی۔۔۔

سکندر اس شام کو اور بھی خوبصورت بنانا چاہتا تھا۔۔۔اس لیے گاڑی سے اتر کر تیز ی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا رخ گل بہار کے کمرے کی طرف تھا۔۔۔وہ جانتا تھا کہ گل بہار اس وقت اپنے کمرے میں ہوگی۔۔۔وہ اپنے دل کی بات بتانے میں مزید ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔

گل بہار کے کمرے کے سامنے رک کر اپنی بےترتیب دھڑکنوں کو ترتیب دی۔۔ایک لمبی سانس لے کر اندر کی ٹینشن کو ریلیز کیا ۔۔چہرے پر مسکراہٹ سجائے۔۔۔ایک ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ تھامے۔۔۔۔دوسرے ہاتھ سے دروازے پر دستک دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو وہ کھلتا ہی چلا گیا۔

“میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں راجو۔۔۔اتنی کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے”۔۔

یہ سن کر سکندر کےپاوں وہیں جم گئے۔۔۔گلدستہ ہاتھ سے چھوٹ کر پیروں میں آگرا۔۔۔

راجو نے ہاتھ چھڑوانے چاہے تو اس نے ان پر اپنی گرفت اور بھی مضبوط کر دی۔۔۔۔

بی بی جی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔راجو گل بہار سے دور ہٹ رہا تھا۔۔۔

ایسے مت کرو راجو میں سچ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔جب سے تمہیں دیکھا ہے تم میرے دل دماغ پر ہر وقت چھائے رہتے ہوں۔۔۔میرے دل کا چین قرار سب تم نے چھین لیا یے۔

بی بی جی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں مجھے جانے دیں اگر سکندر صاحب کو معلوم ہوگیا تو وہ تو میری کھال ادھیڑ دین گے۔۔۔۔میں۔۔۔وہ ابھی کچھ اور کہتا گل بہار نے اسکے ہونٹوں پرانگلی رکھ کر انہیں خاموش کروا دیا۔

سکندر کو کچھ پتا نہیں چلے گا۔۔۔وہ تو میرے عشق میں پاگل ہو چکا ہے۔۔بے چارہ بےوقوف عاشق۔۔۔۔بس ایک بار مجھ سے اپنی محبت کا اعتراف کر لے پھر دیکھنا میں کیسے اسکی ساری دولت پر قبضہ کرتی ہوں۔۔۔اسکو بھکاری نا بنایا تو میرا نام بھی گل بہار نہیں۔۔۔۔پر تم۔۔۔ تم تو میری محبت پہ اعتبار کرو۔۔۔ہم دونوں بہت خوش رہیں گے۔۔

سکندر کی برداشت جواب دے گئی تھی وہ شدید غصے سے اندر کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔یہ سب سن کر اور دیکھ کراسکاخون کھول اٹھا تھا۔۔۔۔اس نے سکندر کے مقابلے میں ایک نوکر کو ترجیح دی جو اسکی جوتی برابر بھی نہیں ہے۔آنکھوں میں اپنے ہزاروں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں چبھ رہی تھیں۔۔۔دل کے ہزار ٹکڑے ہو چکے تھے۔۔۔پہلی بار کسی نے اعتبار اور یقین کے اتنے ٹکڑے کیے تھے کہ گننا بھی محال تھا۔

سکندر نے ایک جھٹکے سے گل بہار کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو اسکے ہاتھوں سے راجو کے ہاتھوں پر گرفت ڈھیلی ہوگئی ۔۔۔۔ راجو فورا سے پیچھے ہٹ گیا۔۔۔ سکندر کو دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گیا۔۔۔۔۔سکندر کا غصے آسمان کو چھو رہا تھا۔۔۔راجو کی ٹانگیں کانپنا شروع ہوگئیں۔۔۔سکندر صاحب اسے نہیں چھوڑیں گے۔۔۔اسکی کھال ادھیڑ دیں گے۔۔

سکندر نے ایک زناٹے دار تھپڑ گل بہار کے چہرے پر مارا تو وہ چکرا کے رہ گئی۔۔۔۔اسکی انگلیوں کی نشان گل بہار کے چہرے پر نقش ہوگئے۔۔

دفع ہو جاو راجو یہاں سے۔۔۔۔راجو جیسے سکتے سے باہر آیا اور فورا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔اور اپنے انجام کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔

وہ شدید غصے اور دکھ سے واپس گل بہار کی طرف پلٹا جو چہرے پہ ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔۔ اس لڑکی نے اس کے بھروسے کے ٹکڑے کر دیے تھی اور اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا۔

گل بہار کو پوری طاقت کے ساتھ بازووں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا ۔۔۔اسے یوں لگا جیسے اسکی ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی مگر ضبط کرکے کھڑی رہی۔۔۔

وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے تھا اور شدید غصے اور سرخ چہرے کے ساتھ سکندر کہہ رہا تھا۔۔۔تم نے صحیح کہا کہ میں ایک پاگل بے وقوف عاشق ہوں۔۔جس نے تم پر اعتبار کیا بھروسہ کیا۔۔سب سے لڑا۔۔اپنوں کو کھو دیا۔۔۔اپنے نام اپنی عزت کی بھی پرواہ نہیں کی۔۔۔ سب کہتے رہے کہ تم دھوکے باز ہو۔۔غلیظ ہو۔۔۔ مگر میں نے نہیں سنا۔۔۔پر تم نے ان سب کو صحیح ثابت کرکے مجھے غلط ثابت کر دیا اسکے لیے بہت بہت شکریہ۔۔تم نے بہت ڈھونگ رچا لیا اپنی پاکیزگی اور معصومیت کا پر اب نہیں۔۔۔وہ کہے جارہا تھا اور گل بہار اسکی آنکھوں سے گرتے آنسووں میں اپنی لیے ہر جزبے کو بہتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔

میرے ہر جزبے کی توہین کی۔۔۔تم نے ثابت کردیا کہ تم ایک گندی نالی کی پیداوار ہو ۔۔۔ایک کوٹھے کی طوائف ہو اور بس۔۔۔۔سکندر نے حقارت سے اسے کہہ کر دھکا دے دیا تو وہ فرش پر جا گری۔

تم ابھی کے ابھی میرے گھر سے میری زندگی سے دفع ہو جاو ورنہ میں خود تمہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔۔۔

سکندر کہہ کر تیزی سے وہاں سے نکل گیا مزید رکتا تو دل درد سے پھٹ جاتا۔

_______

گل بہار خود کو بمشکل سنبھالے کھڑی ہوئی اور مردہ قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی سکندر کے گھر اور زندگی سے باہر نکل آئی۔۔۔

بادلوں نے برسنا شروع کردیاتھا۔۔۔اوراسکے رکے ہوئے آنسو بھی ہر بند کو توڑ کر آہستہ آہستہ چہرے کو بھگو رہے تھے۔۔۔آخر کار وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گئی۔۔۔۔اس نے خود کو سکندر کی زندگی سے نکال لیا تھا ۔۔

آج محسن کے جانے کے بعد وہ سوچتی رہی کہ اب کیا کرے کہ سکندر کی تکلیف کم کر سکے۔۔۔۔۔وہ مزید درد سے بچ جائے۔۔۔وہ اسی سوچ میں گم تھی جب نظر کھڑکی سے باہر کام کرتے مالی راجو پر پڑی۔جو بیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان تھا اور پھر اچانک اسکے دماغ میں ایک پلین بنا۔۔۔۔۔اس نے سکندر کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے راجو کو اپنے کمرے میں بلایا اور جیسے ہی سکندر کمرے میں داخل ہونے لگا تو گل بہار نے اپنا ڈرامہ شروع کیا۔۔۔

سکندر راجو پر بہت اعتبار کر تا تھا اور وہ جانتی تھی کہ اس سب کے بعد بھی وہ راجو کو اسکے کام سے نہیں نکالے گا۔۔۔اسطرح اسکی نوکری بچ جائے گی۔۔

بلآخر اسکا پلین کامیاب رہا اور وہ سب کچھ ہار گئی۔۔۔۔۔۔اس نے سکندر کی دی ہوئی عزت کے احسان کا بدلہ اپنی عزت کی نیلامی کی صورت میں اتار دیا۔۔۔اسکی خوشیوں کے لیے اس نے اپنے دامن کو کانٹوں سے بھر لیا۔۔خود کو عرش سے فرش پر گرا لیا۔۔۔سکندر کی محبت کے چراغ کو اپنے ہاتھوں سے بجھا دیا۔۔۔۔اب کبھی وہ میری طرف نہیں دیکھے گا اور اپنی زندگی پہلے کی طرح جیئے گا۔۔

گل بہار ننگے پیر سڑک پل چلتی جارہی تھی۔۔۔پیروں میں چھبنے والے پتھروں اور کانٹوں کا بھی ہوش نہیں تھا جب زندگی خود درد بن جائے تو باقی ہر چیز بے معنی ہو جاتی ہے۔۔۔بلآخر سب کچھ ختم ہوگیا ساری امیدیں دم توڑ گئیں۔۔۔یہ سوچ کر اس نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔

ہر درد کی دوا نہیں ہوسکتی ۔۔۔

ہر درد کا مداوا نہیں ہوسکتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *