Umeed by Kiran Malik NovelR50659 Last updated: 2 May 2026
No Download Link
254.3K
15
Rate this Novel
Umeed by Kiran Malik
لال فراک جو پیروں تک آرہا تھا۔۔۔۔سر پر دوپٹہ۔۔۔بالوں میں موتیے کے پھول۔۔۔۔آنکھوں میں کاجل،ہونٹوں پہ لال سرخی،زیورات سے لدی ہوئی سر سے پیر تک تیار بلکل ایک دلہن کی طرح دکھائی دیتی تھی۔۔۔
مگر ۔۔۔ پاوں میں ایک چیز ایسی بھی تھی جو دلہن نہیں پہنتی اور وہ تھی۔۔۔۔"گھنگھروں"۔۔
کیا صرف یہی ایک فرق تھا؟؟نہیں۔۔۔صرف اسی ایک چیز نے ہی تو ہر فرق کو واضح کر دیا تھا۔۔
وہ خود کو آئینے میں سجا سنورا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔دل ہر روز کی طرح رونے کو چاہ رہ تھا مگر اب وقت رونے کا نہیں تھا۔۔
جتنا رونا چاہو اسکی اسے اجازت اپنے کام کے بعد تھی اس سے پہلے نہیں۔۔۔۔ یہ جودہ بائی کا حکم تھا اور اس حکم سے انکار کی اجازت کسی کو نا تھی۔
ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ گل بہار۔۔۔آج تو ہر ایک کے دل پر چھریاں چلنے والی ہیں۔۔۔
جودہ بائی نے اس کے قریب آ کر کہنا شروع کیا اور پھر آہستہ سے اسکی تھوڑی کو چھوا۔۔۔
گل بہار کو یوں لگا جیسے وہ منڈی میں بکنے والا ایک جانور ہے جسے ہر زاویے سے پرکھنے کے بعد یہ طے کیا جا رہا ہو کہ وہ بکنے کے قابل ہے یا نہیں۔۔۔
سچ مچ وہ ایک جانور ہی تو تھی جس پر ہر کوئی اپنی مرضی سے بولی لگاتا۔۔۔نوٹ برساتا۔۔۔۔اور پھر سورج نکلنے سے پہلے منہ چھپا کر روشنی میں گم ہوجاتا کہ کہیں اسکی اصلیت نا کھل جائے۔۔۔۔اور پھر اگلی رات وہی بولی وہی نوٹ وہ ساری کہانی دہرائی جاتی۔۔۔۔
اسے تو منڈی میں بکنے والے جانور بھی خود سے زیادہ خوش قسمت لگتے تھے کم از کم انکے خریدار انہیں دن کے اجالے میں بھی اپنا کہتے تھے۔۔۔۔
اے ہے کہاں کھو گئ رے گل بہار۔۔۔۔ایک تو تیری مجھے ہر وقت کھوئے رہنے کی عادت نا زہر لگتی ہے۔۔۔۔پتا نہیں کیا کیا سوچتی رہتی ہے۔۔۔خوش رہا کر پگلی۔۔۔۔
چل اب سارے مہمان آچکے ہیں تیری راہ تک رہے ہیں۔۔۔ساری تیاریاں مکمل ہیں ۔۔۔۔
اور گل بہار نے صرف سر ہلانے پہ ہی اکتفا کیا۔۔۔اور جودہ بائی کے ساتھ ہو لی۔۔۔۔
وہ خاموشی سے سر جھکائے انکے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔۔۔اور وہ مسلسل بولتی رہیں۔۔۔
ہاں گل بہار تجھے یاد ہے نا کہ کل تیری بولی لگنی ہے۔۔۔اتنا تو مجھے پتا ہے کہ تیری بولی سب سے اونچی ہو گی۔۔۔ارے ہوبھی کیوں نا "حور" ہے تو شان ہے اس کوٹھے کی۔۔۔۔۔میں تو شکر ادا کرتی ہوں تیرے ماں باپ کا کہ تجھے کچرے کے ڈھیر پہ چھوڑ گئے اور اس دن میری تجھ پہ نظر پڑ گئ۔۔۔۔ورنہ ہم تو اتنے قیمتی ہیرے سے محروم ہی رہ جاتے۔۔۔۔
دونوں اب سیڑھیاں اتر رہی تھیں۔۔۔ کوٹھہ کافی بڑا تھا اور اسکے کمرے سے مہمان خانہ کافی فاصلے پر تھا۔۔۔۔ہر طرف پھولوں کی سجاوٹ،روشنیاں قالین۔۔ہر چیر کی تیاری میں روز کی طرح خوب محنت کی گئ تھی۔۔
پر اس سب کی پرواہ کسے تھی۔۔
اس نے ابھی تک سر نہیں اٹھایا تھا بس جودہ بائی کے پیروں کے ساتھ پیر ملا رہی تھی۔۔۔
ویسے سچ ہے گل بہار جتنا خرچہ تجھ پہ ہم نے کیا ہے اتنا کسی پہ نہیں کیا۔۔۔۔ تجھے اب تک میلا اس لیے نہیں ہونے دیا کہ ایک ہی بار میں ساری رقم وصول کرکے تجھے اس آدمی کے ساتھ ہی رخصت کر دیں۔۔۔۔
اب بس کل کی بولی کا انتظار ہے اور تجھے اس آدمی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے۔۔۔۔بس۔۔۔۔جودہ بائی کی آنکھوں میں کمینگی ، مکاری اور فحاشی صاف جھلکتی تھی اور ہونٹوں پہ شاطرانہ مسکراہٹ قائم رہتی تھی۔۔
آخر کار دونوں مہمان خانے میں پہ پہچ گئیں جہاں سارے مہمان موجود تھے۔۔۔۔۔۔بڑے بڑے رءوسا۔۔۔بزنس مین ۔۔۔۔سیاستدان۔۔۔۔۔مہمان کی بجائے جسموں کے پجاری کہنا زیادہ بہتر ہے۔
جودہ بائی نے اشارہ کیا اور رقص شروع ہوا۔۔۔۔
گل بہار نے بڑی مہارت سے رقص شروع کیا۔۔اسی چیز کی تو اسے سالوں مشق کروائی گئ تھی۔
اسکے قدم فرش پر دھرک رہے تھے اور تبلے کی تھاپ۔۔۔۔ اسکے پیروں میں بندھے گھنگھروں کی آواز اور ان سب کے ساتھ ان لوگوں کی واہ وائی۔۔
وہ وہاں ہوکر بھی وہاں نہیں تھی بس ایک گڑیا کی چابی گھما دی گئ تھی اور وہ گھوم رہی تھی۔۔۔۔نا اسکے جزبات تھے نا احساسات ۔۔۔۔بس ناچنا تھا سو وہ ناچ رہی تھی۔۔
اردگرد بیٹھے سارے لوگ اپنی جیب سے نوٹ نکال نکال کر گل بہار کے قدموں میں نچھاور کر رہے تھے۔۔۔۔ لبوں پر واہ واہ سبحان اللہ ، ماشاءاللہ کے القابات ۔۔۔منہ میں پان،ہاتھ میں شراب کا گلاس اور آنکھوں میں بے حیائی ہی بے حیائی دکھائی دیتی تھی۔
جتنا پیسا وہ ایک رات میں ایک رقاصا کے اوپر لٹا رہے تھے اتنا شاید اپنی پوری ذندگی میں اللہ کے نام پر خرچ نا کیا ہو۔۔
رقص آخر کار دوگھنٹے کے بعد ختم ہوا۔۔۔۔گل بہار کے پاوں سوج چکے تھے اور چکر آرہے تھے مگر پرواہ کسے تھی۔۔۔۔۔وہاں پرواہ کرتا بھی کون۔۔۔
پرواہ انکی کی جاتی ہے جو آپ کے اپنے ہوتے ہیں۔۔۔۔اور وہ اپنے نہیں تھے صرف خریدار تھے۔
جودہ بیگم نے باری باری سب سے گل بہار کا تعارف کروایا اور خصوصی مدعو کیا کہ وہ کل کی نیلامی میں ضرور شرکت کریں۔۔۔۔
اور وہ سب کے سب ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔۔۔۔
جی جی جودہ بائی ۔۔۔ہم تو کب سے آپ سے گزارش کر رہے ہیں کہ اس گل کو ہمارے گھر میں بہار بن کر آنے دیں پر آپ ہی بضد تھیں اور ہمیں ہر رات کانٹوں پر سلا دیتی تھیں۔۔۔۔۔شکر ہے آپکو ہمارا خیال آ ہی گیا۔۔۔۔۔
گل بہار سے ان لوگوں کے درمیاں کھڑا رہنا کافی مشکل ہو رہا تھا وہ لوگ پوری طرح نشے میں تھے اور انکے ہاتھ بھی بے قابو تھے اور بار بار بھٹک کر اس کی طرف آ رہے تھے۔۔۔۔۔
اس لیے اس نے خراب طبیعت کا بہانا بنا کر اپنی جان چھڑوائی اور وہاں سے اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔۔۔ اور جودہ بائی ان سب کو اپنے کوٹھے کی باقی لڑکیوں کے کمروں میں بھیجنے لگیں۔۔۔۔ جن کی وہ قیمت ادا کرچکے تھے۔
کمرے میں آکر اس نے خود کو قید کر لیا۔۔۔۔اب سے وقت اور آنسو گل بہار کی مرضی کے تھے تب تک جب تک اگلے دن کا سورج طلوع نہیں ہوجاتا۔
