وہ سجی سنوری بیڈ پر اپنا لہنگا پھیلائے بیٹھی تھی۔
آج اس کی دلی مراد پوری ہوچکی تھی۔اس نے وہاج سلطان کو آخر حاصل کرہی لیا تھا۔
آنے والے لمحات کا سوچتی وہ گلابی پڑتی کبھی پسینے سے بھری ہتھیلیاں سہلاتی تو کبھی پیشانی پر چمکے پسنے کو صاف کرتی۔۔
وہاج سلطان کی بہنیں اسے خوب تسلی دے کر گئیں تھی۔
جب واش روم کا دروازہ کھلا اور وہ ڈر کر اچھلی۔
وہاج!! آپ۔۔۔آپ تو باہر تھے۔ پھر اندر کیسے آئے؟
اسے عام سےحلیے میں دیکھ کر اسے کس انہونی کا احساس ہوا۔
ہاں میں باہر ہی تھا اب بھی سب لوگوں کے مطابق باہر ہی ہوں۔لیکن میں تمہارے پاس ہوں، تمہارے گناہ کی سزا دینے کے لیے،،
وہ جارحانہ تیور لیے اس کی جانب بڑھا، جب وہ خوف سے سفید پڑتے پیچھے کھسکی۔
اس نے بازو سے جکڑ کر اپنے قریب کھینچا۔
وہ سینے سے ٹکرائی بمشکل فاصلہ بنا پائی تھی۔
تم نے میری عزت کا تماشہ بنا کر اچھا نہیں کیا مسز انابیہ سلطان،۔
لیکن اب میں تمہیں بتاؤں گا کہ عزت کا جنازہ نکالنا کیا ہوتا ہے۔
سب کے مطابق میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں۔لیکن تم اغواہ ہوچکی ہو اور
جب کچھ دن بعد تم میرے بچے کی ماں بنے لٹی پٹی گھر واپس آؤ گی تو سب سے پہلا ہمدرد تمہارا میں ہوں گا۔
تم سب کو یقین دلاتی رہو گی کہ یہ بچہ میرا ہے لیکن کوئی یقین نہیں کرے گا
کہ یہ بچہ سلطان شاہ کا ہے۔کیونکہ تم ایک اغوا شدہ لڑکی کہلائی جاچکی ہوگی۔
اور میں بے قراری سے تمہیں اتنے دن سے تلاش کررہا ہوں گا۔
دیکھو کتنی سولڈ سٹوری ہے۔
وہ طنزیہ مسکرایا جبکہ وہ اس کا سفاک سرد چہرہ دیکھ کر ساکت رہ گئی ،۔
نن نہیں وو وہاج آپ۔۔۔ایسا نہیں کریں گے۔۔۔”
وڈیروں سے کبھی اچھے کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔وڈیرے ظالم ہوتے ہیں ،
وہ محبت کے معنی نہیں جانتے۔اور جو ان کی عزت پر حرف لے آئیں ان کو برناد کردیتے ہیں۔
اس نے چہرہ قریب کیے کہا اور ایک دم اس کی مخصوص نس کو دبادیا۔
وہ اس کی بازؤں میں تڑپتی جھول گئی۔وہاج سلطان نے اس کے سجے سنورے سراپے کو بانہوں میں بھر کر باہر کی جانب قدم بڑھائے،۔
یقیناً وہ اسے پچھلے دروازے سے باہر لے جانے والا تھا۔