63.2K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

“سر میں اندر آ سکتی ہوں ؟” اس نے حنان کے کیبن کا دروازہ ناک کرتے ہوئے پوچھا تھا
“جی مس فاکہہ… تشریف لائیں ” وہ کسی فائل میں گم تھا, وہ شکریہ کہہ کر اندر آ گئی
“سر یہ دونوں فائلز مکمل ہو گئی ہیں” وہ فائلیں اس کی میز پر رکھتے ہوۓ بولی
“ٹھیک ہے, میں دیکھ لیتا ہوں ” حنان نے کہا
“سر مجھے دس دن کی چھٹی مل سکتی ہے ؟” اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا
“دس دن… کیوں ؟” حنان کی آواز ایک دم اونچی ہو گئی تھی
“سر پرسوں میری شادی ہے… ” وہ نروس ہو کر انگلیاں مروڑنے لگی تھی
“اوہ اچھا اچھا… بہت مبارک ہو پھر تو آپ کو… بیٹھیں آپ ” حنان کا موڈ ایک دم خوشگوار ہوگیا تھا
“شکریہ سر” وہ کرسی پر بیٹھ گئی
“کیا کرتے ہیں آپ کے فیوچر ہسبینڈ ؟” اس نے پوچھا
“سر وہ… شوبز میں کام کرتے ہیں” وہ بتاتے ہوئے ہچکچا سی گئی تھی
“اچھا… واہ بھئی, پھر تو بڑے چارمنگ ہوں گے, میرا مطلب شوبز تو دنیا ہی حسین لوگوں کی ہے” حنان دھیرے سے مسکرایا تھا
“جی سر… ” اس نے بس سر جھکا لیا
“ایکٹر ہیں ؟” اس نے پھر پوچھا
“نو سر… ماڈل ہیں” وہ مسلسل اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی
“اچھا ٹھیک ہے آپ ان بیچاری انگلیوں کو یوں تہس نہس نہ کریں اور دس دن کی چھٹی کر لیں… خدا آپ کو ہمیشہ خوش رکھے” حنان نے اسے دعا بھی دے دی تھی, وہ ایک نظر اس کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھتی ہوئی کھڑی ہو گئی
“شکریہ سر” اس نے کمرے سے باہر نکلتے ہوۓ کہا تھا
………………………..
“پھر کیا سوچا تم نے رشا… ؟” حاتم نے آج پھر اسے گھیر لیا تھا
“کس بارے میں ڈیڈ ؟” اس نے پوچھا
“شادی کے بارے میں” وہ بولے
“ڈیڈ میں نے کچھ بھی نہیں سوچا… اور نہ سوچوں گی, کم ازکم اگلے دس, پندرہ سال تک تو نہیں” وہ تن کر بولی تھی
“ٹھیک ہے تم نہ سوچو… میں سوچ لیتا ہوں پھر” انہوں نے کہا
“آپ کیا سوچیں گے ؟” وہ ان پر چڑھ دوڑی
“میں سوچ چکا ہوں… اب تم پہلے لڑکا دیکھو گی یا اسے بلوا لوں ؟” حاتم قریشی سب کچھ طے کئے بیٹھے تھے
“ڈیڈ… ” وہ چیخ پڑی
“رشا… میں تمہارا باپ ہوں نہ کہ تم میری… سمجھیں, تمہارے پاس صرف دو دن ہیں, اگر کوئی نظر میں ہے تو مجھے بتا دو, ورنہ میں پرسوں لڑکے کو بلوا لوں گا” وہ اسے وارننگ دیتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے
…………………….
گلے سے پھولوں کا ہار اتارتے ہوئے وہ اس کے سامنے آ بیٹھا, فاکہہ نے ایک بھر پور نظر اس پر ڈالی تھی
“تمہاری منہ دکھائی… ” شیراز نے ایک بریسلٹ اس کی طرف بڑھا دیا, فاکہہ نے چپ چاپ اپنی کلائی اس کے آگے کر دی, شیراز نے وہ بریسلٹ اس کی کلائی میں سجا دیا
“آپ خوش ہیں شیراز ؟” فاکہہ کو اس کے چہرے پر خوشی کی ایک بھی رمق نظر نہیں آئی تھی
“خوش ہوں تو تمہارے سامنے بیٹھا ہوں نا… ” شیراز نے اس کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا تھا
“شیراز… میں جانتی ہوں ابھی آپ کا کیرئیر سٹارٹ ہوا ہے اور شوبز جیسے پروفیشن میں شادی شدہ لوگوں کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے, میرا آپ سے وعدہ ہے کہ میں کبھی آپ کے پاؤں کا کانٹا نہیں بنوں گی, میری طرف سے آپ پر کوئی پابندی نہیں ہوں گی, آپ جو کرنا چاہیں کر سکتے ہیں, میں امی اور راکعہ کو خود سپورٹ کر لوں گی… اپنا خرچہ بھی خود ہی اٹھا لوں گی, میری وجہ سے کبھی کوئی پریشانی نہیں ہو گی آپ کو… ” وہ کہتی چلی گئی, شیراز بس چپ چاپ سنتا رہا
حالانکہ جو کچھ وہ کہہ رہی تھی…. وہ شیراز کو کہنا چاہئے تھا
……………..
“پریشان ہو ؟” وہ جوس کا گلاس ہاتھ میں لئے اس کی طرف آ گیا, ان دونوں کو ایک ساتھ ایک کمرشل آفر ہوئی تھی, وہ اسی کے شوٹ پر آۓ ہوۓ تھے
“نہیں تو… ” رشا ٹال گئی
“پریشان ہو تو جوس گرم کر لیا نا… ” شیراز دھیرے سے مسکرا کر بولا
“میرے ڈیڈ نے مجھے پریشان کر رکھا ہے… بس ہر وقت میری شادی کا رونا روتے رہتے ہیں” وہ ایک دم پھٹ پڑی
“کہتے پہلے شادی کر لو… پھر جو مرضی کرتی رہنا, بھلا شادی کے بعد بندے کی کوئی مرضی رہ جاتی ہے” وہ انتہائی عاجز تھی, شیراز بس چپ چاپ اس کی سنے گیا
“سنو… تم کب شادی کرو گے ؟” رشا نے اچانک ہی پوچھ لیا
“ابھی تو نہیں… ” وہ گڑبڑا گیا تھا
“شیراز… یار میری بات سنو, تم نے جب شادی کرنی ہو گی کر لینا… لیکن ابھی کے لئے مجھے ایک فیور دے دو, مجھ سے پیپر میرج کر لو” رشا کو ایک موہوم سی امید نظر آئی تھی
“بالکل چپکے سے… بالکل سادگی سے ہم دونوں نکاح کر لیتے ہیں, میرے ڈیڈ بھی مطمئین ہو جائیں گے اور میں بھی اس روز روز کے جنجھٹ سے آزاد ہو جاؤں گی” وہ کہتی چلی گئی
“لیکن رشا… ” رشا نے اس کی بات کاٹ دی
“جب تمہارا دل کرے اس رشتے کو ختم کر دینا… یہ صرف ایک کاغذی رشتہ ہو گا” رشا اس کے سر پر سوار ہو گئی تھی
“تمہارے ڈیڈ مان جائیں گے ؟” شیراز نے پوچھا
“میں منا لوں گی” رشا نے کہا
“دیکھو رشا… میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا, میں ایک مڈل کلاس فیملی سے ہوں, میری صرف ایک بیوہ ماں ہے اور ایک بہن ہے, ہر ماں کی طرح وہ بھی دھوم دھام سے میری شادی کرے گی…اور یقیناً کسی نہ کسی رشتے دار کے ہاں ہی کرنا چاہے گی, اگر تم مجھ سے پیپر میرج کرنا چاہتی ہو تو صرف میں تمہارے ڈیڈ سے ملوں گا, میری فیملی نہیں… میری ماں کسی صورت اس سب کے لئے نہیں مانے گی, سب کچھ انتہائی خاموشی سے ہو گا اور نکاح کے بعد بھی تم اپنے ڈیڈ کے گھر ہی رہو گی… جب تک میں اپنا ذاتی گھر نہیں بنا لیتا, میں تمہیں اپنے گھر لیکر نہیں جاؤں گا” شیراز کہتا چلا گیا
“تم میرے ڈیڈ سے تو ملو…باقی پھر دیکھتے ہیں” رشا نے ایک لمبی سانس بھری تھی
……………………
وہ اپنے آفس میں تھا جب اسے رشا کی کال آئی
“کہاں ہو تم ؟” ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کی آواز کے جلترنگ حنان کو ڈانواں ڈول کر گئے
“آفس میں…” اس نے کہا
“شام کو گھر آ سکتے ہو ؟” رشا نے کہا
“خیریت… ؟” حنان نے پوچھا
“تم سے یک کیس لڑوانا ہے اپنا… ” وہ مسکرا کر بولی تھی
“اور اگر میں ہار گیا تو… ؟” حنان نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تھی
“سوال ہی پیدا نہیں ہوتا, بڑے پرانے وکیل ہو تم میرے” رشا نے کہا
“کیس کیا ہے ؟” اس نے پوچھا
“تم شام کو آؤ تو سہی… پھر بتاتی ہوں ” رشا نے کہا
“اوکے باس” حنان نے مسکراتے ہوئے کال کاٹ دی تھی
…………………..
آج ان دونوں کے کمرشل شوٹ کا آخری دن تھا, میک اپ مین رشا کو ریڈی کر کے شیراز کی طرف متوجہ ہو گیا, شیراز کا موبائل رشا کے ساتھ والی کرسی پر پڑا تھا , اچانک اس پہ کال آنے لگی, رشا نے ایک دو دفعہ تو اگنور کر دیا لیکن جب تیسری دفعہ وائبریشن ہوئی تو اس کا موبائل اٹھا لیا
فاکہہ کی کال تھی
ایک نظر شیراز کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے کال ریسیوکر لی
“ہیلو… شیراز ؟” فاکہہ کی آواز ابھری تھی
“شیراز تھوڑا مصروف ہے, آپ کون ؟” اس نے پوچھا
“میں ان کی وائف بات کر رہی ہوں, پلیز اگر وہ پاس ہیں تو میری ان سے بات کروا دیں, ان کی امی کی طبعیت اچانک خراب ہو گئی ہے” فاکہہ کہتی چلی گئی, رشا سن رہ گئی تھی
اس نے جھوٹ بولا تھا… وہ سنگل نہیں تھا
وہ شادی شدہ تھا
کال کاٹتے ہوئے اس نے شیراز کا موبائل زور سے کرسی پر پھینکا اور اٹھ کھڑی ہوئی
“مجھے ایک ضروری کام سے جانا پڑ گیا ہے, آپ بیشک یہ شوٹ کسی اور سے کروا لیں… “وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے ڈائریکٹر کی طرف آئی تھی
“لیکن میڈم… ہوا کیا ہے؟” وہ چکرا گیا
“اور ہاں… ” وہ جاتے جاتے شیراز کے پاس رکی
“تمہاری وائف کی بار بار کالز آ رہیں ہیں… پہلے اس کی سن لو” رشا کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے, شیراز اس کی بات سن کر دم بخود رہ گیا
…………………..
“آخر کیا ضرورت تھی مجھے کال کرنے کی… اور اگر کر ہی لی تھی تو یہ بکواس کرنا ضروری تھا کہ تم میری وائف ہو” وہ بری طرح فاکہہ پر برس پڑا تھا
“شیراز میں نے تو… ” شیراز نے اس کی بات کاٹ دی
“ایک دفعہ کر لی تھی نا… تو بس ٹھیک تھا, بار بار کال کیوں کی ؟” اسے شدید غصہ تھا
“شیراز پھپھو کی طبعیت… ” شیراز نے اسے پھر نہ بولنے دیا
“تو تم لے جاتیں انہیں ہسپتال… پہلے کونسا کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی تم” شیراز نے کہا
“شیراز بس کر… ایسا ہی گناہ کر دیا اس نے جو تو برسے ہی جا رہا ہے, اگر کہہ ہی دیا کہ تیری بیوی ہے تو تیرے پہ پہاڑ ٹوٹ گیا کیا ؟” رقیہ کی بس ہو گئ تھی
“امی آپ کو نہیں پتہ نا… میں نے اسی لئے کہا تھا آپ سے کہ کچھ دیر تک جائیں لیکن آپ کو لگی پڑی تھی میری شادی کی” اس کی توپ کا رخ رقیہ کی طرف ہوگیا
“مجھے بس یہ بتا دے کہ اگر سب کو یہ پتہ چل گیا کہ تیری بیوی نے تجھے کال کی تھی تو کیا ہو گیا ؟” رقیہ نے کہا, شیراز بس انہیں دیکھ کر رہ گیا, اب انہیں اصل مسئلہ کیا بتاتا ؟ بس ایک نظر فاکہہ کو گھورتے ہوۓ وہاں سے چلا گیا
…………………..
وہ شام کو حاتم منزل پہنچا تو حسب معمول حاتم قریشی اور نورین لان میں بیٹھے چاۓ کا مزہ لے رہے تھے, وہ ان دونوں کو سلام کرتا ہوا اپنی نشست پر بیٹھ گیا
“رشا کہاں ہے ؟” آس نے پوچھا
“اپنے کمرے میں ہے ” نورین نے کہا
“رشا کا پھر سے کوئی آکڑا چل رہا ہے کیا ؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا
“کیوں ؟” نورین اسے چاۓ کا کپ پکڑاتے ہوۓ بولیں
“مجھے کال کر کہ بلایا ہے اس نے, کہہ رہی تھی کوئی کیس لڑوانا ہے” حاتم اور نورین ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے
“رشا کو بلاؤ” نورین نے ملازمہ کو آواز دی تھی, وہ کچھ دیر بعد ان کے پاس چلی آئی
“اسے کیوں بلوایا ہے ؟” حاتم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“آپ نے کہا تھا نا کہ میں دو دن میں آپ کو اپنی پسند کے بارے میں بتا دوں…تو میں نے لڑکا پسند کر لیا ہے” رشا نے دھماکہ کر فیا
“کون ؟” حاتم اور نورین دونوں نے ایک ساتھ پوچھا تھا
“حنان… ” رشا نے کہا
“کیا… ؟” سب سے اونچی آواز حنان کی تھی
“حنان… بیٹے تو مجھے تو بتاتا کہ تو اس سے شادی کرنا چاہتا ہے ” نورین کو سخت صدمہ تھا
“یعنی تم اس کا نہیں اپنا کیس لڑنے آۓ ہو” حاتم بھی بغور اس کی طرف دیکھ رہے تھے
اور وہ… حنان فارس
وہ بس منہ کھولے, آنکھیں پھاڑے رشا کو دیکھے جا رہا تھا
“تم تو کہہ رہی تھیں… ” رشا نے اس کی بات کاٹ دی
“ہاں تو یہ ہی ڈیسائڈ ہوا تھا کہ ہم دونوں مل کر ڈیڈ سے بات کریں گے” رشا نے اسے آ نکھ کے اشارے سے چپ رہنے کو کہا تھا
“ڈیڈ… میں حنان سے شادی کر لوں گی” وہ کہتے ہوئے اندر چلا گئی
“ماموں جان میں بس ابھی آیا… ” حنان ایک نظر ان دونوں کو دیکھتے ہوئے اس کے پیچھے ہی اندر آیا تھا
“یہ کیا تماشا ہے ؟” وہ اپنے بستر پر اوندھی پڑی تھی
“رشا… میں کچھ پوچھ رہا ہوں ” حنان اس کے قریب آیا تھا
“حنان میری زندگی اجیرن کی ہوئی ہے ڈیڈ نے… شادی, شادی, شادی… مجھے کہہ رہے تھے کہ خود کوئی ڈھونڈ لو ورنہ میں اپنی مرضی سے کسی سے کر دوں گا” وہ پھٹ پڑی
“تو تم ڈھونڈ لو پھر کوئی ؟” حنان نے کہا
“ڈھونڈا تھا… ” اس کا سر جھک گیا
“لیکن وہ شروعات میں ہی دغا دے گیا, حنان میری بات سنو… بس اس بار میری مدد کر دو, دوبارہ نہیں کہوں گی تم سے کچھ بھی, بس ایک بار ڈیڈ کو چپ کروانے کے لیے مجھ سے شادی کر لو.. پھر چاہے چھوڑ دینا… ” رشا سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی
“لیکن رشا… وہ میرے ماموں جان ہیں, میں بعد میں کیسے چھوڑ دوں گا تمہیں ؟” حنان نے کہا
“تم نہ چھوڑنا… میں خلع لے لوں گی” رشا کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود تھا
“اور اگر شادی کے بعد مجھے تم. سے محبت ہو گئی تو ؟” حنان نے اس کی آنکھوں میں جھانک تھا
نہ جانے کتنے سال ہو گئے تھے اسے رشا حاتم کی ان خوبصورت آنکھوں کے خواب دیکھتے…وہ بس خواب ہی تو دیکھ سکتا تھا , اسقدر حسین دل ربا کی خواہش کرنا تو شائد اس کا حق ہی نہیں تھا اسلئے آج تک چپ تھا
“نہیں ہوتی… ” رشا نے کہا
“رشا… ” حنان نے کچھ کہنا چاہا لیکن رشا نے اس کی بات کاٹ دی
“تم مجھ سے پیپر میرج کر رہے ہو بس… ” اس نے دھونس جما کر کہا تھا, حنان بس اسے دیکھ کر رہ گیا
…………………….
آج ان دونوں کا نکاح تھا, حاتم قریشی بہت خوش تھے… بہت ہی زیادہ خوش
رشا کے لئے حنان سے بہتر کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا تھا, نکاح کا فنکشن حاتم منزل میں ہی رکھا گیا تھا, صرف حاتم قریشی اور حنان کے چند قریبی دوست مدعو تھے, رشا کی ضد پر سب کچھ انتہائی خاموشی اور سادگی سے کیا گیا تھا, ڈنر کے بعد وہ اسے لیکر اپنے گھر آ گیا
سرخ رنگ کی ساڑھی میں اس کے برابر چلتے ہوئی وہ اس کی دھڑکنوں کو مسلسل منتشر کر رہی تھی
“میں بس کچھ دن یہاں رہوں گی پھر ڈیڈ کی طرف واپس چلی جاؤں گی, مجھے کوئی الگ کمرہ سیٹ کروا دو” سس نے کہا
“جاؤ اوپر میرے بیڈ روم میں چلی جاؤ, میں نیچے سو جایا کروں گا” حنان نے اسکے چاند چہرے سےنظریں چراتے ہوئے کہا تھا
……………..
وہ مسلسل دو ہفتوں سے رشا سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ نہ تو اس کا فون اٹھا رہی تھی اور نہ ہی کسی شوٹنگ سائٹ پر مل رہی تھی, وہ اسے کھونا نہیں چاہ رہا تھا, شیراز کے لئے وہ صرف ایک لڑکی نہیں تھی… شہرت اور کامیابیوں کا ایک دروازہ تھی جو اسے بند ہوتا نظر آ رہا تھا , آخر ایک دن وہ اسے ایک میوزیکل ویڈیو کی شوٹنگ سائٹ پر مل گئی
“رشا بس ایک منٹ… میری بات تو سنو” وہ تیر کی طرح اس کی طرف آیا تھا
“یہاں سے چلے جاؤ” رشا اس کی بات تک سننے کے لئے تیار نہیں تھی, شیراز اس کی شوٹنگ ختم ہونے تک وہیں رکا رہا اور وہ جیسے ہی فارغ ہو کر میک اپ روم کی طرف گئی, اس کے پیچھے ہی چلا آیا
“رشا… میری بات سنو” شیراز مسلسل اسے پکار رہا تھا
“گیٹ لاسٹ… ” رشا کو شدید غصہ تھا
“جسٹ ون منٹ… ” شیراز نے اس کا بازو پکڑ کر کھینچا تھا, رشا ایک دم اس کے سینے سے آ لگی اور اس سے پہلے کے الگ ہوتی, شیراز نے اس کے گرد اپنا بازو کس دیا
“چھوڑو مجھے… ” وہ کسمسا رہی تھی
“رشا… میری بات سنو, وہ شادی صرف ایک فارمیلیٹی ہے, صرف میری ماں کی خواہش… میں کبھی اس کے قریب نہیں گیا” شیراز کی سانسیں اس کے چہرے کو چھو رہی تھیں
“میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا رشا… ” وہ اس پر جھک رہا تھا
“تم نے جھوٹ بولا… ” نہ جانے کیوں ؟ نہ جانے کیسے ؟ رشا آس سے ہارتی جا رہی تھی, وہ اس کی کوئی بات سننا نہیں چاہتی تھی لیکن… پھر بھی سن رہی تھی, وہ اس کی کسی بات کا یقین نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن… پھر بھی کر رہی تھی
“صرف ایک بار میرا یقین کر لو… صرف آخری بار” شیراز نے سے بالکل بے بس کر دیا تھا, وہ بس اس کی انتہائی دلکش آنکھوں میں جھانکتی رہ گئی
…………………….
وہ اس دن شوٹنگ کے لئے نکلی تو راستے میں اس کی گاڑی دغا دے گئی, کئی بار سٹارٹ کرنے پر بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئی, سٹئرنگ پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے وہ باہر نکل آئی اور گاڑی لاک کر دی, وہاں سے فارس انٹر پرائزرز بس چند قدم پر ہی تھا, وہ سیدھی وہیں چلی آئی, سارا سٹاف اسے جانتا تھا, بڑے غرور سے چلتے ہوئے وہ سیدھی حنان کے آفس میں آ گئی
“حنان… گاڑی کی چابی دو” اس نے اندر آتے ہی اس کے اوسان خطا کئے تھے
“کیوں ؟ کیا ہوا ؟” وہ ٹخنوں سے اوپر تک آتی انتہائی ٹائیٹ فٹنگ جینز اور سلیو لیس گہرے سے گلے کی انتہائی ٹائیٹ فٹنگ شرٹ میں اس کے ہوش ربا سراپے کو نمایاں ہوتے دیکھتا رہ گیا
“میری گاڑی خراب ہو گئی ہے” وہ اس کے سر پر کھڑی تھی
“ذرا پیار سے مانگو” حنان نے اپنی کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بھرپور نظروں سے اسے دیکھا تھا
“حنان مجھے دیر ہو رہی ہے…” غصے سے کہتے ہوئے اس نے آگے بڑھ کر اس کی میز پر پڑی چابی اٹھانی چاہی لیکن حنان نے اس سے پہلے ہی جھپٹ کر چابی اپنے قبضے میں کر لی
“حنان… پلیز چابی دے دو” اس کا لحجہ تھوڑا دھیما ہو گیا
“اور پیار سے… ” حنان نے مسکرا کر کہا
“چابی دے دو… ” وہ بڑے ناز سے بولی تھی
“اور پیار سے…” حنان کو اس پر ٹوٹ کہ پیار آیا, رشا اسے ایک نظر دیکھتی ہوئی اس کی طرف بڑھی اور بڑے حق سے اس کی گود میں جا بیٹھی, وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ ہوۓ تھا, رشا نے اپنے دونوں بازو اس کی گردن کے گرد پرو دئیے, اسکے بدن سے اٹھتی تیز مہک حنان کے نتھنوں میں اترنے لگی تھی
“چابی دے دو… ” وہ اس کے بے حد قریب ہو کر دھیرے سے بولی تھی اور اس سے پہلے کہ حنان اس کی رعنائیوں کے زیر اثر کسی گستاخی کا مرتکب ہوتا, آفس کا دروازہ کھلا اور فاکہہ اندر داخل ہو گئی, حنان نے لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے خود سے الگ کیا تھا, فاکہہ بھی ایک دم بوکھلا گئی
“سوری سر…میں بعد میں…. ” اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی رشا اس پر چڑھ دوڑی
“اتنی تمیز نہیں ہے تمہیں کہ دروازہ ناک کر کہ اندر آتے ہیں جاہل لڑکی… ” اس کا پارہ آسمانوں کو چھو رہا تھا
“ایم سوری میم… میں ابھی چند سیکنڈ پہلے ہی سر کے آفس سے باہر نکلی تھی اور سر نے ہی کہا تھا کہ فائل لیکر ابھی واپس آؤ… مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ آپ اندر ہیں… ” فاکہہ نے اپنی صفائی دینا چاہی تھی
“اٹس اوکے فاکہہ… کوئی بات نہیں, ان سے ملو, یہ میری وائف ہیں, کچھ دن پہلے ہی ہمارا نکاح ہوا ہے” حنان کو اپنی ریپوٹیشن کی فکر پڑ گئی تھی
“مبارک ہو سر… میں ٹھر کر آ جاتی ہوں ” فاکہہ ایک نظر رشا کے دھواں دھار چہرے کو دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی
“اسے یہ بتانا کتنا ضروری تھا کہ میں تمہاری بیوی ہوں ” وہ حنان پر چڑھ دوڑی
“بہت ضروری تھا… وہ بھلا کیا سوچتی کہ میں کس کردار کا شخص ہوں ؟ حنان نے کہا
“دو چابی… ” رشا نے انتہائی غصے سے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ سے چابی چھینی اور اسے قہر آلود نظروں سے دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی, حنان ایک لمبی سانس بھر کر رہ گیا تھا
جاری ہے