Teri Dahleez Jannat Hai By Ayesha Zulfikhar Readelle50163

Teri Dahleez Jannat Hai By Ayesha Zulfikhar Readelle50163 Last updated: 15 August 2025

63.2K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Dahleez Jannat Hai

By Ayesha Zulfikhar

اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے رشا کو کال کی تھی, صد شکر کہ اس نے کال ریسیو کر لی "بولو حنان... " وہ آواز سے ہی بہت مصروف لگ رہی تھی "گھر کب آنا ہے مسز حنان فارس ؟" اس نے پوچھا, ایک لمحے کو تو وہ بول ہی نہ سکی "کیا مطلب... ؟" اس نے پوچھا "میں نے کہا... گھر کب آنا ہے ؟" حنان نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا تھا "کیوں ؟ تم نے کیا کرنا ہے مجھے گھر لا کر ؟" رشا نے کہا "کیا مطلب کیا کرنا ہے ؟ بیویاں شادی کے بعد اپنے شوہروں کے گھروں میں ہی رہتی ہیں" حنان نے کہا "حنان تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟" وہ تنگ آ گئی "بس اتنا کہ گھر واپس آ جاؤ" اس نے کہا "تمہیں ڈیڈ نے کچھ کہا ہے ؟" وہ تاڑ گئی "جس نے بھی کہا ہو... تم بس واپس آؤ, تمہیں جو کرنا ہے یہاں رہ کر کرو" حنان نے کہا "حنان ہم ن صرف ایک ڈیل کی تھی...ہمارا رشتہ صرف ایک کاغذی رشتہ ہے, سمجھے تم ؟" اسے غصہ آ گیا "ٹھیک ہے... پھر آج شام تک یہ بات ماموں جان کو سمجھا دو ورنہ میں تمہیں آ کر لے جاؤں گا" حنان نے ذرا سرزنش کے سے انداز میں کہتے ہوۓ کال کاٹ دی تھی ................ شیراز نے نیا گھر خرید لیا تھا, کچھ ہی دنوں میں وہ سارے معاملات طے کر کہ رقیہ اور فاکہہ دونوں کو وہاں لے آیا, وہاں سے فاکہہ کو فارس انٹرپرائزرز اور دور ہو گئی تھی, اس دن رات کو خلاف معمول وہ گھر پر ہی تھا, فاکہہ اسے چاۓ کا کپ پکڑاتے ہوۓ اس کے پاس ہی بیٹھ گئی, وہ پوری طرح اپنے سیل میں کھویا ہوا تھا "شیراز... " فاکہہ نے دھیرے سے اس کا بازو ہلایا "ہاں... " شیراز نے سیل پر سے نظریں ہٹاۓ بغیر کہا تھا "شیراز میں جاب چھوڑ دوں ؟" آس کے کہتے ہی وہ ایک دم چونک گیا "کیوں ؟" آس نے پوچھا "یہاں سے کمپنی بہت دور پڑتی ہے مجھے, سفر زیادہ ہو گیا ہے, اوپر سے پریگنینسی... میں بہت زیادہ تھک جاتی ہوں, اب تو ماشاءاللہ آپ کے پاس ڈھیروں آفرز ہیں, نیا گھر بھی لے لیا ہے, میں اگر اب جاب نہ بھی کروں تو... " شیراز نے اس کی پوری بات بھی نہ سنی "دیکھو فاکہہ... مجھے بس یہ بتا دو کہ میں اپنے کام کے لوازمات کا خرچہ اٹھاؤں یا... تمہارا ؟" اس نے کہا, فاکہہ چپ رہ گئی "تم نے ہی مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی میرے پیر کا کانٹا نہیں بنو گی, تم اپنا اور اپنے گھر والوں کا خرچہ خود اٹھا لو گی " شیراز نے کہا "تو اٹھا نہیں رہی ہوں شیراز... لیکن میری حالت تو دیکھیں ؟" وہ بے بسی سے بولی, اس کا تیسرا مہینہ چل رہا تھا, طبیعت ہر وقت بوجھل اور نڈھال ہوئی رہتی تھی "فاکہہ یار میں نے ابھی نیا گھر خریدا ہے, ابھی تو اس کے سارے پیسے بھی نہیں دئیے, تم پلیز ابھی جاب نہ چھوڑو, کچھ عرصہ اور میرا ساتھ دے دو" شیراز نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے, فاکہہ بس ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھ کر رہ گئی تھی ........................... وہ اور حنان پرسوں ہونے والی میٹنگ سے متعلق کچھ پوائنٹس ڈسکس کر رہے تھے جب چپڑاسی اس دن کا اخبار اور اس ہفتے کا سنڈے میگزین لئے اس کے آفس میں چلا آیا "یہاں رکھ دو... " ایک نظر چپڑاسی کی طرف دیکھتے ہوئے حنان دوبارہ اس کے ساتھ ڈسکشن میں مصروف ہو گیا تھا, یونہی اپنے سامنے پڑے میٹنگ ایجنڈے سے نظریں ہٹاتے ہوئے اس نے ایک نظر فاکہہ کی طرف دیکھا, وہ حنان کو تو سن ہی نہیں رہی تھی, بس پھٹی پھٹی نظروں سے اپنے سامنے پڑے سنڈے میگزین کے ٹائٹل کور کو دیکھے جا رہی تھی, حنان نے اسے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ نظر میگزین کی طرف چلی گئی رشا اور شیراز... ہوش اڑا دینے والا منظر ایک دوسرے سے بے حد قریب... وہ کسی ہئر شیمپو کا فوٹو شوٹ تھا... شیراز نے پوری طرح اسے اپنی بانہوں میں مقید کیا ہوا تھا اور وہ اپنے بال اس کے چہرے پر گراۓ اس پر جھکی ہوئی تھی حنان پانی پانی ہو گیا... اسے ایک دم قہر چڑھا تھا "اسے یوں گھور گھور کر دیکھنے سے مجھے شرمندہ کرنا بند کرو گی تم ؟" وہ فاکہہ پر چڑھ دوڑا, اس کی آنکھیں ایک دم لبالب بھر گئیں "گیٹ لاسٹ... " اس نے ہاتھ مار کر میز پر پڑی فائلیں تتر بتر کی تھیں, فاکہہ چپ چاپ اٹھ کھڑی ہوئی, ہولے ہولے چلتی ہوئی دروازے تک آئی اور پھر رکی "سر میں آپ کو شرمندہ نہیں کر رہی تھی... میں تو خود شرمندہ ہو رہی تھی " اس کے آنسو نکل آۓ, حنان دم بخود رہ گیا تھا "کیا مطلب... کیا یہ تمہارے... ؟" وہ بات مکمل نہ کر سکا "یہ میرے شوہر ہیں" وہ بے دردی سے گال رگڑتے ہوۓ باہر نکل گئی تھی, حنان اپنی کرسی پر بیٹھا رہ گیا, کچھ لمحوں بعد اپنی کرسی سے اٹھا اور باہر نکل آیا, وہ دونوں ٹانگیں کرسی پر چڑھاۓ, اس کی پشت سے ٹیک لگاۓ, آنکھیں بند کئے, جوس ہر جوس اپنے اندر انڈیل رہی تھی "اچھا سوری... اب میرے سر چڑھ کر اپنی حق حلال کی کمائی یوں جوس کے ڈبوں پر حرام نہ کرو" وہ اس کی میز کے پاس کھڑا ہو کر بولا تھا, فاکہہ بس نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کھڑی ہو گئی "سوری... مجھے غصہ آ گیا تھا " وہ واقعی نادم تھا "کوئی بات نہیں سر... " اس سے زیادہ وہ اور کیا کہتی اسے رشا پر شدید غصہ آ رہا تھا, رات تک وہ اپنے آفس میں بند ہو کر بیٹھا رہا, نہ کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا... بار بار نظر اس میگزین کی طرف جا رہی تھی, رات تقریباً دس بجے کا وقت تھا جب اس نے رشا کو کال کی "کہاں ہو ؟" اس کا لحجہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا تھا "گھر... کیوں کیا ہوا ... ؟" حنان نے اس کی پوری بات سنے بغیر ہی کال کاٹ دی اور دھواں دھار گاڑی چلاتا ہوا حاتم منزل چلا آیا, حاتم قریشی اور نورین ڈنر کر رہے تھے, وہ ان دونوں کو سلام کرتا ہوا رشا کے کمرے کی طرف آ گیا, وہ اپنے بستر پر اوندھی لیٹی ہوئی فل ٹائم شیراز سے خوش گپیوں میں مصروف تھی, اسے اپنے سر پر کھڑا دیکھ کر چونک گئی "کیا ہوا ہے ؟" اس نے سیل کان سے ہٹاتے ہوئے پوچھا "اسے بند کرو... " حنان نے کہا, رشا نے بادل نخواستہ کال کاٹ دی "ہوا کیا ہے... ؟" وہ بستر سے اٹھتے ہوئے بولی "میں تمہیں لینے آیا ہوں... گھر چلو" حنان نے کہا, رشا حیران رہ گئی "میں تمہاری نوکر نہیں ہوں جو اس لحجے میں بات کر رہے ہو" اسے غصہ آ گیا "رشا... گھر چلو" اس نے حتی المکان اپنے لحجے کو دھیما رکھنے کی کوشش کی تھی "نہیں جاؤں گی... صبح ہی تم سے خلع... " حنان نے اس کی بات پوری بھی نہ ہونے دی, تیر کی طرح اس کی طرف بڑھا اور صوفے پر پڑا سٹالر اٹھا کر زور سے اس کے منہ پر باندھ دیا, پھر انتہائی سختی سے اس کی کلائی پکڑی اور اسے گھسیٹتا ہوا نیچے لے آیا, رشا اپنی کلائی اس کی گرفت سے چھڑوانے کی پوری کوشش کر رہی تھی, وہ یونہی اسے لئے حاتم قریشی اور نورین کے پاس سے گزر گیا, وہ دونوں ایک لفظ بھی نہیں بولے, رات کے گیارہ بج رہے تھے جب وہ اسے ساتھ لیکر گھر آ گیا, لاؤنج میں آتے ہی اس نے رشا کو صوفے پر دھکا دیا تھا, رشا نے انتہائی غصے سے اپنے منہ پر بندھا کپڑا کھول دیا "کیا بیہودگی ہے یہ ؟" وہ گلا پھاڑ کر چلائی تھی "جو بیہودگیاں تم نے پھیلا رکھی ہیں ان کے مقابلے تو یہ کچھ بھی نہیں" حنان نے کہا "میں جو مرضی کروں... تم آخر ہوتے کون ہو میرے ساتھ یوں زبردستی کرنے والے ؟" وہ چلائی "تمہارا شوہر... سمجھیں" حنان اس کی طرف آیا تھا "تمہارا یہ زعم بھی صبح ہی ختم کرتی ہوں میں... خلع لیکر " وہ تڑخی "اچھا... مجھ سے خلع لینے کے بعد کس کے پاس جاؤ گی ؟" حنان نے پوچھا "جس کے پاس مرضی جاؤں..." وہ کھڑی ہو گئی "جسے چن رکھا ہے نا تم نے... وہ شادی شدہ ہے مسز رشا حنان... اور ایک بچے کا باپ بننے والا ہے" حنان نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا, وہ سن رہ گئی "ایک بچے کا باپ... " اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی تھی "خدا کے لئے بس کر دو رشا... بخش دو اس کی معصوم بیوی اور بچے کو" حنان اسے تاسف سے دیکھتا ہوا اوپر چلا گیا تھا اور رشا... وہ بے جان سی ہو کر وہیں صوفے پر گر گئی "شیراز... تم نے مجھ سے پھر جھوٹ بولا" اسے رہ رہ کر شیراز پر غصہ آ رہا تھا "اور میں... میں کیوں اس کی باتوں میں آ گئی ؟" اسے خود پر بھی افسوس ہو رہا تھا ......................... وہ اس دن آفس جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی جب دروازے کی گھنٹی بجی, شیراز ابھی تک بستر میں گھسا ہوا تھا, وہ جلدی سے اپنا بیگ کندھے پر ڈالتی ہوئی دروازے کی طرف آ گئی رشا اس کے گھر کی دہلیز پر کھڑی تھی "شیراز ہے ؟" فاکہہ کی حالت اسے اس کے ان تمام سوالات کے جوابات دے گئی جو وہ شیراز سے پوچھنے آئی تھی "جی... اندر ہیں" فاکہہ نے کہا "میں اس سے دو منٹ کے لئے مل سکتی ہوں ؟" رشا نے پوچھا "ضرور... تشریف لائیں" فاکہہ نے ایک طرف کو ہو کر اسے راستہ دے دیا, اسے لاؤنج میں چھوڑ کر وہ شیراز کو اٹھانے چلی گئی "تم یہاں ؟" وہ بے حد بوکھلایا ہوا باہر نکلا تھا, فاکہہ بار بار کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی "تم آفس جانے لگی تھیں ؟" رشا کو اندازہ ہو گیا "جی... " اس نے کہا "تو چلی جاؤ... مجھے بس اس سے ایک ضروری بات کرنی ہے" رشا کا انتہائی اکھڑ اور پرغرور لحجہ دیکھ کر فاکہہ نے اس سے مزید بات کرنے کی ضرورت ہی نہ محسوس کی, بس چپ چاپ اس کے ستے ہوۓ چہرے کی طرف دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی, رقیہ بیگم ابھی تک اپنے کمرے میں ہی تھیں "تم نے مجھ سے پھر جھوٹ بولا شیراز... " وہ تن فن کرتی اس پر چڑھ دوڑی "کیا مطلب ؟" شیراز سمجھ نہ سکا "تم نے کہا تھا کہ تمہاری شادی صرف ایک فارمیلیٹی ہے, تم کبھی اپنی بیوی کے قریب نہیں گئے, پھر آخر وہ پریگنینٹ کیسے ہو گئی ؟" رشا کو اس پر شدید غصہ تھا "رشا سنو تو... " وہ اس کی طرف کو آیا تھا "کیا سنوں ؟ شیراز آخر اور کتنے جھوٹ بولو گے تم ؟" نہ جانے کیوں رشا کی آنکھیں بھیگ گئیں "رشا... میری جان میری بات سنو, وہ بس ایک... " شیراز اسے منا نہیں پا رہا تھا "بکواس بند کرو... اور خبردار جو آج کے بعد مجھے اپنی شکل دکھائی تو " وہ اسے وارننگ دیتی ہوئی وہاں سے نکل گئی تھی ................ پورا ایک ہفتہ ہو گیا تھا اسے گھر میں مقید ہوۓ, سیل مسلس بند کیا ہوا تھا, باہر کی دنیا سے ہر رابطہ منقطع کیا ہوا تھا اور شیراز کی شکل تک نہ دیکھنے کی قسم کھا رکھی تھی, مسلسل ایک ہفتے سے وہ حنان کے گھر پر ہی تھی اس دن بھی وہ رات تقریباً نو بجے آفس سے گھر آیا تو وہ صوفے پر آڑی ترچھی ہو کر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی, حنان بس ایک نظر اسے دیکھتا ہوا اوپر چلا گیا, وہ اس سے بات ہی نہیں کر رہا تھا شائد اپنی بگڑی ہوئی بیوی کو راہ راست پر لانے کی کوشش کر رہا تھا وہ فریش ہو کر نیچے آیا, اپنے لئے چاۓ کا ایک کپ بنایا اور دھیرے سے اس کے ساتھ صوفے پر آ بیٹھا, رشا کچھ دیر تو ویسے ہی صوفے کی پشت سے ٹیک لگاۓ بیٹھی رہی, پھر دھیرے سے اٹھی اور اپنا سر حنان کے کندھے پر رکھ کر اس کے بالکل ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی "تم ناراض ہو ؟" اس نے پوچھا تھا, حنان کا دل یکدم ڈگمگا گیا وہ تو اس کا برسوں کا خواب تھی "تمہیں کیا لگتا ہے ؟" حنان نے کہا "اچھا سوری... " رشا نے ریموٹ ایک طرف پھینکتے ہوئے اپنے دونوں بازو اس کے گرد باندھ دئیے, حنان کی بس ہو گئ, شائد اس کے لئے اتنی سزا کافی تھی, دھیرے سے چاۓ کا کپ میز پر رکھتے ہوۓ اس نے رشا کا ہوش ربا سراپا اپنے بازؤں میں بھرا تھا "اب کیا سوچا ہے تم نے ؟" وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولا, رشا نے بولنے کی بجاۓ اپنے دونوں بازؤں کی گرفت آس کی گردن پر مضبوط کر دی تھی, اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا تھا اس لمحے اسے شیراز کی بے وفائی بری طرح چبھ رہی تھی, پورا ہفتہ ہو گیا تھا اسے ماتم مناتے... شیراز کی طرف سے بھلے ہی کوئی دلی وابستگی نہ ہوتی, لیکن اس نے واقعی دل لگایا تھا, شیراز پر اس کے ایک جھوٹ کے باوجود اعتبار کیا تھا اس لمحے حنان کے مضبوط بازؤں کی آغوش میں اسے ٹوٹ کر شیراز کی بے وفائی پر رونا آیا "رشا... " حنان کو لگا جیسے اس کی شرٹ بھیگ رہی ہے "میری جان... رو کیوں رہی ہو؟" وہ اسکے چاند چہرے پر اپنے ہونٹ ثبت کرتا ہوا پوچھ رہا تھا "سوری... " وہ دوبارہ اس سے لپٹ گئی "اوپر لے چلوں ؟" وہ اس سے پوچھ رہا تھا "لے چلو... " رشا کے کہتے ہی وہ اسے بانہوں میں اٹھا کر کھڑا ہو گیا "بعد میں غصہ تو نہیں کرو گی ؟" وہ بولا "نہیں کرتی... " رشا سے اس کے لبوں کا سامنا کرنا دوبھر ہو رہا تھا "صبح اٹھکر یہ تو نہیں کہو گی کہ یہ بس ایک پیپر میرج تھی ؟" وہ اسے بستر پر گراتے ہوئے پوری طرح اس پر حاوی ہوتا جا رہا تھا "نہیں کہوں گی" رشا کا وجود ہی کافی تھا اسے پاگل کرنے کے لئے... اور وہ پاگل ہوتا جا رہا تھا جاری ہے