543.1K
1

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yara by Wafa Shah Episode 01

Tere Sang Yara by Wafa Shah Episode 01

 

پورے کمرے کو گلاب اور موتیوں کے پھولوں سے سجایا گیا تھا ۔۔۔ساتھ میں روم کی مین لائٹ کو بجھا کر کینڈلز روشن کی گئی تھی ۔۔۔
جنکی مدہم سی روشنی اور پھولوں کی مہک کمرے کے ماحول کو مزید فزوں خیز بنا رہی تھی ۔۔۔
ایسے میں وہ اپنی منتشر ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ کمرے کے وسط میں رکھے جہازی سائز بیڈ جسکے چاروں اطراف موتیے کی لڑیاں لگی ہوئی تھی ۔۔۔
اپنے خوبصورت لہنگے کو پورے بیڈ پر پھیلائے ،،، روایتی دلہنوں کی طرح چہرے پر گھونگھٹ ڈالے بیٹھی تھی ۔۔۔جب اسے دروازہ کھلنے اور دھیرے سے بند ہونے کی آواز آئی تھی ۔۔
آنے والے کا لمحات کا سوچتے اسکی چھوٹی نازک ہاتھوں کی سفید ہتھیلیاں پسینے سے بھیگی ہوئی تھیں ۔۔۔
وہ ایک پروقار چال چلتا بیڈ کے قریب آ کر رکا ،،، اور اپنا چہرہ چھپائے بیٹھے اس وجود کو دیکھنے لگا جو اسکا عشق تھا ۔۔۔اسکے چہرے پر ایک الوہی سی خوشی جبکہ دل میں جذبات کا ایک طوفاں برپا تھا ۔۔۔ جسے بچپن سے چاہا ،،، آج اسے اپنے نام کر کے ہمیشہ کیلئے پا لیا تھا ۔۔۔
آج وہ پور پور سجی اسکی سیج سجائے بیٹھی تھی ۔۔۔ اس کے وجود اسکی آتی جاتی ہر سانس پر صرف اس کا حق تھا ۔۔۔ جس کیلئے وہ اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کرتا اتنا ہی کم تھا ۔۔۔
اس نے لہنگا ایک طرف کر کے بیڈ پر جگہ بنائی اور اس سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گیا ۔۔۔ جبکہ گھونگھٹ میں بیٹھے وجود نے اپنا سانس کہیں سینے میں ہی روک لیا تھا ۔۔۔
السلام و علیکم !! جس کے جواب میں اس نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔۔۔ جب اس نے اسکے نازک ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں کی نرم گرفت میں لیا اور انہیں انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے بات شروع کی تھی ۔۔۔
آپ جانتی ہیں میں آپ سے کتنی محبت کرتا ہوں ۔۔۔اتنی کے آج تک کسی چاہنے والے نے اپنے محبوب سے نہیں کی ہوگی ۔۔۔آپ میرے لیے بالکل ایسے ضروری ہیں جیسے جینے کیلئے ہر جاندار کو ہوا کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔
وہ اس سے اپنے عشق کا اظہار کر رہا تھا ۔۔۔ اپنی زندگی میں اسکی اہمیت بتا رہا تھا ۔۔۔
جبکہ سامنے والی اس کی باتیں اور اپنے ہاتھوں پر اسکا لمس محسوس کرکے بیہوش ہونے کے قریب تھی ۔۔۔ اسے اپنے دل کی دھڑکنیں اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی ۔۔۔
پھر اسکے ہاتھوں کو چھوڑ کر دھیرے سے اسکا گھونگھٹ اٹھایا ،،، اور اسکے بے پناہ مہسور کر دینے والے حسن کو دیکھتے جیسے ساکت ہوا تھا۔۔۔ وہ بنا پلک جھپکائے بس اسے دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔
وہ جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی اپنے پاس کوئی حرکت نا ہوتے دیکھ دھیرے سے پلکوں کی باڑ اٹھا کر سامنے بیٹھے وجود کو دیکھا ۔۔۔
اور ان بھوری کانچ سی آنکھوں کو خود پر ٹکے پایا ۔۔۔۔جن میں جذبات کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا ۔۔اسکی پلکیں لرز کر دوبارہ جھک گئی ۔۔۔
اس کے گھبرا کر نظریں جھکانے پر وہ وجود دھیرے سے مسکرایا تھا ،،، اور آگے ہو کر اسکی صبیح پیشانی پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی ۔۔۔جس پر وہ جی جان سے لرزی تھی ۔۔۔
اور آنسو جو اب تک رکے ہوئے تھے آنکھوں کی باڑ توڑ کر نرم گداز گالوں پر پھسلے تھے ۔۔۔جبکہ اسے روتے دیکھ وہ اب پریشان ہوا تھا ۔۔۔
ہے جان کیا ہوا ؟؟ آپ ٹھیک ہو ؟؟ اسکے معصوم چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے بہت نرمی اسکے آنسو صاف کرتے محبت سے پوچھا تھا ۔۔۔ جس پر اس نے اپنا سر اوپر نیچے ہلا کر ہاں میں جواب دیا ۔۔
تو پھر آپ رو کیوں رہے ہو اسکے لہجے میں بےچینی سی تھی ۔۔۔ پت،، پتا،،،نہیں اس کے منہ سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے تھے ۔۔
جنہیں وہ بمشکل ہی سن پایا ،،، پھر سارا معاملہ سمجھتے ہوئے اس چہرے پر ایک مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا ۔۔اس کا چہرہ نرمی سے اوپر اٹھاتے پیار سے بولا ادھر میری طرف دیکھیں ۔۔۔
سب سے پہلے تو ریلیکس ہو جائیں ،،، اور مجھے بتائیں آپکو ڈر لگ رہا ہے مجھ سے ۔۔اس نے اسکی طرف ایک نظر دیکھا اور نفی میں سر ہلایا تو پھر گھبرا کیوں رہی ہیں ۔۔۔
اس بار اسکا جواب خاموشی تھا ۔۔اچھا ادھر دیکھیں آپ کو اپنے پر مان یقین ہے نا ،،، بلا جھجک اسکا سر اوپر نیچے ہلا تھا وہ اسکی معصوم ادا پر دل و جان سے فدا ہوا ،،، تو پھر اس بات پر بھی یقین رکھیں کہ وہ آپکو کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا ۔۔۔
کریں گی نا مجھ پر یقین ،،،، اس نے ایک نظر اس خوبرو مرد کی طرف دیکھا جو اتنا پیارا تھا کہ جو ایک بار اسکی طرف دیکھ لے نظریں نا ہٹا پائے ۔۔۔صرف شکل و صورت ہی نہیں بلکہ کردار و سیرت میں بھی بےمثال تھا۔۔
جو ہزاروں لڑکیوں کا خواب تھا۔۔۔ صرف اور صرف اسکا تھا ۔۔۔جسے اوپر والے نے اسکے نصیب میں لکھا تھا ۔۔۔
بے ساختہ ہی اسے اپنی قسمت پر رشک آیا تھا ،،، اس نے آنکھوں میں آنسو جبکہ ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے ہاں میں سر ہلایا تھا ،،، اور وہ اس دھوپ چھاؤں سے منظر میں جیسے کھو گیا ۔۔۔
بے ساختہ ہی جھک کر اس نے اس کے مسکراتے ہوئے ڈمپل پر پیار کیا تھا ۔۔۔جب وہ پیچھے ہٹا تو وہ شرم سے اپنا جھکا سر کچھ اور جھکا گئی ۔۔دل کی حالت ایسی تھی جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا ۔۔۔
تو پھر اجازت ہے ۔۔۔اس نے اتنے عزت و احترام سے اجازت مانگی کہ وہ چاہ کر بھی منا نہیں کر پائی ،،، اور اسکی پرشوق نگاہوں سے بچنے کیلئے اس کے ہی وسیع کشادہ سینے میں اپنا چہرہ چھپا لیا ۔۔اس نے مسکراتے ہوئے اس گرد اپنی محبت کا حصار کھینچا تھا ۔۔۔
جیسے جیسے رات گزرتی گئی وہ اپنی خوشبختی پر نازاں ہوتی گئی۔۔۔
********************
وہ اس وقت اپنا غصہ بے جان چیزوں پر نکال رہا تھا ۔۔۔شیشے کی میز کو اتنی زوردار ٹھوکر ماری گئی تھی کہ گر کر ٹوٹنے کے بعد اس کے ٹکڑے پورے فرش بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔
صرف اتنا ہی نہیں جو جو چیز اس کے ہاتھ آ رہی تھی وہ اسے توڑتے جا رہا تھا ۔۔۔صرف چند ہی منٹوں میں اس نے خوبصورت ہال کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔
جبکہ گھر کے ملازم ایک طرف کھڑے تھر تھر کانپ رہے تھے ۔۔انہوں نے اپنے مہربان اور رحم دل مالک کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا ۔۔۔ جس نے کبھی نوکروں سے بھی اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی ۔۔ آج وہ پوری قوت سے چینخ رہا تھا ۔۔
نہیں چھوڑوں گا۔۔۔کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔اس ایک کا کیا پورا خاندان بھگتے گا ۔۔۔میں نے آج اپنا کل سرمایہ کھویا ہے ۔۔۔اسے چھیننے والوں کو کبھی خوش نہیں رہنے دوں گا ۔۔۔
ایسی دردناک موت دوں گا ۔۔۔کہ انہیں اپنے پیدا ہونے پر افسوس ہوگا ۔۔۔اس کے لفظ لفظ میں وحشت تھی ۔۔آنکھوں اور لہجے میں ایسی حیوانیت اور دردنگی کے سننے والے کی روح کانپ جائے ۔۔۔
وہ بھرپور توانا مرد ہال کے بالکل وسط میں گٹنوں کے بل بیٹھا اپنے ہونے والے نقصان پر جسکا کوئی مداوا نہیں تھا ۔۔۔ زار و قطار رو رہا تھا ۔۔
*********************
ابرش اٹھ جاؤ اور کتنی دیر سو گی ۔۔۔ایک تو جب دیکھو اس لڑکی کی نیند پوری نہیں ہوتی ۔۔۔ابیہا نے آگے بڑھ کر کھڑکی سے پردے سرکائے تھے ۔۔۔
جس سے سورج کی شریر کرنوں کو کمرے کے اندر آنے کی اجازت مل گئی تھی ۔۔اور سیدھا اس کے معصوم چہرے کا احاطہ کیا تھا ۔۔
ابرش نے کسمسا کر کروٹ بدلی تھی ۔۔ابرش اب تم اٹھ رہی ہو یا پھر میں تم پر پانی ڈال دوں ۔۔۔
اسے ٹس سے مس نا ہوتا دیکھ اب ابیہا نے اسے دھمکی دی تھی ۔۔۔جو کارآمد بھی ثابت ہوئی ۔۔وہ اپنی بند آنکھوں سمیت ہی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
کیا ہے بیا یار میں تھوڑی دیر اور سو جاتی تو کیا ہو جاتا ۔۔۔ویسے بھی آج سنڈے ہے ،،، ہفتے کے باقی کے پورے چھ دن ٹائم سے اٹھتی ہوں نا ۔۔۔ آپ پہلے ہی بہت دیر سو چکی ہیں ۔۔کیوں اپنے ساتھ مجھے بھی ڈانٹ پڑوانی ہے ۔۔۔
تمہیں پتا ہے جب تک گھر کے سب افراد ڈائنگ ٹیبل پر اکٹھے نا ہو جائیں سپیشلی تمہیں دیکھے بغیر دادا سائیں ناشتہ شروع نہیں کرتے ۔۔۔
پھر تم اتنی لاپرواہ کیسے ہو سکتی ہو ۔۔اس نے دادا سائیں کا نام سنتے ہی یکدم پوری آنکھیں کھول کر گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔
ابیہا بالکل سہی کہہ رہی تھی وہ آج کچھ زیادہ ہی دیر سو گئی ۔۔ناشتے میں واقعے بہت کم ٹائم بچا تھا ۔۔اور دادا سائیں کے بارے میں سوچ کر اسے شرمندگی بھی ہوئی تھی ۔۔
سوری بیا میں بس پانچ منٹ میں تیار ہو کر آئی ۔۔ اور آئندہ اس بات کا پورا خیال رکھوں گی ۔۔کہ صبح کے وقت جلدی اٹھ سکوں ۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے بات مکمل کی اور وارڈ روب سے کپڑے نکال کر واشروم چلی گئی پیچھے ابیہا نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
کیونکہ یہ بات وہ ہمیشہ بولتی تھی ۔۔ لیکن اس پر عمل بہت کم کرتی تھی ۔۔۔
*********************
وہ جب فریش ہو کر ڈائنگ ہال میں آئی تو تقریبا گھر کے سبھی افراد وہاں موجود تھے ۔۔۔
سربراہی کرسی پر دادا سائیں ، دائیں طرف اماں سائیں انکی ساتھ والی نشست پر انکے بیٹے ارمغان شاہ ان سے آگے موسی شاہ بیٹھے تھے ۔۔۔
گھر کی بہوئیں عظمی بیگم ( ارمغان شاہ کی بیوی ) اور نجمہ بیگم (موسی شاہ کی بیوی ) ناشتہ لگا رہی تھیں ۔۔۔
کیونکہ اماں سائیں کو نوکروں کے ہاتھ کھانا نہیں پسند تھا اس لیے ملازمہ ہونے کے باوجود کھانا گھر کی عورتیں ہی بناتی تھیں ،،، اور بائیں طرف باقی گھر کے چھوٹے بیٹھے تھے ۔۔۔
السلام و علیکم !! اس نے آگے بڑھ کر سب کو مشترکہ سلام کیا جبکہ دادا سائیں کے گلے میں بازو ڈال کر انکے گال پر بوسہ دیا تھا ۔۔
وہاں موجود سبھی لوگ اس کی معصومیت پر مسکرائے تھے ۔۔۔
انہوں نے بھی شفقت سے جواب دے کر اس کے سر پر پیار کیا تھا ۔۔سوری دادا سائیں میں آج میں پھر لیٹ ہو گئی ۔۔اور آپکو میری وجہ سے اتنا انتظار کرنا پڑا ۔۔
ارے ایسے کیوں بول رہی ہے ہماری گڑیا آپ کیلئے تو ہم اپنی جان بھی دے سکتے ہیں ۔۔۔یہ تھوڑا سا انتظار کون سا کوئی بڑی بات ہے ۔۔۔
پلیز دادا سائیں یہ جان دینے والی بات آپ دوبارہ نہیں کریں گے ورنہ میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی ۔۔۔
اچھا نہیں کرتے ۔۔۔ چلیں آپ بیٹھے اور ناشتہ کر لیں ۔۔۔وہ خوش ہو کر ہاں میں سر ہلاتی ان کے دوسرے گال پر بھی پیار کرتے ہوئے ،،،انکے بائیں طرف کی پہلی نشست سنبھال گئی ۔۔
ان دادا پوتی کی محبت ایسی ہی بےمثال تھی ۔۔ویسے تو دادا سائیں اپنے سبھی بچوں سے ایک سا ہی پیار کرتے تھے لیکن دو افراد گھر میں ایسے تھے جن میں انکی جان بستی تھی ۔۔۔
ایک ان کی پوتی ابرش اور دوسرا ان کا سب سے بڑا پوتا ضارب شاہ ۔۔۔
جبکہ اس کے بیٹھتے ہی زارون نے پیچھے سے اس کے بال کھینچے تھے ۔۔۔چڑیل کبھی جلدی بھی اٹھ جایا کرو ۔۔روز ہمیں تمہاری وجہ سے ناشتے کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے ۔۔۔
رہنے دیں لالا مجھے پتا ہے آپ کتنا انتظار کرتے ہیں ۔۔۔ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے جو بھوک بھوک کا شور مچاتے ہوئے چھوٹی ماں سے قیمے کے پراٹھے بنوا کر کچن میں بیٹھ کر کھائیں ہیں ۔۔بیا مجھے سب کچھ بتا چکی ہیں ۔۔
اس لیے میرے سامنے یہ مظلوم بننے کی ایکٹنگ نا ہی کریں تو بہتر ہے ۔۔۔ وہ اس پر طنز کرتے ہوئے بولی ۔۔۔زارون نے شکایتی نظروں سے ابیہا کی طرف دیکھا جو اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی ۔۔
وہ آس پاس دیکھتے ایسے انجان بن گئی جیسے اس نے کچھ سنا ہی نا ہو ۔۔۔
جبکہ ابرش نے مسکراہٹ دبائی تھی ۔۔۔
ان سب سے الگ زرمینے ایسے انہماک سے ناشتہ کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔جیسے اس سے ضروری دنیا میں کوئی کام نا ہو ۔۔۔وہ ایسی ہی تھی کھانے کے دوران سب کچھ فراموش کرنے والی ۔۔
اس لیے ان سب کی باتیں سننے کے باوجود لاتعلق سی پراٹھوں سے انصاف کر رہی تھی ۔۔۔
تایا سائیں آج دوپہر میں ضارب کی الیکشن مہم کا آخری اور سب سے بڑا جلسہ لاہور میں منعقد کیا گیا ہے ۔۔۔آس پاس کے علاقوں میں تو ہم کافی حد کامیاب رہے ہیں ۔۔۔
اگر یہ بھی ہماری توقع کے مطابق ہو گیا تو ان شااللہ ضارب کو جیتنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔چہرے پر سچی خوشی اور لہجے میں ضارب شاہ کیلئے بے پناہ محبت لیے حیدر شاہ ( دادا سائیں ) کے بھتیجے جبکہ ضارب کے ماموں موسی شاہ بولے تھے ۔۔۔
جبکہ ضارب کے ذکر پر دادا سائیں کے چہرے پر نا ختم ہونے والی مسکراہٹ در آئی تھی ۔۔خوش تو ارمغان شاہ بھی بہت تھے بھتیجے کی کامیابی پر ۔۔۔
آمین !! ان شااللہ ہمارا بچہ ہی جیتے گا ۔۔۔دادا سائیں کے لہجے میں اپنے پوتے کیلئے فخر بول رہا تھا ۔۔۔ہوتا بھی کیوں نا ضارب شاہ نے چھوٹی سی عمر میں گاؤں کی سرداری کے ساتھ ساتھ انکی سیاست کو بھی سنبھال لیا تھا ۔۔۔
جبکہ انکے دونوں بیٹوں نے سیاست سے زیادہ بزنس کو ترجیح دی تھی ۔۔۔جو ملک بھر میں پھیلا ہوا تھا ۔۔۔جسے ارمغان شاہ کے ساتھ اب انکا بڑا بیٹا واسم شاہ سنبھال رہا تھا ۔۔۔
دادا سائیں کی بات پر سب نے دل سے آمین بولا تھا ۔۔۔ ناشتے کے بعد ہم فون کریں گے انہیں کے جلسے کے بعد وہ سیدھا حویلی آئیں ۔۔
پھر الیکشن کے دنوں میں تو بالکل ٹائم نہیں ملے گا انہیں گھر آنے کا ۔۔ انکی بات پر سب بڑوں نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔
**********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *