Tere Ishq Mein Yonhi Na mar Jaye by Hajra Chudhary NovelR50679

Tere Ishq Mein Yonhi Na mar Jaye by Hajra Chudhary NovelR50679 Last updated: 13 May 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Mein Yonhi Na mar Jaye by Hajra Chudhary

: حیا اور میرب اپنی کی گئی شاپنگ دیکھ رہی تھی ۔کتنی پیاری لگ رہی ہو حیا
۔میر ب نے ستائشی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا اس نے حیا کے اوپر محرون کلر کا ڈوپٹہ دیا تھا
اور اب وہ اسے یک ٹک دیکھ کر اس کی تعریف کر رہی تھی جس پر حیا نے شرما کر سر نیچے کر لیا ارے ابھی مت شرماؤ دولہا بھائی کے سامنے شرمآنہ وہ تمہیں ایسے دیکھیں گے تو اپنے ہوش کھو دیں گے
۔مرب نے مزید ٹانگ کھینچتے ہوئے کہا پورے بیڈ پر کپڑے ہی کپڑے پھیلائے ہوئے تھے ۔جب کے صوفے پر بھی کچھ شاپنگ بیگز رکھے ہوئے تھے
میرب نے ایک نظر کمرے پر دورای اور بولی حیا تم دوسرے روم میں چلی جاؤمیں اس کی صفائی کر دیتی ہوں فائزہ بھابھی کیچن میں مصروف ہیں بھائی حمزہ بھی آنے والے ہوں گے
عائشہ اور لائبہ بھی آ رہی ہیں میں جلدی سے کام نپٹا لیتی ہوں پھر سب بیٹھ کے گپے لگائیں گے وہ چہکتی ہوئی آواز میں بول رہی تھی لیکن حیا کا حمزہ کا آنے کا سن کر رنگ اڑ چکا تھا
وہ حمزہ سے دور رہنا چاہتی تھی ۔وہ معصوم ضرور تھے لیکن اتنی بھی نہیں کے حمزہ کی باتوں کو نہ سمجھ پائے اسے اب حمزہ سے جھجک آتی تھی
۔اس نے ہاں میں سر ہلایا اور دوسرے کمرے میں چلی گئی جبکہ میرب سامان سمیٹنے لگ گئی ۔وہ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھے اپنے بالوں کو ٹھیک کر رہی تھی ۔کالے سیاہ بال اس کی کمر پر پھیلے ہوئے تھے
۔دوپٹہ اتار کر اس نے بیڈ پر رکھا ہوا تھا ۔باہر سے اسے عائشہ اور لائبہ کی آوازیں آ رہی تھی وہ سمجھ گئی کہ سب لوگ آ گئے ہیں
۔وہ جلدی سے اٹھ کر دوپٹہ لینے لگی تبھی کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حمزہ نے اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا
۔بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے ۔
وہ ڈرے سے لہجے میں بولی ۔حمزہ کی نظر اس پر اٹک گئی ۔ڈوپٹہ ندارد تھا حمزہ بھائی پلز حیا کے دوبارہ کہنے پر وہ اپنے خوش و ہواس میں واپس آیا
۔تم چپ کر کے پہلے میری بات سنو ۔اس نے حیاکے منہ پر اپنی شہادت کی انگلی رکھ دی
اب اگر تم نے مجھے بھائی کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا وہ مزید اس کے پاس ہوتے ہوئے بولا حیا نے دو قدم پیچھے ہونا چاہا
۔لیکن پیچھے بیڈ تھا وہ پیچھے گرنے ہی والی تھی کہ حمزہ نے تھاما ہوا ہاتھ اپنی اور زور سے کھینچا جس کی وجہ سے وہ لچکتی ڈال کی مانند اس کی اور کھینچی چلی گئی
۔اس کا سر حمزہ کے سینے پر تھا ۔ حیا کا دل زور سے دھڑک رہا تھا
۔ہوش کی دنیا میں آتے ہی یکدم اس نے پیچھے آنا چاہا لیکن حمزہ نے اس کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اسے ساتھ لگائے رکھا ۔اور اس کے کان میں ہلکے سے سرگوشی کی ۔
رات کو چھت پر آنا مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ۔اگر تم نہ آی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
۔ یہ کہتے ہوئے اس نے خیا کو چھوڑا اور کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔جب کے حیا ہانک سی کھڑی تھی
اس کا رنگ لٹھے کی مانند سفید پر چکا تھا ۔اسی وقت عائشہ اور لائبہ کمرے میں آگئی ۔لیکن وہ تو کسی اور ہی دنیا میں تھی ۔حیااپی عائشہ کہتی ہوں آ کر گلے لگ گئی ۔
میرب شاپینگ سے آکر کافی تھک چکی تھی اس لیے اس نے اپنے شاپنگ بیگ بھی فادی کے حوالے کئے اور بولی یہ میرے کمرے میں لے جانا
۔فادی بھی سمجھ گیا تھا کہ میرب کافی تھک چکی ہے وہ بھی سر ہلاتا ہوا شاپنگ بیگ نکالنے لگا۔
میرب کمرے میں جا رہی تھی اس سے رونے کی آواز آئی ۔اس نے دو منٹ وہی رک کر اندازہ لگایا تو اسے سمجھ آ گیا کہ فائزہ بھابھی رو رہی ہیں
۔وہ ان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی کمرے سے باہر ہی اس کے کانوں میں آواز آ رہی تھی ۔
کاش حیا ایسا نہ کرتی ۔تو آج امی میرے ساتھ ہوتی ۔اور ساجدہ بیگم اسے سمجھا رہی تھی
۔بیٹا افسردہ نہ ہو ۔ہم نہیں جانتے وہ معصوم بچی کس حال میں ہیں کس کے بہکاوے میں آکر اس نے گھر کی عزت روندتا ڈالی
۔بس دعا کرو وہ بچی جہاں بھی ہو خیر و عافیت سے ہوں ۔انہوں نے انسانیت سے فائزہ کو سمجھایا ۔فائزہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے سر ہم کردیا
۔میرب سمجھ گئی تھی بھابھی آج پھر پریشان ہیں ۔پچھلے دو ماہ میں کیئ دفاع انہیں روتا ہوا دیکھ چکی تھی ۔
وہ اپنے کمرے میں جانے کی بجائے فائزہ کے پاس چلی گئی ۔بھابی اٹھے ۔آئیے آپ کو دکھاتی ہوں میں نے جو شاپنگ کی اس نے فائزہ کا موڈ خوشگوار کرنے کے لئے بات بدلی
۔جس پر فائزہ نے بھی مسکرا کر اس کے ساتھ جانے کی حامی بھری ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *