Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo By Ambreen Abdaal Novel20795

Second Marriage based | Emergency Nikah | Emotional Story |Social Romantic Novel | Happy Ending

 

Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo Emergency Nikah Scene Urdu Novel

Waaj ka achanak Emergency Nikah ka faisla Wasla ki zindagi ka naya mor ban jata hai.

کچن کے دردازے پر ایستادہ وجود، چہرے پر مسکراہٹ سجائے قدم اٹھاتا اس کے پاس آ کر رکا۔ “بہت چالاک ہو گئی ہو، اب مجھے ملتی ہی نہیں اور میں ہوں چکور کی مانند اپنے چاند کی تلاش میں ادھر ادھر گھومتا رہتا ہوں۔”
یہ کہہ کر اس نے واثلہ کے چہرے پر آئی لٹوں کو پیچھے کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ واثلہ وحشت سے پیچھے ہٹی، اس کا ہاتھ سیلف پر پڑی کیتلی سے ٹکرایا اور ایک زوردار آواز گونجی۔ اپنے کمرے سے نکل کر سیڑھیاں اترتا وہاج جو ابھی لاؤنج میں پہنچا ہی تھا، ٹھٹک کر رکا اور تیزی سے کچن کی سمت بڑھا۔ وہ پیاس کی شدت سے اٹھا تھا اور جگ لے کر نیچے آیا تھا۔
“اوں ہوں، شور نہیں کرو۔ تڑپ رہا ہوں تمہارے لیے مگر تمہیں تو جیسے ذرہ بھر بھی پردانہیں۔ پہلے اس گھامڑ زین کے ساتھ شادی کر کے چلی گئیں اور جب واپس آئیں تو اس کے سوگ میں بیٹھی رہیں۔ تمہیں میرا بھی خیال نہیں آیا۔”
وہ واثلہ کی جانب جھکا۔ واثلہ نے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دیا مگر وہ اپنی جگہ سے ذرا سا ہلا تھا۔
“بخش دیں مجھے، معاف کر دیں۔ اب تو معاف کر دیں۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے تب سے آپ میرے ساتھ ہی سب کرتے آئے ہیں۔ میری عزت کو، میری ذات کو گندا کر کے بھی آپ کا دل نہیں بھرا۔ میری خاموشی کو میرا جرم بنا دیا آپ نے۔ مگر ایک بات یاد رکھیے گا، میں صرف اپنی ماں کی وجہ سے خاموش تھی کہ وہ بے چاری اس صدمے سے مر جائیں گی کہ ان کے سگے بھتیجے نے ان کی بیٹی کے ساتھ وہ…” وہ بچوں کی طرح رونے لگی۔ چائے ابل ابل کر ابل رہی تھی۔
“کم آن یار! اب بس بھی کرو۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ اب تمہیں کچھ بھی نہیں کہوں گا مگر تمہیں دیکھتے ہی خود پر قابو نہیں رکھ سکا۔” چہرے پر مکروہ مسکراہٹ سجائے وہ آگے بڑھا۔
“شہوار بھائی! میں آپ کا گندا چہرہ اور ناپاک کردار سب کو دکھا دوں گی۔”
وہ اسے دھکا دے کر دردازے کی طرف بڑھی مگر وہاں وہاج کو کھڑا دیکھ کر واثلہ کا دل چاہا وہ ابھی اور اسی وقت مر جائے۔ وہ شرمندگی اور ندامت سے مرنے والی ہو رہی تھی۔ شہوار کی حالت بھی اس سے کم نہیں تھی۔ چھوٹے بھائی کو یوں سامنے دیکھ کر وہ بوکھلا گیا تھا۔
“ارے وہاج! میں تو اچانک آیا تھا، کچن میں واثلہ اپنے لیے چائے بنا رہی تھی۔” وہ گھمبیر سی ہنسی ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ شہوار اپنی بات مکمل کرتا، وہاج آگے بڑھا اور پوری قوت سے شہوار کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا۔ شہوار اس حملے کے لیے تیار کب تھا؟ وہ لڑکھڑا کر کچن کے فرش پر گرا۔
“آپ میرے بھائی ہیں! میرے بھائی! جنہیں میں آئیڈیلائز کرتا تھا۔ ہمیشہ آپ کی طرح بننے کی کوشش کی۔ مگر مجھے کیا معلوم تھا میرا یہ رشتہ اس قدر تعفن زدہ ہے، اس قدر گندا ہے۔”
وہاج شدید غصے میں تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ شہوار کا گلا گھونٹ دے۔ اس نے غصے سے مٹھیاں بھینچ رکھی تھیں۔ غصے کی شدت سے اس کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں۔
واثلہ کی سسکیاں کچن کی خاموشی کو توڑ رہی تھیں۔ وہاج شدید طیش میں کھڑا تھا۔
“تم میری بات تو سنو۔” میر شہوار نے فرش سے اٹھتے ہوئے کہا۔
“دور رہیں مجھ سے۔ میرا کوئی تعلق نہیں ہے آپ سے۔ آج سے آپ میرے کچھ نہیں لگتے۔ رحم نہیں آیا آپ کو، اس پر ترس نہیں آیا آپ کو؟” اس نے روتی ہوئی واثلہ کا بازو پکڑ کر شہوار کے سامنے کیا۔ “یہ اس گھر کی مکین ہے، ہم اس کی عزت کے محافظ ہیں نہ کہ تیرے! سوچ بھی کیسے لیا آپ نے؟” اس نے غم و غصے سے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑا۔
“تم، واثلہ یہ جھوٹ بول رہی ہے۔ اصل معاملہ کچھ اور ہے۔” اس سے پہلے کہ شہوار کی بات مکمل ہوتی، وہاج نے کاٹ دار نگاہوں سے اسے دیکھا۔ وہ خاموش ہو گیا۔
“تم اپنے کمرے میں جاؤ۔” وہاج نے دھاڑ کر واثلہ سے کہا۔
واثلہ جو بت بنی کھڑی تھی، بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی۔ وہ اپنے کمرے میں پہنچ کر بیڈ پر اوندھے منہ گری اور زار و قطار رونے لگی۔ جو راز دو سالوں سے چھپائے بھی تھی، وہ وہاج پر عیاں ہو گیا تھا۔
آدھی رات میر ہاؤس کے مین راہداریوں پر چلتے ہوئے جاگ رہے تھے۔ واثلہ، وہاج اور شہوار۔ وہاج کیا کرے گا؟ وہ صبح سب کو بتا دے گا کیا؟ ماموں کا کیا ردعمل ہوگا؟ ممانی کا کیا ردعمل ہوگا؟ ردابھابھی… وہ سوچ سوچ کر تھک گئی تھی مگر کوئی سرا اس کے ہاتھ نہ آ رہا تھا۔
اگلے دن واثلہ اپنے کمرے سے باہر نہ نکلی تھی۔ سورج طلوع ہو کر اب ڈھلنے کے قریب تھا مگر وہ اپنے کمرے میں بے سدھ پڑی تھی۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے جب اس کے دردازے کو کسی نے کھٹکھٹایا۔ اس نے نیم وا ہو کر دیکھا، وہاج کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔ واثلہ وہاج کو دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ اپنے ہاتھوں کو مسل رہی تھی۔ وہاج آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔
“میں نہیں پوچھوں گا، کب کیوں، کیسے ہوا؟ بس میری التجا ہے اس بات کو یہیں دفن کر دو۔ بابا یہ صدمہ نہیں سہہ پائیں گے۔ ردابھابھی، گھر میں ایک طوفان برپا ہو جائے گا،” وہاج نے اس کی پلکوں پر چپکتے موتی دیکھے۔
واثلہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ گھر خراب نہ ہو، ماموں کو دکھ نہ ہو، بچے ڈسٹرب نہ ہوں۔ اعتبار نہ ٹوٹے، خاص کر اسے ایک اور ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑے، اسی لیے تو وہ خاموش تھی۔ اس لیے تو وہ اس گھر سے جانا چاہتی تھی اور کامیاب بھی رہی تھی، مگر قسمت کی ستم ظریفی وہ ایک بار پھر اس گھر میں آ گئی تھی۔
“میں نے ایک فیصلہ کیا ہے اور جلد ماما یا بابا کو اس سے آگاہ کر دوں گا۔ چاہے تم اعتراض کرو، اب میں کچھ نہ سنوں گا،” اس نے کہہ کر اس کی جانب دیکھا تو وہ نظریں جھکا گئی۔
“تمہاری زین سے شادی کے پیچھے بھی یہی وجہ تھی؟” وہاج نے پوچھا۔
واثلہ نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ بالوں میں انگلیاں جکڑ کر رہ گیا۔
“آپ پلیز مجھ پر ایک احسان کریں۔ مجھے گرلز ہاسٹل بھیج دیں۔” واثلہ نے التجا کی۔ “جن کے سر پر سایا نہ ہو وہ یونہی اور بدتر ہوتے ہیں۔ اس گھر کو بکھرنے سے بچانے کے لیے ہی میں نے یہ فیصلہ کیا ہے اور پہلے بھی خاموش رہی،” وہ اپنی بات مکمل کر کے وہاج کی جانب دیکھ رہی تھی۔
وہاج صوفے پر جا بیٹھا۔
“میں نے تم سے شادی کا فیصلہ کر لیا ہے اور تم لاکھ چیخو چلاؤ، میں تمہاری ایک نہ سنوں گا،” وہاج نے اطمینان سے کہا۔
“میں آپ سے کسی صورت شادی نہیں کروں گی،” اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتی، دردازہ کھلا اور میر آصف، مولوی صاحب کی معیت میں کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کے پیچھے فائزہ اور ردابھی تھیں۔ انہوں نے اس کے سر پر سری دوپٹا اوڑھایا۔
“ماموں میری بات سنیں…” اس نے کہنا چاہا۔

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

 

Summary

اس قسط میں واثلہ کی زندگی کا برسوں سے چھپا خوفناک راز وہاج کے سامنے آ جاتا ہے جب وہ شہوار کو اس کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے دیکھ لیتا ہے۔ وہاج شدید غصے میں شہوار کا سامنا کرتا ہے اور اس سے ہر تعلق ختم کر دیتا ہے۔ دوسری طرف واثلہ اپنے خاندان کو بکھرنے سے بچانے کے لیے خاموش رہنے کا فیصلہ کرتی ہے، مگر وہاج اس کی حفاظت اور عزت کے لیے اچانک ایک ایسا فیصلہ کرتا ہے جو سب کو حیران کر دیتا ہے۔ ایمرجنسی نکاح کا یہ فیصلہ کہانی کو ایک نئے اور انتہائی جذباتی موڑ پر لے جاتا ہے۔

Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo Novel, Ambreen Abdaal, Urdu Novel Episode 29, Emergency Nikah Novel, Second Marriage Based Novel, Family Drama Novel, Romantic Urdu Novel

FAQs

Q1. Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo mein kya hota hai?
اس  میں وہاج کو شہوار کی حقیقت کا علم ہو جاتا ہے اور وہ واثلہ کی حفاظت کے لیے ایمرجنسی نکاح کا فیصلہ کرتا ہے۔

Q2. Kya Waaj aur Wasla ka nikah ho jata hai?
اس قسط کے اختتام پر ان کے نکاح کا فیصلہ سامنے آتا ہے جو کہانی کا سب سے بڑا موڑ بنتا ہے۔

Q3. Is novel ki writer kaun hain?
اس ناول کی مصنفہ امبرین ابدال ہیں۔

Q4. Is episode ka genre kya hai?
یہ قسط رومانس، فیملی ڈرامہ، جذباتی تنازع، فورسڈ میرج اور ایمرجنسی نکاح پر مبنی ہے۔

Q5. Ye novel kahan parh sakte hain?
آپ اس ناول کی تمام اقساط Novelistan پر پڑھ سکتے ہیں۔

 

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Categories: After Marriage Complete Novel Digest Novel Second Marriage Based Social Romantic Novel
Tags: Ambreen Abdaal COMPLETE NOVEL Digest Novel Emergency Nikah Emotional Novel Family drama Forced marriage Novelistan Online Urdu Novel romantic urdu novel Romatic urdu novels Second Marriage Based Second Marriage Based Novel Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo Novel urdu novel Urdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *