Shahzadi Jolia by Rizwan Ali Ghuman NovelR50816

Last updated: 25 July 2026

994.4K
4

Shahzadi Jolia by Rizwan Ali Ghuman

بچے میں تمہیں ابھی میلان شہر میں پہنچا دیتا ہوں۔ جولیا وہاں ایک تھیٹر میں روزانہ آتی ہے تم بھی وہیں داخلہ لے لینا اور اس کے ساتھ ساتھ ہی رہنا۔ پندرہ دن بعد پورے چاند کی رات ہے۔ تم نے اسی دن جولیا کو یہ سرخ پھول سونگھانا ہے۔ وہ جیسے ہی اسے سونگھے گی اس کی یاداشت واپس آجائے گی۔ بزرگ نے اسے ایک سرخ رنگ کا پھول دیا جسے علی چرواہے نے اپنی جیب میں ڈال لیا۔ بیٹا چودہویں رات سے پہلے کبھی بھی جولیا کو یہ نہیں بتانا کہ تم اسے جانتے ہو یا تم ایک بھیڑیے ہو۔ اگر تم نے اس رات سے پہلے یہ راز اس پر آشکار کیا تو تم دونوں کی جان کو خطرہ ہوگا۔ انسان تمہارے خون کے پیاسے ہوں گے۔ جو بھی تم دونوں کو مار کر تمہارا خون پئے گا وہ دوبارہ جوان ہو جائے گا اور ایک لمبی زندگی جئے گا۔ اگر کسی کو پتہ چلا تو اس دنیا میں سارے ہی انسان تمہارے خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔ اس لیے کبھی بھی اپنا راز کسی پر مت کھولنا۔ شہزادی جولیا کو بھی مت بتانا اس کی یاداشت واپس آئے گی تو وہ خود ہی تمہیں پہچان لے گی۔ بزرگ نے علی کو تمام باتیں سمجھائیں اور اسے آنکھ بند کرنے کا کہا۔ علی نے آنکھیں بند کر لیں تو اسے ایسا لگا جیسے وہ اڑ رہا ہو۔ آنکھیں کھول دو بیٹے تم میلان پہنچ چکے ہو۔ اسے بزرگ کی آواز آئی تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ علی نے اپنے آپکو میلان کے سنٹرل اسٹیشن کے باہر موجود پایا۔ کالاش میں اردو زبان بولی جاتی تھی۔ جلد ہی علی کو کچھ پاکستانی لڑکے مل گئے جو اردو میں بات کرتے تھے۔ وہ لڑکے علی کو لے کر ایک کیمپ میں آگئے۔ یہ مہاجرین کا ایک بہت بڑا کیمپ تھا۔ یہاں کیمپ میں اور بھی مزید پاکستانی لڑکے رہتے تھے۔ علی نے ان کو بھی پاکستان کا ہی بتایا۔ پاکستان میں کالاش نام کے خفیہ ملک کے علاوہ ایک شہر بھی تھا اس کا نام بھی کالاش تھا۔ کالاش شہر پاکستان کے شمال میں واقع ہے۔ لڑکے علی کو کالاش شہر کا رہنے والا ہی سمجھنے لگے۔ دوسرے دن علی نے جادوگرنی مونیکا کے تھیٹر میں داخلہ لے لیا۔ تھیٹر رات کو آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک ہوتا تھا۔ علی نے جاتے ہی شہزادی جولیا کو پہچان لیا لیکن شہزادی چونکہ اپنی یاداشت کھو چکی تھی۔ اس لیے اس نے علی کو نہ پہچانا۔ علی بھی کالاش کی حدود سے باہر آ گیا تھا۔ لیکن بزرگ کی وجہ سے اس کی یاداشت بھی قائم تھی اور وہ ہر رات کو بارہ بجے بھیڑیا بھی بن جاتا تھا۔ جیسے ہی رات کے بارہ بجتے علی کی شکل تبدیل ہو جاتی اور وہ کچھ پل کے لیے بھیڑیا جاتا تھا۔ یہ اسکی فطرت تھی جو کبھی بھی نہیں بدل سکتی تھی۔ اسے گوشت کی طلب ہوتی تھی۔ کچے گوشت کی خوشبو اسے پاگل کردیتی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی اپنے آپ پر کنٹرول کرتا تھا۔ علی کے کیمپ میں بہت سے لڑکے رہتے تھے۔ علی کا دل خون پینے کو کرتا تھا۔ لیکن ان کو بچپن سے ہی سکھایا جاتا تھا کہ انسان بظاہر بہت کمزور سی مخلوق ہوتی ہے۔ دس دس انسان مل کر بھی ایک بھیڑیے کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ان کی عمر بھی صرف ساٹھ ستر سال ہوتی ہے۔ لیکن یہی انسان دنیا کی سب سے خطرناک ترین مخلوق ہوتی ہے۔ وہ سارے انہیں انسانوں کے خوف سے چھپ کر رہ رہے تھے۔ علی انہی انسانوں کے درمیان رہ رہا تھا۔ اسے ان کمزور سے انسانوں سے ڈر تو لگتا تھا لیکن وہ پھر بھی انہی کے درمیان اپنی شناخت چھپا کر رہ رہا تھا۔ رات کے بارہ بجے وہ کیمپ کے ایک تاریک گوشے میں چلا جاتا تھا۔ اور کچھ پل وہیں گذار کر جب اپنی اصل حالت میں آ جاتا تو پھر واپس آ جاتا تھا۔ نیا جدید کمپیوٹر والا زمانہ تھا۔ لوگ جنوں بھوتوں اور بھیڑیوں کی کہانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے کسی کو بھی شک نہیں ہوتا تھا۔ علی روزانہ تھیٹر جانے لگا۔ مونیکا جادوگرنی نے بھیڑیے والا ڈرامہ تیار کر لیا تھا۔ اس نے ہسپانوی زبان میں بولنے کے لیے فیلیکس لیا تھا۔ جبکہ افریقی زبان کے لیے سیلا کو۔ دونوں لڑکے ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ فیلیکس بالکل چھوٹا سا نوجوان لڑکا تھا۔ اس کا وزن بمشکل پچاس کلو بھی نہیں تھا۔ جب کہ اس کے مقابلے میں افریقی سیلا ایک دیوہیکل نوجوان تھا۔ وہ سات فٹ کے قریب تھا اور اس کا وزن بھی سو کلو سے اوپر تھا۔ سیلا افریقی جان سینا لگتا تھا۔ ان دونوں کے علاوہ ایک اور نوجوان بھی تھا۔ فرانچسکو پچیس سال کا ایک نوجوان تھا اور وہ انگلش اور اٹالین دونوں زبانیں انتہائی روانی سے بولتا تھا۔ فرانچسکو کے لمبے سنہری بال تھے۔ وہ بلکل ہالی وڈ کے کسی فلمی ہیرو کی طرح لگتا تھا۔ تھیٹر کی ساری لڑکیاں فرانچسکو کے آگے پیچھے پھرتی تھیں۔ لیکن فرانچسکو شہزادی جولیا سے دوستی کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ تھیٹر میں اور بھی کافی لڑکیاں تھیں لیکن میں صرف دو کاہی تعارف کرواؤں گا۔ سب سے پہلی لڑکی مارگریٹا تھی۔ یہ اٹالین تھی۔ گورا رنگ دبلی پتلی سی بیلے ڈانسر تھی یا پھر بیلے ڈانسر لگتی تھی۔ مارگریٹا کی ایک ایک ادا سے ڈانس چھلکتا تھا۔ دوسری لڑکی کارمن ہے۔ یہ فرانسیسی تھی۔ سنہری بال نیلی آنکھیں گول چہرہ کارمن کے لئے لفظ خوبصورت کہنا کافی نہیں تھا۔ رضوان علی گھمن

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *