Safar e Ulfat by Zara Kanwal NovelR50651 Last updated: 28 April 2026
No Download Link
291.8K
8
Rate this Novel
Safar e Ulfat by Zara Kanwal
"راشدہ بی.. زمل کہاں ہے..؟ " انعم جو پورے گھر میں اُسے دیکھ چُکی تھی اور کہیں نا پاکر ان سے پوچھنے لگی ۔
"اپنے روم ہوں گی پڑھ رہی ہوگی ۔ ناشتہ کرنے کے بعد سے میری اُن سے ملاقات نہیں ہوئی۔" راشدہ بی نے جواب دیا ۔
"لیکن وہ تو کہیں نہیں ہے میں دیکھ چُکی ہوں ہر جگہ۔" انعم پریشان لہجے میں بولی ۔
"کیا ہوا انعم؟
"ماما پتہ نہیں زمل کہاں ہے گھر پر نہیں ہے ہر جگہ دیکھ چُکی ہوں " انعم نے بتایا ۔
"تم نے اُسے کال کی.. ؟" حماد نے پوچھا ۔
"ہاں۔۔سیل بھی آف ہے اُسکا "انعم نے بتایا ۔
"بھائی آپ تو گھر پر تھے آپکو بھی نہیں معلوم زمل کا؟ انعم نے بالاج سے پوچھا
"نہیں مجھے نہیں پتہ اُسکا" بالاج نے، مختصر سا جواب دیا۔
"حماد تم رحیم چاچا سے پوچھو وہ باہر گئی ہوگی تو اُنکو ضرور معلوم ہوگا" انعم پھر سے بولی۔
"ہاں میں پوچھ کر آتا ہوں تم اُس کے نمبر پر ڈائل کرتی رہو ۔" حماد نے اُسے کہا ۔
"خیریت ہے آپ سب اتنے پریشان ہے..؟ " اندر آتے ہوئے باری نے پوچھا۔
" زمل پتہ نہیں کہاں ہے وہ ہمارے ساتھ نہیں گئی تھی اُس کی طبیعت نہیں ٹھیک تھی اب ہم آئے ہیں تو وہ کہیں نہیں ہے.. اور اُسکا سیل بھی آف ہے ۔" زمل نے ثناء اور باری کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا ۔
"رحیم چاچا کہہ رہے ہیں زمل دوپہر میں گاڑی لے کر گئی تھی اور تین گھنٹے کے بعد وآپس آئی تھی پھر وہ اندر ہی تھی گھر میں ۔" حماد نے آکر سب کو بتایا ۔
"زمل ایسے بنا بتائے کیسے جاسکتی ہے وہ بھی خود ڈرائیو کرکے جب کہ اُسے سختی کے ساتھ منع کیا گیا تھا ۔اور اب کہاں ہے پھر؟
"مجھے لگ رہا ہے وہ شاید گھر میں چلی گئی ہے "انعم نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
"مجھے تو بہت ٹینشن ہو رہی ہے زمل کی "
"مامی آپ پریشان نہیں ہو ہم دیکھتے ہیں اُسے "ثناء نے تسلی دینا چاہی ۔
"ماما وہ دیکھ لے گے آپ بیٹھ جائیں "بالاج نے بے رخی برتتے ہوئے اُنکو اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھالیا ۔
"جلدی چلیں آپ سب"
انعم کو اسوقت زمل کی پریشانی تھی ورنہ اُسے بالاج کا ایسا بی ہیو بلکل اچھا نہیں لگا تھا۔
گھر کا مین ڈور اوپن ہونے سے اتنا تو پتہ چل گیا تھا کہ زمل اندر ہی ہے ۔زمل کاروم لاک تھا اور بار بار دستک پر بھی اُس نے نہیں کھولا تھا ۔
مجھے تو بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے" انعم پریشانی سے بولی ۔
"میرے پاس زمل کے روم کی ایکسٹرا چابی ہے میں لے کر آتی ہوں ۔"بھابھی فوراً یاد آنے پر لینے چلے گئیں۔
"روم کا لاک کھولا تو کمرے میں گُھپ اندھیر تھا۔حماد نے لائٹ آن کردی۔ بیڈ خالی تھا
لیکن
نیچے قالین پر زمل اوندھے منہ بے ہوش پڑی تھی ۔
"زمل" انعم کے منہ سے چیخ نکلی ۔
بھابھی اور حماد نے بھاگ کر اُسے سیدھا کیا ۔
"اسے تو بہت تیز بخار ہے اور، یہ بے ہوش کیوں ہے حماد..؟ " بھابھی نے روتے ہوئے پوچھا۔
"بھابھی پریشان نہیں ہوں ہم اسے ہاسپٹل لے کر جاتے ہیں.. " حماد نے دلاسا دینا چاہا ۔
"زمل کو اچانک ہوا کیا مجھے سمجھ نہیں آرہی ماما" انعم نے فون رکھتے ہوئے کہا ۔
"مجھے تو خود، اُسکی پریشانی ہورہی ہے لیکن شکر اللہ کا کہ ٹھیک ہے وہ "
"صحیح کہہ رہی ہیں میں بھی ڈر گئی تھی ابھی تو ڈاکٹر نے کچھ بھی پوچھنے سے، منع کیا ہے اُس سے "
"تمہارے پاپا لوگ کل رات کو آئیں گے "
انعم نے پاس بیٹھے مصروف سے بالاج کو، دیکھا جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نا ہو "بھائی اللہ نہیں کرے کہ جو کچھ میں سوچ رہی ہوں وہ سچ ہو اور زمل کی اس حالت کے زمہ دار آپ ہوں " انعم نے دُکھ سے دیکھتے ہوئے سوچا ۔
"زمل کو بلاؤ" مدثر صاحب نے انعم سے کہا ۔
"جی بابا بس آگئی ہے وہ" انعم نے زمل کو آتے دیکھ کر کہا ۔
"میری بیٹی کو کیا ہوگیا تھا کس بات کی ٹینشن لی اتنی آپ نے..؟ " انھوں نے زمل کو اپنے برابر میں بٹھاتے ہوئے پوچھا۔
"وہاں پر موجود سب نفوس کی نظر زمل پر تھی۔ مدثر، جمال اور شہریار شام میں ہی واپس آئے تھے اور سب کا ڈنر ثناء نے ہی تیار کرلیا تھا اس لیے سب وہاں موجود تھے ماسوائے بالاج کے وہ ابھی تک آفس سے وآپس نہیں آیا تھا۔"
"تمہیں اتنا شوق تو سب کی توجہ حاصل کرنے کا تو ویسے ہی بول دیتی یہ بیمار ہونے کا ناٹک کرنے کی کیا ضرورت تھی..؟ حماد نے اُسکی خاموشی ختم کرنے کے لیے اُسے چھیڑا۔
لیکن
مدثر صاحب کے گھورنے پر چپ ہوگیا۔ زمل پھر بھی خاموش رہی۔
"اب کیسی طبیعت یے میری بیٹی کی..؟ جمال صاحب نے بھی فکر مند ہوتے ہوئے پوچھا۔
"ٹھیک ہوں بابا۔" مختصر سا جواب دیا ۔
"گڑیا کوئی پریشانی یے تو ہمیں بتاؤ.. " شہریار کو بھی زمل کی پریشانی ہو رہی تھی رات سے ہی جب ثناء نے بتایا تھا ۔
"کہیں ہم تمہیں گھر پر اکیلا چھوڑ کر گئے بھائی سے ڈر کر تو نہیں بیمار ہوگئی تھی تم..؟ " حماد نے اندر آتے بالاج کی طرف دیکھ کر مذاق میں کہا ۔
بالاج سب سے سلام کرتا زمل کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔
زمل کی نظر بالاج سے ملی اور اُسکی آنکھیں دُھندلا سی گئی ۔ چاہنے کے باوجود وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکی ۔
اور
مدثر صاحب کے سینے سے لگ کر رو پڑی اور اس بری طرح روئی کے وہاں پر موجود سب لوگ اپنی جگہ ششد رہ گئے
"انھوں نے زمل کو کبھی ایسے روتے نہیں دیکھا تھا "
زمل بیٹا آپ ہمیں پریشان کر رہی ہو آپ جب تک ہمیں کچھ بتاؤ گی نہیں ہمیں کیسے آپ کی تکلیف کا علم ہوگا؟
"زمل کو فوری اپنی جذباتیت کا احساس ہوا تھا کہ اپنی وجہ سے وہ سب کو پریشان کررہی تھی ".
"آئی ایم سوری" ممانی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے بس میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور پھر میں آپ سب کو بہت مس کررہی تھی میرا دل بہت عجیب ہورہا تھا" زمل نے ہاتھ سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ۔
"ہماری بیٹی تو بہت بہادر ہے ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے والی تو نہیں ہے آئندہ ایسا مت کرنا بیٹا ہم سب کی جان ہو آپ " مدثر صاحب نے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا ۔
"ماموں بہادر ہونے سے ہر بار ہر بات کو اگنور نہیں کیا جاسکتا ہے اور کوئی کتنا بھی بہادر ہو.. ہوتا تو انسان ہی ہے نا..
لیکن آئندہ ایسا نہیں ہوگا.. آپ سب لوگ پریشان نہیں ہوں. "
بالاج کی نظریں زمل پر ہی تھی ۔وہ جانتا تھا وہ اسے ہی سُنا رہی ہے بالاج کو اپنے رویے کا افسوس تھا۔
"بھائی مانا کہ وہ پیاری ہے لیکن ایسے بھی کیا دیکھنا کہ آس پاس بیٹھے بڑوں کا بھی خیال نہیں آپکو " حماد نے قریب آکر سرگوشی میں کہا ۔
