Sabz Qadam Aur Hari Churiyan by Komal Ahmed NovelR50761
Last updated: 5 July 2026
Sabz Qadam Aur Hari Churiyan by Komal Ahmed Episode01Sabz Qadam Aur Hari Churiyan by Komal Ahmed Episode02Sabz Qadam Aur Hari Churiyan by Komal Ahmed Episode03Sabz Qadam Aur Hari Churiyan by Komal Ahmed Episode04Sabz Qadam Aur Hari Churiyan by Komal Ahmed Episode05Sabz Qadam Aur Hari Churiyan by Komal Ahmed Last Episode
Sabz Qadam Aur Hari Churiyan by Komal Ahmed
میں یقین سے کہہ سکتا ہوں خان ذادی اگر میں آپ کو بتا دوں کے شاہ کمال کو گولیوں سے چھلنی کیوں کیا گیا تھا تو آپ مجھے زندہ سلامت میری حویلی تک چھوڑ کر آئیں گیں۔۔۔ میں وجہ جاننا چاہتی ہوں۔۔ دعا نے مضبوط لہجے میں کہا۔۔ ٹھیک ہے آپ وہاں آئیں میں سب کے سامنے نہیں بتا سکتا۔۔۔ ازلان نے اسکی بات سن کر مٹھیاں بھینچ لی۔۔۔ تم میری بہن کو اکیلے لے جا کر بات نہیں کر سکتے خان۔۔۔ ازلان کی بندوق دلاور کے سینے تک چلی گئی۔۔۔ ہم بات کر رہے ہیں ازلان خان تحمل سے بیٹھ جاؤ۔۔۔۔نہیں خان زادی تحمل سے آپ بیٹھ جائیں جب تک آپ کا یہ بھائی زندہ ہے آپ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو سکتی۔۔۔ سگھا نہ سہی رضائی بھائی تو ہوں آپ کا ازلان کا خون خول رہا تھا دلاور خان کی بات پر میں خود سنوں گا کے دلاور خان کیا چاہتا ہے۔۔۔ دلاور خان نے کندھے اچکائے جیسے مان لیا ہو کے اسکے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔۔۔
********
بولو خان کوئی ہوشیاری کی تو بنا سوچے اس بندوق میں موجود ساری گولیاں تمہارے سینے میں ہوں گی۔۔۔۔ دلاور نے کرب سے آنکھیں بند کیں اورمینشان کے سامنے کئے۔۔۔
ناقابل یقین تاثرات کے ساتھ ازلان کبھی کاغذات کو دیکھتا کبھی دلاور شاہ کے جھکے سر کو۔۔۔۔۔ ازلان کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا تو دوسرا جا رہا تھا۔۔۔ وہ ساکت سہ رہ گیا۔۔۔۔ بولو ازلان خان تم میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟ تم اپنی لے پالک بہن کے لئے مچل رہے ہو ادینہ میری سگھی بہن ہے۔۔ میری نازو پلی جسے بی جی اور باؤجی کے بعد میں نے ماں باپ کی محبت دیتے بڑا کیا دنیا سے لڑنا سکھایا۔۔ کیا حق پہنچتا تھا شاہ کمال خان کو کے وہ اپنی سرداری میری بہن پر آزماتا۔۔۔ اس نے میری بہن کے ساتھ زیادتی کی صرف اس لئے کیونکہ وہ اسکو یونیورسٹی میں پسند آ گئی تھی جس میں وہ پڑھتی تھی۔۔۔۔ وہ اسے گاؤں کا سردار سمجھ کر لفٹ لے کر ہوسٹل تک گئی صرف مجبوری میں۔۔ اور اس مجبوری کو شاہ کمال نے حوس بنایا۔۔ بتاؤ اس بچے کو مار دوں؟ اس لئے کیونکہ یہ اس کے باپ کی سیاہ رات کی نشانی ہے۔۔۔ یا اسکی ماں کی مجبوری کی داستان قتل تو قتل ہوتا ہے چاہے مرد کا چاہے بچے کا۔۔۔ دعا خان زادی کا کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔ میں اپنی سزا بھگتنے کو تیار ہوں مگر ادینہ اسکا کیا ہوگا۔۔ اس کے ساتھ پل رہی نئی زندگی کا۔۔۔ ایک منٹ کو بے حس ہو کر میں اپنی عزت کا بھرم گواہ کر خان زادی سردارنی کے سامنے انصاف مانگ لوں تو سارے گاؤں کے سامنے دعا خان زادی کی عزت اور انا کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔ ازلان ششد سا تھا۔۔۔۔ دلاور نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھ کر سارے کاغذ نرمی سے لئے اور جیب میں ڈال لئے۔۔ دعا گھونگھٹ سے سب دیکھ رہی تھی۔۔ وہ متجسس ہوئی کے وہ کاغذ وہ دیکھنا چاہتی ہے۔۔۔۔
ازلان نے ضبط سے سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں اٹھائیں۔۔۔۔ اب اگر میں ادینہ کو ونی کرنے کا مطالبہ رکھوں تو دلاور خان انکار مت کرنا۔۔۔ میں شاہ کمال کا گناہ اپنے سر پوری عزت اور شان سے لے کر۔۔۔ اپنی دعا کا بھرم رکھوں گا۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ دلاور نے کچھ کہنا چاہا تو ازلان لمبے لمبے ڈگ بھرتا پنچایت کے قریب جانے لگا۔۔۔ نچار دلاور کو بھی اسکے پیچھے جانا پڑا۔۔۔۔۔
“خان زادی ہم خون بہا کے بدلے خون نہیں کر سکتے ۔۔ ازلان نے کہا۔۔۔ ہم اس کے بدلے دلاور شاہ کی کسی انمول اثاثے کو ونی کریں گیں۔۔۔ ہاہ دعا کا سر گھوم گیا۔۔۔ میں یہ فضلیات نہیں پال سکتی۔۔ خون کے بدلے خون ہی ہو گا۔۔ دعا نے گولی بنا سوچے سمجھے دلاور پر چلائی۔۔۔۔ ٹھھھھھھااا گولی کی آواز گونجی۔۔ یہ گولی سیدھا دلاور کا دل چیر کر جاتی اگر جو ازلان بندوق کی نال اوپر کی طرف نہ کر دیتا۔۔۔۔۔ میری بات مان لو خان زادی پلیز۔۔۔۔ ازلان کی ضد نے دعا کا دماغ اور گھما دیا بدلے کی آگ میں اندھی ہوتی دعا نے بندوق دلاور خان کے پیر کے قریب زمین پر گاڑی جس سے کچھ مٹی ہوا میں اچھل گئی۔۔۔
ہر بار ایک عورت ہی کیوں ونی ہوتی ہے مرد کیوں نہیں۔۔ کیا مرد حاکم ہے خدا ہے؟ کسی جگہ کا تیس مار خان ہے؟ بہت بڑا ہے اللہ سے بھی بڑا۔۔۔۔؟؟ مرد کی شان میں فرق پڑتا ہے ونی ہوتے ہوئے یا عورت کا وجود بے مول بے مائع ہوتا ہے۔۔۔ عورت باندی ہوتی ہے اسی کو بندی بنا کر منہ لپیٹ کر بھیج دیا جاتا ہے مرد ونی کیوں نہیں ہوتا۔۔ کیوں اپنے کئے کی سزا وہ خود یا اسکا باپ بھائی نہیں چکا سکتا۔۔ ہر بار بہن اور بیٹی ہی کیوں؟؟ میں چاہتی ہوں اس بار خون بہا معاف کرنے کے لئے دلاور خان کو ونی کیا جائے تب ہی میرے جلتے کلیجے میں ٹھنڈی پھوار آئے گی خان کی انا کو دھچکا پہنچا کر ہی میرے شاہ جی کی روح کو سکون ملے گا۔۔۔ ہاں مجھے خون بہا معاف میں دلاور خان چاہیئے زندہ سہی سلامت۔۔۔۔۔ خان زادی گستاخی معاف مگر مرد ونی نہیں ہوتا۔۔۔ پنچایت کے مردوں نے کہا۔۔۔ انکی مردانگی کو بھی دعا خان زادی کی بات نے ضرب لگائی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“خان زادی” میں ہوں چچا آپ “نہیں”۔۔ سردار میرا مرا ہے آپ کا نہیں۔۔۔ اس کی وارث میں ہوں آپ نہیں۔۔۔ اس لئے فیصلہ اور سزا دونوں میری مقرر کی ہوئی ہوں گیں۔۔۔ ہم تم سے پوچھتے ہیں دلاور خان تمہارے پاس دو راستے ہیں۔۔ یا تو خون بہا میں اپنی گردن خود تن سے الگ کر کے ہمارے قدموں میں دو یا ونی ہو جاؤ۔۔۔ تمہارے پاس سوچنے کے لئے ایک دن ہے۔۔۔ کل اسی وقت پنچایت میں تم فیصلہ سناؤگے۔۔۔ یاد رکھنا اگر ونی ہونا مت چاہو تو کٹی گردن بھیج دینا ہمارے پاس فضول وقت نہیں جو تمہاری منحوس صورت دیکھنے یہاں آئیں۔۔۔۔۔
Rate this Novel
Categories:
Action Action & Adventure Adventure After Marriage after nikah Contemporary Contemporary Fiction cousin based Emotional / Love Story Forced Marriage Love Story Based Romantic Urdu Novel urdu novels
