Qismat Se Haari Mein Season 2 By Palwasha Safi Readelle50277 (Qismat Se Haari Mein) Episode 1
Rate this Novel
(Qismat Se Haari Mein) Episode 1
( ترکی میں )
اس کی صبح کا آغاز آفتاب طلوع ہونے سے شروع ہوا۔ آسمانی کلر کا نائٹ ڈریس پہنے وہ سستاتے ہوئے اٹھ بیٹھی پھر سلپرز پہن کر وہ چمکتے فرش پر قدم قدم چل کر بالکونی میں آئی۔ ترکی کے اس شہر کی روشن صبح اسے پُر جوش کرتے جا رہی تھی۔ وہ ہاتھ ہوا میں بلند کر کے انگڑائی لینے لگی۔ اس کے کمرے کی بالکونی میں ورزش کے بہت سے دوسرے الات بھی موجود تھے۔ کرن نے باری باری ایک گھنٹے تک ان پر ورزش کر کے خود کو چست کیا پھر فریش ہونے چلی گئی۔
جس وقت وہ تیار ہو کر اپنے کمرے سے باہر آئی اس کے چار بیڈروم پر مشتمل خوبصورت سے گھر میں ناشتے کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کا گھر ترکی میں انتالیہ شہر کے بیچو بیج ساحل کنارے موجود تھا۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی وسیع لاؤنج جس میں دو سیٹ صوفے رکھے گئے تھے اور ایک بڑا سینٹرل میز۔ دائیں سمت ڈائننگ ایریا تھا اور سامنے ہی اوپن کچن۔ بائیں سمت دو بڑے کمرے تھے اور لکڑی کی بنی سیڑھیاں جو اوپر منزل کو جاتی تھی۔ دوسرے منزل میں دو آمنے سامنے کمرے تھے ایک کرن کا بیڈروم تھا اور دوسرا کمرے اس نے اپنے سٹوڈیو کے طور پر تیار کروایا تھا جہاں وہ لکھاری کا کام کیا کرتی۔
انتالیہ بہت ہی پیارا شہر تھا۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے اور وہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے۔ یہ سمندروں کا، تاریخی مقامات کا، قدیم ثقافت کا، پیار اور محبت سے بھر پور شہر تھا۔
شروع شروع میں کرن کو نئے ملک نئے شہر نئے لوگوں کے ساتھ اڈجسٹ ہونے میں کافی وقت لگا لیکن اب سات سال سے وہ وہاں رہائش پذیر تھی۔ اسے اس شہر کی گلی کوچے تک سے لگاو تھا۔ کرن وہاں کے شہریوں میں اتنی گھل مل گئی تھی کہ پہلی نظر میں وہ بھی ترکش ہی لگتی۔
خوبصورتی میں تو وہ اپنے مثال آپ تھی۔ اس کا سفید رنگ بڑی آنکھیں خرمئی بال ترکی باشندوں سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔
ترکی ایک آذاد خیال ملک تھا۔ وہاں کوئی حجاب میں باہر جائے یا شارٹس پہن کر، کسی پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ کرن نے وہاں کا رہن سہن تو اپنا لیا تھا لیکن اس کا لباس ہمیشہ پردے کے دائرے میں ہوتا۔ وہ پینٹ کے ساتھ لانگ شرٹ پہنتی۔ جینز کے ساتھ کھلی سی ٹی شرٹ یا لانگ کوٹ۔ پاکستانی ترکش شہری ہونے کے ساتھ ساتھ وہ معروف مصنفہ بھی تھی اور وہاں کے حقوق زنان ادارے سے بھی منسلک تھی۔ اس کے علاوہ وہ اکثر و بیشتر یتیم خانوں کی کفالت بھی کیا کرتی۔
&&&&
“گڈ مارننگ انی۔۔۔۔۔۔۔” کرن نے اوپن کچن میں آکر شیلف پر کام کرتی پختہ سِن کئیر ٹیکر کو مخاطب کیا۔
انی نے اس کی پکار پر پلٹ کر ایک نظر کرن کو دیکھا۔
“کہاں کی تیاری ہے۔۔۔” انہوں نے کرن کو بلیک پینٹ اور سفید شرٹ میں ملبوس، بالوں کا جوڑا بنائے، ہلکا سا میک اپ کئے ہوئے، لمبی ہیل پہنے ہشاش بشاش دیکھ کر سوال پوچھا۔
“آج اینجل ہوم میں چھوٹی سی سالگرہ رکھی گئی ہے۔۔۔۔ مجھے خاص طور پر مدعو کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ بچے بہت ضد کر رہے تھے۔۔۔۔ جانا پڑے گا۔۔۔” کرن ان کے ساتھ آکر کھڑی ہوگئی اور ان کو اپنے یتیم خانے جانے کی تفصیلات سے آگاہ کرنے لگی۔
“پھر لنچ میں کیا بناوں۔۔۔۔” انی نے کرن کو چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے پوچھا۔
“میرا تو مشکل ہے لنچ پر آسکوں۔۔۔۔۔ آپ کا اپنے لیے جو دل کریں بنا لیں۔۔۔” کرن نے مسکراتے ہوئے ان کا بازو تھپتھپایا اور شیلف کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ کر چائے پینے لگی۔
انہیتا 57 سالہ بنگلادیشی مسلمان خاتون تھی اور پچھلے پانچ سالوں سے کرن کے گھر کی کیئر ٹیکر تھی۔ کرن کی انہیتا سے ملاقات اپنے ادارے کے ہمراہ بنگلادیش کے دورے کے دوران ہوئی۔ ان کا شوہر ایک بیٹے سمیت انہیں جوانی میں ہی چھوڑ گیا تھا۔
انہیتا سنگل مدر رہی تھی۔ انہوں نے عمر بھر محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بیٹے کو پالا اس کی پرورش کی۔ لیکن بیٹا جب جوان ہوا اور اس کی شادی ہوگئی تب اس نے بزرگ ماں کو بوجھ کہہ کر گھر سے نکال دیا تھا۔
کرن نے جب انہیتا کی آپ بیتی سنی تو بہت جذباتی ہوگئی تھی۔ انہیتا بہت بہادر، محنتی اور باوقار خاتون تھی۔ کرن کو ان کی دلیری بھا گئی تھی اور وہ ان کو اپنی کیئر ٹیکر بنا کر اپنے ساتھ انتالیہ لیں آئی اور پیار سے انی بلانے لگی۔ انی ان پڑھ ہونے کے باوجود بھی بہت سمجھدار اور ہمت والی تھی۔ وہ کرن کے گھر کی دیکھ ریکھ کرتی۔ ساتھ ساتھ کرن کا بھی بہت خیال رکھتی تھی۔ ہر وقت اس کے کھانے پینے کے سونے جاگنے کے فکر میں مبتلا رہتی۔ حتہ کہ کبھی کبھار اگر کرن کسی خاص پروجیکٹ میں مصروف ہوتی تو انی اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا دیا کرتی۔ ان کی موجودگی سے مانو 33 سالہ کرن کو انہیتا کے روپ میں اپنی ماں مل گئی تھی۔
&&&&&&
( پاکستان میں )
فجر کی اذان کے ساتھ وہ اپنے چھٹائی پر سے اٹھے اور سلاخوں کا چھوٹا سا دروازہ کھول کر وضو کرنے اپنے سیل سے باہر آگئے۔
آسمان اب بھی تاریک تھا موسم خشک اور سرد۔
کچھ پولیس اہلکار گردش کرتے چوکنے انداز میں چاروں اطراف کا جائزہ لیتے قیدیوں پر پیرا رکھے ہوئے تھے۔
باقی دنوں کے مقابلے آج رانا مبشر کا مزاج خوشگوار تھا۔ آج ان کا اس سینٹرل جیل میں آخری دن تھا۔
سات سال سے وہ اس چار دیواری میں الگ الگ مجرموں کے ہمراہ اپنی قید کاٹتے رہے تھے۔ ویسے تو انہیں سزا 13 سال کی سنائی گئی تھی لیکن ان کے اچھے سلوک اور تابیدار روئیے پر سرکار نے ان کی باقی کی سزا معاف کر دی تھی۔
قید خانے میں رہ رہ کر ان میں کئی نمایاں تبدیلیاں آگئی تھی۔ ان کی جنونی فطرت کافی حد تک کم ہوگئی تھی۔ سختی کرنا، کمتر انسانوں کے ساتھ برا پیش آنا تو ختم ہونے کے برابر تھا۔
فجر کی نماز ادا کر کے وہ معمول کے مطابق جیل میں ہی چہل قدمی کرتے ہوئے ورزش کرنے لگے۔ جب سورج پورا طلوع ہوچکا تب وہ وہاں سے رخصت ہونے کی، تیاری کرنے اپنے سیل میں چلے گئے۔
&&&&&*
رانا ہاوس میں آج صبح سے ہی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ نور تیز تیز ملازمین سے گھر کی تراش خراش اور صاف صفائی کروانے میں لگی ہوئی تھی۔ ساتھ ساتھ وہ اپنے 4 سالہ چھوٹے بیٹے سفیان کو ڈانٹ بھی رہی تھی جو صوفے پر اچھل کود کر رہا تھا۔
روحان سفید قمیض شلوار پہنے بال پیچے کر کے تیار ہورہا تھا۔ خوشی کے ایثار اس کے چہرے سے صاف جھلک رہے تھے۔ آخر وہ خوش کیوں نہ ہوتا پورے سات سال بعد اپنے رانا بھائی کو واپس لانے جا رہا تھا۔
“پاپا۔۔۔۔۔ آپ بڑے پاپا کو لینے جا رہے ہے نا۔۔۔۔” روحان کی 6 سالہ بیٹی بھی اس کے ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ لگی کھڑی اپنے پاپا کو تیار ہوتے دیکھ رہی تھی۔ اس نے معصومیت سے اپنے پاپا کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے سوال پوچھا۔
روحان اور نور نے اپنے بچوں کو سب سے مل جل کر بھائی چارے سے رہنے کی تربیت کر رکھی تھی۔ وہ تینوں ہی رانا مبشر سے واقف تھے۔ اور انہیں بڑے پاپا کہہ کر مخاطب کرنا بھی روحان اور نور کے سیکھائے سیکھ میں سے ایک تھا۔
“جی بیٹا۔۔۔۔ are you excited۔۔۔۔” روحان نے ڈریشنگ ٹیبل کے پاس رکھے سٹول پر بیٹھ شوز کی لیس باندھ کر سیدھا ہوتے ہوئے زینب سے پوچھا جس پر اس نے خوشی سے سر کو اثابت میں جنبش دیا۔
بڑے پاپا سے اس کی ایک آدھ مرتبہ کال پر بات ہوئی تھی لیکن رو بہ رو آج ملنے والی تھی۔ خوشی کے سرشار ہوتے اس کی ہونٹوں پر بڑی سی مسکان سجی ہوئی تھی اور آنکھیں چمک ہی تھی۔
کمرے سے باہر نکل کر لاؤنج میں آتے اپنے پاپا کو دیکھ کر سفیان تیزی سے سیدھا ہوگیا اور صوفے پر تہذیب سے بیٹھ گیا۔ نور تب تک ذیشان کو تیار کرنے لگی تھی۔ روحان کے ساتھ وہ بھی بڑے پاپا کو لینے جا رہا تھا۔ خوشی سے سرشار ہوتے اس کی مسکراہٹ ہی نہیں سمٹ رہی تھی۔
“چلیں۔۔۔۔ ذیش۔۔۔۔” روحان نے بچوں کے کمرے کا دروازہ کھول کر اسے آواز لگائی۔ وہ جو وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے بیڈ پر بیٹھے ممی سے شوز پہن رہا تھا روحان کی آواز پر چہکتا ہوا اٹھا اور بھاگتے ہوئے ان کے پاس آگیا۔ روحان نے سر تا پیر اپنے بیٹے کی تیاری دیکھ کر محظوظ ہوتے ہوئے آبرو اچکا دیئے پھر اس کا شانہ تھپتھپا کر نور کو دیکھا۔
“کیا ہوا نور۔۔۔۔۔ پریشان لگ رہی ہو۔۔۔۔۔ رانا بھائی کی رہائی سے خوش نہیں ہو۔۔۔؟” ذیشان کو ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے روحان کی نظریں نور پر جا ٹھہری۔ روحان سے نور کی پریشانی چپی نہیں رہی
نور پر سوچ انداز میں چلتے اس کے پاس آئی۔
“خوش تو ہوں روحان۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ جب پچھلا سب یاد آتا ہے تو دل دھڑک جاتا ہے۔۔۔۔۔ رانا بھائی کا مزاج یاد کر کے بچوں کی بہت فکر ہونے لگتی ہے۔۔۔” رہائی کی خبر سنتے ساتھ نور کو ایک اندیشہ سا ہونے لگا تھا اور اس وقت وہ اپنے شوہر کے سامنے اپنا خدشہ ظاہر کیے بغیر نہ رہ سکی۔
روحان نے با اعتماد انداز میں نور کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے دباؤ دیا۔
“مجھے یقین ہے۔۔۔۔ میرا دل کہہ رہا ہے۔۔۔۔ رانا بھائی اب ویسے نہیں ہیں۔۔۔۔۔ وہ کافی بدل گئے ہے۔۔۔۔۔ تم پریشان مت ہو۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔” نور کو نرمی سے سمجھا کر اس کے رخسار پر بوسہ دیتے روحان رخصت لیتا ہوا ذیشان کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے روانہ ہوگیا۔
ان کے ساتھ نور، زینب اور سفیان کے ساتھ لاؤنج کے دورازے تک آئیں اور ان کی گاڑی کو گیٹ سے باہر نکلتے دیکھنے لگی۔ جب گاڑی گیٹ کے پار نکل گئی نور تیزی سے ملازمین کے جانب متوجہ ہوئی اسے رانا مبشر کے لوٹنے سے پہلے ساری تیاری مکمل کروانی تھی۔
&&&&&
رانا مبشر نے نہا کر قیدیوں کا یونیفارم اتارا اور اپنے نئے قمیض شلوار پہنے جو دو دن پہلے روحان نے اس موقع کے مناسبت سے بھجوائے تھے۔ سات سالوں میں وہ کافی خاموش تن بن گئے تھے۔
ایک پولیس اہلکار کے ہمراہ کوریڈور میں چلتے ہوئے وہ اپنے ساتھی قیدیوں سے رخصت لیتے آگے بڑھنے لگے۔
&&&&&*
سینٹرل جیل کے مین گیٹ کے باہر روحان گاڑی سے ٹک کر کھڑا رانا صاحب کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ جبکہ ذیشان گاڑی میں بیٹھا منتظر تھا۔ اس نے جب بڑے پاپا کو گیٹ سے باہر نکلتے دیکھا تو تیزی سے گاڑی سے اتر کر پاپا کے ساتھ آ کھڑا ہوا۔
“کیسے ہے آپ رانا بھائی۔۔۔۔” روحان نے آگے ہوکر رانا صاحب کو گلے سے لگا لیا اور مضبوطی سے ان کے گرد بازو مائل کر دیئے۔ رانا مبشر نے بھی اسی جوش و جذبہ سے روحان کو تھاما۔ ویسے تو روحان ہر ایک ہفتہ دس دن بعد ان سے لازمی ملنے آیا کرتا تھا لیکن آج ان کی رہائی کی خوشی کا الگ ہی جذبہ تھا۔
روحان سے مل لینے کے بعد رانا صاحب تہذیب سے ہاتھ باندھے چھوٹے ذیشان کے جانب متوجہ ہوئے۔
“السلام علیکم بڑے پاپا۔۔۔۔” ذیشان سلام کرتا ہوا لبمے چوڑے نفیس سے رانا صاحب سے لپٹ گیا اور ان کے کمر کے گرد بازو کئے۔ رانا صاحب نے اس کے سلام کا جواب دیتے اس کے پیشانی پر بوسہ دیا اور جھک کر اسے پیار کیا۔
&&&&&**
جیل کی لیگل فارمیلٹی پوری کر کے گھر کے لیے روانہ ہوتے ہوئے روحان آگے کی سیٹ پر بیٹھا اور رانا صاحب ذیشان کے ساتھ پیچھے کے سیٹ پر بیٹھ گئے تھے۔
“اسکول جاتے ہو۔۔۔۔”؟ رانا صاحب نے خوش مزاجی سے ننھے بھتیجے سے پوچھا۔
“جی بڑے پاپا۔۔۔” ذیشان ان کے مخاطب کرنے پر بہت خوش ہوا۔
“کونسی کلاس میں ہو۔۔۔۔” رانا صاحب ذیشان کو شفقت سے دیکھ رہے تھے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔
“پرائمری کلاس میں۔۔۔۔” چھ سالہ ذیشان مسکراتے ہوئے ان کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا۔
روحان بیک ویو مرر میں رانا مبشر کے اس بدلے روپ کو دیکھ کر مسرور ہورہا تھا۔ اسے اپنے دل کی بات حقیقت میں تبدیل ہوتی نظر آرہی تھی۔
“ویری گڈ۔۔۔۔ اچھے سے پڑھنا۔۔۔۔” ذیشان کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے ہدایت دیتے وہ ونڈ اسکرین سے باہر دیکھنے لگے۔ سات سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ راستے میں آتے ہر جگہ نئی آبادیاں بن گئی تھی۔ روحان ان کا دھیان بٹانے رانا صاحب کو وہاں کے ترقیاتی منصوبوں کی مختصر تفصیلات سے آگاہ کرنے لگا اور رانا صاحب تھیوری پر انگلی رکھے بغور اس کی گفتگو سننے لگے۔ سفر حسین انداز میں کٹنے لگا۔
&&&&&**
دو گھنٹے کے مسافت طے کر کے جب ان کی گاڑی گھر کے رقبے میں داخل ہوئی تو رانا صاحب کے تاثرات بدل گئے۔ بدترین ماضی سے انسان جتنی دور جانے کی کوشش کر لے لیکن پچھتاوے اور احساس ندامت کبھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔
گھر کے گارڈز نے سر جھکا کر انہیں اپنا احترام پیش کیا اور ان کی گاڑی کے لیے گیٹ کھولا۔ رانا صاحب خاموش نگاہوں سے اپنے سفید سنگ مرمر جیسے بنگلے کو دیکھتے ہوئے پورچ میں گاڑی سے اترے۔ لان میں اب بچوں کے لیے جھولا لگ گیا تھا اور کچھ اور کھیلونے بھی موجود تھے۔ کیاریوں میں مزید رنگین پھولوں کا اضافہ کیا گیا تھا۔ رانا صاحب ابھی گھر کے باہری حصے کو نظریں گھما کر دیکھتے ہوئے مشاہدہ کر رہے تھے جب انہوں نے اپنے کندھے پر روحان کا لمس محسوس کیا۔
“ویلکم بیک رانا بھائی۔۔۔۔۔” روحان نے خوشگواریت سے کہتے ہوئے ان کو اندر چلنے کا اشارہ کیا۔
گاڑی کی آواز پر نور اور باقی دونوں بچے لاؤنج کے دورازے پر آگئے تھے۔ رانا صاحب اندر داخل ہوئے تو نور سر پر ڈوپٹہ درست کرتی آگے آئی اور رانا صاحب کا استقبال کیا۔ زینب اور سفیان بھی ساتھ ساتھ ان سے ملے۔
ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر رانا صاحب نے انہیں پیار کیا پھر گھر کے اندرونی حصے کو مشاہدہ کرنے لگے۔ سب ویسی ہی تھا جیسے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ بس چھوٹی موٹی چیزوں میں تبدیلی کی گئی تھی۔ وہ بنگلہ اب پنجرہ نہیں بلکے ہنستا بستا گھر بن گیا تھا۔ جگہ جگہ دیواروں پر نور اور روحان کی، تینوں بچوں کی، رانا مبشر اور روحان کی ایک ساتھ لی گئی آٹھ نو سال پہلے کی فریم شدہ تصویریں آویزاں تھی۔ ان سب کے علاوہ سامنے کی دیوار پر رانا صاحب کا بڑا سا پورٹریٹ لگایا گیا تھا۔ جس سے ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کے ساتھ ہونے کا احساس ہوتا رہتا۔
لاؤنج میں چار لوگوں پر مشتمل نئے ملازمین کا گروپ ہاتھ باندھے سر جھکائے موودب انداز میں ان کے احترام میں کھڑے تھے۔ رانا صاحب کے دل میں ہر قدم کے ساتھ ایک ٹیس اٹھتی۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اتنے طویل مدت قید کے بعد اپنے ریاست میں واپس آنا اتنا تکلیف دہ ثابت ہوگا۔
“رانا بھائی۔۔۔۔ تھوڑی دیر کمرے میں چل کر آرام کر لیں۔۔۔۔” روحان کو کہیں نہ کہیں ان کی کیفیت کا اندازہ ہوگیا اس لیے انہیں آرام کرنے کا مشورہ دے کر کمرے میں لے جانے لگا۔ روحان بھی اور خود رانا صاحب بھی جانتے تھے سات سال جیل میں گزارنے کے بعد اب انہیں اپنے اصل میں لوٹنے کے لیے وقت درکار ہے۔ ابھی انہیں عام زندگی کی جانب آنے میں وقت لگے گا۔ رانا صاحب روحان کا مشورہ مان کر آرام کرنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔
&&&&&*
رانا صاحب اپنے کمرے میں داخل ہوئے تو حیرت زدہ ہو کر کمرے کا مشاہدہ کرنے لگے۔ وہاں باقی سب کچھ بلکل پہلے جیسا تھا صرف سیٹنگ اور پینٹ کلر میں تبدیلی کی گئی تھی۔ وہ روحان کی مہربانی پر مسرور ہوتے ہوئے مسکرانے لگے۔ قدم قدم چلتے وہ آئینہ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ اپنا عکس دیکھ کر ماضی پھر سے ان کی نظروں میں گردش کرنے لگا۔ اسی جگہ کھڑے ہو کر انہوں نے کرن کے کردار پر شک کیا تھا اس پر ہاتھ اٹھایا تھا جس کے نتیجے میں انہیں اپنی اولاد سے محروم ہونا پڑا تھا۔ ایک جھٹکے سے اپنے عکس پر سے نظریں جھکا کر وہ اپنے خیالات کو مہو کرنے لگے۔ انہیں وہ حادثہ یاد کر کے وحشت ہونے لگی تھی۔ ایک سرد سانس خارج کر کے وہ بیڈ پر آکر لیٹ گئے۔ سات سال جیل کے سخت چھٹائی پر سو کر اب انہیں اپنے نرم ماسٹر بیڈ کی عادت نہیں رہی تھی۔ وہ کروٹ پر کروٹ بدلتے رہے لیکن نیند نہ آسکی۔ رانا صاحب کو اپنے اس کیفیت سے الجھن ہونے لگی۔ وہ اٹھ کر فریش ہونے واشروم چلے گئے۔
“انسان پر جب اس کی کرنی پلٹ کر آتی ہے۔۔۔۔۔ تب اسے اپنے کئے گئے ظلموں کے تکالیف کا احساس ہوتا ہے۔۔۔۔” شاور کے بوچھاڑ تلے وہ آنکھیں موندھے کھڑے دل ہی دل میں سوچ رہے تھے۔
“سب کچھ بدل گیا ہے دنیا میں۔۔۔۔۔ لیکن تم۔۔۔۔۔ تم آج بھی اسی جگہ کھڑے ہو رانا۔۔۔۔۔۔ تیرا وجود اب بھی گناہوں کے بوجھ تلے ڈوبا ہوا ہے۔۔۔۔” وہ اپنا ماضی یاد کر کے افسردہ ہوگئے تھے۔
پانی اپنی تیز رفتار سے گرتے انہیں بھیگا رہی تھی۔ آدھے گھنٹے تک بے مقصد شاور کے نیچے کھڑے رہنے کے بعد وہ اپنے ڈریسنگ روم میں گئے اور ایک نفیس برانڈڈ تھری پیس سوٹ نکال کر زیب تن کیا۔ گیلے بال برش کر کے پیچے ٹکائے۔ مہنگی پرفیوم لگائی۔ اپنا خاص رعب دار انداز بنائے پھر سے آئینہ میں اپنا عکس دیکھنے لگے۔
شیر اپنے اصل میں واپس آنے کو تیار تھا۔ شیر جنگل میں ہو یا چڑیا گھر میں ہوتا بادشاہ ہی ہے۔ رانا مبشر پھر سے اپنی بادشاہت سنبھالنے کی طرف گامزن ہورہا تھا۔
&&&&&**
ناشتے کی ٹیبل پر سب بیٹھے رانا صاحب کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ سفیان ٹیبل کے دوسرے جانب کرسی پر بیٹھا سب سے پہلے میٹھے میں بنے ڈونٹ کی سمت ہاتھ بڑھا رہا تھا کہ نور کی اس پر نظر پڑ گئی۔
“سفیان واپس رکھو۔۔۔۔۔۔ بڑے پاپا آئے گے پھر شروع کریں گے۔۔۔۔۔” نور نے سخت لہجے میں کہا۔
سفیان منہ بناتے ہوئے ضد کرنے لگا تھا لیکن ممی کے ساتھ بیٹھے اپنے پاپا کو خود کو گھورتا پا کر متذبذب ہو گیا۔
زینب اور ذیشان تہذیب سے اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے لیکن سفیان کو کسی صورت سکون نہیں تھا وہ منہ بھسورتے ہوئے ٹیبل پر چمچ سے ٹک ٹک کرنے لگا۔
“سفیان۔۔۔۔۔ ادھر آو۔۔۔۔ میرے پاس آکر بیٹھو۔۔۔۔” نور نے پھر اس پر غصہ کیا لیکن سفیان پر جیسے کسی بات کا اثر نہیں ہونا تھا۔ اسی اثناء سیڑھیوں پر بوٹوں کی چھاپ سنی۔ سب نے ایک ساتھ اس سمت میں دیکھا۔ رانا صاحب ہشاش بشاش سے تیار ہو کر اپنے رعب دار انداز میں چلتے ڈائننگ ایریا میں داخل ہوئے۔
روحان کی اتنے عرصے بعد اپنے رانا بھائی کو سوٹ بوٹ میں تیار دیکھ کر آنکھیں بھر آگئی تھی۔
رانا صاحب کے بس کرسی پر بیٹھنے کی دیر تھی کہ سفیان پھر سے ڈونٹ کو اٹھانے کی کوشش کرنے لگا۔ نور نے کناکھیوں سے اسے دیکھ کر جعلی کھانستے ہوئے آنکھیں دیکھائی۔
رانا صاحب کو اب ایسے ٹھاٹ بھاٹ کی عادت نہیں رہی تھی وہ اتنے سالوں بعد اپنے سربراہی کرسی پر بیٹھ کر کنفیوز ہورہے تھے۔ انہوں نے نیپکن درست کرتے ہوئے نور کو سفیان کو اشاروں سے روکتے ہوئے دیکھ لیا تھا اس لئے دھیمے لہجے میں نور کو مخاطب کیا۔
“نور۔۔۔۔۔”
نور اچانک مخاطب ہونے پر گڑبڑا گئی تھی اور دل تھامے ان کے جانب دیکھنے لگی
“جی رانا بھائی۔۔۔۔” اس نے بہ دقت تاثرات نارمل رکھنے کی کوشش کی۔
“بچوں کو مت ڈانٹوں۔۔۔۔۔ انہیں جیسا رہن سہن پسند ہے ویسے ہی رہنے دو۔۔۔۔۔ آپ سب میری وجہ سے اپنا لائف اسٹائل ڈسٹرب نا کریں ۔۔۔۔ میرے وجہ سے پہلے ہی بہت کچھ خراب ہوچکا ہے۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا۔۔۔۔۔ میری واپسی پر بچے اکتا جائے۔۔۔۔۔ یا آپ سب کی روٹین بگڑ جائے۔۔۔۔” رانا صاحب نے افسردگی سے کہا۔
انہیں مایوس ہوتا دیکھ کر روحان نشست پر سے اٹھا اور رانا صاحب کے کندھوں کے گرد بازو مائل کئے۔
“ایسا کیوں کہتے ہیں رانا بھائی۔۔۔۔ آپ کے آنے سے ہماری زندگی پھر سے مکمل ہوگئی ہے۔۔۔۔ آپ ہمیشہ سے ہماری فیملی تھے اور رہے گے۔۔۔۔۔ پچھلا سب بھول کر نئی شروعات کیجیئے۔۔۔۔۔ آپ نے کچھ خراب نہیں کیا۔۔۔۔ وہ وقت ایک آزمائش کا تھا جو گزر گیا۔۔۔۔۔ آپ پلیز وہ سب یاد کر کے آفسردہ نہ ہو۔۔۔۔۔” اس نے اپنے بھائی کو تسلی دی۔
“بلکل رانا بھائی۔۔۔۔۔ آپ کے آنے سے ہمارے گھر پھر سے خوشیاں آئیں ہیں ۔۔۔۔۔ گھر کا نظام مکمل ہوتا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ آپ سارے وہمات اپنے دل سے نکال دیں۔۔۔۔ ” نور نے بھی رانا بھائی کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی۔
رانا مبشر ان کے دلوں میں اپنے لیے محبت اور لگن دیکھ کر خوش دلی سے مسکرائے پھر روحان کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔ رانا صاحب کے دل کی ایک اور کڑی کھل گئی تھی۔ اب انہیں واقعی لگ رہا تھا وہ اپنے ریاست میں لوٹ آئے ہیں۔
سب کو بڑے پاپا کے ساتھ مشغول پا کر سفیان ایک ڈونٹ تو چٹ کر گیا تھا اور اب دوسرا اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ نور نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ شرارتی انداز میں کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔
“شیطان۔۔۔۔۔ ادھر آو۔۔۔۔ ٹھیک سے ناشتہ کرو۔۔۔۔” نور اس کا ہاتھ پکڑے اپنے پاس بیٹھانے لگی اور وہ محض ہنس رہا تھا۔
رانا صاحب اس منظر کو دیکھ کر مسرور ہورہے تھے کہ زینب نے انہیں مخاطب کیا۔
“بڑے پاپا۔۔۔۔ ممی اور سفیان کا تو یہ روز کا معمول ہے۔۔۔۔۔ آپ بے فکر ہو کر ناشتہ کریں۔۔۔” اس نے بڑے پاپا کو ناشتے کے جانب متوجہ کیا۔ روحان اور ذیشان بھی اپنا ناشتہ شروع کر چکے تھے اس لیے رانا صاحب بھی سر کو جنبش دیتے ہوئے ٹوسٹ کھانے لگے۔
&&&&&
( ترکی میں )
اس زور صبح سے انتالیہ شہر میں بوندھا باندھی شروع تھی۔ کرن سر پر چھتری تانے ہاتھ میں اپنی فائل پکڑے سیڑھیاں اتر کر اپنے اپارٹمنٹ سے نیچے آئی تو سامنے اس کی کار تیار کھڑی تھی۔ وہ تیزی سے بارش سے بجتے اپنے کار میں جا بیٹھی۔
فرنٹ سیٹ پر بیٹھے اس نوجوان نے سر کو خم دے کر کرن کو احترام پیش کیا۔
“گڈ مارننگ میم۔۔۔۔ ” اس نے مرر میں کرن کا عکس دیکھ کر مخاطب کیا۔
کرن پروفیشنل رائٹر کے طور پر بالوں کا جوڑا بنائے ہلکا سا میک اپ کئے بلیک پینٹ پر خاکی فارمل شرٹ پہنے اور گلے میں بلیک اسکارف اوڑھے ہوئے تھی۔ اس نے خوشگواریت سے اس نوجوان کے سلام کا جواب دیا۔
“گڈ مارننگ سیلان (ceylan)۔۔۔ کیسے ہے آپ۔۔۔” کرن مسکرا کر اپنے ترکش مینیجر سے ترکی زبان میں حال احوال دریافت کرنے لگی۔
سیلان نے کرن کے سوالوں کے جوابات دے کر پھر اسے آج دن بھر کی مصروفیات سے آگاہ کیا ۔ کرن کو کل اپنے نئے پروجیکٹ کے لیے بی بی سی نیوز کے ایک سیگمنٹ میں انٹرویو دینے بھی جانا تھا۔ وہ غور سے پورا راستہ سیلان سے اسی بانت تفصیلات سنتی رہی۔
&&&&&
( پاکستان میں )
رانا مبشر ایک ہفتے تک گھر میں رہ کر حالات مشاہدہ کرتے رہے تھے اور بلاآخر آج انہوں نے سات سال بعد اپنے آفس جانے کا فیصلہ کیا۔
روحان کے ہمراہ وہ برانڈڈ تھری پیس سوٹ اور نئے بوٹوں میں تیار اپنے آفس کے عمارت کے سامنے گاڑی سے اترے۔ پھر سر اونچا کر کے باہری حصے کو دیکھنے لگے۔ روحان نے گھر کی طرح آفس کی عمارت میں بھی واضح تبدیلیاں کر دی تھی۔
بزنس مین کا مسکراتا چہرہ بنائے وہ آفس کے اندر داخل ہوئے۔ سارے کارکنان رانا مبشر کے استقبال میں ایک لائن بنا کر خاموش کھڑے تھے۔ چند پرانے چہروں کے علاوہ سارے ورکرز بدل گئے تھے۔ جو رانا مبشر کے مزاج سے واقف تھے ان پر رانا صاحب کو دیکھ کر ہی خوف طاری ہوگیا تھا اور جو ان کی غیر موجودگی میں نوکری پر لگے تھے وہ باقی کارکنان کی زبانی رانا صاحب کے دہشت کے قصے سن کر ہی گھبرائے ہوئے تھے۔
انسان کا ماضی اس کے سایے کی طرح اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ رانا صاحب کا بدترین ماضی بھی ہر قدم پر ان کے ساتھ ساتھ ہوتا۔
وہ سر جھکائے سب کے سلام اور احترام کا جواب دیتے ہوئے اپنے کیبن میں چلے آئے۔ ایک وہی جگہ تھی جو بلکل سات سال پہلے جیسے تھی۔ بلکل ان چھوئی۔ روحان نے صرف ان کا کیبن ویسے ہی رہنے دیا تھا جیسے رانا صاحب کو پسند تھا۔ ہر چیز صاف ستھری اور نفاست سے اپنے مقرر زاوئیے پر سجائے ہوئے تھی۔
رانا مبشر اپنے کیبن کے دیوار گھیر کھڑکی میں آکر کھڑے ہوگئے اور باہر کے ٹریفک کو دیکھنے لگے۔
سب کچھ بدل چکا تھا۔ لوگ حالات اور وقت لیکن پھر بھی بہت کچھ تھا جو آج بھی اپنے اسی جگہ موجود تھا۔ لوگوں کے دلوں میں رانا صاحب کی وحشت آج بھی ویسی ہی برقرار تھی۔ رانا مبشر کی حیثیت اپنی جگہ ویسی ہی موجود تھی۔
شیشے کے پار چلتے ٹریفک کو دیکھتے ہوئے رانا صاحب گہری سوچ میں ڈوب گئے تھے۔
بادشاہت کسی کو بھی پاگل کر سکتی ہے۔ پاور پیسہ انسان کے خون کا رنگ بدلے نہ بدلے لیکن اس کو پانی ضرور کر دیتی ہے۔
رانا صاحب کے آس پاس سب کچھ آج بھی اپنی جگہ موجود تھا۔ ان کا گھر آفس دولت شہرت ان کا رعب و دبدبہ لیکن پھر بھی رانا مبشر کی زندگی میں ایک خلش تھی ایک خالی پن رہ گیا تھا جو انہیں بے چین کئے ہوئے تھا۔ خون کو پانی کی شکل سے نکل کر اصل میں آکر اب پھر سے بادشاہت سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
&&&&**
( ترکی میں )
کرن کے آفس پہنچنے تک بارش ہلکی ہو چکی تھی۔ وہ سیلان کے ہمراہ چلتے آفس کے عمارت کے اندر داخل ہوئی تو کوریڈور میں اس کا سامنا ہمایوں جہانگیر سے ہوا۔
کرن کے تاثرات سنجیدہ ہوگئے۔ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سیلان آگے ہوا اور ہمایوں جہانگیر سے ملا پھر کرن نے بھی رسمی سلام دعا کی۔
ہمایوں جہانگیر جانی مانی تاجر تھے۔ ان کا ڈرائی فروٹس کا کاروبار تھا۔ ایشیائی ممالک کے علاوہ امریکہ اور یورپ میں بھی ان کا کاروبار پھیلا ہوا تھا۔ کرن کی ہمایوں سے ملاقات 2 سال پہلے دبئی کے ایکسپو سینٹر میں ہوئی۔ دونوں میں پاکستانی ہونے کے نسبت سے بات چیت کا آغاز ہوا۔ ایک دوسرے کے مصروفیات پر تبادلہ خیال کرتے وہ ہر دوسرے دن کسی نا کسی جگہ مل جاتے۔ وہ دو ماہ کرن اور ہمایوں نے دوستانہ انداز میں گزارے۔ پھر جب کرن کی ترکی واپسی متوقع تھی تو ایک شام ہمایوں نے اسے ڈنر پر مدعو کر کے شادی کے لیے پروپوز کیا۔
35 سالہ ہمایوں خوش رو اور ہینڈسم جوان تھا اور اپنا تجارت کا کاروبار بھی تھا۔ ایسے پڑھے لکھے ہینڈسم جوان بزنس مین کو تو کوئی بھی لڑکی پہلی ہی ملاقات میں ہاں کر دیتی لیکن کرن کو ہمایوں کے اچانک پروپوز کرنے پر جھجک محسوس ہوئی۔
“ہمایوں۔۔۔۔ میرا ابھی شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔۔۔” کرن نے معذرت خواہاں انداز میں وضاحت پیش کی۔
ہمایوں اس کا جواب سن کر افسردہ ہوگئے لیکن اسے قائل کرنے کی ایک اور کوشش ضرور کی۔
“ہاں تو۔۔۔۔ ابھی ارادہ نہیں ہے نا۔۔۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔۔ جب کچھ سال بعد ارادہ بن جائے گا تب کر لینگے شادی۔۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔ پر کم از کم ابھی منظوری دے دو۔۔۔” ہمایوں نے اس فائف سٹار ہوٹل کے ٹیبل پر کہنیاں جمائے ہوئے اپنا ہاتھ کرن کے آگے کر کے کہا۔
کرن ہمایوں کا ہاتھ دیکھ کر متذبذب سی ہوگئی۔
“لیکن میں کسی کو جھوٹی امید میں نہیں رکھنا چاہتی۔۔۔۔۔ پہلی شادی ناکام ہونے کے بعد اب دوبارہ شادی کرنا۔۔۔۔۔۔ میرے لیے بہت مشکل ہے۔۔۔۔ میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔۔۔” کرن نے شکستہ لہجے میں کہا اور رخ پھیر کر دوسرے جانب دیکھنے لگی۔
ہمایوں نے کرن کے انکار پر اداسی سے اپنا خالی ہاتھ واپس پیچھے کیا۔
“میں سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔ اور تم بہت خود مختار خاتون ہو کرن۔۔۔۔ اس لیے میں مزید تمہیں فورس نہیں کروں گا۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔ جب بھی شادی کا ارادہ بنے۔۔۔۔ میرے آفر کے بارے میں ضرور سوچنا۔۔۔۔” ہمایوں نے تناو ختم کرتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔
کرن چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ کر مسکرائی اور ڈنر کرنے لگی۔
اگلے دن کرن واپس ترکی آگئی تھی اور اس دن کے بعد آج دو سال بعد اس کی ہمایوں سے ملاقات ہورہی تھی۔
ہمایوں اس کا حال احوال دریافت کرتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔
“کاروبار کے سلسلے میں ترکی آیا ہوا تھا۔۔۔۔۔ سوچا جب آیا ہوں۔۔۔۔تو تم سے بھی مل لوں۔۔۔۔” ہمایوں نے خوش مزاجی سے اسے دیکھا
کرن پرانی باتیں جھٹک کر مستحکم بھرے انداز میں مسکرائی۔
“بہت اچھا کیا آپ نے۔۔۔۔۔ مجھے بھی تو آپ کی خاطر داری کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔۔۔” کرن نے میزبانی کے طور پر سر کو خم دیتے ہوئے کہا۔
&&&&*
جاری ہے
