Qismat Se Haari Mein Season 2 By Palwasha Safi Readelle50277 Last updated: 29 September 2025
Rate this Novel
Qismat Se Haari Mein
Season 2 by Palwasha Safi
روحان اور اپنے وکلاء کے ٹیم کی مدد سے رانا صاحب نے شیخ صاحب کے طرف سے اس پولیس اہلکار پر کورٹ کیس کروایا اور دو ماہ کے اندر ہی ان کی رہائی کی عرضی بھی قبول ہوگئی بلکہ اس پولیس اہلکار کو اپنے پاور کا غلط استعمال کرنے پر بھاری جرمانہ ادا کرنے کی سزا ہوئی۔ جس رات شیخ صاحب کی جیل میں آخری رات تھی وہ دونوں تقریباً ساری رات بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ "میں آپ سے ہمیشہ رابطے میں رہوں گا۔۔۔۔ میں نے روحان کو کہہ دیا ہے وہ ہر ہفتے مجھے آپ کی خبر لا کر دیتا رہے۔۔۔۔" رانا صاحب نے مستحکم بھرے انداز میں مسکرا کر کہا۔ "مبشر تم بھی رِہا ہو کر۔۔۔۔۔ اس کے پاس ضرور جانا۔۔۔۔۔ اس سے اعتراف کرنا۔۔۔۔ اسے اپنا نیک ہونا ضرور دکھانا۔۔۔۔" شیخ صاحب نے پیار سے مشورہ دیا۔ "شیخ صاحب مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہے۔۔۔۔ اب تو 3 سال گزر گئے ہیں۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے اس نے شادی کر لی ہو۔۔۔۔ اس کی فیملی ہوگئی ہو۔۔۔۔۔" رانا صاحب کی آواز سے نا چاہتے ہوئے بھی مایوسی چھلک رہی تھی۔ "اگر وہ تمہارے قسمت میں ہے۔۔۔۔ تو یقین جانو۔۔۔۔۔ وہ آج بھی دنیا کے کسی نہ کسی گوشے میں تمہاری منتظر ہے۔۔۔۔۔" شیخ صاحب نے انہیں امید دلاتے ہوئے کہا۔ رانا صاحب تعجب سے انہیں دیکھے جا رہے تھے۔ "ہوسکے تو اس سے مل کر معافی بھی مانگ لینا۔۔۔۔۔ چاہے تمہاری غلطی نہ بھی ہو۔۔۔۔۔ معذرت چاہنے سے کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوجاتا۔۔۔۔ درگزر کرنے سے دل کی میل نکل جاتی ہے اور ایمان تازہ رہتا ہے۔۔۔۔" وہ اسی نرم لہجے میں گویا تھے۔ "ایسا کرنے سے کیا وہ میری زندگی میں واپس آجائے گی۔۔۔۔۔" رانا صاحب متفکر انداز میں پوچھا۔ "پتا نہیں۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے تمہاری معافی قبول بھی نہ کریں۔۔۔۔۔ تم پر چیخیں چلائے۔۔۔۔۔ تمہیں جھڑکیں۔۔۔۔۔ لیکن تمہیں خاموشی سے برداشت کرنا ہوگا۔۔۔۔ ایک کامیاب زندگی کا دار و مدار ہی صبر اور برداشت پر ہے۔۔۔۔۔" شیخ صاحب نے مستقبل کے اندیشوں سے روشناس کرایا۔ "پھر کیا فائدہ۔۔۔۔۔ پھر ایسا کرنے سے کیا مل جائے گا۔۔۔۔" رانا مبشر نے ہنہ کرتے ہوئے سر جھٹکا "تسکین۔۔۔۔۔ کم سے کم تمہارے دل کو تسلی ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔ یہ سکون مل جائے گا کہ تم نے کوشش کی تھی۔۔۔۔۔ تم گئے تھے اس کے پاس۔۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں آئی۔۔۔۔۔ تم نے اپنا کام کر دیا۔۔۔۔ آگے اللہ کی مرضی۔۔۔۔۔۔" شیخ صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا۔ "ایک دفعہ جبر اور زبردستی کر کے نتیجہ دیکھ لیا ہے نا۔۔۔۔۔۔ اس مرتبہ پیار اور صبر سے کام لینا۔۔۔۔ میں بھی دعا کروں گا تم اپنی محبت کو پانے میں کامیاب ہوجاو۔۔۔۔۔" انہوں نے رانا صاحب کو تنبہیہ کرتے ہوئے کہا اور سیل سے باہر نکل گئے۔ رانا صاحب آگے کا لائحہ عمل سوچ رہے تھے۔ "مگر میں چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ میں ہمیشہ اس کے پاس رہوں۔۔۔۔۔ بے شک وہ مجھے کبھی معاف نہ کریں۔۔۔۔۔۔ اس کا ساتھ ہی میرے زندہ رہنے کے لیے کافی ہوگا۔۔۔۔۔" انہوں نے بے بسی سے لب مینچھے سوچا۔ محبت کی شدت پر ان کا زور نہیں چل رہا تھا۔ انہیں اپنی کیفیت سے بے چینی ہونے لگی۔ وہ کبھی نا ہارنے والا شخص کبھی کسی کے آگے نا جھکنے والا آج اپنی قسمت کی بے بسی اور ایک لا حاصل محبت کے روگ میں مبتلا ہوگیا تھا۔ خواہش اور چاہ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔۔۔۔ خواہش انسان کو گھمنڈی کر دیتی ہے۔۔۔ چاہت انسان کو مٹی کر دیتی ہے۔۔۔۔ کرن کی جدائی نے اس کی چاہت نے رانا مبشر جیسے لوہے کو پگلا دیا تھا انہیں مٹی کر دیا تھا۔ آج انہیں کرن کو پانے کی خواہش نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ کی چاہ تھی۔ ***************&&&&**************** شیخ صاحب کے آزاد ہونے کے بعد بھی پچھلے چار سالوں سے رانا صاحب میں وہ نمایاں تبدیلیاں آگئی تھی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ وہ اب پوری طرح پاپندی سے نمازیں ادا کرتے تلاوت کرتے۔ سب کے ساتھ اچھے سے رہتے۔ ان کی نیک اور با خلوص شخصیت نکھر گئی تھی۔ برائی چھوڑ کر نیکی پر چلتے وہ کئی مرتبہ لڑکھڑائے۔ گر پڑے۔ ٹوٹ کر بکھر گئے۔ شیطان کے بہکاوے اور نفس کے لالچ نے انہیں راہ راست سے ہٹانے کی پوری جتن کیے لیکن ان سب کے باوجود بھی ان کا حوصلہ نہیں ڈگمگایا۔ وہ اپنی اصل کو پانے کے لیے محنت کرتے رہے۔ اور اللہ رحیم و کریم جسے چاہے ہدایت دے۔۔۔۔ کبھی کبھی حالات ایسے ہوجاتے ہیں جس کو کسی بھی زبان میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اور وہ حالات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو اس عمر اور زندگی کے اس مرحلے پر آکر زیر کر دیتے ہیں جب انسان خود کو صراط مستقیم کے دوسرے سرے پر پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے۔۔۔ اور تب پہلی بار یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ ساری عمر جس راستے کو صراط مستقیم سمجھ کر چلتے رہے وہ نہ راستہ تھا نہ سیدھا۔۔۔ وہ صرف آپ کا نفس تھا یا آپ کا گمان۔ قید کے ان سالوں میں رانا صاحب بھی یہ سارے جوابات سمجھ گئے تھے۔ اس دن کے بعد رانا صاحب نے یہ عزم بھی کر لیا تھا کہ زندگی میں ایک مرتبہ کرن سے ضرور ملیں گے پھر چاہے وہ انہیں معاف نہ بھی کریں لیکن وہ اپنے تسکین کے لیے کوشش ضرور کریں گے۔ ############# موجودہ دن ############# "بس وہ دن تھا اور آج کا دن۔۔۔۔ مجھے تم مل گئی کرن۔۔۔۔۔۔ آج اس پہر تم میرے ساتھ ہو۔۔۔۔۔۔" رانا صاحب نے اپنی داستان مکمل کی اور رخ پھیر کر کرن کو دیکھا تو اس کے رخسار آنسوؤں سے تر ہوچکے تھے۔ رانا صاحب اپنا سفر حیات بیان کرتے اتنے مگن ہوگئے تھے کہ کرن کب رونے لگی انہیں پتا ہی نہ چلا۔ رات گہری ہوچکی تھی چاند تارے یوں ہی اپنی مقرر رفتار سے رواں دواں تھے۔ تیز ہوائیں اور سمندر کی لہریں بھی اسی انداز میں بہہ رہی تھیں۔ پھر بھی بہت کچھ تھا جو بدل گیا تھا۔ کوئی سنبھل چکا تھا تو کوئی بکھر چکا تھا۔ کرن نے رانا صاحب کی نظریں خود پر پائی تو رخ دوسری جانب پھیر کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس وقت اس کے پاس اپنے جذبات بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ آنسو صاف کرتے ہوئے وہ اٹھی اور بنا کچھ کہے اپنے اپارٹمنٹ کے سمت تیزی سے چلنے لگی۔ رانا صاحب بھی اٹھ کھڑے ہوگئے لیکن انہوں نے کرن کو نہیں روکا وہ اسے جاتے دیکھتے رہے۔ وہ کرن کو ساری حقیقت سمجھنے کے لیے وقت دینا چاہتے تھے۔ جب کرن پوری طرح آنکھوں سے اوجھل ہوگئی تب وہ سر جھٹک کر، جینز کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے، بادلوں کے پیچھے چھپتے چاند اور تاروں کو دیکھتے ساحل پر چہل قدمی کرنے لگے۔
