Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Ho Gai Hai Shayad by Nuzhat Jabeen

شام دھیرے دھیرے ڈھل رہی تھی۔ الیاس صاحب آفس سے آئے تو حسب معمول سیرت‘ تزکیہ اور تقدیس کے ساتھ بیٹھ کر پڑھائی کے بارے میں باتیں کر نے لگیں۔ بارہ سالہ سیرت‘ دس سالہ تزکیہ اور چھ سالہ تقدیس اپنے اپنے ٹیسٹ کے بارے میں بتارہی تھیں ساتھ ساتھ تقدیس اپنے اسکول اور ٹیچرز کی باتیں بھی مزے لے لے کر کرہی تھی۔ ناظمہ بیگم چائے پکا کر لائیں ساتھ میں بسکٹ اور نمک پارے بھی تھے۔
’’ارے واہ بھئی مزا آگیا۔‘‘ الیاس صاحب نے گرم گرم نمک پارے دیکھے تو مسکرائے سب لوگ مل کر چائے پی رہے تھے بہت اچھا ماحول تھا۔ ناظمہ بیگم بھی سبزی بناتے بناتے کسی بات میں حصہ لے لیتیں ورنہ بچیاں اباجی کے ساتھ ہی لگی رہتیں۔ تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔
’’ابا جی پھوپو آئیں ہیں۔‘‘ تزکیہ نے دروازہ کھولا ان کے ساتھ کوئی عورت بھی تھی۔ تیس بتیس سال کی چہرے سے تیز اور میک اپ زدہ سی عورت جسے دیکھ کر الیاس صاحب اٹھ کر جانے لگے۔
’’نہیں نہیں الیاس فیروزہ پردہ نہیں کرتیں آجاؤ تم بیٹھ جاؤ بس تھوڑی دیر میں چلی جاؤں گی۔ یہاں بازار آئی تھی تو سوچا خیر خیریت لے لوں یہ خالد صاحب کی بہن کی نند ہیں آئی ہوئی تھیں تو ان کو بھی مارکیٹ لے آئی ساتھ میں۔‘‘ شبانہ بیگم نے تفصیلی بات کی تو الیاس صاحب نا چاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئے۔
ناظمہ بیگم بہت تپاک سے ملیں۔ فوراً چائے لے آئیں بچیاں پھوپو کو دیکھ کر کھسک لیں کیونکہ ان لوگوں کو پھوپو ذرا بھی اچھی نہیں لگتیں تھیں نہ جانے کیوں سیرت‘ تزکیہ اور تقدیس سے ہمیشہ روڈ لہجے میں بات کرتیں۔ کبھی بھی پیار نہ کرتیں ان کو دیکھ کر ہی پھوپو کے تیوریوں پر بل پڑجاتے جب آتیں کسی نہ کسی بات پر ناظمہ بیگم کو چوٹ بھی کرتیں۔ سیرت اور تزکیہ اب ان کو دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہونے لگتیں اور تقدیس بھی دونوں کے پیچھے پیچھے چھت پر چلی جاتی۔
ناظمہ بیگم کو فیروزہ کی حرکتیں کچھ عجیب سی لگیں۔ عجیب کھوجنے والی نظروں سے ناظمہ بیگم کا جائزہ لے رہی تھیں۔ ساتھ ساتھ الیاس صاحب کو بھی بغور دیکھے جارہی تھیں اور حیرت کی بات یہ کہ گھر بھی دیکھا اور کرائے داروں کے بارے میں بھی خاصی معلومات حاصل کیں۔ ناظمہ بیگم کو کچھ مشکوک ہی لگیں یوں کسی کے گھر پہلی بار آنا اور اس طرح سے ہرم معاملے کی کھوج اور ٹوہ لینا عجیب معیوب بات لگی تھی۔ تھوڑی دیر بعد شبانہ بیگم چلی گئیں اور ناظمہ بیگم نے قدرے تعجب سے میاں کی طرف دیکھا۔
’’الیاس احمد آپ نے اس عورت کی حرکتیں نوٹ کیں…؟‘‘
’’نہیں یار مجھے تو بیٹھنا ہی عجیب سا لگ رہا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں مجبوراً آپا کی وجہ سے بیٹھا رہا کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے آئی ہیں ویسے بھی ان کو تو ہم لوگوں سے ناراض ہونے کا بہانہ چائیے۔ میں نے سوچا اٹھ کر جاؤں گا تو ان کو برا لگے گا۔‘‘ جواباً الیاس صاحب نے تفصیلی بات کی اور مجبوری کا اظہار کیا۔
ناظمہ بیگم بھی سر ہلا کر کچن کی جانب چلی گئیں۔ مغرب کی اذان ہونے لگی تھی۔ سیرت‘ تزکیہ اور تقدیس بھی نیچے آگئے تھے کیوں کہ ناظمہ بیگم کے ساتھ نماز مغرب ادا کرنی تھی۔ اور دوسرے دن شام کو شبانہ بیگم کی آمد کسی انہونی کا پیش خیمہ تھی۔ تینوں بچیاں حسب معمول کھیل رہی تھیں۔ ناظمہ بیگم نماز عصر سے فارغ ہو کر صحن میں لگی کیاریوں کی صفائی کر رہی تھیں۔ الیاس صاحب آفس سے آکر فریش ہونے کے بعد نیوز چینل دیکھ رہے تھے کوئی خاص نیوز تھی تب ہی ناظمہ بیگم نے بچیوں کو بھی باہر صحن میں روک رکھا تھا۔ آج کل سرکاری ملازمین کے بارے میں نئی نئی باتیں اور پابندیاں عمل میں لائی جارہی تھیں اور الیاس صاحب وہی دیکھ رہے تھے۔ شبانہ بیگم آئیں اور سیدھی کمرے میں الیاس صاحب کے پاس چلی گئیں۔
’’ارے آپا آپ…؟‘‘ الیاس صاحب نے قدرے حیرت سے انہیں دیکھا۔ ویسے تو مہینوں خبر نہ لینے والی آج پھر کیوں آگئیں۔ یہ بات حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ تشویش ناک بھی تھی۔
’’ہاں بھیا… بس تم سے ضروری بات کرنی تھی تب ہی آگئی ہوں۔ کیا کروں بھیا تم میرے ماں جائے ہو میرے ماں باپ کی آخری نشانی‘ میرے لاڈلے بھائی جو میرے لیے بچوں کی طرح ہو۔ دل کھچتا ہے تمہاری طرف تڑپ ہوتی ہے تو چلی آتی ہوں تم کو تو فرصت نہیں ملتی۔‘‘ انہوں نے لمبی ٹھنڈی سانس بھر کر اپنی بات کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ جوڑا جہاں سے منقطع ہوا تھا۔
’’جی آپا آپ میرے لیے اماں کی طرح ہیں۔‘‘ الیاس صاحب نے سعادت مندی سے کہا۔
’’میں واری اپنے بھائی کے کتنی محبت کرتا ہے میرا بھائی ظاہر ہے اوپر تلے کی بیٹیاں دیکھتے دیکھتے کھیرا ککڑی کی طرح بڑھنے لگتی ہیں۔ سیرت کو دیکھو کتنی بڑی لگنے لگی ہے پھر تزکیہ اور تقدیس بھی ہاتھ کو آجائیں گی۔‘‘
’’جی آپا دعا کریں کہ اﷲ پاک میری بیٹیوں کا نصیب اچھا کرے اور مجھ میں اتنا حوصلہ‘ ہمت دے کہ میں ان تینوں کو خوش اسلوبی کے ساتھ بیاہ دوں۔‘‘ الیاس صاحب نے کہا۔
’’ہاں ہاں بھئی دعائیں تو کرتی ہوں تم لوگوں کی نظروں میں بری سہی مگر ہوں تو تمہارا خون دل سے دعا کرتی ہوں مگر بھیا… کام صرف دعاؤں سے نہیں چلتا اﷲ تعالیٰ بھی کہتا ہے کہ تم حرکت کرو میں برکت دوں گا۔ اب تو یہ ہمارا کام ہے ناں کہ ہم راستے تلاش کریں اپنی بہتری کے لیے سوچیں۔‘‘
’’بالکل آپا… الحمدﷲ ناظمہ اور میں مل کر حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہیں بہتر تعلیم و تربیت اور اچھی طرح سے بچیوں کو اپنے اپنے گھروں کا ہوجانے کے لیے بس اﷲ پاک ہمیں سرخرو کردے آمین۔‘‘
’’دیکھو بھیا… تمہاری بات اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر ایک بات ٹھنڈے دل اور دماغ سے سن لو میں تمہاری بہتری کے لیے ہی کہہ رہی ہوں۔‘‘ اس بار شبانہ بیگم تھوڑا آگے کھسک کر قدرے آہستگی سے بولیں۔
’’جی آپا۔‘‘ الیاس نے حیرانی سے بہن کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں کل فیروزہ کو لے کر آئی تھی تم نے دیکھا اسے۔ کیسی لگی تمہیں؟‘‘ شبانہ بیگم کی بات پر الیاس صاحب بری طرح چونکے۔
’’ک… ک… کیا مطلب؟ میں سمجھا نہیں آپا آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔‘‘
’’دیکھو الیاس میاں… میں چاہتی ہوں کہ تم بھی مالی لحاظ سے بہتر ہوجاؤ عبدالجبار بھائی کو دیکھو ماشاء اﷲ سے کیسا بزنس چمک گیا ہے چار چار بیٹوں کی بھی سپورٹ ہے ان کو ہم اﷲ کے فضل سے صاحب حیثیت ہیں ایک تم ہی ہو جو عام سی جاب کرتے ہو اوپر سے بیٹیوں کی ذمہ داری بھی ہے۔ یہ فیروزہ صبیحہ کی بیوہ نند ہے لاکھوں روپیہ ہے اس کے پاس اس کو دوسری شادی کے لیے بے شمار لوگوں نے درخواست کی ہے مگر وہ مانتی نہیں اور اب تمہیں دیکھ کر یہاں کے ماحول اور گھر کی حالت دیکھ کر اس نے تم سے شادی کرنے کی حامی بھرلی ہے اور بھیا میں نے بھی سوچا کہ تمہارا بھی بھلا ہوگا ان شاء اﷲ بیٹا ہوجائے گا اور مالی سپورٹ…‘‘
’’آپا بس کریں یہ کیا فضول بات کر رہی ہیں آپ؟‘‘ اسی لمحے ناظمہ بیگم چائے کی ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئیں اور الیاس صاحب کی بات کے ساتھ ساتھ شبانہ آپا کا آخری نامکمل جملہ بھی ان کی سماعتوںمیں گونجا تھا۔
’’یہ بات آپ نے کیسے کی؟ کیا سوچ کر آپ اس عورت کو یہاں تک لائیں اور پھر مجھ سے بات کی؟ کیا آپ کو کبھی بھی لگا کہ میں پریشان ہوں یا میں ایسا چاہتا ہوں؟ مجھے مالی مدد کی ضرورت ہے؟ آپ نے مجھے اتنا بے غیرت سمجھ لیا ہے کیا؟ آپ کو ایسی بات سوچتے ہوئے بھی ذرا سا خیال نہ آیا؟‘‘
’’بس کرو میں تمہاری دشمن نہیں ہوں اور ایسا کون سا گناہ کرڈالا ہے۔ عمر سے زیادہ لگنے لگے ہو۔ ارے تم سے اچھے تو عبدالجبار بھائی لگتے ہیں تمہاری ہمدردی میں آکر اتنے پاپڑ بیل رہی ہوں۔ میرا کوئی فائدہ نہیں ہے اس میں۔‘‘
’’آپا اگر یہ میری بھلائی اور ہمدردی ہے تو خدا کے لیے مجھے آپ کی ہمدردی نہیں چائیے۔ اپنی ہمدردی اپنے پاس رکھیں اور آئندہ مجھ سے اس موضوع پر کوئی بات کرنے کا سوچئے گا بھی نہیں۔ مجھے میرا گھر میری بیوی اور میری بچیاں بہت عزیز ہیں اور یہی میری دنیا ہے میرے ذہن میں کبھی بھی کوئی خلش‘ پچھتاوا یا محرومی کا معمولی سا عنصر بھی نہیں آیا میں اپنی دنیا میں خوش اور مطمئن ہوں۔ نہ مجھے کسی کی ہمدردی کی ضرورت ہے نہ مالی سپورٹ کی اور نہ بیٹے کی آئی سمجھ…‘‘ اس بار الیاس صاحب ضبط کی حد پار کر چکے تھے۔
’’لو بھیا خون سفید ہوگیا ہے یہاں تو نہ جانے کیسے کیسے جادو سر چڑھ کر بول رہے ہیں ہمدردی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا ارے بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہارا گھر۔ اب کبھی جو تمہارے معاملے میں بولی تو نام بدل کر رکھ دینا میرا۔ رہو خوش اپنی دنیا میں۔‘‘ شبانہ بیگم کو تلووں سے لگی آگ سر پر جا کر لگی تھی وہ بکتے جھکتے کھڑی ہوگئیں۔ ناظمہ بیگم کو دیکھا تو غصہ مزید عروج پر آگیا۔ الیاس صاحب نے شرمندگی سے ناظمہ بیگم کے دھواں دھواں چہرے کی جانب دیکھا۔ پھر اٹھ کر ناظمہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر میں بٹھالیا۔
’’ناظمہ تمہیں بری لگی ہوگی آپا کی بات میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘
’’ارے نہیں الیاس احمد‘ آپ ایسا کہہ کر مجھے شرمندہ نہ کریں آپ تو میرے لیے واقعی قابل سجدہ ہیں۔ اﷲ پاک کا جتنا شکرادا کروں کم ہے کہ اس نے مجھے آپ مجھے حلیم‘ متقی اور محبت کرنے والا شوہر عطا کیا ہے۔‘‘ ناظمہ بیگم کی آنکھیں نم ہوگئیں تو الیاس صاحب نے ان کو سینے سے لگالیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *