Mohabbat Mamnoo Hai by Waheed Sultan NovelR50742

Last updated: 29 June 2026

Mohabbat Mamnoo Hai by Waheed Sultan

" ارے تم تو میری پیاری سی دوست ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم سے محبت نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے" ذولجان نے نشیلی نظروں سے عریشہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"مذاق کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں جانتی ہو تمہیں میرے علاوہ کسی لڑکی سے محبت نہیں ہو سکتی" عریشہ نے مسکراتے ہوئے کہا
"میں مذاق بالکل نہیں کر رہا ۔ ۔ ۔ ۔ میں تمہیں سنجیدگی سے بتا رہا ہوں کہ مجھے تم سے نہیں بلکہ اپنے اسکول کی کسی فی میل ٹیچر سے محبت ہوئی ہے"ذولجان نے عریشہ کی خوش فہمی کو جڑ سے اکھار دیا ۔ عریشہ کے چہرے پر حیرانگی کے آثار نمودار ہو گئے ۔ اس کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا اور ہاتھ سے چمچ گر گیا ۔ عریشہ نے ذولجان کو قہرآلود نظروں سے دیکھا اور کھانے کی پوری پلیٹ ذولجان پر پھینک دی اور پھر دوسرے لمحے اس نے ذولجان پر پانی کا جگ انڈیل دیا اور بھاگتے ہوئے کمرے سے چلی گئی ۔ وہ چھوٹی تنگ گلی میں بے آواز روتے ہوئے بھاگ رہی تھی ۔
"نہیں عریشہ ابھی تمہاری عمر محبت کرنے کی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تمہیں اپنی سٹڈی مکمل کرنی ہے اور پاپا کا بزنس کی دنیا میں سہارا بننا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ تم پاپا کو کبھی احساس مت ہونے دینا کہ ان کا کوئی بیٹا نہیں"وہ بھاگتے ہوئے خود سے بڑبڑائی
"ابھی تم عشق کی وادی میں قدم نہیں رکھو گی اور جب تم سٹڈی مکمل کر لو گی تب ذولجان سے محبت بھی کر لینا" عریشہ چھوٹی تنگ گلی کے اختتام پر روک گئی ۔ وہ کمر جھکائے ، گھٹنوں پہ دونوں ہاتھ جمائے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ۔
"ذولجان! جب میں تم سے محبت کروں تب میں تمہیں اس استانی سے بھی چھین لوں گی جس سے تمہیں محبت ہوئی ہے" عریشہ نے سیدھے کھڑے ہو کر گہری سانس لی اور آپ آنسو صاف کرنے کے بعد پنڈی فوڈ سٹریٹ میں بھاگنے کی بجائے نارمل حالت میں چلنے لگی ۔
"عریشہ! تم بنا بتائے کہاں گئی تھی ، میں تمہیں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ تم اب بچی نہیں رہی ، تم بڑی ہو چکی ہو" لاؤنج میں داخل ہوتے ہی مسز حالد کی کربناک آواز عریشہ کی سماعتوں ٹکرائی
"میں بچی نہیں رہی ، میں اب بڑی ہو چکی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ماما یہ بات اب آپ اس ذولجان کو سمجھائیے گا جسے پاپا اور آپ اپنا بیٹا تصور کرتے ہیں اور اسے کہیے گا کہ اب ٹینس کھیلنے کے لیے کسی لڑکے سے دوستی کر لے اور ہمارے گھر نہ آیا کرے" عریشہ غصے سے قہر آلود لہجے میں کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی اور مسز حالد کے چہرے پر حیرت اور تعجب کے آثار نمایاں نظر آ رہے تھے ۔ کمرے میں جاتے ہی عریشہ نے دروازے لاک کیا اور بلک بلک کر رونے لگی ۔ جب عریشہ رو رو کر تھک گئی تو وہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔
"تمہیں محبت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں عریشہ نہیں تمہیں کسی سے محبت نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔ ۔ ذولجان سے تو بالکل نہیں" عریشہ نے آئینے میں خود کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *