Matam Sang Shehnai Ke by Parisha Mahnoor Khan NovelR50824
Last updated: 25 July 2026
No Download Link
709K
7
No chapters found.
Matam Sang Shehnai Ke by Parisha Mahnoor Khan
ہمدانی ہاؤس کے مکینوں پر آسمان آ گرا تھا۔۔وہ گھر جو ہنستا تھا اس کی درودیوار تک قہقے لگاتی تھیں وہاں اداسی رقص کر رہی تھی۔۔۔
رانیہ ہمدانی زندگی کا رنگ زندگی کی ترجمان مر چکی تھی۔۔
کوئ سہیل ہمدانی سے پوچھتا دکھ کیا ہوتا ہے۔۔؟کوئ اس ماں کا کلیجہ دیکھتا جو جوان اولاد کی ڈولی کا حواب سجاۓ تابوت سجا رہی تھی۔۔کوئ ان بہنوں کا درد سمجھتا جنہیں رانیہ کے بغیر حوف آتا تھا۔؟؟اور کوئ تو اس شحص کا دکھ جان پاتا جس کے گھر اس کی من پسند دو مہینے بعد دلہن بن کر اترنے والی تھی۔۔؟؟وہ اڑتیس سالہ میچوڑ شحص تابوت سے لگا پھوٹ پھوٹ کر رو دہا تھا۔۔۔
محبت کو پاگل پن کہنے والے آج پاگل پن دیکھ رہے تھے۔زندگی تب مشکل نہیں لگتی جب آپ تکلیف میں ہوتے ہو زندگی کی سانسیں آپ پر تب تنگ ہوتی ہیں جب دل کے مکین دنیا چھوڑ جاتے ہیں۔
سو فیصد میں سے دس فیصد لوگ محبت کرتے ہیں۔اور ان دس فیصد میں سے پانچ فیصد مستقل مزاج ہوتے ہیں جو جیتے ہیں تو سانسوں پر محبوب کے نام کی تسبیخ کرتے اور مرتے ہیں تو سانسیں محبت کو دان کر کے آنے والے پانچ فیصد لوگوں کی محبت کو سانس دے جاتے ہیں۔
ریحان مصطفی خان۔ایک مسحور کن شحصیت کا مالک ،محبت ہوتی ہے کی مجسم تصویر تھا۔وہ ایک بادشاہوں سا مرد تھا جو محبت کے بچھڑ جانے پر بھکاریوں سے بھی بدتر حالت کو پہنچ چکا تھا۔
ہر آنکھ اشک بار تھی اس جواں سالہ موت پر۔ریحان کا دکھ،سہیل کی اذیت،رخشندہ ہمدانی کا چھلنی چھلنی کلیجہ،أنیہ اور وانیہ کی چیخیں ہر ذی روح کو تڑپ تڑپ کر رونے پر مجبور کر رہی تھیں۔
آخر وہ وقت بھی آیا رانیہ کو لے جایا گیا۔۔وہ جسے سرح جوڑے میں بیجھنا تھا وہ سفید کفن میں رحصت ہوئ۔۔۔
مسزہمدانی ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئیں تھیں۔۔اور وانیہ اور آنیہ انہیں تو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی وہ ماں کو سنبھالیں یا جاتی ہوئ بہن کو روکیں۔۔۔وہ روکنا چاہتی تھیں اپنی بہن کو اپنی زندگی کو مگر جانے والوں کو روکنا ناممکنات میں شامل تھا شامل رہا ہے۔۔
کون جانتا ہے دکھ ان ماؤں کے
جو جوان اولادوں کی
ڈولی کا خواب سجاۓ
تابوت سے لپٹ لپٹ کر
رو رہی ہوتی ہیں۔
