Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Marz E Ishq Ki Dawa Tum Ho By Husny Kanwal 

 

شادی کی تصویریں آئيں تو اس میں شاهنزیب کی تصویر دیکھ ماهنور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی...

بیگم شمسہ کے کان ان کی بہن اور سعدیہ نے ماهنور کے خلاف بھر دیےؔ....اور وه بہن اور بھانجی کے اکھسانے پر اپنے شوہر سے لڑائی کرنے لگیں...

افتخار صاحب اپنے کمرے میں بیٹھے لیپ ٹائپ پر آفس کا کام کررہے تھے...کے بیگم شمسہ سر پر آکر کھڑی ہوگیںؔ....”آپ کے بڑے بھائی نے ناانصافی کی ہے ہمارے ساتھ...یہ گھر صرف اُن باپ بیٹی ہے کیا؟؟؟....ہمارا اور ہمارے بچوں کا نہیں...ان کی بیٹی ذرا سہ بےہوش کیا ہوگیؔ...میرے بیٹے کو انھوں نے طیش میں آکر گھر سے یی نیکال دیا...ارے مری تھوڑی تھی صرف بےہوش ہی ہوئی تھی“بیگم شمسہ کو روش آیا تھا یه دیکھ کے وه بولے جارہی تھیں مگر افتخار صاحب کے کان پر تو جیسے جوں تک نه رینگ رہی ہو...پر جب انھوں نے غصے میں آکر آخری جملہ اتنا سخت ادا کیا ماهنور کے حوالے سے تو افتخار صاحب خاموش نه رھ سکے...کیونکے ماهنور کو انھوں نے ہمیشہ اپنی بیٹی کی طرح مانا تھا...

”زبان کو لگام دو شمسہ....جانتی بھی ہو کیا کھ رہی ہو؟؟؟...تم اِس وقت مانو کے بارے میں بات کررہی ہو...ہماری مانو...ہماری بچی...مجھے تو یقین نہیں آرہا جو شمسہ ہر وقت ماهنور کو میری بچی میری بچی کرتی تھی اس کے دل میں یوں اچانک اتنا زہر کہا سے آگیا“انھوں نے کام چھوڑ غصے سے کھڑے ہوکر کہا تو جوابا وه طنزیہ مسکراء دیں...”ہماری بچی...ارے میں تو اس میں اور شاهزیہ میں کبھی فرق بھی نہ کرتی تھی...شاهزیه کی شادی اتنی کم عمری میں ہوئی اور اوپر سے اس کے شوھر نے اسے روک لیا...تو میں نے ماهنور کو اپنی سگی اولاد کی طرح سمجھا اگر کہو شاهزیه سے زیاده محبت ماهنور کو دی تو غلط نه ہوگا... پر آپ کے بڑے بھائی نے فرق کیا ہے بچوں میں...میرے شاه کی زبان نہیں تھکتی تھی انہیں بڑے ابو ٖ بڑے ابو کرتے ہوےؔ..اک بار انھوں نے نہ سوچا کے میرا بیٹا کہاں جاےؔ گا“بیگم شمسہ اپنے بیٹے کی جدائی پاگل سی ہوگیںؔ تھیں...یه اُن کے بیٹے کی محبت ہی تھی کے وه اپنے شوہر سے لڑ رہی تھیں...افتخار صاحب نے انہیں سمجھاتے ہوےؔ بولے:”کتنی بار بتایا ہے تمھیں شمسہ ....یہ میرا فیصله تھا ...اسے گھر سے نیکالنے کا...بھائی نے تو صرف الفاظ ادا کیےؔ ہیں...“وه افتخار صاحب کی بات پر ”میں مان ہی نہیں سکتی...یہ آپ کا فیصلہ تھا...“وه روہانسه آواز میں کھ کر چلی گیںؔ

 

COMPLETE DOWNLOD PDF LINK AVAILABLE

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *