410.5K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mai Ashiq Deewana Tera Episode 3

Mai Ashiq Deewana Tera by Areej Shah

اس نے گھر میں قدم رکھا تو ماما کیچن میں مصروف تھیں امی بہت بھوک لگی ہے پلیز کچھ کھانے کو دیں

وہ اپنا بیگ وہیں صوفے پر پٹکتی صوفے پر ہی لیٹ گئی

ٹھیک ہے میری جان تم جاؤ فریش ہو کے آؤ میں کھانا لگاتی ہوں ماما نے کچن سے ہی جواب دیا تو وہ اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی

واؤ ماما دال چاول آج تو عید ہوگئی وہ دال چاول دیکھتے ہوئے ہاتھ ملتی میز پر بیٹھی جبکہ اس کے انداز پر عائشہ بے اختیار مسکرا ئیں

ماما آپ کو ایک بریکنگ نیوز سناوں ۔وہ انہیں دیکھ کر پوچھنے لگی

پہلے کھانا کھاؤ احساس کتنی بار کہا ہے کھانے کے دوران باتیں نہیں کرتے امی نے اس کا دھیان کھانے کی طرف لگانے کی کوشش کی

پہلے سن تو لیں ماما بڑے مزے کی بات ہے آپ کو پتہ ہے زاوق کی جاب چھوٹ گئی ۔اس نے چاولوں سے بھرا ہوا چمچ منہ میں رکھتے ہوئے بتایا

اب وہ تین تین مہینے گھر سے غائب نہیں رہیں گے اس نے مزے لیتے ہوئے کہا

اور تمہیں یہ بات کیسے پتا چلی اور تمہیں اتنی خوشی ہے زاوق کے گھر سے غائب نہ ہونے کی امی نے جیسے اس کے چہرے پر کچھ کھوجنا چاہا

ارے مجھے کیوں خوشی ہوگی میں تو بس ایسے ہی بتا رہی ہوں احساس نے فورا ہی ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا

میرا ہو گیا اب میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں زاوق کے نام پر آئی اپنے گالوں پر سرخی چھپاتے ہوئے وہ اٹھ کر کمرے کی جانب چل دی

جھلی اسے لگتا ہے اس کے چہرے کے رنگ میں نہیں پڑھ سکتی کہ یہ تو جانتی بھی نہیں اس کے دل میں جو چل رہا ہے جس سے وہ خود بھی بے خبر ہے وہ بھی جانتی ہوں میں ماما نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور برتن اٹھانے لگیںں

آج کا سارا کلاس ٹائم تعارف میں ہی گزر گیا اس لیے سر حیدر کی طرف سے انہیں کوئی کام نہیں ملا تھا دونوں پیریڈز بلکل فری ہوگئے اسی لیے دوسرے ٹیچرز کا دیا ہوا کام نٹپانے لگی

جب اچانک ہی صوفے کے قریب لینڈ لائن فون بول اٹھا

اف خدایا پھر سے ایڈورٹائزمنٹ والوں کا فون ہوگا آج کے زمانے میں یہ لینڈ لائن نمبر رکھتا کون ہے گھر پہ اس نے اکتاتے ہوئے فون کو گھورا۔

اور وہیں سے لٹک کر فون کو اٹھایا

السلام علیکم ہم بالکل ٹھیک ہیں اللہ آپ کو بھی ٹھیک رکھے لیکن ہمیں کچھ نہیں چاہیے برائے مہربانی دوبارہ فون مت کیجئے گا شکریہ ۔

احساس نے جلدی جلدی کہتے ہوئے فون رکھنا چاہا

تمہارے منہ سے اپنا نام سن کر مجھے سکون ملتا ہے احساس فون رکھتے ہوئے رسیور میں آواز گونجی

زاوق ۔۔۔۔ اس کے منہ سے بے اختیار پھسلا

احساس کا زاوق ۔ زاوق کی جذبات سے بھرپور آواز آئی ۔

وہ وہ دراصل وہ مجھے لگا ایڈورٹائزمنٹ والے ہیں ۔اس نے سوکھے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا

اس کے ٹوٹے پھوٹے جملے نے زاوق کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیری

لیکن فون تو تمہارے زاوق کا تھا وہ مسکراتے ہوئے لہجے میں بولا

میں نے آج تمہیں بہت مس کیا تم نے مس کیا مجھے ۔۔۔۔۔؟

وہ آہستہ آواز میں پوچھ رہا تھا

اس کے جملے نے احساس کے دل کی دھڑکن تیز کردی

لیکن آج ہی تو ہم ۔۔۔

میں تمہیں ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں احساس میں تمہیں اپنے بہت نزدیک لے آنا چاہتا ہوں ۔

اتنا نزدیک کے تم میرے دل کی ہر دھڑکن کو سن سکو میری ہر سانس کو محسوس کر سکو ۔اتنا نزدیک کے

زاوق کل ٹیسٹ ہے میں تیاری کر رہی ہوں وہ بوکھلا کر بولی اس کے انداز سے اس کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں پسینہ آ چکا تھا

تم بہت بے رحم ہو احساس ۔ تمہیں مجھ پر ترس نہیں آتا رکھتا ہوں کل اسی وقت فون کروں گا زاوق نے فون رکھتے ہوئے کہا جبکہ فون رکھنے کی آواز سنتے ہی احساس نے بے اختیار اپنے دل پر ہاتھ رکھا جو بہت بری طرح سے دھڑ رہا تھا ۔

میجر پہلے ہی دن تمہیں کنگ کے لوگوں سے پنگا نہیں لینا چاہیے تھا اس طرح سے تو ہم لوگوں کو تم پر شک ہو جائے گا ۔

سر آپ بے فکر رکھے ہیں میں ان لوگوں کو شک نہیں ہونے دوں گا ۔

لیکن میجر تمہیں یقین ہے کہ وہ لوگ کینگ کے آدمی ہیں کرسی پر بیٹھے آدمی نے پوچھا

سر مجھے یقین ہے ان دونوں میں سے ایک کی فوٹو پہلے ہی میرا ایک آدمی مجھ تک پہنچا چکا تھا اور اب بہت جلدی میں کینگ اور اس کے سبھی آدمیوں کو ان کے انجام تک پہنچا دوں گا

ویری گڈ میجر مجھے تم سے یہی امید ہے ۔

مجھے یقین ہے کہ تم اپنا کام بخوبی سرانجام دوگے لیکن مجھے ایک چیز سمجھ نہیں آئی کہ تھرڈ ایئر کے دو پیریڈز تم نے کیوں لے لیے میتھس اور فزکس تم خود اپنے آپ پر بوجھ ڈال رہے ہو جب کہ میں پرنسپل سے بات پہلے ہی کر چکا تھا

سروہ دراصل تھرڈ ایئر میں شام نے کچھ بولنا چاہا اس سے پہلے ہی حیدر نے گھور کا اسے دیکھا اور اس کی گھوری نے شام کی زبان پر تالا لگا دیا

میجر کوئی اور چکر تو نہیں تمہارا دھیان تمہارے فرض سے بھٹکنانہیں چاہیے سامنے بیٹھے آفیسر نے مسکرا کر کہا

آپ بے فکر رہیں میرے فرض کے آگے کوئی چیز نہیں آ سکتی میں اب چلتا ہوں اسنے سامنے بیٹھے انسان کو سلیوٹ کرتے ہوئے الوداع کہا

تو اس نے بھی مسکرا کر اسے جانے کی اجازت دے دی۔