410.5K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mai Ashiq Deewana Tera Episode 16

Mai Ashiq Deewana Tera by Areej Shah

زاوق کے ہزار پر منع کرنے کے باوجود اس نے برتن اٹھا کر نہ صرف کچن میں رکھے بڑے اچھے سے دھوکر واپس سلیقے سے وہیں رکھ دیا جہاں پہلے تھے

وہ جانتی تھی کہ زاوق صفائی کو پسند کرتا ہے

وہ خود بھی صاف ستھرا رہتا ہے اور اپنے رہنے کی جگہ کو بھی صاف ستھرا رکھتا ہے یہ اس کے بچپن کی عادت تھی اسنے کبھی زاوق کا کمرہ گندہ نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی یہ گھر

سارا کام ختم کرکے اس نے اپنے کمرے میں جانے کا سوچا جہان زاوق اس کا انتظار کر رہا تھا

ایک طرف زاوق کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کے گال سرخ ہو رہے تھے جبکہ دوسری طرف نہ جانے کیوں اس کے اندر ایک خوف تھا

آج سے اس کی زندگی بدل جائے گی کیا وہ عام لڑکیوں کی طرح زندگی گزرے گی کیا وہ ایک اسٹوڈنٹ کی زندگی گزار سکے گی

بہت سارے سوالوں کے ساتھ اس نے کمرے میں قدم رکھا جہاں وہ بیڈ پر لیٹا ہوا کوئی فائل دیکھ رہا تھا اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اپنی ساتھ سائڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا

وہ آہستہ آہستہ چلتی بیڈ کے ایک کونے پر آ بیٹھی

اس کی گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے زاوق نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھاما اور اپنی طرف کھینچ لیا

کیا کیا سوچ رکھا ہے اس چھوٹے سے دماغ میں کونسی سوچ سوار ہے مجھے بتاؤ

وہ اس کا سر تکیہ کے ساتھ لگاتا خود اس پر جھکا ہوا تھا

کچھ نہیں۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔ وہ پہلی بار تو اس کے اتنے قریب نہیں آیا تھا پھراتنا ڈر نہ جانے کیوں اس کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے دل زور زور سے دھڑک رہا تھا

جب زاوق نے اس کے دل کی دھڑکن کو اور بھی سلو کر دیا وہ اس کے لبوں پر جھک کر اور اس کو بوکھلانے پر مجبور کر گیا

کمرے کی خاموشی میں اس کی سانس کا قطرہ قطرہ پیتے ہوئے وہ مدہوش ہونے لگا تھا

جب اس کے لبوں کو آزادی بخشی تو اس کے چہرے سے جیسے خون نچڑنے والا تھا

میری جان اتنا سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ۔میں جانتا ہوں تمہارے دماغ میں کون سے سوال اٹھ رہے ہیں

یہی سوچ رہی ہو نا کہ اس رشتے میں آنے کے بعد کیا تم ویسے ہی رہو گی جیسی اب ہو ۔۔۔ وہ جیسے اس کی رگ رگ سے واقف تھا

نہیں میری جان اس رشتے میں آنے کے بعد ہر لڑکی بدل جاتی ہے اس کی زندگی کی ایک نئی شروعات ہو جاتی ہے

جس میں اسے بہت ساری چیزوں پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے

لیکن آئی پرامس تمہیں کوئی کمپرومائز نہیں کرنا پڑے گا

میں نہیں چاہتا کہ تمہارے ان ایگزام سے پہلے میں تم پر کسی بھی قسم کا کوئی بوجھ ڈالوں

اسی لئے میں نے سوچا ہے کہ ہم اپنے اس نئے رشتے کی شروات تمہارے پیپرز کے بعد کریں گے

تب تک مجھے اپنے قریب آنے سے روکنا مت کیونکہ حد سے میں بھروں گا نہیں ۔لیکن تمہیں یہ ضرور یاد دلاؤں گا کہ تمہاری ہر سانس پر صرف میرا حق ہے وہ نرمی سے اس کے لبوں کو چھو تاپرسوں کون سا ہو کر بیڈ پر لیٹ گیا

جب کہ وہیں سے دیکھے جا رہی تھی

جان اب تو تمہارا ہی ہو ساری زندگی دیکھتی رہنا اسے کھینچ کر اگلے ہی لمحے اپنی باہوں میں لیتے ہوئے وہ اس کا سر آپنے سینے پر رکھ کر سرگوشی نما آواز میں بولا

جب کہ وہ اس کے سینے سے لگ کر پرسکون سی مسکرائی۔

اس کی ماں نے کہا تھا زاوق تمہیں سمجھتا ہے تمہیں جانتا ہے تمہیں پہچانتا ہے اس کے سامنے وضاحتیں دینے کی تمہیں کبھی ضرورت نہیں پڑے گی

اس نے اپنے دونوں بازو زاوق کے گرد پھیلائے اور پورے حق سے اس کے سینے پر سر رکھ کر پرسکون نیند سونے لگی

اس کی آنکھ کھلی تو باہر سے کھٹ کھٹ کی آواز آ رہی تھی

زاوق کے سینے پر سر رکھے رات اتنی گہری نیند سے سوئی کے صبح کی نماز قضا ہوگئی

جب کہ باہر سے آتی آواز اسے کنفیوز کر رہی تھی

اس نے ایک مسکراتی نظر زاوق کے چہرے پر ڈالی اور اٹھ کر باہر نکل آئی جہاں سے آواز آ رہی تھی

اس نے کچن میں جھانکا تو ایک درمیانی عمر کی عورت ناشتہ بنانے میں مصروف تھی اسی اندازہ لگانے میں زیادہ وقت نہ لگا کہ وہ میڈ تھی ۔

بی بی جی آپ جاگ گئی بیٹھیں میں آپ اس کے لئے چائے بناتی ہوں کل رات صاحب جی کا فون آیا تھا کہ صبح جلدی آ جاؤں ویسے تو میں جلدی آتی ہوں لیکن جس دن صاحب جی کو صبح صبح کام پر جانا ہوتا ہے اس دن جلدی بلاتے ہیں ۔

تاکہ جلدی گھر کی صفائی کر سکوں اور تالا لگا کر جا سکے

لیکن کل رات صاحب جی نے بتایا کہ وہ اپنی دلہن کو لائیں ہیں ماشاءاللہ بہت خوب صورت ہیں آپ لیکن یہ کیا کوئی زیور نہیں کوئی لالی نہیں نئی نویلی دلہن اتنی سادہ اچھی نہیں لگتی ۔

اور پھر شوہر کے دل پر بھی تو خوبصورت بیوی راج کرتی ہے اسی لئے آج سے ہی تیار رہنا شروع کر دیجیئے ویسے تو آپ ہیں بہت خوبصورت کہ صاحب جی بھول کر بھی کسی اور کو نہ دیکھے لیکن پھر بھی بیوی کو احتیاط کرنی چاہیے وہ نان سٹاپ بولے جارہی تھی جب کے احساس کی بات سن کر مسکراتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھ گئی

آپ ایسا کریں کہ صفائی کر دیں ناشتہ میں بنا لیتی ہوں اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو ملازمہ اسے دیکھ کر رہ گئی

ایک دن کی دلہن کو کام ہرگز نہیں کرنے دونگی نئی نویلی دلہن گھرپر راج کرتی ہے اور بعد میں بھی تو یہ سب کچھ آپ نے ہی سنبھالنا ہے چار دن آرام کریں وہ اس کی بات کی نفی کرتے ہوئے بولی

ارے نہیں میں کر لوں گی کوئی بات نہیں ویسے بھی دیکھیں کام کافی زیادہ ہے اور ناشتہ بنانے میں ویسے بہت وقت لگ جائے گا آپ جائیں کام ختم کر لیں تب تک میں ناشتہ بنا لوں گی ۔

اس نے زبردستی ملازمہ کو صفائی کے لیے بھیجا ۔

جب کہ وہ مسکراتے ہوئے ناشتہ بنانے لگی اسنے بہت دل سے زاوق کے لیے ناشتہ بنایا تھا کل رات زاوق کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کے لبوں سے مسکراہٹ ایک سیکنڈ کے لئے بھی جدا نہیں ہورہی تھی کتنا اچھا تھا زاوق

اس کی ہر بات کو سمجھتا تھا چاہے وہ بولے یا نہ بولے

اس رشتے کو سمجھنے کے لئے اسے تھوڑے سے وقت کی ضرورت تھی جو زاوق نے اسے دیا تھا ۔

زاوق کی آنکھ کھلی تو احساس اس کے ساتھ نہیں تھی باہر سے آواز آرہی تھی مطلب کہ وہ باہر تھی شاید ملازمہ کے ساتھ ۔

وہ خاموشی سے بیٹھ فور کر باہر آگیا

جہاں ملازمہ صفائی میں بیزی تھی اوف وہ کچن میں کھڑی نظر آئی

یہ تم کیا کر رہی ہو میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ کسی کام کو ہاتھ مت لگانا ۔

ایک بار میری بات مان جاؤ ایسا ممکن ہے کیا وہ اس کح سر پر کھڑا اسے غصے سے گھورتے ہوئے بولا

زاوق غصہ مت کریں ہم پہلے ہی کالج کے لیے لیٹ ہو رہے ہیں ۔ایک تو آج کی آنکھ اتنی دیر سے کھولی اور ایک آپ ہیں

چلیں آپ جلدی سے یہاں بیٹھ کر ناشتہ کریں اچھے بچے غصہ نہیں کرتے وہ اس کی گھوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے چھوٹا بچہ بنا چکی تھی

جبکہ اس کے انداز پر وہ مسکراتا اس کے گال پر جھک گیا

زاوق ۔۔۔۔اس کی جسارت پر وہ چلائی اور آگے پیچھے دیکھنے لگی کہیں ملازمہ نہ دیکھ لیا ہو

بولو جان دوسری سائیڈ بھی چاہیے کیا وہ مسکراتے ہوئے اس کی دوسری سائیڈ کے گال پر جھکنے لگا جب احساس نے دھکا دے کے پیچھے کیا

بہت بے شرم ہیں آپ وہ اپنے چہرے کے دونوں گالوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے چھینب کر بولی ۔

لیکن وہاں کیسے پروا تھی

میں نہا کر آتا ہوں وہ مسکرا کر جانے کے لئے مڑا جب احساس نے اپنے گالوں پر سے ہاتھ ہٹا

لیکن اگلے ہی لمحے وہ اس کے چہرے کو پیچھے کی طرف سے پکڑتا اس کے دوسرے گال کو بھی اپنے جارحانہ پیار سے سرخ کر چکا تھا

جب کہ اس کے جاتے ہی وہ اپنے دل کی سپیڈ پر ہاتھ رکھ کر اس کی چھوڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی

اس شخص کے ساتھ گزارہ مشکل تھا ۔اپنے دونوں گالوں الٹا ہاتھ رکھ ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی

وہ واپس آیا تو احساس اس کی تھوڑی دیر پہلے والی جسارت بھلا کر اس کے سامنے ناشتہ رکھنے لگی

یہ صرف آج کے لئے آج کے بعد تم کوئی کام نہیں کرو گی گھر میں ملازمہ ہے وہ سب کچھ کرنے کے تم بس اپنی پڑھائی پر دھیان دو

میں نہیں چاہتا کہ تم فیل ہو جاؤ اور اشادی کے بعد اگر تم فیل ہوگئی تو امی جان کیا سوچیں گی کہ میں نے تمہیں پڑھنے نہیں دیا

جب کہ میں تو صاف کہوں گا اس کہ اپنے دل میں چور تھا یہ ٹھیک سے پڑھتی ہی نہیں

زاوق اب میں دن رات صرف پڑھ تو نہیں سکتی نہ ٹھیک ہے زیادہ کوئی کام نہیں کروں گی اس کے اس طرح سے بولنے پر زاوق نے اسے گھور کر دیکھا تھا جب وہ اپنی بات بدل گئی

صرف صبح کا ناشتہ بنایا کروں گی آپ کے لئے اپنے ہاتھوں سے پلیز ۔۔وہ منت بھرے لہجے میں بولی

زاوق نے ایک نظر اس کے چہرے پر دیکھاپھر ہاں میں گردن ہلا دی

لیکن اس سے تمہاری پڑھائی پر اثر نہیں پڑنا چاہیے ۔زیادہ سے زیادہ دھیان اپنی پڑھائی پر دو شوہر تمہارا آئی ایس آئی میں مینیجر ہے اور تم بھی بی اے فیل کیا سوچیں گی دنیا وہ اسے تپاتے ہوئے بولا ۔جبکہ وہ اسے گھور کر رہ گئی

میں پاس ہو جاؤں گی اس نے جوش سے کہا تھا جس پر زاوق نے مصنوعی مسکراہٹ سے داد دی

زاوق ناشتہ کرنے کے بعد تیارہونے چلا گیا کیونکہ پہلے اسے اپنے سیکرٹ روم میں جانا تھا ۔