Khuwabo Ka Shehzada by Mishi Sheikh NovelR50680 Last updated: 13 May 2026
Rate this Novel
Khuwabo Ka Shehzada by Mishi Sheikh
اففففف الماری کی چابی کہاں رکھ دی، عائشہ باؤلی ہوئی جا رہی تھی. پرس میں ہی رکھی تھی، اب مل ہی نہیں رہی.
اب کی بار اس نے سارا پرس بیڈ پہ الٹا دیا.
چابی تو نہیں ملی پر اس نے سامان کی چھانٹی کرنی شروع کر دی، پرس تھا کہ عمروعیار کی زنبیل.....
کئی طرح کے بال پوائنٹس، بورڈ مارکر،کلر پینسلز، سکول الماری کی چابی، گھر کی الماری کی چابی بھی اسی کے ساتھ ہوا کرتی تھی، جانے کہاں چلی گئی، ساتھ میں ڈھیر سارے لوگوں کے وزٹنگ کارڈ.... عائشہ نے بیزاری سے سارے کارڈ ایک طرف کئے، پر ایک کارڈ ہاتھ میں آیا تو دل کے تار عجب لے میں بج اٹھے.... اسکا کنفیوز کرنے والا دلفریب انداز یاد آیا تو لبوں کو ہلکی سے مسکراہٹ چھو گئی.... آنکھوں میں چمک ابھری.... ریحان احمد.....
ابھی کارڈ کو ہاتھ میں لئے مسکرا ہی رہی تھی کہ خالہ چلی آئیں، ہاتھ میں چابی تھی... یہ چابی ڈھونڈ رہی تھی عاشی...؟
اسکے ہاتھ سے کارڈ گر گیا، جی یہی چابی ہے، کہاں سے ملی خالہ، اس نے سنبھل کر پوچھا.
باہر عذیر کی سائکل کے ساتھ لٹک رہی تھی،....
یہ عذیر بھی بہت لا پرواہ ہے.... بھلا چابی کے ساتھ کیسا کھیلنا.... وہ چابی لے کر الماری کی طرف بڑھ گئی.
کتنی ہی دیر کھڑی رہی، گہری سانسیں لے کر خود کو نارمل کرتی رہی، سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا.... کہ کیا ہوا، وہ تو ایسے حواس باختہ ہوئی کہ جیسے چوری پکڑی گئی ہو.
پھر خود ہی اپنی حالت پہ ہنسنے لگی.
سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر کارڈ سے دیکھ کر نمبر ملانے لگی....
چند بیلز کے بعد فون اٹھا لیا گیا.
ہیلو... ریحان کی آواز ابھری.
اس نے بولنے کی کوشش کی، لب ہلے پر آواز برآمد نہ ہوئی. آگے سے کئی بار ہیلو کیا جا چکا تھا.
گھبراہٹ میں کال کاٹ دی.
اگلے ہی لمحے اس نے پھر کال ملا لی، اٹھائے جانے سے پہلے ہی گلا صاف کر کے بولنے کے لیے تیار ہو گئی.
السلام علیکم، میں عائشہ بات کر رہی ہوں. اس نے شائستگی سے کہا.
وعلیکم السلام، ماشاءاللہ بہت لمبی عمر ہے آپ کی، میں آپ ہی کو یاد کر رہا تھا.
اچھا، لیکن کیوں.... اور اگر یاد کر رہے تھے تو کال کر لیتے.... اسکے لہجے میں شوخی خودبخود عود آئی.
کیسے کر لیتا کال، نمبر دینے کے قابل سمجھا ہی کہاں تھا آپ نے ہمیں...... ریحان نے بھی شوخ انداز میں گلہ کیا.
وہ آنکھیں میچ کر مسکرا دی. اور ریحان نے بھی تصور میں اسے مسکراتا دیکھ لیا.
یہی نمبر ہے میرا.... اس نے سوچے بنا ہی کہہ دیا.
اوکے جناب.... جواب آیا.
اچھا اب یہ تو بتا دیں کہ آپ کیوں یاد کر رہے تھے.
یہ میں نہیں بتا سکتا... آپ بتائیں آپ بے کیسے کال کر لی. ریحان نےبات بدلی.
بس دل بے کہا اور میں نے کال ملا لی... وہ کہنا چاہتی تھی، پر کہہ نہیں سکتی تھی.
ایکچولی میں نے موحد کے بارے میں بات کرنی تھی، میں چند دنوں سے اسے ایکسٹرا ٹائم دے رہی ہوں، مجھے لگتا ہے وہ کور کر رہا ہے، کیا آپ نے چیک کیا،؟
آپ بھی تھوڑا ٹائم نکال کر اسکا ٹیسٹ لیا کریں...
جی میں نے سٹڈی تو چیک نہیں کی پر یہ ضرور نوٹ کیا ہے کہ وہ دن بدن چڑچڑا ہونے لگا ہے، پھر ریحان نے کل کا واقعہ دھرا دیا.... دیکھیے میم عائشہ میں دل سے آپ کا ممنون ہوں کہ آپ اسے ٹائم دے رہی ہیں، پر وہ ابھی بچہ ہے، اسکا پلے ٹائم آپ لے لیں گی تو وہ مینٹلی ڈسٹرب ہو گا... اور فائدہ بہت کم...... آپ میری بات سمجھ رہی ہیں ناں..... ریحان نے اسکی خاموشی سے گھبرا کر پوچھا.
جی مسٹر ریحان... میں سن بھی رہی ہوں سمجھ بھی رہی ہوں، آپ کے پاس اگر کوئی بیٹر چوائس ہو تو بتا دیں.... کوئی سجیشن...... عائشہ نے کھلے دل سے کہا.
میں سوچ رہا ہوں آپ اسے ہفتے میں دو یا تین دن صبح سکول ٹائم سے پہلے تھوڑا ٹائم دے دیا کریں.... کیا خیال ہے، ریحان نے رائے دی.
عائشہ کی نظروں کے سامنے اپنی صبح کی تیاری کا منظر گھوم گیا.... نہیں... نہیں... صبح ٹائم نہیں دے پاؤں گی، ایسا کرتے ہیں میں چھٹی کے بعد ایسا کر لوں گی...
ایز یو وش.... مس عائشہ.... ریحان ایگری ہو گیا.
اوکے..... دن ڈیسائڈ کر کے بتا دوں گی..
اوکے تھینکس.
