Kathan Rahen by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50598 Kathan Rahen (Episode 08)
Rate this Novel
Kathan Rahen (Episode 08)
Kathan Rahen by Syeda Jaweria Shabbir
4 سال بعد یاسر خان زادہ پاکستان واپس آیا تھا حویلی ملازموں کے ہاتھوں میں اکر تباہ ہوگئی تھی سب سے پہلے اس نے تمام پرانے ملازموں کی چھٹی کی اور سب سمیٹ کر شہر آگیا وہاں اس نے عالیہ بیگم سے شادی کی یوں شہریت کی زندگی بسر کرنے لگا وہیں اس نے اپنا بزنس سٹارٹ کیا ۔۔ ۔۔۔۔ شادی کے ایک سال بعد اس کے یہاں سحرش کی پیدائش ہوئی۔۔۔ سحرش کی دیکھ بھال کے لئے نوکوں کی لائینں لگا دی تھیں اسکول بھی وہ پروٹوکول کے ساتھ جاتی تھی یا یاسر اسے باہر لے جاتا تھا آزادی سے آنے جانے کی اسے پرمیشن نہیں تھی یوں اس نے لڑکپن میں قدم رکھا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔
ڈیڈجانے دیں نہ آپ مجھے کہیں جانے نہیں دیتے ؟؟؟
سحرش مارکیٹ جانے کے لئے یاسر کو منا رہی تھی لیکن اس کے دل میں خوف تھا جس کی بنا پر وہ سحرش کو نکلنے نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔
“میری جان آپ کی بھلائی کیلئے ہی کررہا ہوں ابھی آپ چھوٹی ہو نہیں سمجھوگی۔۔۔”
نہیں ڈیڈ آج آپ بتا ہی دیں کیوں اپ مجھے باہر نہیں جانے دیتے ؟؟
سحرش نے ضدی لہجہ میں پوچھا:
” ہر بات بتانے کی نہیں ہوتی ۔۔۔” جاو اپنے روم میں؟؟؟
اب کہ یاسر نے سختی سے ڈانٹا تو وہ منہ بنا کر اپنے روم میں چلی گئ۔۔۔
دوپہر سے رات ہوگئ تھی وہ مسلسل اپنے کمرہ میں بند تھی ملازمہ دو تین دفعہ کھانے کی ٹیبل پر بلانے آئی لیکن وہ نہ آئی۔۔۔۔۔۔تو آخرکار یاسر کو اس کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔۔۔۔
ابھی وہ مارکیٹ سے نکل ہی رہی تھی کہ ایک وین اس کے پاس آکر رکی اور دیکھتے ہی دیکھتے سحرش کو غائب ہونے میں ٹائم نہیں لگا جس تیزی سے وین اسکی طرف ائی تھی اس طرح برق رفتاری سے دھول اڑاتی ہوئی نکل گئ وہاں لوگ جو اپنے کام میں مصروف تھے ویسے ہی رہے کسی کو کچھ خبر نہیں جیتا جاگتا انسان وہاں سے غائب ہوگیا۔۔۔۔۔۔
***************************************
سحرش کو پانچ مہینہ ہوگئے تھے جب سے اسے باپ کی کمینگی کا پتا چلا تھا اسے مرد ذات سے نفرت ہوگئی تھی وہ ملک حویلی آاا تو گئی تھی لیکن گم سم رہتی تھی نہ کسی سے بات کرتی اور نہ جہانگیر سے لڑتی تھی گھنٹوں ایک ہی زاویہ میں بیٹھی رہتی ، کھانہ دو تو کھالیتی نہ دو تو۔ بھوکی رہتی ۔۔۔ جہانگیر نے کئ دفعہ اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن جواب میں خاموشی ہی ملتی ایک دو دفعہ تو بی جان نے بھی بلوایا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔۔۔۔ بی جان فالج کی مریضہ تھیں جب انھیں رب نواز کے خود کشی کرنے کی اطلاع ملی تو وہ اپنے پاوں پر کھڑی نہ رہ سکیں اور گرنے اور صدمہ کی وجہ سے ان پر فالج کا اٹیک ہوا تھا ۔۔۔۔
رب نواز کو قتل کر کے خودکشی کا نام دینے والا بھی یاسر کا ایک نوکر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ واش روم سے باہر نکلی تو سامنے صوفے پر جہانگیر کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو اپنے ڈوپٹہ کی تلاش میں بیڈ پر آئی ڈوپٹہ اوڑھا اور خود جاکر کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئ ۔۔۔
مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے یہاں آو ؟؟؟
جہانگیر نے اسے کھڑا دیکھ کر اسے پاس آنے کا کہا:
سحرش نے ایسے ریکٹ کیا جیسے سنا ہی نہ ہو۔۔۔
دیکھو تم مجھے مجبور کررہی ہو کہ میں تم سے سختی سے بات کروں؟؟؟
سحرش پر خاطر خواہ اثر ہوا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئ بیڈ پر ٹک گئ ۔۔۔۔
“تمھارے باپ کا انتقال ہو گیا ۔”
جہانگیر نے سر جھکاتے ہوئے بتایا۔
سحرش کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا جیسے خون ہی نہ ہو جہانگیر نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا ۔۔۔۔۔
جہانگیر اٹھ کر اسکے پاس آیا اور اسے شانوں سے پکڑ کر ہلایا ۔۔۔
یک دم سحرش کہ ساکت وجود میں حرکت ہوئی سحرش کے لمبے لمبے قہقہوں سے پورا کمرہ گونجنے لگا۔۔ جہانگیر نے اسکی انکھوں میں جھانکا جہاں ویرانی چھائی ہوئ تھی ۔۔۔۔
سحرش؟؟؟ سحرش کیوں ہنس رہی ہو ؟؟؟
اب کہ اس کے قہقہہ بلند ہونے لگے تھے جہانگیر کو وہ کوئی دیوانی لگی جو اپنا سب کچھ لٹا آئی ہو۔۔۔۔۔
کیا پاگل ہوگئ ہو ؟؟؟؟
جہانگیر نے ڈھاڑ کر اسے جھٹکا:
:ہاں ! ہاں ۔۔۔۔ ہوگئ ہوں پاگل سنا تم نے میں پاگل ہوگئ ہوں ۔۔۔ تم تمھیں تو خوش ہونا چاہیئے نہ تم نے لے لیا اپنا بدلہ۔۔۔ اپنی پھپھو کی تباہی کا بدلہ تم نے مجھ سے لے لیا ۔۔۔ میرا۔۔۔ میرا باپ مر گیا اور مجھ بد نصیب کو دیکھو آخری بار دیکھ بھی نہ سکی ۔۔۔”
کیا ! کیا قصور تھا میرا بتا و مجھے ۔۔ کیا قصور تھا میرا ۔۔۔۔۔؟؟؟
اس کے انسو انکھوں سے رواں تھے آواز میں سختی تھی جہانگیر نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتا ہوا حویلی کے ایک کمرہ میں لایا کمرہ میں گھپ اندھیرا تھا جہانگیر نے لائٹ جلائی کمرہ بلکل صاف ستھرا لیکن سادہ تھا کونے پر جائے نماز پر ایک خاتون تسبیح پڑھ رہی تھی لائٹ جلنے پر اس خاتون کے ساکن وجود میں جنبش ہوئی اور آنکھیں بمشکل کھلنے کی کوشش کررہی تھیں
ان کا کیا قصور تھا بولو کیا۔ قصور تھا ان کا ؟؟؟
تمہارا باپ تو چلاگیا اس دنیا سے لیکن ان کے انصاف کا کیا بولو۔۔۔؟؟؟
سحرش رونا بھول کر پھٹی انکھوں سے نگین کو دیکھ رہی تھی نور ہی نور تھا ان کے چہرہ پر ، صاف شفاف چہرہ چادر کے احاطے میں کسی چاند کے مانند لگ رہا تھا ۔۔۔۔
