Jo Tu Mera Hamdard Hai  By Filzaa Arshad NovelR50724

Jo Tu Mera Hamdard Hai By Filzaa Arshad NovelR50724 Last updated: 23 June 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jo Tu Mera Hamdard Hai By Filzaa Arshad

صبح شجیہ کی آنکھ کھلی تو ذکیہ بیگم کو اب تک سوتا دیکھ کر اس کو تعجب ہوا۔۔۔
"دادو۔۔دادو۔۔ وہ انہیں مسلسل پکار رہی تھی۔۔
مگر دوسری طرف جواب نہ پا کر اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار آگئے۔۔
اس کا دل کسی انہونی کے ڈر سے بری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔
"دادو۔۔۔۔ بری طرح چیخ کر وہ انہیں جھنجوڑ رہی تھی۔۔۔
ان کی سانسیں چیک کی تو وہ بلکل نہیں چل رہی تھی۔۔
"نن۔۔۔ننہیں۔۔۔۔ وہ دور ہٹ گئی۔۔ دیوار سے لگ کر آنکھیں بند کئیے کانپ رہی تھی۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے جلدی میں وہ ظفر صاحب کے پورشن کی طرف دوڑی۔۔۔۔
وہاں سب بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے جب وہ گھبرائی سی وہاں پہنچی۔۔۔
"کیا ہوا بیٹا؟ "سب ٹھیک ہے؟"
ظفر صاحب کی نظر سب سے پہلے اس پر پڑی۔۔۔ اس کی اجڑی ہوئی حالت دیکھ کر وہ گھبرا گئے۔۔۔
"وہ۔۔وہ۔۔۔ داد۔۔دادو۔۔۔" اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی الفاظ بھی ادا نہیں ہورہے تھے۔۔۔
ظفر صاحب ذکیہ بیگم کا سنتے ہی فوراً اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے اور بغیر کسی۔سے کچھ کہے تیزی۔سے شجیہ کے ساتھ باہر کی جانب بھاگے۔۔۔
"صبح۔صبح کون سا ڈرامہ۔سٹارٹ ہوگیا؟" رباب نے اپنے پرمنگ کئیے ہوئے بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے مزاق اڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
"بیٹے کو اپنے پاس بلانے کا بہانہ ہوگا آج کل ایسے بھی ان کا دل وہیں زیادہ لگ رہا ہے۔۔"
مہوش نے بھی نخوت سے کہہ کر اپنے گلاس میں جوس انڈیلا۔۔۔
"مام رباب پلیز سٹاپ اٹ۔۔ بیمار ہیں وہ نجانے کیا ہوا ہے آپ لوگوں کو صرف اپنی فکر رہتی ہے۔۔" ارسل ان دونوں کو کہتا تیزی۔سے اٹھا اور وہ بھی ذکیہ بیگم کے پورشن کی طرف بڑھا۔۔۔
"دیکھا مام یہ نیا ہمدرد تیار ہوگیا ہے۔۔" رباب نے بائل ایگ لیتے ہوئے تمسخرانہ لہجے میں کہا۔۔۔
جب کہ مہوش اب تک اپنے بڑے بیٹے کے لہجے کے غم میں تھیں۔۔ کہ ان کا لاڈلا بیٹا ان کو کس طرح بول کر گیا۔۔۔
ان سب معاملے سے الگ فاضل مزے سے ناشتہ کرتا ساتھ ساتھ موبائل میں طھی مصروف تھا۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
"کیا ہوا ہے دادو کو تایا آپ بتا کیوں نہیں رہے۔؟ شاید زندگی میں پہلی بار اس کی آواز اتنی بلند ہوئی تھی۔۔
وہ سب ہاسپیٹل میں تھے۔۔ ڈاکٹر نے دیکھتے ساتھ ہی۔ایکسپائیر قرار دے دیا تھا۔۔
شجیہ کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کی زندگی کا آخری سہارا بھی اب اس دنیا میں نہیں رہا۔۔۔
وہ دھاڑے مار کر رونا چاہتی تھی مگر وہ نہیں روسکی اور پھر جنازہ بھی اٹھ گیا لوگ اسے تسلّی دیتے رہے۔۔ مگر وہ ایک طرف کونے میں بیٹھی خاموش تماشائی بنی تھی۔۔ اس کی آنکھ سے ایک آنسو نہیں ٹپکا۔۔۔
"بیٹا وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تمہاری۔دادو ہم۔سب کو اکیلا چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔۔"
ظفر صاحب کو اس کی حالت دیکھ کر خوف آیا۔۔۔
اس نے ان کی بات پر اپنی خالی نظریں ان کی طرف اٹھائی۔۔۔
ظفر صاحب کا کلیجہ پھٹنے لگا اس کی حالت دیکھ کر۔۔۔
وہ۔شدید صدمے کے زیر اثر تھی جہاں۔رونا بہت ضروری تھا ورنہ یاداشت چلے جانے یا پاگل ہونے کے اثرات تھے۔۔۔
"انکل اس کا رونا بہت ضروری ہے۔۔" تین دن گزرنے کے بعد راہب نے اس کہ حالت دیکھتے ہوئے ان سے کہا۔
وہ اسے اپنے پاس لے آئے تھے اس وقت وہ لاؤنج میں سب کے ساتھ بیٹھی بھی الگ ہی لگ رہی تھی۔۔
راہب بھی آج وہیں تھا تو اسے اس طرح دیکھ کر اسے بہت دکھ ہوا۔۔
"بیٹا ہم نے ہر ممکن کوشش کر لی مگر اس کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آتا۔۔"
ظفر صاحب پریشانی سے گویا ہوئے۔۔۔
"اگر آپ کہیں تو میں کوشش کروں؟ " راہب نے ان سے اجازت مانگی۔۔۔
"بلکل بیٹا تم بھی اپنی کوشش کرلو ہوسکتا ہے تمہیں کامیابی ملے۔۔۔" ظفر صاحب نے بخوشی کہا۔۔
مگر سامنے بیٹھی موبائل میں مصروف رباب کے منہ کے زاویے بگڑ گئے۔
مگر اس وقت ظفر صاحب کے سامنے شجیہ کے خلاف وہ کچھ نہیں کہہ سکتی تھی اسی لئیے خاموش رہنا پڑا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *