Jiya By Sania Ali Readelle50325

Jiya By Sania Ali Readelle50325 (Jiya) Last Episode

694K
3

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Jiya) Last Episode

‏ستارے گر بتا دیتے
‏سفر کتنا کٹھن ہو گا
‏پیالے شہد کے پیتے
‏تلخ ایام سے پہلے….
‏یہ ہم جو لکھتے رہتےہیں
‏ہماری آپ بیتی ہے
‏کہ دکھ تحریر کب ہوتے
‏کسی الہام سے پہلے..
عجیب سی گھٹن عجیب سی بے چینی نے کل سے علیزے کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔۔ ابتسام کا لمس اس کی کھلی بانہیں اففف وہ کیوں گھبراہٹ میں نہ سمجھ پائی کیوں اندر کی طرف نہ گئ صبح والی حرکت سے وہ دل ہی دل جتنی بے چین اور شرمندہ رہ سکتی تھی رہی ۔۔۔۔
صبح وہ شاور لے کے باہر آئی تو اوپر کوئی نہ تھا ابو امی نیچے والے پورشن میں تھے وہ بھی نیچے آ گئ اور سیدھی کچن میں جا کر تائی امی کے گلے میں بازو ڈال کر لاڈ سے بولی مجھے بھی ناشتہ کرنا ہے تائی نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا سرخ آنکھیں دیکھ کے پریشان ہو گئیں
“جیا کیا بات ہے بیٹا طبعیت تو ٹھیک ہے ؟
“جی اماں رات پڑھتی رہی نا اس لئے نیند نہ آئی ٹھیک سے سر درد ہے یہ کہہ کر علیزے نظریں چرا گئ
“ارے آگ لگے ایسی پڑھائی کو منحوس ماروں نے کتنی کتنی مشکل کتابیں لکھی ہوتی ہیں ہاۂے میرا بچہ یہ کہہ کر تائی نے ماتھا چوما
عین اسی وقت ابتسام کچن میں آیا اور گلا کھنکار کر ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلایا
علیزے نے بڑی رکھائی سے منہ موڑا اور سٹول کھینچ کر وہیں سلیب پر ناشتہ کرنے لگی
“امی کدھر ہیں تائی اماں “
“بیٹا وہ آنسہ کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی اس نے بلایا تمہیں تو پتا ہے آج کل میں وہ فارغ ہونے والی ہے”
“ارے ہاں۔۔ ہمارا بے بی آنے والا ہے” جیا کی آنکھیں چمک اٹھی
فریج کا جائزہ لیتا ابتسام اس کو دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا
“ہمارا نہیں آنسہ اور ہارون کا “
علیزے گڑبڑا گئ اور اسے لگا جیسے نوالا گلے میں پھنس گیا اس نے جلدی سے پانی پیا اور کچن سے باہر نکل گئ
“سامی شرم کرو بدتمیز بچی گھبرا گئ “
“امی میں نے کیا کیا “اس نے معصوم بننے کی ایکٹننگ کی اور ہنسنے لگا۔۔
اور جیا کے پیچھے لاؤنج میں آکر بیٹھ گیا
”ارے سامی حمزہ آج فوزیہ آ رہی ہے اسلام آباد سے شام کو”
تایا ابو نے فون بند کرتے ہوئے بتایا
”چلو جی ہم تو گئے اب ” حمزہ بولا
عمران خان کی حلف برداری کی تقریب جاری تھی سب ٹی وی کے آگے بیٹھے تھے علیزے تایا ابو کے پاس فرش پر فلور کشن بیٹھ گئ اور ساتھ ساتھ سیاست کے بارے میں اپنی رائے دینے لگی اور ابتسام بڑے دھیان سے سننے لگا۔۔۔
“تایا ابو جب میں کسی غریب بچوں اور عورتوں کو دیکھتی ہوں نا جو سڑکوں پر کوڑا چنتے ہیں بھیک مانگتے ہیں جن کے پاس جوتے بھی نہیں ہوتے پہننے کیلئے جن کا بچپن کسی فرمائش ، کسی لاڈ کے بغیر گزر رہا ہو یا مزدوروں کو جو سارا دن محنت کرتے ہیں مگر بھر پیٹ کھانا اور آرام نہیں ملتا۔۔۔ تب میرا دل چاہتا ہے کہ سب سیاستدانوں کو لائن میں کھڑا کر کے مار دوں۔۔۔۔ اب امید ہے کہ غریبوں کا بھی کچھ سوچا جائے گا”
” بیٹا اللہ کرے ہم دعا ہی کر سکتے ہیں
”تم چھوڑو یہ بات دیکھو مخالفین کے چہرے ” حمزہ نے کہا
”ہاہاہاہا واقعی جیسے پھپھو کا بنتا ہے اکثر ”
جیا بول کر خود ہنسنے لگی
”دیکھ لیں تایا ابو میں نے بولا تھا نا کہ اس بار خان وزیراعظم ہو گا مان جائیں مجھے ”
تایا ابو مسکرائے
حمزہ بولا ہاں جی ایسی تسی جیا علی خان تالپوری ماہر فلکیات و ماہر پیشن گوئی ”
”تمیز سے اچھا زیادہ ٹر ٹر نہ کرو”
علیزے نے کشن کھینچ کے مارا حمزہ پیچھے ہٹ گیا اور ٹھاہ ابتسام کے منہ پر لگا
حمزہ شرارت سے ہنسا اور ابتسام کے غصے کے تاثرات دیکھ کر بولا
” کشن لوہے کا نہیں تھا بھائی ریلیکس ۔۔ہا ہا ہا ”
جیا کو جیسے ٹھنڈ سی پڑھ گئ کشن نہیں جیسے پتھر ابتسام کو مارا ہو یہ سوچ کر وہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوئی اور زوہا کے روم میں چل دی۔۔


”بابا میں سوچ رہا ہوں چاچو ساتھ شو روم جایا کروں گھر بیٹھ بیٹھ کر بور ہو گیا ہوں ”
”میں بھی کہنے والا تھا بیٹا اب تم آگئے ہو تو تم کو ہی سب ذمےداریاں اٹھانی چاہیے تمہارے چاچو نے بہت محنت کی ہمیشہ کئ کاروبار شروع کیے ، چھوڑے نقصان اٹھایا ۔۔ میرے حصے کا بھی سر کھپایا انہوں نے تمہارے ہوتے اب بھی ہم بوڑھے ہی ٹینشنز دیکھیں ؟؟”
ابتسام دل ہی دل میں شرمندہ ہوا
اور چھوٹی چھوٹی کاروباری باتیں ، نئے بزنس کا آئڈیا ۔۔۔۔ حمزہ کی سٹڈیز سب پر تفصیلی بحث چل نکلی۔۔


پھپھو نے جب سے سنا تھا ابتسام کے آنے کا وہ آج آ پائیں ساتھ ان کی دونوں بیٹیاں ہادیہ اور جویریہ بھی اور طلحہ بھی تھا
طلحہ ایک شوخ طبعیت کا غیر سنجیدہ سا بندہ تھا اس کی باتیں اور انداز بڑے بے باک اور ذومعنی سے لگے خاص کر لڑکیوں سے بات کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔ ابتسام نے حمزہ کو سرزنش کی کہ وہ اسے اس کی حد میں کیوں نہ رکھتا رہا جبکہ زوہا ، علیزے بہت بے تکلف ہیں اس سے،،،،
ہادیہ اور جویریہ بھی خاصی ماڈرن تھیں ہادیہ موڈی سی جبکہ جویریہ بہت فرینک لڑکی تھی جو ابتسام پر شاید فدا ہو گئ یا پھر پہلے سے پلان تھا کہ فدا ہونا ہے لاہور آکر ۔۔۔۔
بار بار بیٹیوں کی تعریفیں ان کے سگھڑاپے سلائی کڑہائی کھانا پکانا وغیرہ وغیرہ
رات کھانا تایا ابا کے پورشن میں کھایا گیا۔
پھپھو جویریہ سے ،،ارے سامی کو پانی دو یہ ڈش آگے کرو یہ سویٹ ڈش دو ۔۔
پھپھو بس جویریہ کو سامی کے آگے کر رہی تھی ابا نے بھی نوٹ کیا ۔۔
ارے احمد بھائی عمر بھائی جب جیا نے سامی کو انکار کر دیا تو طلحہ کیلئے کیوں نہیں سوچ رہے آپ لوگ ”
رات پھپھو دونوں بھائیوں ساتھ بحث میں مصروف تھیں
ابو نے وقت مانگا سوچنے کیلئے اور تایا ابو نے خاموشی ہی مناسب سمجھی۔۔۔


رات زوہا اوپر جیا کے روم میں سونے آئی کیونکہ اس کا روم پھپھو لوگوں کو دیا گیا تھا
“یار زوہا پھپھو کتنے ہفتوں کیلئے آئیں ہیں ؟ تو نے دیکھا ان کا سامان”
علیزے نے زوہا سے پوچھا
“یار جتنی دیر کیلئے بھی آئیں ہماری تو شامت ہی آئی رہنی “
امی اور چچی ان کی باتوں سے بچنے کیلئے ہمیں ہر صورت سگھڑ ثابت کر کے چھوڑیں گی اب “
زوہا نے ہینڈ فری کان سے ہٹاتے ہوئے بڑا ہی سنجیدہ منہ بنا کر کہا کہ جیا کی ہنسی نکل گئ
“یار جویریہ بھی کمال ہی ہے ویسے ۔۔۔
یاد نہیں جب پچھلی بار یہ آئی تھی تو اپنے کٹے بال ہلا ہلا کے ایسے لگ رہی تھی جیسے کسی میں جن آجائے اور وہ دھمال کے موڈ میں ہو “
جیا بولنے کے ساتھ ہی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئی ساتھ زوہا کا بھی برا حال تھا ہنس ہنس کر
”بس کرو جیا اتنا نہ ہنسو تمہاری متوقع نند بھی ہو سکتی ہے جویریہ ”
”کیا بکواس ہے ”
”ظاہر ہے جب سامی بھائی جیسے ڈیسنٹ بندے کو ریجیکٹ کرو گی تو پھپھو کا گھر ہی بچنا تمہارے لئے ۔۔۔۔ زوہا نے بات نشانے پر لگائی اور جیا کے پر سکون تاثرات پر دل ہی دل میں افسوس کیا۔۔


پیارا سا گل گوتھنا سا بے بی آچکا تھا سب اس میں مصروف تھے امی آنسہ کے گھر کچھ دن رکیں اور تائی اماں آنسہ اور بچے کیلئے شاپنگ کرتی رہیں ۔
”ارے عذرا بھابھی بہت قربانیاں دی آپ نے ورنہ شگفتہ کو کیا پتا خاندان میں کیسے رہتے ہیں یہ معصوم بن کر ہمیشہ آئے گئے کی مہمانداریوں سے بچی رہی آپ نے ہی سارا خاندان سنبھالا ہر غمی خوشی میں آگے آگے رہی سچ میں مجھے تو شگفتہ ایک آنکھ نہیں بھاتی۔۔ اب نانی وہ بنی ہے اور فکریں آپ کو پڑی ہوئیں ”
تائی اماں نے تاسف سے فوزیہ کو دیکھا اور بات کا اندازہ لگا کر چپ ہو گئیں
”فوزیہ تم یہ سب چھوڑو دیکھو یہ جوڑے کیسے ہیں آنسہ کے سسرال والوں کیلئے اور یہ بچے کی چیزیں ”
پھپھو بات بدلنے پر بڑا تلملائی اور سب کا تفصیلی جائزہ لینے لگی
انوشہ آپی بھی آئی ہوئی تھیں گھر میں رونق اور چہل پہل تھی
۔__
”سامی کیا ہو گیا اتنی سموکنگ کیوں اپنے دشمن بنے ہوئے ہو”
انوشے کی بات پر ابتسام جیا کے رویے اور اپنی فیلنگز سب بتاتا گیا
”آپی میں اسے منا لیتا اب تک مگر یہ فوزیہ پھپھو کا آنا کچھ سمجھ نہیں آرہی ”
”ویسے تو کچھ نہیں ہونا تھا مگر اب کوئی تماشہ لگنا ہے سامی مگر اللہ بہتر کرے گا فکر نہیں کرو”


پھپھو کی خفیہ میٹنگز ابو اور امی ساتھ بہت ہونے لگی وہ بار بار احساس دلاتی کہ آپ لوگوں کا کوئی بیٹا نہیں ہے احمد بھائی نے جان کر ابتسام کو پاکستان بلایا ہے وہ آپ کا داماد بن کر شوروم لے اڑے گا اور باقی جائیداد بھی ان کی ہو گی
”زرا سوچیں عمر بھائی ایک لڑکا جو خود سر ہے جس نے آپ کی پھولوں سی بیٹی کا دل توڑا آپ کا مان توڑا وہ جس نے پلٹ کر کبھی معافی نہیں مانگی وہ اچانک کیوں آیا اور یہ عذرا بہت تیز ہے اس نے کان بھرے احمد بھائی کے کہ جائیداد ہاتھ سے نہ نکل جائے سازش ہو رہی ہے سازش آنکھیں کھولیں اور جیا کا فیصلہ خود کریں”
عمر کمال صاحب اپنے بڑے بھائی سے بہت پیار کرتے تھے مگر یہاں آ کر وہ بھی سوچ میں پڑ گئے شگفتہ بیگم بھی ہاں میں ہاں ملانے لگی ۔


تائی اماں تایا ابا انوشہ سر جوڑے فوزیہ پھپھو کے رویے اور سازشی باتیں ڈسکس کر رہے تھے کہ دروازے پر دستک دے کر ابو اندر آئے۔۔
”کیا ہو رہا یہاں ؟ لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ کوئی پلان بنا رہی ہے ” ابو مسکرائے تو تایا جان کا قہقہ بے ساختہ تھا پھر ابو نے بھی فوزیہ سے ہوئیں باتیں بتائیں اور یہ طے ہوا کہ کچھ بھی ہو جائے اس گھر کا اتفاق نہی ٹوٹ سکتا
انوشہ آپی کا کہنا تھا جیا اور سامی کا نکاح کر دیں ورنہ جیا کی زندگی کے ساتھ ابتسام کی بھی زندگی خراب ہو گی
تایا ابا نے انوشہ سے کہا کہ جیا کو سمجھاتے ہیں مل کر ابو نے کہا انوشے تم ابھی سمجھاؤ تا کہ جمعے کو منگنی کر دی جائے اس طرح فوزیہ کو خود اندازہ ہو جائے گا
”جیا ادھر آؤ میں نے بات کرنی ہے” آپی نے بلایا
جیا کو پاس بٹھا کر وہ زمانے کی اونچ نیچ سمجھانے لگیں” پھپھو نے امی اور چچی کو کتنا کتنا ٹف ٹائم دیا اور کیا جیا ایسے ماحول میں رہ پاؤ گی؟
دیکھو گڑیا محبت بار بار دستک نہیں دیتی ابتسام تمہارے لئے آیا ہے وہ بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے تمہارے رویے سے۔۔۔۔ اسے اپنا لو یقین مانو اس سے بہتر تمہیں کوئی ہمسفر نہیں مل سکتا یہ ضد نقصان پہنچائے گی تم کو بھی سامی کو بھی ، بس کر دو اب شادی کرو اور روز سامی سے بدلے لیتی رہنا ” آپی کی بات پر جیا کسمسائی
”دیکھو میرا پیارا سا بھائی کتنا جلتا کڑھتا رہتا ہے تم نے دیکھی اس کی آنکھیں کیسے دائرے پڑ گئے اسے اپنا لو جیا”
آپی کی آنکھوں میں نمی آگئ اور جیا کے وجود میں دل نام کی چیز تڑپ گئ


وہ بے چینی سے چلتی ہوئی ابتسام کے روم کی طرف آئی عجیب جھجک تھی وہ بہت دیر دروازے کے پاس کھڑی سوچتی رہی کہ اندر جائے نہ یا نہ جائے انوشہ آپی کی باتیں سوچتی وہ باہر لان میں آگئی
بے چینی بڑھ رہی تھی وہ ابتسام سے بات کرنا چاہ رہی تھی وہ بتانا چاہتی تھی کہ میں نہیں ناراض میں تو پہلے دن سے مانی ہوئی ہوں ۔۔
وہ چلتے چلتے ابتسام کے روم کی کھڑکی کی طرف آئی جو لان کی طرف کھلتی تھی اندر کے منظر پر حیران ہوتی آگے کی طرف ہوئی ابتسام لیپ ٹاپ گود میں رکھے کسی ماڈرن سی لڑکی جس نے سلیو لیس شرٹ اور ڈیپ گلا پہنا ہوا تھا سے وڈیو کال پر بات کر رہا تھا ابتسام کی کمر کھڑکی کی طرف تھی اس لئے وہ اسے دیکھ نہ سکا
وہ ایسے بات کر رہے تھے جیسے بہت بے تکلف دوست ہوں ۔۔
شک ،، حسد،، جلن کیا کچھ نہیں جیا نے محسوس کیا اور پھر سے ابتسام کیلئے نفرت محسوس کرتی اپنے روم میں آ گئ
جل جل کے کڑھ کڑھ کے رات گزر گئ


سب کزنز لان میں گپیں لگا رہے تھے ابتسام چپ چپ سا تھا جویریہ کے سوالوں سے اسے الجھن ہو رہی تھی مگر صرف اس لئے بیٹھا رہا کہ علیزے طلحہ کے پاس بیٹھ کر بہت ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی ایک جلن کا سا احساس چھایا ہوا تھا وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد علیزے کو دیکھتا رہتا پھر نظر پھیر لیتا
”آج جیا کو میری نظروں کی تپش کیوں نہ محسوس ہو رہی اس نے ایک بار بھی مجھے نہ دیکھا
اسے کب میرے جذبات کا اندازہ ہو گا ”
سوچتے سوچتے وہ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور لان میں ٹہلنے لگا
جویریہ اس کے ساتھ ٹہلنے لگی ابتسام کا دل چاہا اسے اٹھا کے کہیں دور پھینک آئے
ابتسام نے دیکھا کہ جیا نے ہنستے ہوئے طلحہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور اس کا دوپٹہ کاندھے سے پھسل گیا ۔۔۔ طلحہ بڑے غور سے جیا کا جائزہ لے رہا تھا
‘جیااا ۔۔۔ تیزی سے اس کے پاس آکے جیا کا دوپٹہ ٹھیک کیا اور بازو سے کھینچ کر جھنجوڑ کر بولا
” مجھے جلانے کیلئے اتنا گر رہی ہو کہ تمہیں اپنی نسوانیت کا بھی احساس نہیں رہا”
”ہاو ڈیئر یو ٹو ٹچ میں کس حق سے مجھے ہاتھ لگایا؟؟ آپ کی اتنی ہم۔ت۔۔۔ آہ۔۔
زور دار طمانچے نے اس کے الفاظ بھی مکمل نہ ہونے دیے ابتسام کے تھپڑ سے اس کی آنکھوں کے سامنے دن میں ستارے ناچ گئے
زوہا نے ششدر سی کھڑی جیا کو بازو سے پکڑا اور اندر لے گئ پیچھے پیچھے ہادیہ اور جویریہ بھی گئیں
‘سامی بھائی کیا ہو گیا پلیز ریلیکس ‘
حمزہ نے جلدی سے طلحہ کے آگے آکر ابتسام سے کہا کہیں وہ طلحہ کو کچھ کہہ کر نیا مسئلہ نہ بنا دیں
ساتھ ہی طلحہ کو اشارہ کیا اٹھنے کا اور اس کو اندر لے گیا
ابتسام نے کرسی کو ٹھوکر ماری اور گاڑی کی چابی اٹھا کر چلا گیا


سب گھر والے لاونج میں جمع تھے ابو چاچو پریشان امی اور تائی اماں زوہا انوشے جیا کو چپ کرا کرا ہار گئے پھپھو مطمئن سی تھیں اور دل ہی دل میں خوش تھی اور اب بھائیوں کے فیصلے کا انتظار کر رہی تھیں
حمزہ نے ابتسام کو کال کی جلدی گھر آنے کو کہا
جب ابتسام آیا تو ابتسام کی سرخ چہرہ انگارہ آنکھیں دیکھ کے تائی تایا کی پریشانی بڑھ گئ
”برخوردار تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہماری جیا پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔۔۔
تایا گرج دار آواز سے بولنا شروع ہوئے بہت بولے بہت ڈانٹا ابتسام سر جھکا کر سنتا رہا
پھر جیا کے چہرے کی طرف دیکھا اور ایک درد کی لہر دل میں محسوس کی روئی روئی سوجی آنکھیں افففف اس نے آنکھیں بند کر لی
سب بولنے لگے کوئی ڈانٹ رہا ہے کوئی طنز کر رہا ابتسام کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی
ابتسام نے چاچو کی طرف دیکھا جو خاموشی سے سب سن رہے تھے اور کہا
”چاچو ابھی اسی وقت میرا نکاح کروائیں جیا سے بس بہت ہو گیا بہت ڈرامے دیکھ لیئے میں نے اور جس جس جس کو اعتراض ہے وہ بولے میں جواب دوں گا ”
چاچو نے ابا کی طرف دیکھا اور دونوں ہنس پڑے
ماحول یک دم بدل گیا جیا کو کرنٹ لگا اور روتی ہوئی بولی
” ابو اس نے مجھے تھپڑ مارا”
”چاچو آپ وہاں ہوتے تو کہتے بلکل صحیح کیا ” ابتسام بولا
” یہ مجھے شروع سے مارتا آیا ہے یہ اس لئے مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے کہ مجھے مارتا رہے یہ ذہنی مریض ہے ”
”جیا صحیح کہہ رہا ہے سامی اور سامی تم نے صرف ایک تھپڑ کیوں مارا”
ابو غصے سے بولے
جیا حیران پریشان اور صدمے کی کیفیت میں آ گئ
”حمزہ تیاری کرو شام کو نکاح ہے ان دونوں کا غضب خدا کا سب کو پریشان کر رکھا ہے اور فوزیہ تم بہتر ہے جانے کی تیاری کرو واپس میں نہیں چاہتا کہ تم مزید یہاں رہو ”
تایا ابا بھی بولے


نکاح ہو گیا رخصتی بھی سادہ سی بغیر کسی آرائش کے کسی پتلے کی طرح سپاٹ چہرہ لیے جیا ابتسام کے روم میں بیٹھی تھی بلکل چپ خالی ذہن کے ساتھ اس کے بڑوں نے اس کا مان توڑا اب وہ کس سے گلا کرے دو آنسو اور گرے
ابتسام کمرے میں آیا اور اس کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا اور اس کو دیکھتا رہا
کچھ دیر تو جیا بے حس و حرکت بیٹھی رہی پھر اس کی نظروں کو محسوس کرتی ہوئی ہولے ہولے گھبراتی رہی ابتسام فدا ہو جانے والی نظروں سے دیکھتا رہا جیا کی دھڑکن بڑھنے لگی ہاتھوں کی کپکپاہٹ بڑھنے لگی۔
” جیا بی بریو جیا تم پزل نہیں ہو گی اگنور کرو اس اکڑو سڑو کو کیوں آگیا افف یہ آنکھیں آنکھوں کا نہیں سوچنا جیا سامنے گھر کی چھت پر کوا ہو گا اس کا سوچ لو”
ابتسام بولتا گیا اور جیا نے پٹ سے آنکھیں کھول کے اسے دیکھا یہ سب اسے کیسے پتا ؟ اس نے سوچا
ابتسام نے جیب سے اس کی تحریر نکال کر اسے دکھائی جیا شرمندہ بیٹھی رہی
”اب تو معاف کر دو نا کچھ تو بولو دیکھو میں کان پکڑتا ہوں”
ابتسام نے کان پکڑ کے چہرہ اس کے سامنے کیا جیا کی ہنسی نکل گئی پھر وہ مصنوعی غصے سے بولی
”آپ نے مجھے مارا؟ آپ آرام سے بھی کہہ سکتے تھے ناں ۔۔ میں تو آپ کو جلا رہی تھی آپ کی اس لڑکی سے سکائپ پر باتیں ، بے تکلفی مجھے کتنی جلن ہوئی سوچا آپ نے ؟
”ارے یار وہ تو بس کولیگ تھی اور اچھی دوست اس کو تمہارا پتا ہے افففف تو وہ تم تھی کھڑکی میں مجھے شک سا ہوا تھا کہ تمہارا سایہ دیکھا تھا میں نے”
ابتسام نے یہ کہہ کر اس کا ہاتھ تھام لیا جسے اس نے سختی سے چھڑایا
”آپ نے مجھے تھپڑ مارا ؟
ابتسام نے پھر ہاتھ پکڑا اور ہنستے ہوئے اس کو منہ دکھائی کی ڈائمنڈ رنگ پہناتے ہوئے بولا
” تمہارا علاج ہی تھپڑ تھا بچپن سے کھاتی آئی ہو عادت ہو جاتی ہے نا”
جیا ہنس دی اور ناراضگی اور اداسی ختم ہو گئ وہ اس کیلئے اپنی فیلنگز بتاتا رہا اور وہ دل میں اللہ کا شکر ادا کرنے لگی کہ ابتسام جیسا ہمسفر ملا۔۔
ختم شد