Jiya By Sania Ali Readelle50325

Last updated: 10 November 2025

694K
3

Jiya

By Sania Ali

_______ پاکستان آتے ہوئے وہ زونائشہ کیلئے اداس تھا جس نے دوستی کا حق ادا کر کے مسکرا کر الوداع کیا جو بھی تھا زونی ایک اچھی لڑکی تھی اس کا دل دکھا تھا ۔۔۔۔ گھر آ کر سب سے مل کر وہ رو پڑا ابا اور چاچو کتنی کتنی دیر تک اسے گلے لگائے رہے امی کی گود میں سر رکھ کر ان کی ممتا محسوس کر کے وہ حیران تھا کہ وہ اتنا ترسا ہوا تھا اپنوں کیلئے۔۔۔ اس کی نظریں علیزے کو دیکھنا چاہتی تھی وہ نظر نہ آئی ایک دن پورا گزرا وہ نہیں سامنے آئی اس نے کسی سے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا پھر دوسرا پھر تیسرا آخر صبر مشکل ہو گیا اس نے زوہا سے پوچھا تو اس نے بتایا آپ نے اسے ہرٹ کیا تھا آپ کی باتیں اس نے سن لی تھی جب آپ نے انکار کیا تھا اس لئے ایسا کر رہی ہے ۔۔ وہ بے چین سا ہو کر چچی کے پورشن میں آگیا اور وہیں بیٹھا رہا الجھے ذہن اور بے لگام دل کے ہاتھوں مجبور۔۔۔۔ وہ اسے آتی دکھائی دی گرمی سے چہرہ سرخ لئے وہ کچن سے پانی پینے گئ تو ابتسام اس کے پاس چلا آیا اور اسے دیکھتا رہا علیزے کے رویے پر غور کرتا رہا جب وہ صوفے پر بیٹھ کر خود کو مصروف شو کرتی رہی وہ اس کو بڑے پیار سے دیکھتے ہوئے اپنے دل میں اتارتا رہا ۔۔ وہ علیزے کے سامنے مجرم سا سمجھتا رہا کہ چچی نے بلایا واپس آیا تو لاؤنج میں علیزے نہیں تھی وہ پیپر تھا جس نے اس کو نئ زندگی دے دی اور ذہن پر چھائی کثافت دھل گئ۔۔ _________ اور جیا نے انکار کر دیا ابتسام چپ سا بیٹھا رہ گیا جب ابا نے بتایا کہ جیا نے انکار کر دیا "بابا پلیز کچھ کریں پلیز بابا " ابا نے بڑے پیار سے اپنے خوبرو بیٹے کی طرف دیکھا اور اس کی تڑپ محسوس کی "بیٹا وہ غصے میں ہے مان بھی سکتی اگر تم اپنا رویہ درست کرو اور اس سے معافی مانگو ہماری تو خواہش ہے جیا کہیں نہ جائے تمہارے چاچو کو بھی نہیں کوئی اعتراض مگر ہماری جیا جو کہے گی وہی ہو گا " ابتسام سوچ رہا تھا کیسے منائے کہ اسے لڑکیاں منانے کا کوئی تجربہ نہ تھا ابا نے چھیڑتے ہوئے کہا "خیر سے محبت ہو گئ ہے میرے بیٹے کو " ابتسام گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گیا اور شرماتے ہوئے سر ابا کی گود میں رکھ دیا :)) __________ صبح صبح واک کی غرض سے ابتسام روم سے نکلا تو لان میں علیزے کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔۔ علیزے شاید نہا کر آئی تھی لمبے بال کمر پر بکھرے اور سفید سوٹ وہ اس وقت کوئی روح ہی لگ رہی تھی وہ دیکھتا دیکھتا اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا "جیا " علیزے نے چونک کر دیکھا اور سنبھل کر بیٹھ کر بولی "میرا نام علیزے ہے پلیز مجھے جیا نہ کہا کریں " ابتسام نے مسکراتی نظریں اس پر جما دیں " تم نے انکار کیوں کیا؟ "میری مرضی "ٹکا سا جواب آیا " کچھ تو ریزن ہو گی میں چاہتا ہوں ہم بات کر لیں کھل کے" کوئی ریزن نہیں بس میری مرضی " یہ کہہ کر علیزے اٹھنے لگی تو ابتسام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکنا چاہا "علیزے پلیز میری بات سن لو ایک بار " "آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی اور کیا بات سنوں آپ کی بس نہیں کرنی آپ سے شادی کسی بھی چرسی ، نشئ سے کیوں نہ کرنی پڑے آپ سے نہیں کرنی شادی ، سن لیا ؟ ابتسام گنگ سا بیٹھا رہ گیا علیزے لان کی دوسری طرف چلنے لگی پھر علیزے نے بالوں کا جوڑا بنایا سر پر دوپٹہ لیا اور گیٹ کھول کر باہر چہل قدمی کرنے چل دی ۔ ۔۔۔ ابتسام نے خود کو ہمت اور حوصلہ کرنے کو کہا اور ابھی اٹھ کر گیٹ کی طرف بڑھنے ہی لگا کہ۔۔ علیزے چیختی ہوئی آئی اور اس سے لپٹ گئ اس کے پیچھے پیچھے ایک بڑا سا کتا بھی گیٹ کے اندر تک آیا "بچاؤ کتا بچاؤ بچاؤ " کتا بے چارہ اس سین کو دیکھ کر یا ابتسام کو دیکھ کر واپس بھاگ گیا ابتسام نے دل ہی دل میں کتے کا شکریہ ادا کیا اور شرارت سے بولا " کس حق سے مجھے ہاتھ لگایا ؟ تم لڑکیوں کے ڈرامے بہانے سے گلے لگ گئ " جیا نے شرمندہ سی ہو کر اس کی شرٹ چھوڑ دی اور اندر کی طرف دوڑ لگا دی پیچھے ابتسام کا جان دار قہقہ سنائی دیا ؛)) ___________

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!