Jab Zehar Rooh Main Utar Jaye By Umme Hani NovelR50643

Jab Zehar Rooh Main Utar Jaye By Umme Hani NovelR50643 Last updated: 22 April 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jab Zehar Rooh Main Utar Jaye By Umme Hani

" میں اس وصیت کو نہیں مانتا۔۔ دادا جان اپنی ساری جائیداد اپنی پاگل نواسی کے نام کیسے کر سکتے ہیں؟؟؟ میں اسے جان سے مار دونگا "حدید عالم وصیت پھاڑتے غرایا تھا جبکہ وکیل سر جھکائے بیٹھے تھے۔

اس نے دن رات بزنس پر لگائے تھے پر اس کے دادا سب کچھ اس کی پاگل یتیم کزن کے نام کر گئے تھے جو سالوں سے بیسمنٹ میں رہ رہی تھی وہیں اس کا علاج جاری تھا۔

" دیکھیں مسٹر حدید۔۔ وصیت کے مطابق آپ کی کزن کے مرنے کے بعد ساری پراپرٹی چیرٹی میں چلی جائے گی۔۔ یا اگر ان کی شادی ہو جاتی ہے تو ان کی اولاد ہونے پر اولاد کے نام" یہ سنتے حدید عالم کا دماغ ایک لمحے کے لیے ٹھٹھکا تھا۔۔۔

"واٹ ربش " اپنی سوچ پر اس نے خود کو جھٹکا لیکن پھر کچھ سوچتے وکیل کے جانے کے بعد وہ بیسمنٹ کی جانب بڑھا۔۔ پانچ سال بعد اس نے یہاں قدم رکھا تھا اسے تو یاد بھی نہیں تھا اس کی کزن دکھتی کیسی تھی؟؟؟

وہ سیڑھیاں اترتے نیچے بیسمنٹ میں آیا وہاں کا ماحول دیکھ کر وہ چونک گیا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کے مینشن کا بیسمنٹ اس قدر خوبصورت اور عالی شان ہو سکتا ہے اس بیسمنٹ کے اندر ہر چیز موجود تھی وہ پانچ سال پہلے ایک بار آیا تھا لیکن سیڑھیوں سے ہی چیخوں کی آواز سن کر پلٹ گیا تھا۔۔۔

کچن لاؤنج بہت سے کمرے اینٹی ڈیکوریشن پیسز اور خوبصورت پینٹنگز وہ جگہ ان کے مینشن سے کہیں گنا زیادہ خوبصورت تھی زیادہ تر کمرے بند ہی تھے وہ بغور ارد گرد کا جائزہ لیتا ہوا ایک کمرے کا کھلا دروازہ دیکھ کر اس کی جانب بڑھا تھا وہ نہایت ہی خوبصورت پنک اینڈ وائٹ تھیم کا بیڈ روم تھا۔۔۔

جس میں سامنے ہی گول شیپ نرم گرم بیڈ پر کمبل میں لپٹا نازک وجود نیند کی وادیوں میں گم تھا وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے پاس آیا تھا اور اس کے بیڈ روم سے کچھ قدم کے فاصلے پر رک گیا نظریں اس کے معصوم حسین چہرے پر پڑی تو کچھ لمحوں کے لیے اپنی جگہ پر جم گیا کیا یہ لڑکی اس کی کزن تھی؟؟؟ وہ اس قدر حسین تھی کہ کچھ لمحوں کے لیے وہ اپنی جگہ پر ساکت رہ گیا اس قدر بے بہا حسن اور معصومیت اس نے شاید ہی اپنی زندگی میں کہیں دیکھی ہو۔۔۔

اس نے ایک سے بڑھ کر ایک حسین لڑکی دیکھی تھی لیکن اسے ماننا پڑا تھا کہ سامنے موجود وہ معصوم سی لڑکی اپنے حسن میں کوئی ثانی نہ رکھتی تھی چند لمحوں کے لیے وہ سب کچھ بھول کر اس کے معصوم حسین چہرے میں کھو گیا وہ بھول گیا کہ وہ یہاں کیوں آیا تھا وہ بس اسے دیکھتا چلا گیا کوئی سحر سا تھا جو اس بے انتہا حسین لڑکی نے اس مغرور نوجوان کے گرد پھونکا تھا جسے کچھ یاد نہیں رہا تھا۔۔۔۔

اسے نہیں معلوم کہ کتنا وقت گزر گیا وہ بس اپنی جگہ پر ٹکا اسے دیکھے گئے یہاں تک کہ اس کی نظروں کی گہری تپش پر اس معصوم لڑکی کے وجود میں ہلچل ہوئی تھی وہ نیند میں بھی جیسے بے چین سی ہوئی تھی اگلے ہی لمحے اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں اور دنیا کی سب سے خوبصورت آنکھیں حدید عالم کے روبرو ہوئی تھیں اس کی نیلی آنکھیں جیسے اپنے اندر دنیا جہاں کا حسن سمیٹے ہوئے تھیں۔۔۔۔۔

جہاں پر حدید عالم اپنی سانسیں تک روک گیا تھا وہیں پر اپنے سامنے کسی انجان شخص کو دیکھ کر اس کی خوبصورت آنکھوں میں خوف چھا گیا اگلے ہی لمحے وہ اپنا کمبل اپنے گرد لپیٹ کر اپنی آنکھیں میچ کر پوری شدت سے چیخنے لگی تھی اس کی دل دہلانے والی چیخیں سن کر حدید عالم جو کہ اس وقت کسی سحر کے زیر اثر تھا وہ فورا سے ہوش میں آیا تھا اور ہڑبڑا کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

اس کی چیخیں سن کر وہیں آس پاس موجود میڈز اور نرسز بھاگ کر اس کے کمرے کی جانب آئیں تھیں جبکہ حدید عام کچھ پریشان سا اسے دیکھ رہا تھا جس کی حالت بگڑ رہی تھی اس کی سانسیں گھٹنے لگیں تھیں اور وہ مسلسل ہاتھ پیر چلاتی آنکھیں بن کیے چیخے جا رہی تھی۔۔۔۔

" آپ کون ہیں؟؟ اور یہاں کیسے آئے؟؟؟ " نرس حیرت سے اسے دیکھتی بولی تبھی ایک لیڈی ڈاکٹر اندر داخل ہوئی وہ تیزی سے ایک میڈیکل باکس سے کوئی انجیکشن نکال رہی تھی اور باقی نرسز اسے تھام کر پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن وہ مسلسل چیختی جا رہی تھی ڈاکٹر نے جلدی سے اس کے بازو میں انجیکشن لگایا کچھ دیر بعد ہی وہ پرسکون ہوتی انجیکشن کے زیر اثر نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔

COMPLETE DOWNLOD PDF LINK AVAILABLE

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *