Jaan Se Pyari Jana by Rubab Naqvi

"میرا باپ کدھر ہے ؟"
"بلوایا ہے ۔۔۔
آتا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ سو کہ تم پہچان لو گے ۔۔"
"کیا مطلب ؟؟"
ٹھٹھک کر پوچھتی جاناں کمرے میں داخل ہوتے جمیل کی حالت دیکھ کر اس کی بات کا مطلب سمجھی تھی ۔۔۔
جمیل کو لا کر کونے میں کھڑا کر دیا گیا تھا جبکہ اس سے کھڑا ہوا جا بھی نہیں رہا تھا ۔۔
اور یہ کوئی نشے کی وجہ سے نہیں تھا ۔۔۔
نشہ تو ایک آہنی ہاتھ کا جھانپڑ کھا کر ہی ہرن ہو گیا تھا ۔۔۔
لال نیلا ہوا وہ جاناں کو دیکھ کر چونکا تھا مگر کچھ بولا نہیں تھا ۔۔۔
"تمہارے باپ نے ہمارے بندے پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی کی ہے ۔۔"
"اور کیونکہ میرا باپ ٹھہرا "معصوم شہری" سو فوراً پکڑ کر لے آ ئے ۔۔۔
بجائے اپنے بندے سے پوچھ گچھ کرنے کے کہ وہ قانون کا محافظ ہو کر ایسی جگہ کیوں گیا تھا ۔۔۔
آپ میرے باپ کو ہی ۔۔۔۔۔۔۔"
"ایک منٹ ایک منٹ !!!"
پوری رفتار سے چلتی زبان کو حیرت سے تکتا زمان خان بگڑ کر اسے ٹوک بیٹھا تھا ۔۔۔
"تمہاری لغت میں معصوم شہری کون ہوتے ہیں ؟
تم چوری کرتے ہو ۔۔ تم بھی معصوم شہری !
تمہارا باپ نشئی جواری ۔۔ وہ بھی معصوم شہری !
تو پھر معاشرے کا ناصور کون ہیں ؟"
ایک ابرو اٹھا کر وہ ٹیبل پر زرا آگے کو جھکا تھا ۔۔۔
جواباً شانے اچکا کر جاناں نے نظریں زمان خان کے پر کشش چہرے پر جما دیں ۔۔۔
اس نظر کا مطلب سمجھ کر زمان خان نے زور شور سے سر ہلایا تھا ۔۔۔
پھر آنکھیں سکیڑ کر غیر متوقح سوال پوچھ بیٹھا ۔۔
"یہ تمہارے کندھوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے ؟
اچکتے رہتے ہیں ۔۔۔"
"جو مسئلہ آپ کی بھنئوں کے ساتھ ہے ۔۔۔
ناچتی رہتی ہیں ۔۔۔"
آخری جملہ منمنا کر ادا کیا تھا ۔۔۔۔
"ویل ! ایسے ہی تو میں اسے نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔
"اصول" تو پتہ ہیں تمہیں !!"
"میرے پاس چار سو ساٹھ روپے ہیں ۔۔۔"
کہتے کے ساتھ ہی جاناں نے جیکٹ کی جیب سے وہ پیسے نکال کر ٹیبل پر دھر دیئے تھے ۔۔۔۔
"کچھ اور بھی تو ہے ۔۔!"
"قسم لے لیں صاحب جی ایک روپیہ بھی اور ہو پاس"
کچھ اور بھی ہے ۔۔۔ جس کی پردہ داری ہے !"
"ارے سچ میں کچھ نہیں ہے صاحب جی"
زمان خان کے لہجے کی شوخی محسوس کیئے بغیر وہ اندر ہی اندر حساب کتاب میں لگی تھی ۔۔
زمان خان اس سے رشوت میں کتنی رقم طلب کر سکتا تھا اور وہ فوری طور پر اس رقم کا انتظام کیسے کر سکتی تھی ۔۔۔
"تم نہیں ہو؟"
"میں نہیں ہوں ؟"
زمان خان کے دلفریب انداز میں کہنے پر وہ غائب دماغی سے بڑبڑائی ۔۔۔
"اوہ گاڈ !"
زمان خان نے اپنے بال مٹھی میں جکڑے ۔۔۔
"مجھے معاف کردو ۔۔۔
یہ پکڑو اپنا باپ اور نکلو ۔۔
ایسوں کو رکھنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ۔۔۔ الٹا زحمت بن جاتے ہیں ایسے قیدی ۔۔"
جمیل کے سوکھے سے کانپتے وجود کو دیکھتا وہ نخوت سے بولا تھا ۔۔۔
"ہاہ اتنے سستے میں ۔۔۔ بلکہ فری میں کیسے جان چھوٹ گئی ۔۔؟
یہ حرام خور تو پیسے لوٹنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے "
دل میں سوچتے ہوئے اس نے زمان خان کی طرف دیکھا تھا جو بغور اس کے تاثرات نوٹ کر رہا تھا ۔۔۔
سٹپٹا کر دو انگلیاں پیشانی سے چھوتی وہ جمیل کو لے کر وہاں سے نکل گئی ۔۔۔
"سلی گرل "
منہ بنا کر بڑبڑاتا زمان خان اگلے ہی پل ہنس پڑا تھا ۔۔۔۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *