Ja Tujhe Maaf Kiya By Hania Novel21016
Last updated: 30 August 2026
No chapters found.
Ja Tujhe Maaf Kiya By Hania Novel21016
Romance | Emotional Drama | Forced Separation | Second Chance Love | Family Conflict | Betrayal | Secret Child | Regret & Redemption
Description
A deeply emotional romance revolving around love, betrayal, separation, and an unexpected reunion. Armaghan Shah marries Arzoo against his family’s wishes, but a cruel family conspiracy separates them. Years later, a chance encounter at a hospital brings Arzoo back into his life and forces him to confront the truth about their past.

” یہ لو طلاق نامہ اور دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔ دوبارہ میرے بیٹے کے آس پاس نظر مت آنا” آرزو کی شکست دیکھتے عذرا بیگم کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔ سال پہلے خاندان بھر کی مخالفت کے باوجود ارمغان شاہ نے اپنی آفس سیکرٹری سے شادی کی تو اس یتیم کی قسمت بدل گئی مگر ایک معمولی لڑائی کا فائدہ اٹھا کر فاخرہ بیگم نے اسے جعلی ڈیورس پیپرز دیے وہ روتے ہوئے شاہ مینشن چھوڑ گئی۔ ” بیٹا یہ چھوٹے علاقوں کی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ بھول جاؤ اسے، نتاشہ سے شادی کر لو۔” ارمغان امریکہ سے لوٹا تو ماں نے اسکے خوب کان بھرے۔ شادی کے بعد اولاد نہ ہونے پر وہ نتائشہ کو ہسپتال لے گیا تو لیبر روم سے آتی ایک لڑکی کی چیخوں میں اپنا نام سنتے وہ پتھر ہوا۔۔۔۔۔۔۔شاندار سی گاڑی ہاسپٹل میں انٹر ہوئی تو اس کے چہرے پر بدمزگی چھا گئی۔ عجیب نظروں سے اس ہاسپٹل کا جائزہ لیتے ہوئے اس نے مڑ کر نتائشہ کے چہرے کو دیکھا تھا ” تم کسی بھی اچھے پرائیویٹ ہاسپٹل میں جا سکتی تھی، یہاں ضروری تھا۔۔؟” اس کی بیزاری عروج پر تھی۔
ارمغان شاہ، شاہ انڈسٹری کا اکلوتا وارث، جس نے شاید زندگی میں کبھی کسی ایسے سرکاری ہسپتال کو وزٹ کیا ہو۔ نتائشہ نے اس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ سخت کر دیا ” ریلیکس ہنی! میں یہاں نازش آنٹی سے ملنے آئی ہوں کیونکہ میں اپنا کیس ان کے ساتھ ہی ڈسکس کرنا چاہتی ہوں” اور وہ نتائشہ کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہوئے منہ پھیر گیا۔۔۔۔۔ گاڑی پارک کرتے ہی ڈرائیور جلدی سے اتر کر اس کی جانب آیا اور دروازہ کھول دیا اور وہ ایک تھاٹ کے ساتھ گاڑی سے باہر نکلا تھا۔ دوسری جانب سے نتائشہ ہیل کی ٹک ٹک کرتی اس کے پہلو سے آلگی اور اس کے بازو میں اپنا بازو ڈالتے ہوئے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اندر بڑھ گئی۔ شادی کو صرف دو ماہ ہوئے تھے اور نتائشہ یہاں اپنا ٹریٹمنٹ کروانے چلی آئی، وہ بھی اپنی دوست کی خالہ کے پاس کیونکہ اسے کسی اور پر یقین نہیں تھا، وہ اپنے نازک ترین مسئلے میں کسی اپنے کو ہی انوالو رکھنا چاہتی تھی۔۔۔ اس کی شان و شوکت اور ٹھاٹ باٹ کا اثر یہ تھا کہ نہ جانے کتنے لوگوں نے مڑ کر اسے دیکھا۔ مضبوط قدم اٹھاتے ہوئے وہ اندر بڑھتا گیا جبکہ نتائشہ بڑی مشکل سے اس کا ساتھ دینے کے لیے اپنے قدموں کو تیز کیے ہوئے تھی۔
اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی کہ ارمغان شاہ کو اپنے پہلو میں چلتا ہوا دیکھنا تو اس کا برسوں سے سپنا رہا، آج اس کا سپنا پورا ہو چکا تھا تو وہ کیسے اپنی گرفت ڈھیلی کر دیتی؟؟ جبکہ مقابل کے چہرے پر گہری سنجیدگی جھائی ہوئی تھی وہی مغوری جو اس کی شخصیت کا خاصہ تھی، وہی ٹھہرا ہوا انداز، ساکت۔۔۔۔۔ اس مصروف راہداری سے گزرتے ہوئے وہ ڈائریکٹ ڈاکٹر نازش کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا کیونکہ نتائشہ کی پہلے ان سے بات ہو چکی تھی اور وہ یہاں صرف ان سے ملاقات کرنے آئی تھی تاکہ ان کی ہدایت کے مطابق ہی ٹیسٹ کروائے اور جلد سے جلد ماں بننے کی خوشخبری اس کے وجود میں اترے اور وہ شخص پوری طرح اس کی لپیٹ میں آجائے۔ پہلے کی نسبت اس وقت اس کے قدموں کی رفتار دھیمی تھی، ارد گرد چلتے ہوئے لوگوں کو نظر انداز کرتے وہ صرف خود پر توجہ دیے ہوئے تھا اور نتائشہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے اسے ڈاکٹر نازش کی ہسٹری کے بارے میں بتا رہی تھی۔ یہ ہاسپٹل شہر کے نامی گرامی ہسپتالوں میں شمار ہوتا لیکن پھر بھی وہ یہاں آکر مطمئن نہیں تھا۔۔ لیبر روم کے قریب سے گزر کر انہیں اندر کی جانببڑھنا تھا اور وہاں سے گزرتے ہوئے اسے ایسا لگا جیسے کسی نے سختی سے اس کے قدموں کو جکڑ لیا ہے۔۔۔۔
کچھ دیر تک نا سمجھی سے وہ ایک عجیب سے احساس میں گھرا رہا، یہ کھیل بس کچھ لمحوں کا تھا۔ نتائشہ چونک کر اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی جیسے جاننے کی کوشش کر رہی ہو کہ ہوا کیا ہے اور تب ہی ایک نسوانی چیخ پوری شدت کے ساتھ برآمد ہوئی اور ساتھ وہ پکار، جس پکار کو وہ لاکھوں کی بھیٹر میں پہچان سکتا تھا۔ پہلی بار اسے لگا جیسے اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ہے۔۔۔۔نتائشہ سے اپنا بازو چھڑواتے ہوئے وہ چونک کر ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، چیخ کے ساتھ ساتھ وہ پکار خاموش ہوگئی جبکہ ایک ننھے سے وجود نے روتے ہوئے جیسے دنیا کو آگاہ کرنا چاہا کہ وہ اس دنیا میں آ چکا ہے۔ بے یقینی سے وہ پلٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور پھر اس نے کسی کی پروا نہیں کی، اس کے پہلو میں کھڑی ہوئی نتائشہ اس کے پاگل پن کو دیکھ رہی تھی۔ اس سے ہاتھ چھڑواتے ہوئے وہ پلٹ کر اسی دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔۔سامنے کھڑی ہوئی نرس نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن کسی ہنگامے کی طرح اسے دور دھکیلتے ہوئے وہ اندر بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک عرصہ ہو چکا تھا اسے اس نام کی پکار سنے ہوئے، اس کے کان ترس گئے تھے اس نسوانی آواز کو سننے جس کی گونج اس وقت اس کی سماعتوں میں تھی۔ “آرزو” نتائشہ نے اس کے لبوں سے یہ نام سنا اور وہیں ساکت کھڑی رہ گئی۔ اسے لگا تھا جیسے ہسپتال کی چھت دھڑم سے اس کے سر پر آ گری ہو۔۔۔۔ جبکہ وہ شخص ہر ایک دیوار کو توڑتا ہوا لیبر روم کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اس نے پہلا قدم اندر رکھا اور بے یقینی کی ایک قیامت اس کے سامنے ٹوٹتی چلی گئی۔ اسے لگا یہ خواب ہے، بھیانک خواب، لیکن یہ خواب نہیں تھا۔ سامنے پڑا ہوا وجود اپنی ادھ کھلی آنکھوں کے ساتھ اس معجزے کو دیکھ رہا تھا، اس نے اپنی آنکھوں کو کھولنا چاہا۔ اس کے پہلو میں کھڑی ہوئی نرس اس نازک سے وجود کو بلکتے ہوئے دیکھ رہی تھی لیکن دو نظروں کا تصادم جان لیوا تھا، جیسے ایک عرصے سے صحرا میں بھٹکے ہوں
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Summary
Armaghan Shah, the only heir to Shah Industries, falls in love with his office secretary Arzoo and marries her despite his family’s opposition. However, his mother secretly gives Arzoo fake divorce papers after taking advantage of a minor conflict between the couple. Believing that her marriage has ended, Arzoo leaves Shah Mansion heartbroken. Armaghan is manipulated into believing that Arzoo is no longer a part of his life and eventually marries Natasha. Two months into their marriage, Natasha visits a hospital for treatment related to her desire to become a mother. While walking through the hospital, Armaghan suddenly hears a woman’s painful scream followed by a voice calling his name. He immediately recognizes the voice as Arzoo’s. Shocked and overwhelmed, he rushes toward the labor room, leaving Natasha completely stunned. Inside, Armaghan finally comes face to face with Arzoo after years of separation. But the presence of a newborn baby turns their reunion into an even bigger mystery, forcing Armaghan to question everything he believed about his past.
