No Download Link
Rate this Novel
Episode 01
مری ہر شب گزر جاتی ہے اکثر اس تمنا میں ۔۔۔۔
کوئی تو خواب میری اس نئی تعبیر کا ہوگا۔۔۔۔
سبھی اوراق کہنے کو تو ہم نے کر لئے ہیں پُر ۔۔۔۔۔۔
تم آؤ تو اضافہ اک نئی تحریر کا ہوگا ۔۔۔۔۔
نومبر کے اوائل دن سردیوںعشقزرِمن
مری ہر شب گزر جاتی ہے اکثر اس تمنا میں ۔۔۔۔
کوئی تو خواب میری اس نئی تعبیر کا ہوگا۔۔۔۔
سبھی اوراق کہنے کو تو ہم نے کر لئے ہیں پُر ۔۔۔۔۔۔
تم آؤ تو اضافہ اک نئی تحریر کا ہوگا ۔۔۔۔۔
نومبر کے اوائل دن سردیوں کی آمد آمد تھی ہوا میں پھیلی میٹھی ٹھنڈی خنکی لاہور شہر کے باسیوں کو مسرور کر رہی تھی
ایسے ہی سردی کے باعث فلیس کا کمبل خود میں اوڑھے بلکہ مکمل اس میں خود کو چھپا کر مزے کی نیند میں گم تھی وہ جب بیڈ کے پاس پڑا الارم بجا تھا مگر وہ وجود تو جیسے ہوش و حواس سے آری گہری نیند میں کھویا ہوا تھا جب چھے بجے کے قریب کے وقت یشل بیگم نے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا تھا
انہوں نے نفی میں سر ہلایا انہیں یہ ہی امید تھی اپنی صاحب زادی سے
وہ بیڈ کے قریب گئیں اس کے چہرے سے کمبل ہٹایا کروٹ کے باعث اس کا دایاں سنہری گال صاف دیکھائی دے رہا تھا
یشل بیگم نے اپنی باہیں ہتھیلی کی پشت سے اس کی گال پر سہلائی تھی دھیمے سے
مہربان لمس کو چہرے کے پور پور پر محسوس کئیے سوئے وجود نے مسکرا کر کروٹ سیدھی کی
یشل بیگم کا ہاتھ تھما ہاتھ باہیں گال کی سانولاہٹ پر چاہ کر بھی نہیں جا سکا
وہ اٹھ کھڑی ہوگئیں آنکھیں مینچ کر گہری سانس بھرے
ایک غزل رقم تھی اس کی سانولی جبین پر۔۔۔۔۔
بے قدرے سیاہ و سفید میں اٹک کر رہ گئے ۔۔۔۔
“روشے روشے آٹھ جاؤ لڑکی آج پہلا دن ہے کالج کا تمہارا
چلو شاباش اٹھو مجھے کالج بھی جانا ہے”
یشل بیگم نے
اسے مسلسل نہ اٹھتے دیکھ کر جھنجھوڑا تھا
“جانم ۔۔۔سونے دیں نہ ابھی تھوڑی دیر بعد میری نیند کی دشمن نے بھی آجانا ہے “
کسلمندی سے کروٹ بدلتی وہ پھر سے نیند کی وادیوں میں اترنے لگی تھی
جب توقع کے عین مطابق رِجا اس کے سر پر کھڑی تھی
“روشنی تم نے قسم کھا لی ہے نہ ترلے کروا کر اٹھنے کی”
رجا نے دانت پیس کر اوندھے منہ لیٹی روشنی کو کندھوں سے تھام کر بیٹھایا
“رجو سونا ہے “
وہ اُونگھ رہی تھی
“ٹھیک ہے میں چھوڑ کر جا رہی ہوں پھر پہلے دن ہی آتی رہنا لوکل دھکے کھاتے کالج “
رجا نے تھک کر آخری حربہ آزمایا تھا
“اچھا میری نیند کی دشمن پانچ منٹ آتی ہوں “
“کوئی پانچ منٹ نہیں بابا نیچے انتظار کر رہے ہیں یار پہلا دن ہے”
رجا نے بیچارگی سے کہا
“اچھا آگئی رجو ڈارلنگ “
رجا کی مشکل سے سیٹ کئیے بالوں کی پونی کو کھینچ کر اسے کیچ کرواتے وہ وہاں سے واشروم میں غائب ہوئی
“روشنی کی بچی میں تمہیں مار ڈالوں گی”
رجا چیخی
جبکہ یشل بیگم اس کی اتنی اونچی چیخ پر بھی آرام سے روشنی کا کمرہ صحیح کر رہی تھی جیسے انہیں ان چیخوں کی عادت ہو ۔۔۔
واشروم کے دروازے کے ہینڈل کے ہلتے ہی
رجا نے ہاتھ میں تھامے پانی کے جگ پر گرفت مضبوط کی اب بدلہ بھی تو لینا تھا اتنی مشکل سے اس نے اپنے بال بنائے تھے جو روشنی نے خراب کردئیے تھے
اور یہ دروازہ کُھلا اور رجا نے پوری قوت سے پانی کے جگ میں سے پانی مقابل کی طرف اچھالا
مگر یہ کیا پانی کی ایک بوند بھی اس پر نہیں گری بلکہ پانی بالکل سامنے بنے واش سنک پر گرا اور شدت سے پانی گرانے کے باعث واش سنک پر موجود رجا کے پسندیدہ اور مہنگے شیمپو کی باٹل زمین پر گر کر کھلی اور اس میں سے سنہری رنگ کا مادہ نکلتا پانی کے ساتھ بہتا چلا جا رہا تھا
جبکہ رجا اپنے نقصان پر دل تھامے سکتے پر ہی چلی گئی تھی
“کسی کے لیے گڑھا کھودو گے تو خود ہی اس میں گرو گے “
روشنی نے قہقہہ لگاتے رجا کے غصے کے باعث سرخ ہوتے گالوں کو چھیڑا تھا
“ہڈحرامی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہوتا تو ضرور روشنی حیدر کو ملتا بقول یشل بیگم کے “
رجا صدمے سے نکلتے پاؤں پٹخ کر روشنی کے کمرے سے باہر نکل گئی
“ہائے روشے میں واری اتنی خوبصورت بھی نہ لگو”
شیشے کے آگے کھڑی اپنی بلائیں لیتی اپنی اونچی پونی کو کس کر اپنا تفصیلی جائزہ لینے لگی
نیلی آنکھوں میں جگ مگ کرتے خواب کٹاؤ دار ہونٹوں پر پر امید مسکراہٹ مڑی لمبی پلکیں جو مصنوعی ہونے کا گمان پیش کرتی تھی مگر ۔۔۔۔۔
مگر دایاں گال جہاں سنہری پن بکھیر رہا تھا ناک کی طرف سے ہوتا چہرے کا بایاں حصہ سانولا تھا
ایک پل کو دیکھنے والوں کو افسوس میں ڈال دینے والا سانولا
“خوبصورتی کے معیار پر پورا نہ اترنے والا رنگ”
“کیا واقعی؟!!”
بیڈ پر پڑا اپنا بیگ اٹھا کر وہ ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھی تھی
وہ کالج کے لیے تیار شیار ہو کر ساتھ والے کمرے کی جانب بڑھی
توقع کے عین مطابق تھا میڈیم رجا منہ بنا کر بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔
“اچھا سوری رجا جانو ۔۔”
روشنی نے اس کے گلے میں باہیں ڈال کر لاڈ سے کہا
“مجھے مت بلاؤ روشنی “
“یار اپنی پاکٹ منی سے لے دوں گی تمہارا فیورٹ شیمپو
پرامس “
اس نے صلاح جو انداز اپنایا تھا
“پہلے یہ رجو کہنا بند کرو روشنی”
رجا نے اپنے کندھے پر موجود اس کا ہاتھ جھٹکا
“اوو میلا بے بی نالاج ہوتا ہے اس نام شے اب نہیں بلاؤں گی رجو “
روشنی نے پھر سے اس کے گال کھینچے
“اب بچ جاؤ تم مجھ سے روشنی “
رجا اٹھی
“پہلے میلا بے بی مجھے پکڑ تو لے ۔۔ہاہاہا۔۔۔”
شاہ ہاؤس میں ناشتے کی ٹیبل لگ چکی تھی
ناشتہ کی ٹیبل پر روشنی کے دونوں چاچو اور چاچیاں موجود تھیں
اس کے بڑے چاچو کا بڑے سپوت احمد شاہ کینیڈا میں مقیم تھے وہی پر انہوں نے شادی کی تھی
ان کا چھوٹا بیٹا عادل شاہ جو رجا کے ہم عمر تھا وہ کالج میں پڑھائی کر رہا تھا پھر چھوٹے چاچو فہد شاہ جن کی دو بیٹیاں تھیں ایک بیٹی تھی انعم آپی جس کی شادی خاندان میں کی تھی اب وہ یو ایس میں سیٹل تھی سال دو سال میں ایک آدھ چکر لگ جایا کرتا تھا پھر انیس سال کی رجا تھی روشنی سے عمر میں دو سال بڑی تھی مگر گھر بھر میں رجا روشنی عادل جی دوستی بے مثال تھی تین ہی تو بچے تھے ان کی آپس میں بہت ٹھنتی تھی
بلکے گھر میں سب بڑوں کا آپس میں تعلق بہت اچھا تھا سوائے اس کی مما کے ایسا روشنی کو لگتا تھا
سب ناشتہ کرنے میں مصروف تھے جب یشل بیگم فائل ہاتھ میں تھامے وہاں پر آئی تھیں
“بھابھی ناشتہ کرلیں.!! “
اسجد صاحب نے اپنی بڑی بھابھی کو عجلت میں دیکھ کر کہا
نہیں بھائی مجھے کالج کے لیے دیر ہورہی ہے
“روشنی یہ پیسے لے لو کچھ چائیے تو کالج سے آکر بتا دینا مجھے کوئی شکایت نہ سنو میں تمہاری رجا بیٹا دھیان رکھنا اس کا بھی”
بڑے چاچو کے اتنے خلوص سے پوچھنے پر اپنی ماں کا اتنا سرد رویہ آج بھی روشنی کو اچھا نہیں لگا
وہی سب کے ساتھ لگا بندھا رویہ ۔۔۔۔
روشنی نے بریڈ کا آخری ٹکڑا نگلا اور اٹھ کھڑی ہوئی
“میں باہر پورچ میں ہوں رجا ناشتہ کر کے آجاؤ ۔۔۔۔”
“آپ کی بھابھی کالج کی نوکری کا روعب جھاڑ کر گئی ہیں ہمارے سامنے !!…”
روشنی کے اٹھتے ہی نازلی بیگم نے اپنے شوہر کی طرف دیکھ کر ناگوار لہجے میں کہا
“ارے ایسی بات نہیں ہے نازلی”
اسجد صاحب نے اپنی چھوٹی بھابھی پلس سالی کی غلط فہمی دور کی
“رجا جلدی ناشتہ کرلو بیٹا میں تم دونوں کو چھوڑ دوں کالج “
جبکہ فہد صاحب اپنی بیگم کے طنز کو نظر انداز کئیے رجا سے کہہ کر اٹھے
“جی بابا ۔۔۔”
رجا نے بھی جلدی جلدی چائے ختم کی
مما روشنی نے کیب میں بیٹھتی یشل بیگم کو آواز دی تھی
روشنی میں نے کتنی بار سمجھایا کے پیچھے سے آواز نہیں دیتے
یشل بیگم نے سرد لہجے میں کہا روشنی کی پُر جوشی ان کے لہجے کی سردی کی نظر ہوئی
“بتاؤ کچھ چائیے تھا ؟؟ “
روشنی نے اپنے سوکھے لب کو تر کیا
“جی اور پیسے چاہیے تھے “
وہ بات جو کہنے سے پہلے نہ روشنی نے سوچی اور نہ ہی یشل بیگم کو اس بات پر یقین آیا مگر دونوں کو ہی دیر ہورہی تھی تو یشل بیگم نے پرس میں سے پیسے نکال کر اسے پکڑائے
اور روشنی نے تھام لئیے
کتنا بیگانہ سا منظر تھا
دونوں” ماں بیٹی “کے درمیان
فہد چاچو نے انہیں کالج کے آگے اتارا تھا
روشنی یار عادل کو کال کرلیتے ہیں ڈیپارٹمنٹ کیسے ڈھونڈیں گے رجا نے پریشانی سے ارد گرد پھرتے اتنے سارے سٹوڈنٹس کو دیکھ کر کہا جیسے سامنے سٹوڈنٹس نہ ہو عجوبے ہوں
“نہیں رجو یار اس کا ٹیسٹ ہے اور وہ ابھی لیکچر لے رہا ہو گا “
روشنی ہم پوچھ لیتے ہیں کسی سے رجا نے کوئی چوتھی بار اپنے ساتھ چلتی روشنی کو کسی سے ڈیپارٹمنٹ پوچھنے کا کہا تھا
“نہیں ۔۔۔نہیں رجا مجھے کسی سے نہیں پوچھنا “
روشنی ناک کی سیدھ پر چلتی جارہی تھی رجا کے روکنے پر چارو ناچار اسے بھی رکنا پڑا تھا
جب ایک گروپ کی نظر ان دونوں پر پڑی تھی
وہ سینئر لگ رہے تھے
“گائیز مرغیاں !!”
“اوو یونیک مس بلیک اینڈ وائٹ”
روشنی کے چلتے قدم خود پر پاس ہوتے کمنٹ پر تھمے تھے
“او لوک گائیز اس کا رنگ ہماری ٹائی سے ملتا ہے وائٹ ٹائی وڈ بلیک ڈاٹس”
ایک سینئر لڑکی نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرکے کہا تو پورے گروپ کا قہقہ گونجا تھا
افف پر یہ نیلی نشیلی آنکھیں گروپ لیڈر چل کر روشنی کے قریب آیا تھا
“آہ ۔۔۔لینز ہوں گے “
وہ ہی ٹائی والی لڑکی حقارت سے بولی
روشنی کے ساتھ کھڑی رجا نے سر جھکا لیا تھا اس کے روکنے کی وجہ سے ہی وہ سینئر کے ہاتھ لگی تھیں
“بولیٹس چیک؟؟” روشنی کی شرارتی آواز پر رجا ایک لمحے کو چونکی پھر دماغ روشن ہونے پر وہ بھی پراسرار مسکرائی
“چیک ماسٹر!!! “
تصدیق کی گئی
روشنی کی عجیب و غریب بات پر گروپ میمبر بھی حیران ہوئے تھے
“گن؟؟ …چیک!! “
“فائر ورکس ؟؟… چیک !!!”
“گرنیڈ ؟؟….چیک “
” مزائلز ۔۔۔!!!چیک”
” ایوری تھنگ اس فائن ماسٹر “
رجا نے سلیوٹ کرنے کے انداز میں بیگ کندھے میں تھاما تھا
“اوکے سو بی ریڈی کیپٹن”
“یس سر “
روشنی نے چیلینج کرنے کے انداز میں اپنے یونیفارم کے کفس اوپر کی جانب فولڈ کئیے سب ہونق بنے اسے ہی دیکھ رہے تھے جس کے گورے ہاتھوں میں کہیں طرح کے بینڈ بندھے ہوئے تھے
ایک بینڈ میں چھوٹی سے ڈبیہ اٹکائی ہوئی تھی
“اٹیک!!”
رجا نے بھی بیگ سے ڈبیہ نکالی جس میں سے منی پوپ (چھوٹے پٹاخے) انھوں نے گروپ کی جانب اچھالے
پھٹ پھٹ کی آواز سے ان چھوٹے پٹاخوں کا شور بلند ہوا گروپ کی لڑکیاں اچھلتی چیخیں مارنے لگی تبھی روشنی نے ماچس کی ڈبیہ سے ماچس بومب اس لڑکے کی طرف پھینکا تھا جو اس کی شرٹ کی پوکٹ میں گیا تھا
اور ٹھاہ کرکے وہ پھٹا
رہی سہی کثر رجا نے واٹر گن سے ان کی طرف لال رنگ کا پانی پھینک کر پوری کردی
اس سارے منظر کی ویڈیو بڑی ہی خاموشی سے رجا میم نے اپنے پاس موجود چھوٹے سے منی پاکٹ کیمرے میں بنا لی تھی
“یہ کیا ہورہا ہے ؟؟!!”
کوئی بچہ شاید سر کو لے آیا تھا
سارے سینئیر وہاں سے غائب ہوئے رجا اور روشنی بھی خاموشی سے وہاں سے غائب ہوگئیں تھیں
کینٹن میں بیٹھے سٹوڈنٹس کی زبان میں بس ایک ہی ٹاپک تھا نیو سٹوڈنٹس کے ہاتھوں ریگنگ گینگ کی ہوئی حالت
“اس کالی نے تو پہلے دن ہی سب کے ہوش اڑا دئیے”
ارے یار تجھے پتا ہے اپنے ریگنگ گینگ کے چھکے چھڑا دیئے
“ہاہاہا وہ تو پوری سیاہ بھی نہیں ہے کہیں سے گوری ہے کہیں سے کالی”
دوسری لڑکی نے کہا
جیسی چاند پر داغ
“نہیں نائنٹیس کی بلیک اینڈ وائٹ فلم “
“جیسے سفید سوٹ پر بدنما کالے دھبے”
“یہ کس کی باتیں کر رہے ہیں سب ؟؟”
حسام نے سوالیہ نظروں سے چپس کھاتے ہوئے اپنے دوست کو دیکھا تھا جو کتاب کو ایسے پڑھ رہا تھا جیسے ایک ہی دن میں ساری حفظ کر لے گا
“یار مجھے کیا پتا ابھی بس سر حفیظ کا ٹیسٹ یاد کرلینے دے پھر اپنے اندر کا اے ۔سی ۔پی پردیومن جگا لینا میرے بھائی”
مقابل نے ہاتھ اس کے آگے جوڑ دئیے
“یار عادل تو۔۔۔۔ حسام نے اس کے ہاتھ سے کتاب چھینی
ہوش میں آجا “
“واقع مسٹر عادی ہوش میں آجاؤ”
روشنی نے ان کے ساتھ والی چیئر پر بے تکلفی سے بیٹھے عادل کی آنکھوں پر لگی فریم لیس گلاسس اتاری تھی
“بائے دا وے یہ کینٹین والے سٹوڈنٹس میری بات کر رہے ہیں”
کہنی کو ٹیبل پر رکھ چہرہ نائنٹی ڈگری کے اینگل سے گھما کر حسام کو دیکھ کر آنکھیں پٹپٹائیں جس کی نظریں ان نیلگوں پانی میں کھوتی گئیں
“بڑے ہی بے مروت ہو سامنے دو خوبصورت لڑکیاں کھڑی ہیں کھانے کا پوچھنا تو دور کی بات بیٹھنے کے لیے جگہ بھی نہیں دے رہے”
روشنی نے حسام کو شرم دلائی
وہ ہوش میں آکر ایک دم اٹھا تھا
“یار روشی نہ تنگ کرو اسے دوست ہے میرا”
عادل نے رجا کو جگہ دیتے روشنی کو سرزنش کی
“ہاں تو میں کونسا کھا جاؤں گی تمہارے دوست کو”
روشنی نے خفگی سے عادل کو دیکھا
“اچھا ایہ چھوڑو مجھے اس کالج کا مین انسٹا ہینڈل دینا “
پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ روشنی نے رجا کو آنکھ ماری
“ڈونٹ ٹیل میں کالج میں ہوا یہ بکھیرا تم نے ڈالا ہے؟؟”
عادل اپنا چشمہ صاف کرتے کرتے رکا تھا
“ہاں تو مائی ڈئیر کزن پورے کالج میں مس بلیک اینڈ وائٹ پلس یونیک اور کوئی بھی ہے ؟؟”
ایک ادا سے اس نے اپنے بال جھٹکے تھے
حسام ایمپریس ہوا تھا اس لڑکی میں اپنی خامیوں کو اپنی طاقت بنانے کا ہنر تھا
“اچھا تم بتاؤ ٹیسٹ ہوگیا جس کی وجہ سے تم ہمارے ساتھ کالج نہیں آئے “
روشنی نے چپس کا پیس میں رکھتے ہوئے آئی برو آچکا کر پوچھا
“نہیں یار روشے نہیں ہوا لیٹ کردی ٹائمنگ سر نے “
عادل پریشان سا لگا تھا
“کوئی بات نہیں ڈونٹ وری ہوجائے گا “
“ہمارا تو بس انٹرو ہوا آج اب میں اور رجا فری ہیں تم جاؤں ٹیسٹ دے کر آؤ ہم تب تک زرا نئے کالج کے درشن کرلیں “
آنکھ دبا کر وہ رجا کو تھامے اٹھی
“میں تائی جی کو بتاؤ گا اگر کوئی حرکت کی تو “
عادل نے دھمکی دی
“او میلا دھمکی والا بےبی تم سر حفیظ کا ٹیسٹ پاس کرو بس یہ دھمکی روشنی حیدر کو مت دو ہاہاہا۔۔۔”
اس کا انداز ایسا تھا ارد گرد بیٹھے سٹوڈنٹس نے قہقہ لگایا
جبکہ وہ بے نیاز سی وہاں سے نکل گئی
پیچھے عادل شرمندہ شرمندہ سا اٹھا کیونکہ ابھی حسام نے اسے اسی نام سے چھیڑنا تھا
ایک بھرپور دن کالج میں گزار کر رجا اور روشنی عادل کے ساتھ واپس گھر آئے تھے
روشنی تو آتے ساتھ ہی بستر توڑنے چلی گئی
جبکہ رجا اپنا پسندیدہ شو دیکھنے میں مصروف ہوگئی
مشکل سے آدھا گھنٹہ گزرا تھا جب عادل اور رجا اس کے سر پر موجود تھے
کالج کے مین اکاؤنٹ پر آج کی ویڈیو ٹرینڈ پر تھی
ویڈیو میں روشنی اور دوسری لڑکیوں کا چہرہ تو نمایا نہیں تھا لیکن ان لڑکوں کی بڑی طرح ہوتی درگت
دیکھنے لائق تھی
روشنی اشتیاق سے ویڈیو دیکھنے کے بعد بڑے ہی لوفر انداز میں رجا کے گال کھینچ کر بولی
میری چھمیاں کیا کمال کی ویڈیو بنائی ہے تجھے میں آگے بھی اپنا اسیسٹینٹ رکھوں گی
مائی تھرڈ لو
رجا عادل کے سامنے اپنی پول کھلنے کر سٹپٹائی کیونکہ نیچے اس نے عادل کو یہ ہی کہا تھا وہ اس چیز سے اتنی ہی بے خبر ہے جتنا کہ وہ خود
میری ناک کٹوا دو گی روشنی تم عادل نے اسی کے بیڈ پر پڑا تکیہ روشنی کے منہ پر مارا
ایسے ہی ایک تکیہ مزے سے دونوں کو دیکھتی رجا کے منہ پر لگا
تم کہاں پیچھے میڈیم
تینوں ہر چیز سے بے نیاز ایک دوسرے کو مارنے پر تل گئے ۔۔۔۔
“بائے دا وے یہ کینٹین والے سٹوڈنٹس میری بات کر رہے ہیں”
“بڑے ہی بے مروت ہو سامنے دو خوبصورت لڑکیاں کھڑی ہیں کھانے کا پوچھنا تو دور کی بات بیٹھنے کے لیے جگہ بھی نہیں دے رہے “
“ہاں تو مائی ڈئیر کزن پورے کالج میں مس بلیک اینڈ وائٹ پلس یونیک اور کوئی بھی ہے”
اففف کتنی خطرناک لڑکی تھی حسام نے بے ساختہ جھرجھری لی تھی
اللّٰہ معافی
سر جھٹک گیا
“سامی۔۔۔۔۔!!! “
آیا بھائی
حسام اپنا بیگ رکھ کر اٹھا ۔۔۔
دوپہر سے شام اور اب شام سے رات ہوگئی
روشنی کو حیرت ہوئی ابھی تک اس کی مما اسے ڈانٹنے نہیں آئی
جبکہ یہ تو ممکن تھا ہی نہیں کہ گھر میں یہ بات نہ پھیلی ہوتی
جب کچھ دیر اور انتظار کرنے کے بعد اس کی بس ہوئی تو وہ اٹھی تھی
اپنے کمرے سے نکل کر سامنے والے کمرے کی طرف بڑھی پورا کمرہ نفاست کے ساتھ سمٹا ہوا تھا بیڈ شیٹ کمبل شو پیس ہر چیز صاف ستھری تھی ۔۔
“مما ؟؟!!!”
مگر کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا
وہ کمرے کے ساتھ اٹیچ سٹڈی روم کی جانب بڑھی کہ شاہد یشل بیگم وہاں پر موجود ہوں
اس نے دروازے کے ہینڈل پر دباؤ دیا تو دروازہ کھلتا چلا گیا
مگر یشل بیگم وہاں پر بھی نہیں تھی
روشنی کو حیرانگی ہوئی
کیونکہ سٹڈی روم ہمیشہ بند رہتا تھا اس لیے حیران ہونا بنتا تھا
وہ سٹڈی روم کے اندر آئی روشنی کو اچھے سے یاد تھا جب وہ چھوٹی ہوتی تھی تو یہ مما کے ساتھ اٹیچ والا روم اس کا ہوتا تھا پھر جیسے وہ بڑی ہوئی مما نے اس کے لیے دوسرا روم سیٹ کروادیا اور یہ چھوٹا سا اٹیچ کمرہ سٹڈی روم بن گیا ۔۔۔
اففف اتنے سارے ناولز روشنی کی آنکھیں چمکیں وہ تو تھی ہی سدا ناولوں کی دیوانی
مما بھی ناول پڑھتی ہیں کیا ہیں تو اتنی خشک
وہ اپنی ہی بات پر ہنسی
کمرے کے بائیں جانب بک شیلف موجود تھی جس پر ڈھیر سارے ناولز کتابین کچھ فائیلز موجود تھیں
ڈیسک پر چیکڈ پیپرز موجود تھے
جو یقیناً یشل بیگم نے ہی چیک مارک کئیے تھے ۔۔۔
چلو جب تک مما نہیں آتی کوئی ناول ہی پڑھ لیا جائے
روشنی نے بھوری اور سیاہ جلد والی کتاب نکالی۔۔۔
حیرانگی کی بات ہے اس کتاب پر نہ تو کوئی مخصوص ٹاپک لکھا ہے اور نہ ہی مصنف کا نام
روشنی متجسس ہوئی
کتاب کھولی
سرخ رنگ کا سوکھا گلاب جو اپنا رنگ کھو کر زرد مائل ہوا تھا
روشنی نے گلاب چھوا تو پتیاں وہ نرم لمس بھی برداشت نہ کرتے پھول کی کمزور پکڑ سے آزاد ہوئی
روشنی نے اگلا صفحہ کھولا۔۔۔۔
ہے شام تو تعریف میں
تو چین ہے تکلیف میں
تجھ سے ملا تو پالیا
ہر چیز میں!!
ہے خواب تو تعبیر میں
مانا تجھے۔ تقدیر میں
تیرا ہوا اس بھیڑ میں
اس بھیڑ میں!!
ماہ لب ولی !!
اگلا صفحہ کھولا
یک دم کمرے کے باہر سے آواز آئی روشنی کی سانس اٹکی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔
