Hoor e Basil by Zainab Altaf NovelR50641 Last updated: 22 April 2026
Rate this Novel
No chapters found.
Hoor e Basil by Zainab Altaf
" تم لیٹ کیوں ہو گئی آج؟ " حور نے حیرانی سے اُسے دیکھا۔ اُس کے آنے جانے پر کب پابندی تھی ؟ مگر حالات اب بدل گئے تھے ، محبت کا رخ بدل چکا تھا۔ دل میں تلخی ابھر آئی مگر لبوں سے صرف اتنا نکلا: "کلاسز تھیں۔" علی کی آنکھیں سکڑ گئیں۔ اس نے رک رک کر کہا : "ہم ... ایک بات اور ۔ میں نے رشتہ طے کر لیا ہے۔" یہ جملہ بجلی کی کڑک کی طرح گونجا۔ لمحہ بھر کو فضا ساکت ہو گئی۔ نسیم بیگم کے ہاتھ سے شال سرک گئی، اور حور کا دل جیسے سینے میں ڈوب گیا۔ اُس کی آنکھ سے ایک آنسو بہہ کر رخسار پر آگرا، مگر اُس نے ہمت کر کے سر اُٹھایا اور دھیرے سے کہا: "میری پڑھائی ...؟" لیکن علی کا لہجہ بھڑک اُٹھا۔ " پہلے سوچنا تھا یہ ! اور ہاں... اپنے کارنامے کامت بتانا۔ ورنہ تم جیسی گھٹیا کو کوئی شادی کے قابل نہیں سمجھے گا ! " الفاظ تیر بن کر حور کے دل کو چھید تے گئے۔ اُس کی سانسیں رکنے لگیں، مگر وہ ناسائیں رکھنے خاموش کھڑی رہی۔ اسی لمحے باسل آگے بڑھا۔ اس کے چہرے پر ضبط کی لکیریں کھنچ گئیں۔ " کیوں کوئی نہیں کرے گا ؟ ایک غلطی ہوئی ہے، تو اس کی یہ سزا نہیں دے سکتے۔ ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ میرا آپ سے کیا رشتہ ہے !" حور نے لرزتی نظروں سے باسل کو دیکھا۔ اُس کے لہجے میں عجیب ٹھہراؤ اور دفاع کی شدت تھی۔ علی کا قہقہہ فضا کو چیر گیا۔ زیادہ سینٹی مت بنو باسل ! اچھا آدمی ہے ، جنرل اسٹور ہے ، اُس سے نکاح کروا دوں گا۔ ورنہ ایسے کلنک کو کوئی نہیں رکھتا ! " باسل کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک اُٹھیں۔ ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اُس نے جیب سے پستول نکالا، دھمکی بھرے انداز میں علی کی طرف سیدھا کیا۔ اگر آپ حور کے بھائی نہیں ہوتے تو اس پستول کی ساری گولیاں آپ کے آر پار کر چکا ہوتا۔" ماحول سناٹے میں ڈوب گیا۔ نسیم بیگم کے لب کپکپانے لگے۔ باسل نے موبائل نکالا اور تیز لہجے میں وابسہ کو کال کی۔ " مولوی لے کر فوراً پہنچو !" چند ہی لمحوں میں دروازے پر وابسہ مولوی کو لے کر آگیا۔ بارش کی بوندوں سے اس کی قمیص بھیگ چکی تھی۔ باسل نے نسیم بیگم کی طرف رخ کیا اور کہا۔ " دوپٹہ لائیں ! " علی کے چہرے پر حیرت اور خوف کی ملی جلی کیفیت تھی۔ وہ کچھ بولنے ہی والا تھا کہ باسل نے بندوق کا رخ اُس کی طرف کرتے ہوئے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا۔ فضا میں بارش کی بوندیں اور دلوں میں ہلچل ٹکرارہی تھی۔ کچھ فیصلے جیسے آج اور اسی لمحے طے ہونے والے تھے۔ نسیم بیگم کے کانپتے ہاتھوں نے حور کے سر پر دوپٹہ رکھا تو جیسے اُس کی بے خود آنکھوں کو ہوش آیا۔ مگر دل میں ابھی بھی ایک بھاری طوفان برپاتھا۔ وہ لب کھولنے ہی والی تھی، انکار کرنے کے لئے ، کہ اچانک وابسہ نے بندوق کا رخ علی کی طرف کر دیا۔ مولوی صاحب کی داڑھی لرز رہی تھی، پسینے کے قطرے ماتھے سے بہہ رہے تھے۔ وہ کانپتی آواز میں بولے۔ اس طرح نکاح نہیں ہوتا ... میں نہیں پڑھاؤں گا۔" ابھی جملہ پورا بھی نہ ہوا تھا کہ وابسہ نے گردن موڑ کر مولوی کی آنکھوں میں گھورتے ہوئے کہا: "مولوی صاحب .... آپ چپ چاپ نکاح پڑھائیں ... ورنہ آپ کی ..." دھمکی ادھوری رہ گئی مگر آنکھوں کا جبر سب کچھ کہہ گیا۔ مولوی صاحب کے ہونٹ لرزے اور انہوں نے تھر تھراتی آواز میں نکاح کے الفاظ دہرانے شروع کمرے میں موت کا سا سکوت تھا۔ نسیم بیگم کی آنکھیں مسلسل بھیگ رہی تھیں۔ باسل کی انگلیاں پستول کے گھیرے پر کس رہی تھیں۔ جب حور کی باری آئی تو اُس کی نظریں بے اختیار علی پر جا ٹھہریں۔ اس کا دل چیخ اٹھا کہ وہ لبوں پر " نہیں " لے آئے ، لیکن علی کے سر پر تنی بندوق دیکھ کر اس کی زبان سوکھ گئی۔ دل کو تھام کر اس نے لرزتے لبوں سے " قبول ہے " کہا. قبولیت کے یہ تین لفظ حور کے لئے زنجیر بن گئے۔ اُس نے اپنی جان نہیں، بلکہ اپنے بھائی کی جان بچانے کے لئے خود کو دوسروں کے حوالے کر دیا۔ وہ بھائی ... جو ایک غلطی کو معاف نہ کر سکا۔ نکاح مکمل ہوتے ہی باسل اپنی جگہ سے اٹھا۔ اُس نے علی کو زبردستی گلے لگایا۔ پھر وابسہ کے ساتھ گلے ملا اور بندوق تھام لی۔ سب کے سامنے اُس میں گولیاں بھریں اور علی کی پیشانی پر رکھ کر سرد لہجے میں کہا۔ اب حور تمہاری بہن نہیں، میری بیوی ہے۔ اگر تم نے اسے ذرا سا بھی دکھ دیا... اگر اس کے جسم پر خراش بھی آئی... تو یاد رکھنا، یہ ساری گولیاں میں اپنے ہاتھوں سے تمہارے اندر اتاروں گا۔" کمرے میں موت کی سی خاموشی چھا گئی۔ شی چھا گئی ۔ حور کا وجود ساکت کھڑا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں اجنبیت ، درد اور آنسوؤں کا سمندر چھلک رہا تھا۔ باسل نے اُس کی طرف ایک گہری نظر ڈالی، پھر نظریں ہٹالیں جیسے برداشت نہ کر پار ہا ہو۔ اس نے وابسہ سے کہا. " کیسے جاؤ گے ؟"
