Hisar E Janan Readelle NovelR50642 Last updated: 22 April 2026
Rate this Novel
No chapters found.
Hisar E Janan
پلیز میرے لالہ بے قصور ہیں، انہیں کچھ بھی مت کہیں، پلیز پلیز!" دونوں ہاتھ جوڑ کر سسکتی ہوئی، فیصلہ کرنے والے بزرگوار کی چارپائی کے سامنے وہ گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئی۔ "گڑیا!" شاہ میر لالا تڑپ کے آگے بڑھے تھے۔ "تم یہاں کیوں آئی ہو؟ یہ جگہ تمہارے لائق نہیں ہے۔ اٹھو، واپس گھر جاؤ۔" شاہ میر لالا اس کے سامنے جا بیٹھے، دونوں بندھے ہاتھوں سے وہ خود کو بے بس محسوس کر رہے تھے۔ "نہیں لالہ! آپ انہیں سچ بتائیں، انہیں بتائیں ناں کہ وہ قتل آپ نے نہیں کیا، وہ ایک الزام تھا۔" وہ بے ساختہ رو دی تھی۔ مجمع میں ہلکی ہلکی آوازیں ابھرنے لگی تھیں۔ سامنے بیٹھے چوہدریوں (فیصلہ سنانے والے) میں سے ایک بزرگ نے گلہ کھنکھارا۔ "دیکھو لڑکی! پہلے تو تمہیں یہ بات پتہ ہونی چاہیے کہ عورتوں کا پنچائیت میں آنا سخت ممنوع ہے۔ اگر آئے بھی تو سخت پردے میں آتی ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ تم گاؤں کے چوہدری کی بیٹی ہو تو تم پہ یہ پابندی لاگو نہیں۔ گاؤں کی ہر عورت پہ یہ پابندی عائد ہے، چاہے وہ کسی چوہدری کی عورت ہے یا کسی کمی کمین کی۔ دوسری بات، تمہارے لالہ نے ملکوں کی لڑکی کا قتل کیا ہے اور یہ قتل ثابت ہو گیا ہے۔" "نہیں کیا میرے لالہ نے کوئی قتل! ایک بات آپ کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی؟" بزرگ کی بات کاٹ کے وہ اتنے زور سے چیخی کہ شاہ میر لالا اور بابا سمیت بیٹھے ہر بندے کو گویا سانپ سونگھ گیا۔ "اے لڑکی! تم اس طرح بزرگوں کی بے عزتی نہیں کر سکتی، تمہیں اس کی سزا بھی ملے گی۔" بھرے مجمع میں سے کسی نے چلا کر کہا تھا۔ حق دق بیٹھے بزرگ نے سکتے سے نکل کر ہاتھ اٹھا کر اس لڑکے کو واپس بیٹھنے کو بولا، پھر دوبارہ اپنا رخِ سخن لڑکی کی طرف موڑا۔ "چلو تمہیں ایک موقع دیتا ہوں۔ تمہارے پاس ثبوت ہے اپنے بھائی کا تو ابھی ثابت کرو، اگر نہیں تو اگلے دس منٹ میں تمہارے سامنے تمہارے بھائی کو پھانسی پہ لٹکا دیں گے۔ منظور؟" اسے تائیدی نظروں سے دیکھا۔ اس نے سر ہلا کے شاہ میر لالا کی طرف دیکھا، وہ اسی کی طرف دیکھ رہے تھے، نگاہوں میں کیا کچھ نہیں تھا۔ "یہاں سے چلی جاؤ گڑیا، دیکھو سب تمہیں کیسے دیکھ رہے ہیں۔ میرے ہاتھ نہ بندھے ہوتے تو میں سب کی نظریں پھوڑ دیتا۔" شاہ میر لالا نے دھیمی آواز میں التجا کی تھی، انہیں اب بھی صرف اس کی پرواہ تھی۔ "جواب دو لڑکی۔" بزرگ دوبارہ مخاطب ہوئے تھے۔ عنایہ نے لالہ سے نظریں چرا کر، ایک نظر خود کو دیکھتے مجمع کو دیکھ کر سامنے دیکھا۔ "عنایہ! لالہ کی جان واپس چلی جاؤ پلیز۔" لالا کی دھیمی اور کرب میں ڈوبی آواز دوبارہ سنائی دی، مگر وہ ساکت بیٹھی رہی۔ "اس دن جب ملکوں کی بیٹی نہر میں ڈوب کے مری، اس دن لالہ اکیلے نہیں تھے، میں ان کے ساتھ تھی۔" عنایہ نے تھوک نگلا۔ "اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ قتل لالہ سے ہوا ہے اور انہیں سزا ملنی چاہیے، تو پھر میں بھی قصوروار ہوں، سزا کی حقدار مجھے بھی ٹھہرایا جائے۔" وہ سپاٹ چہرہ لیے سامنے دیکھتے بولتی رہی۔ "جھوٹ! عنایہ تم جھوٹ کیوں بول رہی ہو؟" شاہ میر لالا چلائے، مگر وہ ان سنی کیے بیٹھی رہی۔ مجمع میں بیٹھے لوگوں کی دبی دبی سرگوشیاں بلند ہونے لگیں۔ "میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں سچ کہہ رہی ہوں۔" وہ دوبارہ سے بولی۔ شاہ میر لالا اور بابا نے بے بسی سے اسے دیکھا۔ بزرگ نے ہنکارا بھرا اور سامنے بیٹھے ملکوں سے مخاطب ہوئے۔ "تم لوگ اگر اپنے فیصلے میں ردوبدل کرنا چاہو۔۔۔" "ٹھیک ہے چوہدری! ہم فیصلہ بدل دیتے ہیں، شاہ میر کی جان بھی بخش دیتے ہیں۔" (عنایہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر سامنے دیکھا۔) "پر ہماری ایک شرط ہے۔" مقتولہ کے تایا (بڑے ملک صاحب) نے کہا۔ "مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے۔" اس سے پہلے بزرگ کچھ بولتے، عنایہ گالوں پر پھیلتے آنسو صاف کرتے تیزی سے بولی۔ "بولو تمہاری کیا شرط ہے؟" بزرگ نے پوچھا۔ "دیکھو بزرگوں! جیسے سالوں سے چلتا آ رہا ہے، قتل کے بدلے قتل، زمین کے بدلے زمین اور لڑکی کے بدلے لڑکی۔" شاہ میر نے چونک کے سر اٹھایا، بے ساختہ دل دھڑکا تھا۔ "ہم شاہ میر کو بخش دیتے ہیں، یہ اپنی بہن ہمارے حوالے کر دیں۔ اب صارم چونکہ شادی شدہ ہے، چھوٹے ملک کا کوئی اور پتر نہیں، تو اس لڑکی کا نکاح بھی اور اسی وقت میرے لڑکے سے ہوگا۔" بڑے ملک نے اپنا مدعا بیان کیا۔ "کیا بکواس ہے یہ؟ عنایہ میری منگیتر ہے، کل شادی ہے ہماری، ایسا تو میں مر کر بھی نہ ہونے دوں گا۔" کب کا خاموش بیٹھا جہانزیب بھڑک اٹھا تھا۔ "ایسا ہوگا اور ابھی ہوگا! میرے چاچے کی دھی کا قتل ہوا ہے، یہ تیری منگیتر نے اور اس کے بھائی نے کیا ہے۔ اگر تجھے نہیں منظور یہ شرط تو پھر ٹھیک ہے، ابھی پھانسی ہوگی اور دونوں بہن بھائیوں کو ہوگی، آگے تم لوگ سوچ لو۔" بڑے ملک کا بیٹا (شجاعت) بھی بھڑک اٹھا تھا۔ چوہدری (بزرگ) نے دونوں کو چپ کروایا اور اپنا رخِ سخن شاہ میر لالا اور خاموش بیٹھے بابا جان کی طرف موڑا۔ "تم لوگوں کو یہ شرط منظور ہے؟" "نہیں، مجھے یہ شرط منظور نہیں۔" شاہ میر لالا تیزی سے بولے۔ "مجھے منظور ہے، میں یہ شادی کرنے کو تیار ہوں۔" عنایہ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ پہ شاہ میر اور بابا جان نے تڑپ کے دیکھا، مگر وہ اپنی بات پر ڈٹی رہی۔ شاہ میر لالا جانتے تھے وہ اب اپنی بات سے نہیں ہٹنے والی، وہ ایسی ہی تھی۔ انہوں نے بے بسی سے اپنا سر جھکایا اور کئی پل سوچنے کے بعد اٹھایا تو چہرہ مطمئن تھا۔ "ٹھیک ہے، مجھے منظور ہے۔" عنایہ نے خوشگوار حیرت سے لالہ کو دیکھا۔ "مگر میری بھی ایک شرط ہے۔" اگلے الفاظ سے بے اختیار دل دھڑکا۔ "نکاح شجاعت سے نہیں، صارم ملک سے ہوگا۔" ملک صارم نے بے اختیار سر اٹھا کر شاہ میر کو دیکھا، وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا، آنکھوں میں نجانے کیا کچھ تھا۔ "تم جانتے ہو ملک صارم پہلے سے شادی شدہ ہے، اگر نکاح ہونا ہی ہے تو شجاعت سے کیوں نہیں؟" چوہدری نے حیرت سے شاہ میر کو دیکھا اور پوچھا۔ "جانتا ہوں، اس کے باوجود میری شرط یہی ہے۔" شاہ میر سپاٹ چہرہ لیے بولا۔ "اوئے! قتل بھی تو نے کیا اب شرطیں بھی تو ہی رکھے گا؟ صارم شادی شدہ ہے، میری بہن کا شوہر ہے وہ، دوسری شادی نہیں کر سکتا، اور تیری بہن کا نکاح مجھ سے ہی ہوگا، سمجھا؟" ملک شجاعت پھر بھڑک اٹھا تھا۔ شاہ میر نے غضبناک نظروں سے اسے گھورا۔ "میں تمہارے منہ لگنا نہیں چاہتا۔اور صارم تم، میں نے تمہاری بہن کا قتل کیا ہے ناں؟ تو بدلے میں میری بہن تمہارے نکاح میں جائے گی، تمہارے کسی چاچے تائے کے بیٹے کے نکاح میں نہیں۔ اگر نکاح کرنا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ میں سولی پر لٹکنے کو تیار ہوں۔
