180.1K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haveli (Last Episode)

Haveli by Khanzadi

سارا دن شانو ولید کا انتظار کرتی رہی۔۔ولید گھر آیا تو تیزی سے اس کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔شانو کو اچانک اپنے کمرے میں دیکھ کر ولید چونک گیا۔۔۔اسے پتہ ہی نہی چلا کب شانو اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں آ گئی۔۔۔

شانو تم یہاں۔۔۔؟؟ کوئی کام تھا کیا۔۔؟؟ ولید کو جب کوئی اور بات نہ سوجھی تو بول پڑا۔۔شانو منہ پھلائے کھڑی ولید کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔کچھ بول ہی نہی رہی تھی۔۔۔

ولید ٹینشن میں پڑ چکا تھا۔۔۔شانو کی طرف بڑھا۔۔کیا ہوا تم کچھ پریشان لگ رہی ہو مجھے۔۔۔؟؟

ولید کی بات پر شانو کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔۔اسفند کون ہے ولید۔۔۔؟؟ مجھے اس بات کا جواب چاہیے۔۔مجھے ٹالنے کی کوشش مت کرنا آج میں اس بات کا جواب لیے بغیر نہی جاوں گی یہاں سے۔۔۔۔

سچ بتاو مجھے نہی تو میں پاگل ہو جاوں گی۔۔شانو مسلسل رو رہی تھی۔۔۔ایسے کون سے راز ہیں میری زندگی کے جن سے میں انجان ہوں۔۔۔؟؟؟

مجھے کیوں یاد نہی آتا کچھ آخر کیوں ولید۔۔۔؟؟؟؟شانو سر دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے نیچے کارپٹ پر بیٹھ گئی۔۔وہ تھک سی گئی تھی ان سب یادوں سے پیچھا چھڑواتے چھڑواتے۔۔۔

شانو کو نیچے بیٹھتے دیکھ ولید جلدی سے آگے بڑھا اور شانو کو سہارا دیتے ہوئے صوفے پر بٹھایا۔۔اور جلدی سے پانی کا گلاس شانو کی طرف بڑھایا۔۔شانو نے پانی پینے سے انکار کر دیا۔۔

ولید نے گلاس اس کے منہ کو لگا دیا۔نہ چاہتے ہوئے بھی شانو کو پانی پینا پڑا۔۔۔اس نے بے مشکل دو گھونٹ پانی پیا اور گلاس پیچھے کر دیا۔۔اب ولید نے کوئی مزاحمت نہی کی اور گلاس سائیڈ پر رکھ دیا۔۔۔

اور خود گھٹنوں کے بل شانو کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔شانو ابھی بھی رو رہی تھی۔۔۔ولید کو اس کے آنسو اپنے دل پر گرتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔دکھ سے آنکھیں بند کر کے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے دوبارہ آنکھیں کھول دیں اس نے۔۔۔

شانو پلیز چپ ہو جاو۔۔تمہارے آنسو مجھے تکلیف دیتے ہیں۔۔میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہی دیکھ سکتا۔۔۔ولید کا لہجہ درد بھرا تھا۔۔

شانو نے نا چاہتے ہوئے بھی ولید کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھا۔۔اس کی نظروں میں کیا تھا۔۔۔محبت،احساس،ہمدردی۔۔شانو کچھ سمجھ نہ سکی اور آنسو صاف کرتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔۔

شانو جو کچھ ہوا تھا اس میں تمہاری کوئی غلطی نہی تھی۔۔جو ہوا ایسا ہونا قسمت میں لکھا تھا۔۔تم خود کو قصور وار نہ سمجھنا کبھی بھی۔۔۔میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔

بہت جلد تم میرے نکاح میں ہو گی۔۔۔مجھے اس دن کا انتظار ہے۔۔جب تم میری ہو جاو گی ہمیشہ کے لیے۔۔۔بہت جلد ہماری شادی ہے۔۔۔

اور یہ فیصلہ میرا اپنا ہے کسی نے زور زبردستی نہی کی میرے ساتھ۔۔۔یہ بھی تمہاری غلط فہمی ہے کہ میں کسی ہمدردی کے تحت تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔

مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔وہ کھلے دل سے اپنی محبت کا اقرار رہا تھا۔۔۔سہی وقت آنے پر سب کچھ بتا دوں گا میں تمہیں۔۔۔

ابھی یہ وقت ٹھیک نہی ہے۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک نہی ہے۔۔۔جاو اپنے کمرے میں کھانا لے کر آتا ہوں میں تمہارے لیے۔۔۔شانو کا گال تھپتپاتے ہوئے ولید اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

اور اگر میں اس شادی سے انکار کروں تو۔۔۔؟؟ شانو کی آواز ولید کے کانوں میں پڑی۔۔۔اس کے باہر کی طرف بڑھتے قدم رک گئے۔۔۔وہ شانو کی طرف پلٹا۔۔

تم ایسا نہی کر سکتی۔۔۔اس شادی سے سب گھر والوں کی خوشیاں جڑی ہیں۔۔۔اور میری بھی۔۔یہ شادی میری مرضی سے طے پائی ہے۔۔اور جو کام میں طے کر لوں وہ میں مکمل کر کے چھوڑتا ہوں۔۔۔

اور اپنی بات دھرانے کا عادی نہی ہوں میں۔۔۔یاد رکھنا امید ہے میری بات تم سمجھ گئی ہو گی۔۔۔اب جاو اپنے کمرے میں کھانا وہی لے آوں گا میں۔۔۔

مجھے نہی کرنی یہ شادی۔۔۔سب کی خوشیوں کی خاطر میں ہی کیوں اپنی زندگی قربان کروں۔۔میں تب اس شادی کے لیے ہاں نہی کروں گی جب تک تم مجھے سب کچھ بتا نہی دیتے۔۔۔شانو کی سوئی ابھی بھی اسی بات پر اٹکی ہوئی تھی۔۔۔

ولید غصے سے شانو کی طرف بڑھا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑا۔۔۔ایک بار جب میں نے کہ دیا کہ سہی وقت آنے پر سب کچھ بتا دوں گا تو تم سمجھتی کیوں نہی۔۔۔

دوبارہ اس بارے میں کوئی بات نہی کرو گی تم میرے ساتھ۔۔۔نہ چاہتے ہوئے بھی ولید کا لہجہ سخت ہو چکا تھا۔۔اپنی غلطی کا احساس ہوا تو۔۔۔شانو کو چھوڑ دیا۔۔اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔

شانو روتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔اور اندر سے دروازہ بند کر کے سر گھٹنوں پر رکھ کر رونے لگ پڑی۔۔۔۔

کچھ دیر بعد ولید کمرے میں آیا تو شانو کمرے میں نہی تھی۔۔۔وہ کھانا لے کر شانو کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔دروازہ بند تھا۔۔۔اس نے دروازہ ناک کیا لیکن شانو نے دروازہ نہی کھولا۔۔۔

ولید اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔کمرے میں جا کر اس نے کتابوں والی الماری میں سے ایک مخصوص کتاب اٹھائی تو اس کے اور شانو کے کمرے کے درمیان ایک خفیہ دروازہ کھل گیا۔۔۔

ولید کھانا لے کر شانو کی طرف بڑھا۔۔وہ بیڈ پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔۔ولید کو اچانک کمرے میں آتے دیکھ وہ چونک اٹھی۔۔۔اور حیران سی نظروں سے کبھی ولید کو دیکھتی تو کبھی کتابوں والی الماری کو۔۔۔

اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہی تھا کہ یہاں کوئی دروازہ بھی ہو سکتا ہے۔۔وہ یک ٹک ولید کو دیکھ رہی تھی۔۔ولید نے کھانا لا کر کر بیڈ پر رکھ دیا۔۔اور خود بھی وہی بیٹھ گیا۔۔۔

ایسے مت دیکھو مجھے نظر لگانی ہے۔۔۔جانتا ہوں بہت ہینڈسم ہوں میں۔۔۔لیکن اس کا مطلب یہ تو نہی کہ تم مجھے ایسے ہی دیکھتی رہو۔۔۔ولید مسکراتے ہوئے بولا۔۔

ولید کی بات پر شانو نظریں جھکا گئی۔۔یہ دروازہ کب سے ہے یہاں۔۔۔؟؟ اور مجھے کسی نے بتایا کیوں نہی۔۔۔؟؟ شانو جھکی نظروں سے بولی۔۔۔یہ اچھی بات نہی آپ چوروں کی طرح میرے کمرے میں گھس گئے ہیں۔۔۔

ضروری نہی کہ ہر بات بتائی جائے۔۔۔جس کے پاس دماغ ہو اسے خود ہی نظر آ جاتی ہیں یہ چیزیں۔۔۔ولید مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔۔۔اور میں کوئی چور نہی ہوں۔۔ڈاکٹر ہوں۔۔

اور یہ کمرہ میری ہونے والی بیوی کا ہے مجھے کوئی نہی روک سکتا یہاں آنے سے۔۔۔ولید پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے بولا۔۔

یہ لو کھانا کھاو۔۔ولید پلیٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔لیکن شانو پر اس کی کسی بات کا کوئی اثر نہی ہوا۔۔وہ ویسے ہی بیٹھی رہی۔۔۔

شانو کھانا کھا لو۔۔۔ولید پھر سے بولا۔۔لیکن شانو اپنی جگہ سے نہی ہلی۔۔۔شانو۔۔۔پلیز کھانا کھا لو۔۔۔ولید نے آہستہ سے پکارا۔۔۔تو شانو نے نظریں اٹھا کر ولید کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں التجا تھی۔۔۔۔

شانو زیادہ دیر ولید کی آنکھوں میں نہ دیکھ سکی اور نظریں جکا گئی۔۔۔کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔۔ولید وہی بیٹھا اسے کھانا کھاتے دیکھتا رہا۔۔

جب شانو نے کھانا کھا لیا تو ولید نے دوائی اس کی طرف بڑھائی جسے شانو نے بنا چو چراں کیے نگل لیا۔۔۔

اب تم آرام کرو۔۔۔صبح ملاقات ہو گی۔مسکراتے ہوئے ولید جہاں سے آیا تھا وہی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔اور شانو کمبل اوڑھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔

ولید نے تو مجھے کچھ نہی بتایا لیکن میں سچ جان کے رہوں گی۔۔۔سارے راز اس حویلی میں دفن ہیں۔۔۔کل میں وہاں جاوں گی۔۔مجھے جانا ہی ہو گا اگر ان یادوں سے پیچھا چھڑوانا ہےتو۔۔۔سوچتے سوچتے شانو سو گئی۔۔۔

ولید کمرے میں آیا تو سوچوں میں گُم بالکونی میں کھڑا نیچے دیکھ رہا تھا۔۔جب اس کی امی کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ولید کیا ہے یہ سب۔۔۔۔؟؟ وہ غصے میں لگ رہی تھیں۔۔۔

کیا ہوا امی۔۔۔۔؟؟ آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں۔۔۔؟؟ ولید کو ان کے غصے کی وجہ سمجھ نہی آئی۔۔۔یہی جو تم کرتے پھر رہے ہو۔۔ابھی شادی ہوئی نہی ہے اور تم ابھی سے اس لڑکی کے غلام بن گئے ہو۔۔وہ غصے سے بولیں۔۔۔۔

امی یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ایسا کیا کر دیامیں نے جو آپ اتنے غصے میں ہیں۔۔ولید کو سمجھ نہی آ رہی تھی ان کے اس رویے کی۔۔۔

یہی کہ تم کھانا تو اپنے لیے کہ کر اوپر لائے ہو۔۔لیکن اس کے کمرے میں کیا کر رہے تھے۔۔۔اس کے لیے کھانا لے کر آئے تھے تم۔۔۔ولید تم نے جھوٹ بولنا کب سے سیکھ لیا۔۔۔

ابھی نکاح ہوا نہی اور تمہیں انگلیوں پر نچانا شروع کر دیا ہے اس لڑکی نے ابھی سے اس کی خدمتوں میں لگ گئے ہو۔۔۔

بس کر دیں امی کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ میں بس اس کے لیے کھانا لے کر آیا ہوں۔۔اس کی طبیعت ٹھیک نہی تھی بس اسی لیے۔۔۔آپ کو تو پتہ ہے سب۔۔۔

ہاں ہاں سب پتہ ہے مجھے جو ڈرامے یہ کرتی پھر رہی ہے۔۔۔میں اس کی شادی نہی ہونے دوں گی تم سے یاد رکھنا اس بات کو کان کھول کر میری بات سن لو تم۔۔کہتے ہوئے وہ غصے سے باہر نکل گئی۔۔۔

اور وہی کرسی پر بیٹھ گیا سر تھام کر۔۔۔دادو سے بات کرنی ہو گی مجھے جتنی جلدی ہو سکے یہ نکاح ہو جانا چاہیے۔۔کہی دیر نہ ہو جائے۔۔۔سوچتے ہوئے ولید دادو کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

اگلے دن ناشتے کی میز پر دادو نے اعلان کیا کہ آج شام کو ولید اور شانو کا نکاح ہے۔۔شام تک ساری تیاریاں دیکھ لو تم لوگ۔۔۔

اتنی جلدی اماں جان۔۔۔کتنی ساری تیاریاں کرنی پڑیں گی شام تک کیسے ہو گا سب کچھ شانو کی امی بول پڑیں۔۔۔

تم فکر نہ کرو بہو کوئی تیاریاں نہی کرنی بس چند مہمانوں کو بلانا ہے۔۔۔اور نکاح خواں کو بلا کر نکاح پڑھوانا ہے ان دونوں کا اور کیا۔۔۔

ولید شانو کے لیے اور اپنے لیے جوڑا تم لے کر آو گے۔۔۔وہ ولید کو مخاطب کرتے ہوئے بولیں۔۔۔

جی ٹھیک ہے میں چلتا ہوں۔۔مجھے کچھ کام ہے شام کو جلدی گھر پہنچ جاوں گا۔۔ولید ایک نظر شانو پر ڈالتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔۔۔

شانو چپ چاپ سب سے لا تعلق ناشتہ کرنے میں مصروف تھی۔۔۔وہ ایسے ظاہر کر رہی تھی جیسے اسے کسی بات سے کوئی فرق ہی نہی پڑ رہا ہو۔۔

اور تم دونوں چند قریبی رشتہ داروں کو دعوت دے دو نکاح کی۔۔وہ اپنے دونوں بیٹوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

جی اماں جان۔۔۔وہ دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے۔۔نواب کی ان کے ساتھ چلا گیا باہر۔۔

آپ یہ ٹھیک نہی کر رہی اماں جان۔۔سب کے وہاں سے جاتے ہی ولید کی امی بول پڑیں۔۔۔یہ زیادتی ہے میرے بیٹے کے ساتھ۔۔۔میں اس لڑکی کو رہنے نہی دوں گی اس گھر میں۔۔۔

چپ کرو تم بہو۔۔۔کوئی زیادتی نہی ہو رہی تمہارے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مرضی سے ہو رہا ہے تم اس معاملے سے دور ہی رہو تو بہتر ہے۔۔

وہ بھی غصے سے بولی۔۔اور تم ہوتی کون ہو شانو کو اس گھر سے نکالنے والی۔۔۔یہ گھر اس کا بھی ہے۔۔سمجھی تم۔۔۔اب جاو اور جا کر نکاح کی تیاری کرو۔۔

وہ غصے سے آگ بگولہ ہوتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔

گھر میں زور و شور سے شانو اور ولید کے نکاح کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔۔سب مہمان آ چکے تھے۔۔شانو اور ولید بھی تیار ہو چکے تھے۔۔۔

نکاح خواں آ چکا تھا۔۔اور یوں دونوں نے نکاح میں ایک دوسرے کو قبول کر لیا۔۔نکاح کے بعد دونوں کو ایک ساتھ بٹھا دیا گیا۔۔۔شانو کے چہرے پر نہ تو خوشی تھی اور نہ ہی دکھ۔۔۔

وہ تو کہی اور ہی گم تھی۔۔اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ سب کچھ پہلے بھی ہو چکا ہے۔۔وہ بیٹھی تو یہاں تھی لیکن اس کا دماغ کہی اور الجھا ہوا تھا۔۔

سب گھر والے اس نکاح سے خوش تھے۔۔سوائے ولید کی امی کے وہ بے دلی سے اس نکاح کے فنکشن میں شامل ہوئی تھیں۔۔۔

رات کے دس بجے شانو کو اس کے کمرے میں بھیج دیا گیا تھا۔۔سب مہمان اپنے گھروں کو لوٹ چکے تھے۔۔ولید نیچے ہی تھا سب گھر والوں کے ساتھ۔۔۔

شانو خواب سی کیفیت میں حویلی کی طرف بڑھ گئی۔۔سب لوگ اندر تھے کمروں میں اسی لیے کسی نے اسے جاتے ہوئے نہی دیکھا۔۔وہ اندھیرے کی پرواہ کیے بغیر چلتی چلی گئی۔۔

آج ہمارا نکاح ہو گیا۔۔۔میں بہت خوش ہوں آج۔۔۔اب تم ہمیشہ کے لیے میری ہو گئی ہو۔۔۔اب ہمیں کوئی جدا نہی کر سکتا۔۔۔ایک مردانہ آواز شانو کے کانوں میں پڑی۔۔۔

اسی آواز کے تعاقب میں وہ حویلی کی چھت پر کب پہنچ گئی اسے پتہ ہی نہی چلا۔۔۔ایک لڑکا اور لڑکی دلہا دلہن کے لباس میں کھڑے وہاں باتیں کر رہے تھے۔۔

شانو جب آگے بڑھی تو لڑکی کا چہرہ دیکھ کر شانو کے چہرے کے رنگ اڑ گئے۔۔۔کیونکہ وہ لڑکی کوئی اور نہی خود شانو ہی تھی۔۔یہ میں ہوں۔۔؟؟ اس نے خود سے ہی سوال کیا۔۔

ان دونوں کی نظر شانو پر نہی پڑی۔۔وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن تھے۔۔تب ہی دو بچے سیڑھیوں سے بھاگتے ہوئے چھت پر آ گئے۔۔۔وہ دونوں بچے جھگڑتے جھگڑتے چھت کے کنارے پہنچ چکے تھے۔۔

وہ لڑکا جلدی سے ان بچوں کی طرف بڑھا۔۔اور ان کو کناروں سے ہٹنے کو کہا لیکن وہ دونوں مسلسل ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔۔۔اس لڑکے نے آگے بڑھ کر ان کو چھڑوانے کی کوشش کی تو اسے ایک زور کا دھکا لگا وہ سنھبل نہ سکا۔۔

اور حویلی کی چھت سے نیچے صحن میں جا گرا۔۔وہ لڑکی جلدی سے آگے بڑھی۔۔۔اسفند۔۔اس کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی اس نام کے ساتھ۔۔۔اور وہ جلدی سے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔۔

شانو چھت پر کھڑی یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔۔وہ سمجھ ہی نہی پا رہی تھی وہ کیا کرے اس حالت میں۔۔۔اس میں ہلنے تک کی ہمت نہی رہی تھی۔۔

اسفند اٹھو۔۔۔وہ لڑکی جلدی سے اس کے پاس پہنچی۔۔لیکن اسفند اس کے سامنے دم توڑ گیا۔۔۔اور وہ چیختے چیختے بے ہوش ہو گئی۔۔۔

یہ سب شانو کے سامنے ایک فلم کی طرح چل رہا تھا۔۔۔آہستہ آہستہ شانو کو سب کچھ یاد آ رہا تھا۔۔وہ جلدی سے نیچے کی طرف بڑھی۔۔۔لیکن نیچے کچھ نہی تھا۔۔۔اسفند۔۔۔اس کے لبوں سے یہ نام نکلا۔۔

اسفند۔۔۔۔وہ چلائی اور چلاتے چلاتے رونا شروع ہو گئی۔۔اسے سب یاد آ چکا تھا۔۔۔اس کے اور اسفند کے نکاح کی رات وہ دونوں چھت پر آئے تھے۔۔۔اسفند چھت سے گرا تھا اور اس کے بعد اسے کچھ بھی یاد نہی تھا۔۔۔

صدمے سے اس کی یادداشت جا چکی تھی۔۔۔حویلی کا راز اس کے سامنے کھل چکا تھا۔۔۔وہ زور زور سے چلا کر اسفند کو پکار رہی تھی۔۔۔اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے اسفند ابھی ابھی یہاں گرا ہو۔۔

وہ بھول چکی تھی کہ اس کا اور ولید کا نکاح ہو چکا ہے۔۔۔شانو کے چلانے کی آواز سن کر سب لوگ وہاں آ پہنچے۔۔۔۔شانو زمین پر بے ہوش پڑی تھی۔۔۔اس کے منہ پر بس یہی الفاظ تھے۔۔۔

اسفند مجھے چھوڑ کر مت جائیں۔۔۔وہ تین سال پہلے والی شانو سمجھ بیٹھی تھی خود کو۔۔۔وہ اسفند کو خود سے دور جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔اسفند اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر دور آسمان میں کہی غائب ہو گیا۔۔۔

جب شانو کی آنکھ کھلی تو وہ اپنے کمرے میں تھی اپنے بستر پر۔۔۔اور ولید بھی وہی اس کے پاس بیٹھا تھا کرسی پر اس کا ہاتھ تھامے ہوئے۔۔۔وہ شانو کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔

شانو اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔اسفند مر گیا میری آنکھوں کے سامنے اور میں کچھ نہی کر سکی شانو روتے ہوئے بولی۔۔

ولید نے آگے بڑھ کر شانو کو گلے سے لگا لیا۔۔۔نہی شانو نہی رونا بند کر دو۔۔۔۔بس آج رو لو جتنا رونا ہے کیونکہ آج کے بعد میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھو۔۔ولید شانو کے آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔کمرے سے باہر جانے کے لیے۔۔

شانو نے ولید کا بازو تھام لیا۔۔۔تو وہ مسکراتے ہوئے واپس بیٹھ گیا۔۔۔اسفند تین سال پہلے مر گیا تھا۔۔میرا بڑا بھائی جو مجھے بہت عزیز تھا۔۔۔امریکہ جاتے ہوئے مجھے یہ نہی پتہ تھا کہ میں آخری بار دیکھ رہا ہوں اپنے بھائی کو۔۔۔

اس دن میری فون پر بات ہوئی تھی بھائی سے جس دن تم دونوں کا نکاح تھا۔۔۔بھائی بہت خوش تھے۔۔۔باقی سب تو تمہیں یاد آ ہی چکا ہے۔۔مجھے نہی لگتا کہ اب تمہیں کچھ بھی بتانے کی ضرورت ہے مجھے۔۔۔

وہ جو لڑکا اور لڑکی تمہیں نظر آتے تھے وہ کوئی اور نہی تم دونوں ہی تھے۔۔۔وہ تمہاری یادیں تھیں۔۔جو اس حویلی سے جڑی تھیں۔۔

جو ہونا تھا ہو چکا۔۔۔اب وہ سب کچھ میں واپس تو نہی لا سکتا میں۔۔۔لیکن میں پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں زندگی کی ہر خوشی دے سکوں۔۔کوشش کروں گا کہ تمہاری آنکھوں میں کبھی آنسو نہ آئیں۔۔

کوشش کروں گا تمہے ماضی بھلا سکوں۔۔۔کوشش کروں گا تمہیں زندگی کی طرف واپس لا سکوں۔۔۔میں کوشش کروں گا۔۔۔کیا تم میرا ساتھ دو گی۔۔اس نے شانو کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔

شانو نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ولید کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔ولید کے لبوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔

ایک فیصلہ میں نے اور کیا ہے ہماری شادی کے بعد ہم دونوں یہاں نہی رہیں گے۔۔کیونکہ امی تمہیں پسند نہی کرتیں۔۔۔ان کو کچھ ٹائم لگے گا تمہیں اپنانے میں۔۔۔

اسی لیے میں نہی چاہتا کہ ان کی وجہ سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچے۔۔۔اسی لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے اگر تمہیں کوئی اعتراض ہو تو بتا دینا۔۔شانو چپ چاپ ولید کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔

مجھے کچھ وقت چاہیے۔۔۔ شانو مدھم آواز میں بولی۔۔

وقت کس لیے۔۔ولید نہ سمجھی میں بولا۔۔۔شادی کے لیے مجھے ابھی شادی کے لیے کچھ وقت چاہیے میں ابھی شادی نہی کرنا چاہتی۔۔۔شانو آہستہ سے بولی۔۔

اچھا کتنا وقت چاہیے۔۔۔۔ولید کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔

پتہ نہی۔۔۔شانو نے لا پرواہی سے جواب دیا۔۔

اوہو۔۔۔اب کوئی وقت نہی ملنا تمہیں۔۔۔پہلے میں نے دو سال بہت مشکلوں سے تمہارا انتظار کیا ہے۔۔۔ولید سر ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔

جو ہونا تھا ہو گیا۔۔۔اب خود کو تیار کرو آنے والے کل کے لیے۔۔۔ہمارا نکاح ہو چکا ہے۔۔۔اور اسی مہینے شادی ہے ہماری۔۔میں چاہتا ہوں کہ جب تم رخصت ہو کر میرے پاس آو تو ماضی کو بھلا کر آو۔۔

میں چاہتا ہوں تم نئے خواب بنو۔۔جن میں صرف میں اور تم ہو۔۔۔کسی تیسرے کی گنجائش نہ ہو۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!

میں جانتا ہوں یہ مشکل ہے تمہارے لیے لیکن نا ممکن نہی۔۔۔زندگی میں آگے تو بڑھنا ہی پڑے گا کب تک ماضی کے پیچھے بھاگتی رہو گی۔۔۔

اب میں تمہیں اکیلا نہی چھوڑ سکتا۔۔۔میرا نام ہی نہی جڑا تمہارے نام کے ساتھ۔۔۔بلکہ ہماری زندگیاں جڑ چکی ہیں۔۔۔

یہ پورا کا پورا ولید، ہنڈسم گھبرو نوجوان پلس ڈاکٹر اب صرف اور صرف تمہارا ہے۔۔۔وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا شانو کی طرف جھکتے ہوئے بولا۔۔۔

اس بات پر شانو کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔شانو کو ہنستے دیکھ کر ولید نے دل ہی دل میں اس کی خوشیوں کی دعا مانگی۔۔

ایک ہفتے بعد دونوں کی دھوم دھام سے شادی ہو گئی۔۔۔اور شانو ولید کی زندگی میں شامل ہو گئی۔۔اور دونوں ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگ پڑے۔

شادی کے ایک مہینے بعد ہی ولید نے اپنا ٹرانسفر شہر کے ایک ہاسپٹل میں کروا لیا۔۔ اور شانو کو لے کر شہر آ گیا۔۔۔دونوں ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگ پڑے۔۔۔

ولید کے یہاں سے جاتے ہی اس کی ماں کو بیٹے کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگ پڑی۔۔۔آخر کار تین ماہ بعد شہر آ پہنچی شانو سے ملنے اور ان کو گھر واپس لے جانے کے لیے۔۔۔

ولید مان گیا اور ایک ماہ بعد شانو کو ساتھ لے کر گاوں واپس آ گیا۔۔۔اور سب ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگ پڑے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *