Haveli by Khanzadi NovelR50492 Last updated: 1 February 2026
Rate this Novel
Haveli by Khanzadi
Novel Code : NovelR50492
۔ککککون ہے۔۔۔؟؟ ارے میں ہوں تمہاری اماں۔۔۔شانو کیا ہو گیا ہے اتنا کیوں ڈرتی ہو۔۔میری بیٹی پہلے تو ایسی نہی تھی۔۔اسی لیے تو نواب مزاق بناتا رہتا ہے تمہارا۔۔۔اتنا مت ڈرا کرو میری بیٹی بہادر بنو۔۔۔وہ شانو کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔ شانو جلدی سے اماں کے گلے لگ گئی اماں مجھے نہی جانا گاوں مجھے یہی رہنا ہے۔۔مجھے وہ مار دے گا آپ لوگ سمجھتے کیوں نہی۔۔۔ووووہ مجھے اپنے پاس بلاتا ہے اگر میں یہاں سے گئی تو وہاں بھی آ جائے گا میرے پیچھے مجھے مارنے کے لیے۔۔۔ شانو کون مار دے گا تجھے۔۔۔۔اور کون بلاتا ہے تجھے اپنے پاس۔۔نہ ڈرو ہم ہیں تمہارے ساتھ وہ بس تمہارا وہم ہے اور کچھ نہی۔۔اس بات کو سمجھو میری بچی۔۔۔یہ سب بس وہم ہے اور کچھ نہی ہے۔۔ نہی اماں یہ سب وہم نہی ہے۔۔۔وہ مجھے روز نظر آتا ہے خواب میں اس کا چہرہ نہی دیکھ پاتی میں۔۔لیکن اس کی آواز مجھے کچھ سنی سنی لگتی ہے لیکن یاد نہی آتی وہ آواز کس کی ہے۔۔ میں اسی ڈر سے سو نہی پاتی کہ اگر سوئی تو پھر سے اس کی آوازیں میرے کانوں میں گونجنے لگ پڑتی ہیں وہ مجھے مار ڈالے گا۔۔۔کہتا ہے میں بس اس کی ہوں کسی اور کے بارے میں سوچا تو مار دے گا مجھے۔۔ اماں آپ لوگ چلے جائیں مجھے یہی رہنے دیں اگر میں یہاں سے گئی تو وہ مجھے نہی چھوڑے گا۔۔آپ لوگ سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔شانو پاگلوں کی طرح اماں کے سینے میں سر چھپائے روتے ہوئے ڈرتے ہوئے بول رہی تھی۔۔ نہی شانو وہ جو کوئی بھی ہے تمہارا کچھ نہی بگاڑ سکے گا۔۔ہم سب ہیں نا تمہارے ساتھ اور سب سے بڑھ کر اللہ تمہارے ساتھ ہے۔۔۔تمہے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔۔ چلو اب اٹھ کر وضو کرو نماز پڑھو۔۔میں زرا نواب کو دیکھ لوں۔۔اس کو مسجد بھیج کر آتی ہوں میں۔۔۔شانو کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔ نواب اٹھ جا چھوڑ دے اس فون کی جان تیرے ابا کب سے مسجد چلے گئے ہیں۔۔کہ رہے ہے تھے تجھے بھی بھیج دوں۔۔اپنے آپ تو توفیق ہونی نہی تجھے کہ کہے بغیر چلا جائے۔۔۔جا مسجد تیرے ابا انتظار کر رہے ہو گے تیرا۔۔ اچھا اماں جاتا ہوں بس یہ گیم ختم کر لوں۔۔۔آگ لگے تیرے فون کو جس نے ماں باپ کا نا فرمان بنا دیا ہے تجھے وہ تپ گئی۔۔۔کوئی شرم ہی نہی رہ گئی تجھ میں کہ باپ انتظار کر رہا ہے مسجد میں۔۔اور سب سے بڑھ کر اللہ کا پیغام آیا نماز کا۔۔۔اور تجھے گیم کھیلنے کی پڑی ہے۔۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو چھوڑ دو اس گیم کو قبر میں اس گیم نے نہی بچانا تجھے۔۔۔نماز نے بچانا ہے۔۔اپنے اعمال درست کر لو اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔۔۔جاو مسجد اور آ کر اپنا سامان پیک کرو صبح جلدی نکلنا ہے ہمیں گاوں کے لیے۔۔ جی اماں میں چلتا ہوں۔۔نواب فون رکھ کر جلدی سے باہر نکل گیا۔۔۔اور وہ بھی نماز کی تیاری میں لگ گئی۔۔ان کی عادت تھی نماز کی دونوں میاں بیوی خود بھی پانچ وقت کی نماز پڑھتے تھے اور بچے بھی۔۔۔ نماز پڑھ کر سب سونے چلے گئے۔۔۔نواب نے اپنی پیکنگ کر لی کیونکہ اماں نے سختی سے کہا تھا کہ رات کو ہی پیکنگ کر کے سوئے۔۔۔شانو بھی اپنی پیکنگ کر چکی تھی نہ چاہتے ہوئے بھی۔۔
