Haveli by Khanzadi NovelR50492 Haveli (Episode 04)
Rate this Novel
Haveli (Episode 04)
Haveli by Khanzadi
اگلے دن ولید جلدی کلینک کے لیے نکل گیا۔۔اور نواب تایا جی اور ابو کے ساتھ زمینوں پر چلا گیا تھا۔۔شانو دادو کے ساتھ صحن میں بیٹھی تھی چارپائی پر دھوپ نکلی ہوئی تھی۔۔
دادو شانو کو اس کے بچپن کے قصے سنا رہی تھی۔۔اماں اور تائی جی گھر کے کاموں میں مصروف تھی۔۔شانو پوری رات سو نہی سکی تھی۔۔اسے سمجھ نہی آ رہی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔۔
کوئی بھی اس کی بات پر یقین نہی کر رہا تھا۔۔یہی بات شانو کو ستا رہی تھی۔۔۔شانو نے سوچا کہ کیوں نا دادو سے شیئر کروں یہ بات شاید وہ میری بات کا یقین کر لیں۔۔۔
دادو مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔۔۔کل رات میں نے پچھلے صحن میں ایک لڑکی کو دیکھا تھا اس کے ساتھ ایک لڑکا بھی تھا اور وہ حویلی کی طرف بھاگ گئے تھے۔۔۔شانو نے جلدی سے اپنی بات ختم کی۔۔۔
دادو نے حیران ہوتے ہوئے شانو کی طرف دیکھا۔۔۔یہاں تو تمہارے علاوہ کوئی لڑکی نہی ہے شانو تمہیں کوئی وہم ہوا ہو گا۔۔۔۔دادو نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔۔۔
نہی دادو میں سچ بول رہی ہوں۔۔۔مجھے عجیب عجیب سی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں دادو میں کل پوری رات سو نہی سکی۔۔۔مجھے ایک لڑکی اور لڑکے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔۔
لیکن مجھے سمجھ نہی آتی یہ آوازیں مجھے ہی کیوں سنائی دیتی ہیں۔۔۔کسی اور کو سنائی نہی دیتی کیا۔۔؟؟
اور مجھے کل ولید نے بھی بتایا تھا کہ یہاں بھوت ہیں۔۔دادو مجھے واپس جانا ہے آپ ابو سے بات کریں مجھے نہی رہنا یہاں۔۔اگر میں یہاں رہی تو پاگل ہو جاوں گی میں۔۔
شانو کیا ہو گیا ہے ابھی کل ہی تو آئی ہو۔۔۔اور اب تم یہاں سے کہی نہی جانے والی۔۔ تمہاری شادی طے کر دی ہے میں نے ولید کے ساتھ۔۔۔دادو نے اس کے سر پر بم پھوڑا۔۔۔
میں ایسا نہی ہونے دوں گی تائی جی اچانک وہاں آ گئی۔۔میں آپ کا یہ خواب کبھی پورا نہی ہونے دوں گی اماں جان۔۔۔پہلے کے اس کے دئیے غم بھولی نہی ہوں میں ابھی۔۔۔
اسفند سے اس کی شادی بھی آپ ہی کا فیصلہ تھا نہ اماں کیا ہوا یاد تو ہے آپ کو بھولی تو نہی ہو گی آپ۔۔اس کی وجہ سے میں نے اپنا بیٹا کھویا ہے۔۔اب دوسرا بیٹا کھونے کی ہمت نہی ہے مجھ میں۔۔
شانو کی امی بھی وہاں آ چکی تھی۔۔۔بھابی خدا کا واسطہ ہے شانو کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔اس کی یادداشت کمزور ہو چکی ہے وہ سب بھول چکی ہے اسے پھر سے یاد مت کروائیں۔۔۔
سب ڈرامے ہے اس کے سب جانتی ہوں میں۔۔اس کو سب کچھ یاد ہے اس نے مارا تھا میرے اسفند کو اسی لیے ڈرامے کرتی ہے یہ سب۔۔۔میرے ایک بیٹے کی جان لے کر سکون نہی ملا اسے۔۔۔
اب میرے ولید کے پیچھے پڑ گئی ہے۔۔اب کی بار میں ایسا نہی ہونے دوں گی۔۔۔ہمیں معاف کریں آپ لوگ۔۔وہ دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی۔۔
بس کرو زاہدہ بہت بول لیا تم نے میری بچی کے بارے میں جو کچھ ہوا تھا اس میں اس کی کوئی غلطی نہی تھی۔ . وہ بس ایک حادثہ تھا۔۔دادو بول پڑی تھیں۔۔
شانو بس چپ چاپ سب کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔اسفند۔۔۔اس کے منہ سے یہ نام نکلا اور وہ چارپائی پر گر گئی۔۔
شانو کو گرتے دیکھ اس کی امی جلدی سے اس کی طرف بڑھی اور اس کا چہرہ تھپتپانا شروع کر دیا۔۔شانو کیا ہوا تمہیں آنکھیں کھولو۔۔۔
وہ جلدی سے فون کی طرف بڑھی اور نواب کو جلدی گھر آنے کو کہا۔۔۔شانو بے حوش پڑی تھی۔۔ولید جلدی سے گھر پہنچا نواب نے اسے فون کر دیا تھا۔۔۔
شانو کو ولید نے اٹھا کر اس کے کمرے میں بیڈ پر لٹا دیا۔۔اس کی امی اور ولید اس کے ہاتھ پاوں مل رہے تھے۔۔لیکن شانو کو ابھی تک ہوش نہی آ رہا تھا۔۔
یہ کیا ہو گیا میری بیٹی کو بھابی کو منع بھی کر رہی تھی میں کہ مت نام لیں شانو کے سامنے اسفند کا لیکن بھابی نہی رکی۔۔
ان کی بات پر ولید نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔۔چچی جان آپ پریشان نہی ہو شانو بلکل ٹھیک ہے۔بس کمزوری کی وجہ سے چکر آ گیا ہے اسے میں نے انجیکشن دے دیا ہے۔اس کا بی پی لو ہے۔۔
کچھ دیر تک ہوش آ جائے گا آپ چلیں یہاں سے اسے آرام کی ضرورت ہے۔۔۔وہ ٹس سے مس نہ ہوئی تو ولید نے آگے بڑھ کر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔تو انہوں نے التجائی نظروں سے ولید کی طرف دیکھا۔۔
وہ یہاں سے نہی جانا چاہتی تھیں۔۔۔میرا یقین کریں چچی جان شانو بلکل ٹھیک ہے آپ چلیں میرے ساتھ وہ ان کو ساتھ لے کر باہر آ گیا۔۔اور دادو کے پاس بیٹھ گئے دونوں۔۔
ہوا کیا تھا آخر شانو صبح تو بلکل ٹھیک تھی۔۔ولید اطمینان سے بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔
یہ سب تیری ماں کی مہربانی ہے میں نے تمہارے اور شانو کے رشتے کی بات کی تو شانو پر تپ گئی۔۔کہتی کہ یہ رشتہ نہی ہونے دوں گی میں۔
اور کہنے لگی کہ اسفند کو شانو نے مارا ہے پتہ نہی کیا کیا بولتی گئی۔اور یہ حالت ہو گئی شانو کی سنتے سنتے۔۔۔سمجھا دو اپنی ماں کو تمہاری شادی شانو سے ہی ہو گی۔۔
ایسا میں ہونے نہی دوں گی۔۔اس سے پہلے کہ ولید کچھ بولتا اس کی امی وہاں آ گئی۔۔۔میں اپنے بیٹے کے ساتھ زیادتی نہی ہونے دوں گی۔۔۔۔میں نہی چاہتی جو کچھ اسفند کے ساتھ ہوا۔۔وہ ولید کے ساتھ بھی ہو۔۔
کیا ہو رہا ہے یہ سب۔۔۔ولید کے ابا کی گرجدار آواز پر ان کی آواز کو بریک لگی۔۔۔یہ کیسے بات کر رہی ہو تم اماں سے۔۔۔ایک بات میری کان کھول کر سن لو زاہدہ جیسا اماں چاہتی ہیں ویسا ہی ہو گا۔۔
اگر تمہے کوئی اعتراض ہے تو چلی جاو یہاں سے لیکن خبردار جو اماں کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا تو۔۔۔۔انجام اچھا نہی ہو گا۔۔معافی مانگوں ابھی اماں سے۔۔
معاف کیجیئے گا اماں جی میں نے آپ سے اونچی آواز میں بات کی لیکن مجھے آپ کا فیصلہ منظور نہی ہے۔۔۔وہ سیخ پا ہوتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔
ولید بھی ماں کے پیچھے کمرے میں چلا گیا۔۔۔امی آپ کیوں ایسا کر رہی ہیں آخر برائی کیا ہے شانو میں۔۔آپ کیوں ضد پکڑ کر بیٹھ گئی ہیں آپ۔۔
یہ دیکھو ابھی ایک دن ہوا ہے اس لڑکی کو اس گھر میں آئے ہوئے اور ابھی تو بس شادی کی ہی بات چلی ہے اور تم اس کی خاطر اپنی ماں سے زبان درازی کر رہے ہو۔۔۔وہ ولید پر تپ گئی۔۔
نہی امی جان ایسی کوئی بات نہی ہے آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔۔۔ولید نے اپنی صفائی دینا چاہی۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کر دو سب جانتی ہوں میں۔۔۔۔ایسے ہی میرے اسفند کو اس منحوس نے اپنے پیار کے جال میں پھنسایا تھا اور اب تمہیں پھنسا رہی ہے۔۔۔لیکن اس بار میں اسے کامیاب نہی ہونے دوں گی۔۔۔
امی جیسے آپ شانو کو سمجھتی ہیں وہ ویسی بلکل نہی ہے۔۔بھائی کے ساتھ بھی ہوا ایسا ہونا ان کی قسمت میں لکھا تھا۔۔اس میں شانو کی کوئی غلطی نہی تھی۔۔۔
آخر کب تک آپ شانو کو قصور وار سمجھتی رہیں گی۔۔۔جو ہوا اسے بھول جائیں اور شانو کو قبول کر لیں۔۔۔وہ میرے بھائی کی بیوہ ہے۔۔اور میری کزن بھی۔۔۔جب گھر میں ہی رشتہ موجود ہے تو ہم اس کی شادی باہر کیوں کریں۔۔۔
لوگ کیا سوچیں گے کہ گھر میں جوان لڑکا ہوتے ہوئے بھی اگر ہم باہر اس کے لیے رشتہ ڈھونڈیں گےتو ڈوب مرنے کا امکان ہو گا میرے لیے۔۔۔
مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہی ہے۔۔۔اور ایک بات یہ رشتہ دادو نے میری مرضی سے ہی طے کیا ہے۔۔۔میں سچے دل سے شانو کو قبول کر چکا ہوں۔۔
ان کو یہاں بھی میرے کہنے پر بلایا ہے دادو نے تا کہ میری اور شانو کی شادی ہو سکے۔۔۔میں شانو کے دکھوں کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔۔وہ اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر مر رہی ہے۔۔۔
اسے ایک سہارے کی ضرورت ہے۔۔۔اور یہ سہارا میں بننا چاہتا ہوں۔۔۔اسی لیے آپ بھی دل سے شانو کو قبول کر لیں۔میری التجا ہے آپ سے۔۔۔کہ کر ولید رکا نہی کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
اور زاہدہ بیگم وہی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔کسی سے میں کیا کہوں جب اپنا سکہ ہی کھوٹا ہے۔۔۔لیکن کچھ بھی ہو ولید ابھی نا سمجھ ہے میں اسے یہ غلطی نہی کرنے دوں گی۔۔۔یہ شادی نہی ہونے دوں گی میں۔۔۔
ولید باہر آیا تو سب پریشان بیٹھے تھے۔۔۔بھائی صاحب اگر بھابی کو یہ رشتہ منظور نہی تو ہم یہ رشتہ نہی کرتے کل کو آپ کے گھر کے لیے مسلے بنے گے اور ہماری بیٹی کے لیے مشکلات پیدا ہو گی۔۔
وہ تو پہلے ہی بہت دکھی ہے۔۔۔میں نہی چاہتی کہ میری بیٹی مزید دکھ دیکھے۔۔آج جو کچھ ہوا ہے کہی دوبارہ پھر ایسا ہوا تو کہی ہم کھو نہ دیں اپنی بیٹی کو شانو کی ماں پریشانی سے بولی۔۔
چچی جان آپ پریشان نہ ہو امی زیادہ دیر ناراض نہی رہیں گی وہ جلدی ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔آپ لوگ مجھ پر بھروسہ رکھیں۔۔میں شانو کو کوئی تکلیف نہی پہنچنے دوں گا۔۔
آپ لوگ بے فکر ہو کر شادی کی تیاریاں کریں۔۔باقی سب فکریں چھوڑ دیں آپ لوگ۔۔۔
ولید ٹھیک کہ رہا ہے بھابی اب شانو ہماری زمہ داری ہے آپ لوگ بے فکر ہو جائیں وہ میری بھی بیٹی ہے۔۔اور مجھے ولید پر پورا بھروسہ ہے یہ شانو کا بہت خیال رکھے گا۔۔۔آپ لوگ بھی بھروسہ رکھیں اس پر۔۔۔
ٹھیک ہے لالہ جیسے آپ کو بہتر لگے۔۔۔شانو کے ابا نے جواب دیا۔۔
اوپر کھڑی شانو ساری باتیں سن رہی تھی۔۔ولید کی اس پر نظر پڑی تو چپ چاپ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔اور ولید بھی ٹائم دیکھتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
نواب تم گھر میں ہی رکو ہم لوگ چلتے ہیں زمینوں پر جانا ضروری ہے تم گھر میں ہی رکو کسی چیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔کہتے ہوئے وہ دونوں بھائی باہر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
شانو اپنے کمرے میں چپ چاپ بیٹھی سارا معمہ حل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔اسفند۔۔کون ہے۔؟؟ کیا تائی جی کا ایک اور بیٹا تھا۔۔اور اس کی مجھ سے شادی۔۔۔اور وہ مر گیا۔۔
تائی جی کیا کہ رہی تھیں میں نے مارا اسے۔۔۔شانو کی سمجھ میں کچھ نہی آ رہا تھا۔۔۔اگر میری شادی ہوئی ہے تو مجھے کچھ یاد کیوں نہی آ رہا۔۔یہ سب کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ۔۔۔
اور ولید سے میری شادی طے کر دی دادو نے۔۔۔مجھے اس بارے میں ولید سے بات کرنی ہو گی آنے دو زرا شام کو ولید کو۔۔۔
